کتاب ”اشکِ ندامت“ (مصنف: ڈاکٹر ماجد) انسانی نفسیات، ندامت، گناہوں کے اثرات اور مکافاتِ عمل پر مبنی ایک سبق آموز اور عبرت ناک کہانی ہے۔ داستان کا مرکزی کردار حاجی محمد سلیم ہے، جو بظاہر معاشرے میں ایک پارسا اور محترم شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم، اس کی ماضی کی ایک بھیانک غلطی اور حرام کاری اس کی اور اس سے جڑے افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ حاجی صاحب کی اس غلطی کے نتیجے میں ایک معصوم اور ذہنی طور پر معذور لڑکی (پکی) کی زندگی برباد ہوتی ہے، اور بعد میں ایدز (AIDS) جیسی مہلک بیماری ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ سالوں بعد جب حاجی صاحب واپس لوٹتے ہیں، تو وہ شدید جسمانی و روح فرسا بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے کیے پر سخت پشیمان ہوتے ہیں۔ کہانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان چاہے اپنے گناہوں کو دنیا سے کتنا ہی چھپا لے، لیکن مکافاتِ عمل اور ضمیر کی ندامت سے کبھی نہیں بھاگ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
House of Urdu Book and Novels, Urdu Novels, Urdu Novel Download, Urdu Afsanay, Urdu Story, Noshad Adil Novels, New Urdu Novels,
Showing posts with label A. Show all posts
Showing posts with label A. Show all posts
Monday, August 10, 2026
Tuesday, August 4, 2026
Aik Thi Bela By Aliya Bukhari
Download Link A
Download Link B
Download Link B
ایک تھی بیلا (عالیہ بخاری): بیلا ایک سادہ اور قانع لڑکی ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ان کے پڑوس میں سیمیں باجی رہتی ہیں، جو انتہائی صفائی پسند، بدگمان اور طنز کرنے کی عادی ہیں۔ سیمیں کا رشتہ زوار سے طے شدہ ہوتا ہے، لیکن سیمیں کی تنگ دلی اور ناخوشگوار رویے سے تنگ آ کر زوار اس رشتے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی والدہ بیلا کا ہاتھ مانگتی ہیں۔ لیکن بیلا اپنی والدہ کے دباؤ کے باوجود زوار سے شادی کے بجائے کمال کے ساتھ ایک سادہ اور خوشگوار زندگی کا انتخاب کرتی ہے۔ زرو زمانوں کا سویرا (نبيلہ ابر راجہ): زلزلے کی تباہ کاریوں اور المیہ کے بعد کے حالات پر مبنی کہانی۔ خضر جو زلزلے میں اپنے خاندان کے متعدد افراد کو کھو چکا ہے، اپنی بھابھی آسیہ اور چھوٹی بچی صفی کا سہارا بنتا ہے۔ خضر کی منگیتر فاریہ چاہتی ہے کہ وہ ان سب کو چھوڑ کر اس کے ساتھ سیٹل ہو جائے، لیکن خضر فاریہ کی خود غرضی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور خاندان کا ساتھ دینے کا پختہ فیصلہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Aalmi Digest August 1985
Download Link A
Download Link B
Download Link B
عالمي ڈائجسٹ (اگست 1985ء) کا یہ شمارہ زاہدہ حنا کی اہتمام کاری اور ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت کے ساتھ شائع ہوا۔
مدیرانہ و خطوط: زاہدہ حنا اور علی ندیم نے قارئین کے خطوط کے جوابات دیے، جبکہ ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت اور ان کی تحریروں کا خیرمقدم کیا گیا۔
تاریخی و ادبی تحاریر: نسیم حجازی کا تاریخی ناول "ہمیشہ ہمیشہ" شائع ہوا، جس میں وادیِ کشمیر کے ایک رئیس زادے بلال، اس کے اتالیق کلوکا، اور احمد شاہ کی آگرہ کی طرف سفر، شہنشاہ اکبر کے دربار، اور ابوالفضل سے ملاقات کے احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔
دیگر مضامین: اس شمارے میں مختلف اشتہارات، جیسے کہ روح افزا، مصفی خاص، اور بلا سود بینکاری کے تعارف سمیت قارئین کی دلچسپی کی متنوع تخلیقات شامل ہیں۔
Sunday, August 2, 2026
Aakhiri Tohfa By Iffat Mohani
یہ کہانی عفت موہانی کے ناول "آخری تحفہ" کا ایک حصہ ہے جو سیمیں اور اس کی چھوٹی بہن رومی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی والدہ رفیعہ بیگم کے انتقال کے بعد ان کے ذہنی طور پر بیمار والد، علی محمد صاحب، کو اسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور دونوں بے سہارا بہنیں اپنی مغرور اور دولت مند خالہ صفیہ بیگم کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔ صفیہ بیگم اور ان کے بڑے بیٹے گھر میں ان دونوں کو کمتر سمجھتے ہیں جبکہ خالہ کی بیٹی عامرہ اور بیٹا آفتاب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Asool Pasand By Aatir Shaheen
عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی کہانی "اصول پسند" ایک ایمان دار ڈی ایس پی رفاقت احمد اور ان کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار نبیلہ، جو ایک طالبہ ہے، اپنے ماموں رفاقت احمد کے گھر ٹھہرنے آتی ہے۔ وہاں اس کا ماموں زاد بھائی ماجد، جو ایک آوارہ اور بے روزگار نوجوان ہے، نبیلہ کو پسند کرنے لگتا ہے اور اس سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ تاہم، نبیلہ ماجد کے برے کردار اور رویے کی وجہ سے اس رشتے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔ انکار سے طیش میں آکر ماجد اپنے دوستوں کی مدد سے نبیلہ کو اغوا کروا لیتا ہے اور زبردستی نکاح کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ جب ڈی ایس پی رفاقت احمد کو سچائی کا علم ہوتا ہے کہ اس کی بھانجی کے اغوا کے پیچھے خود ان کا اپنا بیٹا ماجد شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Sunday, July 19, 2026
Aina Ka Raaz By Muhammad Saleem
Download Link B
"آئینہ کا راز" محمد سلیم (گجرانوالہ) کا تحریر کردہ ایک انتہائی سسپنس، پراسرار اور مافوق الفطرت (Supernatural) کہانی پر مبنی شاہکار ہے۔ کہانی کا آغاز ایک رپورٹر سے ہوتا ہے جو سڑک پر ایک عجیب الخلقت کبڑے شخص (جمیل) کو ٹریفک حادثے کا شکار ہوتے دیکھتا ہے اور اسے مینٹل اسپتال پہنچاتا ہے۔ وہاں ڈاکٹر مظفر اس انوکھے کیس کا راز فاش کرتے ہیں۔ جمیل ایک بدصورت نوجوان تھا جسے فاخرہ نامی ایک انتہائی مغرور، خوبصورت اور سنگدل امیر لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ فاخرہ اور اس کے دوست جمیل کا شدید مذاق اڑاتے ہیں، اسے ذلیل کرتے ہیں اور پولیس (اپنے شوہر ڈی ایس پی اکبر خان) کے ذریعے اس پر بدترین تشدد کرواتے ہیں تاکہ وہ اس کا پیچھا چھوڑ دے۔
Aur Aik Nishani Raat Hai By Professor Khurshid Ahmed
پروفیسر خورشید احمد اپنے اس مضمون میں کائنات کے نظام اور گردشِ لیل و نہار (دن اور رات کے بدلنے) کو انسانی زندگی کے اخلاقی اور عملی پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق، جس طرح دن ایک سچائی ہے، اسی طرح رات بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ کائنات کی ہر تبدیلی انسان کے لیے ایک چیلنج اور آزمائش کا نیا باب کھولتی ہے، جس سے انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا چلتا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دن رات کے الٹ پھیر کو محض ایک روزمرہ کا معمول سمجھ کر غفلت سے نہ گزر جائے، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما دستِ قدرت اور بصیرت کو تلاش کرے۔ رات صرف اندھیرا نہیں، بلکہ ایک لباس ہے جو انسان کو آرام و سکون فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اگلی صبح کے نئے چیلنجز کے لیے نئی توانائی حاصل کر سکے۔ مصنف کے مطابق، رات معاشرے میں دو قسم کے کرداروں کو نمایاں کرتی ہے: ایک وہ جو اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر جرائم اور فسادِ فی الارض میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور دوسرے وہ خدا پرست لوگ جو رات کو روح کے محاسبے، عبادت، تہجد اور دعا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کے لیے حالات کی تبدیلیاں (خوشی یا غم، بلندی یا پستی) عارضی ہوتی ہیں؛ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی حالات کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔ یہ مضمون انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness) پیدا کرنے اور ہر لمحہ اپنے مقصدِ حیات پر نظر رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔
Friday, July 17, 2026
Adhoora Pan Urdu Novel By Basit Bin Mazhar
ناول کا آغاز ۲۱ جولائی ۲۰۱۶ء کی ایک خوشگوار اور بارانی شام سے ہوتا ہے، جہاں عائشہ اپنے گھر کے لان میں چائے پی رہی ہے。 عائشہ، جو شادی کے بعد لندن منتقل ہو چکی ہے، حال ہی میں سوات سے لاہور اپنے مائیکے آئی ہے۔ وہ اپنی والدہ کو تسلی دیتی ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی موسیٰ (عمر ۱۸ برس) اور اس کا قریبی دوست اسماعیل کالج کے بعد کرکٹ میچ کی وجہ سے دیر سے لوٹیں گے۔ موسیٰ اور اسماعیل گہرے دوست ہیں اور اسماعیل موسیٰ کی ضد پر حال ہی میں ان کے گھر شفٹ ہوا ہے۔ میچ ہارنے کی وجہ سے دونوں دوستوں میں ناراضی ہو جاتی ہے، لیکن موسیٰ کی بڑی بہن آیت (عمر ۲۱ برس)، جو سوات سے آئی ہے، پیار اور حکمتِ عملی سے موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا کر دیتی ہے اور سب ہنسی خوشی کھانا کھاتے ہیں。 رات کو آیت کی دادی اس سے سوات کے حالات، اس کے والد شاہد (جو پاک آرمی میں اپنے فرائض کی وجہ سے گھر کو کم وقت دے پاتے ہیں) اور حامد انکل کے ساتھ پرانی یادوں کا ذکر کرتی ہیں。 اگلے دن اسماعیل کے مشورے پر آیت دونوں کو کافی شاپ لے جانے کا وعدہ کرتی ہے۔ اس کے بعد کہانی ماضی اور لندن کے پس منظر میں منتقل ہوتی ہے جہاں آیت (عمر ۲۴ برس) اور منان عرف مانی (عمر ۲۲ برس) کی ملاقات ہوتی ہے。 منان، جس کے نانا کا کاروبار لندن میں ہے اور والدہ برطانوی نژاد ہیں، مانی ریسٹورنٹ چلاتا ہے۔ وہ سڑک پر اداس بیٹھی آیت کو دیکھ کر اس کی مدد کرنا چاہتا ہے، لیکن آیت شروع میں اس کی ظاہری شکل کا مذاق اڑاتی ہے اور اسے سخت سست سناتی ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ منان کی مخلصانہ کوششوں سے دونوں میں گہری دوستی ہو جاتی ہے。 منان دراصل اپنے دوست سانول کے کہنے پر آیت کی ادھوری کہانی جاننے کی کوشش کر رہا ہے。
Wednesday, July 15, 2026
Aaj Ka Mughal e Azam Novel By Rana Zahid Hussain
"آج کا مغل اعظم" رانا زاہد حسین کا تحریر کردہ ایک انتہائی دلچسپ، طنز و مزاح سے بھرپور اور پیروڈی ناول ہے۔ اس کہانی میں مغل دور کے مشہور تاریخی کرداروں (اکبر، جودھا بائی، شہزادہ سلیم، بیربل، ملا دو پیازہ اور انار کلی) کو اکیسویں صدی کے جدید ماحول میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا آغاز مغل دربار سے ہوتا ہے جہاں شہنشاہ اکبر روایتی امور چلانے کے بجائے کیبل پر فلمیں دیکھنے، لوڈ شیڈنگ سے تنگ آنے، اور موبائل فون پر بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے مس کالیں دینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انار کلی موبائل فون پر اکبر کو چھیڑتی ہے جبکہ ملکہ جودھا بائی ایک گھریلو اور سیاسی بیوی کی طرح اکبر کے نخرے اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے کان کھینچتی رہتی ہیں۔ دوسری طرف، شہزادہ سلیم اپنے پیارے ہرن "ہنس راج" کی موت پر نوحہ کناں ہے اور اس کی یاد میں ہرن مینار بنا کر وہاں جدید دور کے مطابق فش فارمنگ جیسے مشورے سنتا ہے۔دربار کے چالاک مشیر بیربل اور ملا دو پیازہ جدید دور کے ٹیکسوں، عدالتی نظام، میڈیا اسکینڈلز اور کرپشن پر طنز کرتے ہیں۔ دلارام، جو انار کلی اور سلیم کے افیئر سے جلتی ہے، ان کی ایک خفیہ ویڈیو بنا کر ٹی وی چینل کو پندرہ لاکھ روپے میں بیچ دیتی ہے، مگر سلیم چالاکی سے اس نمائندے کو پچیس لاکھ دے کر وہ ویڈیو ڈیلیٹ کروا دیتا ہے۔ آخر میں، سلیم میدانِ جنگ (پانی پت) جانے کے بجائے اپنے دوست کے گھر ایل ای ڈی پر فلم مغل اعظم کے جنگی سین چلا کر اکبر کو فون پر ہاتھیوں گھوڑوں کی آوازیں سناتا ہے اور فتح کا جھوٹا دعویٰ کر دیتا ہے۔ یہ ناول مغل مریم و عذرا کے کلاسک تانے بانے کو جدید دور کے مسائل، سوشل میڈیا، واٹس ایپ، اور کورونا لاک ڈاؤن کے طنزیہ تناظر میں نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔
Sunday, July 12, 2026
Azm By Abdul Ahad
مہر اور حسام کی کشمکش: مہر ایک امیر بزنس مین عبد اللہ سلطان کی بیٹی ہے، جس کی ازدواجی زندگی اس کے سابقہ شوہر حسام کی منشیات کی لت اور اسمگلنگ کی وجہ سے تباہ ہو گئی. حسام لندن کے بحالی مرکز (ریہیب) سے صحت یاب ہو کر واپس لوٹا ہے اور اپنی چار سالہ بیٹی عنایہ سے ملنے کے لیے تڑپ رہا ہے، مگر مہر ماضی کی تلخیوں کی وجہ سے اسے عنایہ سے دور رکھتی ہے. مناج طارق (وکیل): حسام اپنی بیٹی کو پانے کے لیے مناج طارق نامی ایک انتہائی ذہین، مگر جذبات سے عاری اور مشینی انداز رکھنے والی وکیل کی خدمات حاصل کرتا ہے. مناج کیس جیتنے کے لیے عدالت میں مہر کی کردار کشی اور اسے ذہنی مریض ثابت کرنے جیسے کٹھور حربے تجویز کرتی ہے. مہر اس کے مقابلے کے لیے ولید سومرو کو وکیل مقرر کرتی ہے.........
Aankh Ka Taara By Tahir Javed Mughal
طاہر جاوید مغل کی تحریر کردہ کہانی "آنکھ کا تارا" ایک جذباتی اور نفسیاتی کہانی ہے جو 75 سالہ گھریلو ملازم امیر علی کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ کہانی کے مطابق، میاں عادل کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ زینت بیگم عادل منزل چھوڑ کر اپنے بیٹے حمزہ کے ساتھ ڈیفنس شفٹ نہیں ہونا چاہتی تھیں کیونکہ اس عمارت سے ان کی 50 سالہ یادیں وابستہ تھیں۔ ایک خود پسند انجینئر اشفاق چودھری نے نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے عادل منزل کی آہستہ آہستہ اس طرح مرمت و آرائش (Renovation) کی کہ اس کا پرانا خاکہ اور یادگار خدوخال بالکل بدل گئے۔ جب عمارت کی کایا پلٹ گئی تو زینت بیگم کا ماضی کا سحر ٹوٹ گیا اور وہ وہاں سے جانے پر راضی ہو گئیں۔ اشفاق چودھری اسے اپنی ذہانت کی کامیابی سمجھ رہا تھا، لیکن حقیقت سے بے خبر تھا۔ اصل سچائی صرف بوڑھا نوکر امیر علی جانتا تھا کہ زینت بیگم کی آنکھ کا تارا عادل منزل نہیں بلکہ پڑوس میں واقع "ترابی ہاؤس" تھا................
Aanchal Digest May 2005
ڈائجسٹ کا یہ مئی 2005 کا شمارہ ادبی، سماجی اور جذباتی تحریروں کا ایک خوب صورت مجموعہ ہے。 ابتدائیہ میں مدیرہ نے معروف ادیبہ سلمیٰ کنول کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور قارئین سے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی درخواست کی ہے。 مستقل سلسلوں میں "دانش کدہ" کے تحت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی کا ایک فکر انگیز اور اصلاحی مضمون "تسکینِ قلوب" شامل ہے، جو انسان کی روحانی و ایمانی پرورش، ضعیفی کے لمحات اور اعمالِ باطنی (صبر، شکر، استغفار) کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے。 "ہمارا آنچل" میں قارئین کے تفصیلی تعارف اور خطوط شامل ہیں。 خط و کتابت کے سلسلے "سرگوشیاں" میں مدیرہ نے قارئین کے سوالات اور ادبی آراء کے جوابات دیے ہیں。 اس کے علاوہ شمارے میں خوب صورت حمد، نعت، غزلیں اور سلسلہ وار ناول بھی شامل ہیں。 فصیحہ آصف خان کا ناول "گلاب راہوں میں قدم" ایک جذباتی کہانی ہے جس میں خاندانی رویوں، محبت کی مشکلات اور اپنوں کی بے رخی کو موضوع بنایا گیا ہے。 مجموعی طور پر یہ شمارہ تفریح، اصلاح اور بہترین اردو ادب کا عکاس ہے。
Aakhir e Shab Novel By Aqeela Hashmi
یہ کہانی سرد موسم اور بارش کے بعد کے ایک خوشگوار مگر خنک دن سے شروع ہوتی ہے، جہاں سروری بیگم (اماں بی) اپنے بڑے سے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے شوہر مظفر صاحب اور بیٹے اپنے کاموں پر جا چکے ہیں، اور گھر میں بہوئیں (زینت اور فردوس) اور پرانی ملازمہ وفاتن موجود ہیں۔ وفاتن کام چور ہے لیکن اپنی باتوں سے سب کا دل جیت لیتی ہے۔ گھر میں ان کے پوتے سجاد اور پوتی ماہ جبیں بھی ہیں۔ ماہ جبیں اور سجاد کے درمیان ایک خاموش محبت کا رشتہ پروان چڑھ رہا ہے، جس پر اس کی سہیلیوں کی طرف سے جملے بھی کسے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، سروری بیگم کے بھائی مظہر میاں اور ان کی اہلیہ ظہورن بیگم کی بیٹی گلشن کا رشتہ مظفر صاحب کے چھوٹے بیٹے سالار سے بچپن میں طے ہوا تھا۔ سالار فوج میں بھرتی ہو کر عالمی جنگ کا حصہ بننے کے لیے برٹش آرمی کے ساتھ سمندر پار محاذ (برما) پر چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی شادی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ دو سال تک سالار کا کوئی خط نہ آنے پر ظہورن بیگم بدگمانی کا شکار رہتی ہیں اور اپنی بیٹی کے نصیب کو روتی ہیں، جبکہ گلشن سالار کی یاد میں خط لکھتی رہتی ہے۔ بعد میں کرنل ڈیوڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ سالار خیریت سے ہے، جس پر شادی کی تیاریاں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں۔ ظہورن بیگم کا اکلوتا بیٹا بابر علی کوئی کام نہیں کرتا اور سارا دن کبوتر اڑاتا رہتا ہے، جس کی شادی خورشید سے ہوئی ہے۔
Friday, June 26, 2026
Anokhi Kahaniyan November 2003 Editor Mehboob Elahi Makhmoor
ماہنامہ 'انوکھی کہانیاں' (نومبر 2003ء) بچوں اور نوجوانوں کا ایک معلوماتی اور ادبی رسالہ ہے، جس کے مدیر محبوب الہی مخمور ہیں۔ اس شمارے کا آغاز ایک سبق آموز اداریے سے ہوتا ہے جس میں سمندر کی لہروں سے بچنے والے دو نوجوانوں کی مثال دے کر یہ سمجھایا گیا ہے کہ زندگی کے طوفانوں اور مشکلات کا مقابلہ ہمیشہ عقل مندی، حکمتِ عملی اور صائب فیصلوں سے کرنا چاہیے۔
شمارے کی منتخب تحریروں میں درج ذیل شامل ہیں:
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ: آصف قادری (لاہور) کا ہدیۂ نعت۔
عظمت کے مینار: سید آصف جاوید نقوی کا ایک تفصیلی اور مستند تاریخی مضمون، جس میں جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاریؓ کی زندگی، ان کے عشقِ رسولؐ، جوشِ ایمانی اور مدینہ میں اسلام کے فروغ کے لیے ان کی بے مثل خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مناجات و نظمیں: تنویر پھول کی مناجات، حکیم خان حکیم کی نظم 'ماہِ رمضان' اور محمد انوار احمد کی ٹریفک قوانین کے شعور پر مبنی نظم 'ہارن نہ بجاؤ'۔
روزہ کس لیے: امان اللہ نیر شوکت کا ایک تربیتی مضمون، جس میں بچوں کو روزے کی حقیقت، تقویٰ، اور غیبت و جھوٹ جیسی برائیوں سے بچ کر خالص ایمانی شعور کے ساتھ روزہ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
وادئ سرا (سرورق کی کہانی): غلام رضا جعفری کی لکھی ہوئی ایک دلچسپ مہم جوئی پر مبنی کہانی، جس کے اہم کرداروں میں ایک لڑکی 'کنول'، اس کا دادا 'شہاب' (جو ملک کے دفاع کے لیے ایک خفیہ لیبارٹری قائم کرنا چاہتا تھا لیکن دشمنوں کی تخریب کاری کا شکار ہوا) اور اس کی پالتو شیرنی 'شیتو' شامل ہیں۔ یہ کہانی کنول اور شیتو کی وفاداری، اور ملک دشمن غداروں (اقبال اور جمال) سے ایک سائنسدان 'اعتزاز' کو بچانے کے گرد گھومتی ہے۔
کیریئر: سید علی رضا (کراچی) کا ایک طنز و مزاح سے بھرپور مضمون، جس میں انہوں نے بچپن سے جوانی تک مختلف پیشوں (پائلٹ، اداکار، کرکٹر، مصور) کو اپنانے کی سوچ اور اس کے دلچسپ و مضحکہ خیز تجربات کا ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ رسالے میں بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف انعامی مقابلے (جیسے ڈیئر پنسل مقابلہ، ڈالر کوئز، بلو بینڈ کوئز، گوگو خصوصی مقابلہ) اور قارئین کے خطوط کا تفصیلی گوشہ "ڈاک بابو" بھی شامل ہے۔
Wednesday, June 24, 2026
Aik Gharana By Aasia Razzaqi
کہانی میں ایک ایسی محترمہ کا ذکر ہے جنہیں الماریوں کے بجائے صوفوں اور میزوں پر کپڑے پھیلانے، بلند آواز میں بولنے اور ہر معاملے میں مشورے دینے کی عادت ہے۔ ان کے صاحبزادے کو اچانک مغربی اور کلاسیکی موسیقی کا شوق چرایا ہے، جس کی وجہ سے گھر میں ہر وقت دھینگا مشتی کا سماں رہتا ہے۔ ایک اور کردار بھائی نمبر 1 ہیں، جنہیں اکثر گم شدہ ہونے کا شوق ہے اور بچپن میں وہ روئی کے پہاڑ میں گم ہو گئے تھے۔ اسی طرح سکول کے زمانے میں بہن بھائیوں کا ایک دوسرے کے لیے لڑنا، بازاروں کے چکر لگانا، شاہ عالم مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ کی سیر، اور دکانداروں سے پتے پوچھنے کے مضحکہ خیز واقعات کہانی کا حصہ ہیں۔ آخری قسط میں کراچی اور لاہور کے سفر، رشتے داروں کے ہاں آمد و رفت، اور خریداری کے دوران پٹھان کی چپل بدل جانے جیسے مزاحیہ واقعات کا تذکرہ ہے۔ مصنفہ نے اردو زبان کی صورتحال پر ہلکا سا طنز کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی انڈے توڑ کر چوزے دیکھنے کی معصومانہ ضد اور خاندان میں انعامات کے ذریعے حوصلہ افزائی کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے روایتی مشترکہ خاندانی نظام کی عکاس ہے جہاں نوک جھونک، ہنگامے اور تفریح کے باوجود محبت، خلوص اور رواداری کا ماحول قائم رہتا ہے۔
Tuesday, June 23, 2026
Aanchal Digest March 2005
Download Link A
Download Link B
Download Link B
مارچ 2005 کا ماہنامہ "آنچل" ڈائجسٹ متنوع ادبی، مذہبی اور تفریحی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ اس شمارے کا آغاز خوبصورت حمد و نعت اور قرآنی آیات سے ہوتا ہے۔ "دانش کدہ" میں حکیم محمد سعید شہید کا تحریر کردہ مضمون 'دیانت' شامل ہے، جو انسانی معاشرے میں امانت داری اور اخلاقیات کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ مستقل سلسلوں میں فریدہ جاوید فری اور نائلہ طارق کے دلچسپ انٹرویوز شامل ہیں، جن میں انہوں نے اپنی زندگی، پسند ناپسند اور ادبی سفر کا ذکر کیا ہے۔ کالم "جیون ساتھی" میں فرزانہ افضل نے اپنی سہیلی نادیہ کی شادی کی خوبصورت اور احوال پر مبنی رپورٹ پیش کی ہے۔ اس شمارے میں حنا ملک کا طویل معاشرتی اور رومانوی ناول "بہ نامِ اِمامِ رندِ لایعقل" بھی شامل ہے، جس کی کہانی خاندانی فیصلوں، محبت کی کشمکش اور تقدیر کے کھیلوں کے گرد گھومتی ہے، جس میں مریم اور ولید اپنے بڑوں کی مرضی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ قارئین کے خطوط اور ان کے جوابات کا دلچسپ سلسلہ "در جواب آں" بھی اس شمارے کا حصہ ہے۔
Monday, June 22, 2026
Atomic Land Complete Imran Series By Safdar Shaheen
Download Link A
Download Link B
Download Link B
اٹامک لینڈ، عمران سیریز کا خاص شمارہ نمبر 120 ہے جس کے مصنف صفدر شاہین ہیں۔ کہانی کا آغاز شینی گال کے دارالحکومت میں واقع "چارمنگ نائٹ کلب" سے ہوتا ہے جہاں ایک بین الاقوامی سائنسدان پروفیسر گھانا اپنی افریقی گرل فرینڈ راکیل کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ کلب میں اچانک اندھیرا چھا جاتا ہے اور راکیل، جو دراصل اٹامک لینڈ کی خفیہ ایجنٹ اور "پرنس آف ڈیتھ" (موت کی شہزادی) ہے، پروفیسر گھانا کو کلورو فارم سنگھا کر اغوا کر لیتی ہے۔ وہ پروفیسر کو ایک تیز رفتار اینٹی بوٹ اور طیارے کے ذریعے اٹامک لینڈ لے جاتی ہے جہاں کا چیف مارشل کانگ ہے۔ پرنس آف ڈیتھ لندن کے ایک ایجنٹ کے ذریعے پاکیشیا کے علی عمران کو ایک ٹیلی گرام بھیج کر چیلنج کرتی ہے کہ وہ اپنے مشن کا پہلا شکار (پروفیسر گھانا) لے جا رہی ہے اور جلد پاکیشیا آ کر عمران سے اپنی پرانی شکست کا انتقام لے گی۔ ٹیلی گرام ملنے پر علی عمران اپنے ساتھیوں (جولیا، صفدر، تنویر، خاور، چوہان، نعمانی اور صدیقی) کے ہمراہ لندن پہنچتا ہے۔ عمران سے پہلے پاکیشیا سیکرٹ سروس کا کیپٹن بابر وہاں بھیس بدل کر چارلس مرفی (جو اٹامک لینڈ کا لندن میں کنٹرولر ہے) کے ہوٹل پہنچتا ہے، مگر وہ ہوٹل کے منیجر فلپ اور چارلس کے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے۔ چارلس اور فلپ کیپٹن بابر پر تشدد کرتے ہیں لیکن وہ بہادری سے مقابلہ کرتا ہے، تاہم آخر میں اسے ایک مخصوص گیس کے ذریعے دوبارہ بے ہوش کر کے اٹامک لینڈ بھیجنے کی تیاری کی جاتی ہے۔ دوسری طرف عمران لندن میں اپنے مقامی ایجنٹ رابرٹ سے ملتا ہے اور کیپٹن بابر کے غائب ہونے پر اس کی تلاش اور اٹامک لینڈ کے خفیہ محل وقوع کا سراغ لگانے کے لیے کمر بستہ ہو جاتا ہے۔
Sunday, June 14, 2026
Aitraf e Jurm Novel By Muhammad Bilal
یہ کہانی ضلع خوشاب کے ایک گاؤں 'چک تیرہ' کے گرد گھومتی ہے، جہاں ایک غریب موچی، صدیق، تھانے پہنچ کر اطلاع دیتا ہے کہ علاقے کے بااثر جاگیردار چوہدری نواز کے بیٹے، چوہدری امجد کا قتل ہو گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امجد کو اس کی دوسری شادی کی پہلی ہی رات اس کی نئی نویلی دلہن، لاڈو نے خنجر کے وار کر کے قتل کیا۔ پولیس جب لاڈو کو گرفتار کرتی ہے، تو وہ بنا کسی ندامت کے اپنا 'اعترافِ جرم' قلمبند کروانا شروع کرتی ہے، جہاں سے کہانی ماضی میں چلی جاتی ہے۔ لاڈو اپنے ماموں زاد، اشعر سے محبت کرتی تھی، جو شہر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ دوسری طرف، چوہدری امجد ایک بد مزاج اور عیاش شخص تھا جو پہلے سے شادی شدہ ہونے کے باوجود لاڈو کے حسن کا اسیر ہو کر اسے زبردستی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اشعر اور امجد کے درمیان کئی بار تلخ کلامی اور تصادم بھی ہوا۔ جب سراج دین (لاڈو کے والد) نے چوہدری نواز کی طرف سے امجد کے رشتے سے انکار کیا، تو بااثر چوہدریوں نے اپنی انا کی خاطر اسے دھمکانا شروع کر دیا۔ یہ کہانی طبقاتی کشمکش، محبت کی قربانی اور ایک مجبور لڑکی کے انتقام کی داستان معلوم ہوتی ہے۔
Saturday, June 13, 2026
Aik Raat Ki Baat By Sadia Ghazal
Download Link B
یہ کہانی دو نوعمر کرداروں، افتان اور الماس (جواہر) کے گرد گھومتی ہے، جو میٹرک اور آٹھویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ افتان ایک پابندِ روٹین اور شریف لڑکا ہے جبکہ الماس اپنے گھر کی اچانک عائد کردہ پابندیوں سے بیزار ہو کر نانی کے گھر زیادہ وقت گزارتی ہے۔ دونوں کی پہلی ملاقات شہباز (افتان کا دوست) کے فلیٹس کے پاس ہوتی ہے، جہاں سے ان کے درمیان روزانہ ملاقاتوں اور معصومانہ باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے کی طرف شدید راغب ہو جاتے ہیں اور شادی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ایک دن افتان اپنے اندر کی بے چینی اور جذبات کی شدت سے مغلوب ہو کر اپنے بڑے بھائی کو سب کچھ بتا دیتا ہے، جو اسے سمجھاتے ہیں اور فی الحال پڑھائی پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن اسی رات، افتان اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے رات کے وقت الماس سے ملنے اس کی نانی کے فلیٹ پہنچ جاتا ہے۔ الماس گھر والوں سے چھپ کر پچھلی طرف موٹروں والے نیم تاریک احاطے میں اس سے ملنے آتی ہے۔ ملاقات کے دوران جب افتان جذباتی ہو کر الماس کے قریب آتا ہے، تو اچانک الماس کے ماما انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں۔ الماس کے ماما غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں؛ وہ افتان کو بری طرح مار پیٹ کر باہر پھینک دیتے ہیں اور الماس کی بھی شدید پٹائی کرتے ہیں، جس سے یہ چھپا ہوا افیئر سب کے سامنے آ جاتا ہے اور کہانی ایک دردناک موڑ پر ختم ہوتی ہے۔
Saturday, June 6, 2026
Azmaish Ka Safar By Najma Jabeen
یہ کہانی مہر بانو نامی لڑکی کی ہے، جو بچپن میں اپنے والدین کی لاڈلی اور پڑھائی کی بے حد شوقین تھی۔ مہر بانو کے بھائی شیراز کے ہاتھوں ان کے دیرینہ دشمن شمروز خان کے بیٹے شہباز کا قتل ہو جاتا ہے، جس کے بعد شیراز فرار ہو جاتا ہے۔ دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جرگہ یہ فیصلہ سناتا ہے کہ خون بہا اور تاوان کے طور پر مہر بانو کا نکاح شہباز کے چھوٹے بھائی ارباز خان سے کر دیا جائے۔ ارباز خان، جو شہر میں نایاب (نیا) نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا، اس زبردستی کے فیصلے پر شدید ناخوش تھا۔ نکاح کے بعد مہر بانو کو ارباز کے گھر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں اسے شدید تذلیل، مار پیٹ، اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارباز خان اسے پہلی ہی رات تھپڑ مار کر مسترد کر دیتا ہے اور یہ کہہ کر شہر چلا جاتا ہے کہ یہ نکاح محض کاغذی ہے۔ مہر بانو حویلی میں ملازموں سے بدتر زندگی گزارتی ہے، مگر ملازمہ پلوشہ کی ہمدردی اور مدد سے وہ چھپ کر اپنی پڑھائی جاری رکھتی ہے۔ دو سال بعد ارباز خان کے پورے خاندان کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو جاتی ہے اور مرنے سے پہلے ارباز کے والد مہر بانو کو اس کے باپ ہمایوں خان کے حوالے کر کے آزاد کر دیتے ہیں۔ آٹھ سال بعد، مہر بانو اپنی محنت اور لگن سے ایک نامور وکیل بن جاتی ہے۔ اسی دوران ارباز خان نیا سے شادی کر چکا ہوتا ہے۔ کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب ارباز کا دوست احسن نیازی اپنی بہن سائرہ کا کیس لے کر بیرسٹر مہر بانو کے پاس آتا ہے، اور ارباز مہر بانو کو پہچان کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مہر بانو اپنی ماضی کی تذلیل کا بدلہ لینے اور خود مختاری حاصل کرنے کے لیے ارباز کو خلع کا نوٹس بھیج دیتی ہے۔ ارباز اس کی کامیابی اور بدلے ہوئے روپ کو دیکھ کر پشیمان ہوتا ہے اور صلح کی بھیک مانگتا ہے، لیکن مہر بانو اسے صاف انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، ارباز شکست تسلیم کرتے ہوئے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ مہر بانو احسن نیازی کی مخلصانہ محبت اور پروپوزل کو قبول کر لیتی ہے اور احسن کے کوئٹہ تبادلے کے بعد اس کے ساتھ ایک نئی اور پرسکون زندگی کی شروعات کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)




