Pages

Showing posts with label A. Show all posts
Showing posts with label A. Show all posts

Wednesday, September 30, 2026

Aalmi Digest December 1977

Download Link A
Download Link B
عالمی ڈائجسٹ (دسمبر 1977ء) کا یہ شمارہ زاہدہ حنا کی ادارت میں شائع ہوا جس میں مختلف سنسنی خیز اور دلچسپ تحریریں شامل ہیں۔ اہم ترین مواد درج ذیل ہے:   خزانہ عقاب (خالدہ شاد): حسن بن صباح کے قلعہ الموت اور فدائین کے پردۂ راز میں چھپے تاریخی اور پراسرار خزانے کی تلاش پر مبنی ایک ہنگامہ خیز اور سنسنی خیز ناول کا پہلا باب۔   ناول اور اہم کہانیاں:نیلی کار (عبدالقیوم شاد): سگنیچر کردار سراغ رساں کامران شامی کا سنسنی سے بھرپور نیا کارنامہ۔   شناخت (احمد اقبال): شوہر کی شناخت پر مبنی پراسرار کہانی۔   غنڈہ ٹیکس (حبیب احمد خان): انشورنس ایجنٹ کے گرد گھومتا ایک دلچسپ قصہ۔   ایک لڑکی بگھارتی ہے دال (کرشن چندر): اردو کے عظیم افسانہ نگار کی تحریر۔   سایہ (صفدر صدیقی)، اہرمن (ابو المنصور)، ورطہ (ڈاکٹر فخری جواد)، مغرب سے درآمد (شمیم گیلانی): دیگر متنوع، جاسوسی اور تاریخی سلسلے۔   اداریہ (زاہدہ حنا): سال 1977ء کے ملکی و سیاسی حالات پر تبصرہ اور آنے والے نئے سال کی مبارکباد کے ساتھ قارئین کے خطوط کے جوابات۔ 

Monday, September 28, 2026

Aqabla By Jabir Bin Yusuf Al Baqar

Download Link A
Download Link B
"اقابلا" جابر بن یوسف الباقر کا ایک پُراسرار اور سنسنی خیز ایڈونچر ناول ہے۔ یہ دہلی کے "کتاب والا" نے سن 2000ء میں شائع کیا۔ اس کا راوی جابر ہے، جو ایک ریٹائرڈ اعلیٰ خفیہ پولیس افسر یوسف الباقر کا بیٹا ہے۔
کہانی کا آغاز ایک بحری سفر سے ہوتا ہے، جس میں جابر کے ساتھ میڈم فلورا ہے۔ وہ بندرگاہ پر پولیس کی نظروں سے بچ کر جہاز میں سوار ہونا چاہتا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اس کے والد کو خبر مل گئی تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ آگے چل کر واقعات اسے اجنبی اور خطرناک علاقوں تک لے جاتے ہیں۔ وہاں غار، طلسمی آلات، ایک ساحر اور "دیوی" جیسی پراسرار طاقتیں ہیں، جن کے سامنے اس کی جان بار بار خطرے میں پڑتی ہے۔
اس سفر میں سرنگا، ڈاکٹر جواد، شراڈ اور جارا کاکا جیسے کردار ملتے ہیں، اور ان کی وفاداری اور بے اعتمادی کہانی کو آگے بڑھاتی ہے۔ "آقابلا" اس داستان کی مرکزی پراسرار قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ آخری صفحات میں سب بچ جانے والے ساتھی جدائی اور ماضی کے صدمے کے بعد ایک خاندان کی طرح مل کر رہنے کا عہد کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, September 27, 2026

Azadi Ka Safar By Komal Sadiq

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی 'اسلم' نامی ایک بچے کے گرد گھومتی ہے، جس کا تعلق ۱۹۴۷ء کی تقسیم ہند کے وقت ضلع گورداسپور کے گاؤں حسن پور سے تھا۔ تقسیم کے بعد ریڈکلف ایوارڈ کی ناانصافی کے باعث گورداسپور بھارت میں شامل کر دیا گیا، جس کے بعد سکھوں کے مظالم اور ہنگاموں میں اسلم کا پورا خاندان (والد، والدہ اور بہنیں) شہید ہو گئے۔ اسلم اپنے بھائی اکرم کے ساتھ کھیتوں کے راستے راوی کی طرف بھاگا، لیکن راوی پار کرتے ہوئے بھائی بھی گولیوں کا شکار ہو کر شہید ہو گیا۔ اسلم اکیلا، ننگے پاؤں اور ہاتھ میں پاکستانی پرچم لیے پاک سرزمین پر اترا، جہاں اس کے تایا زاد اور سکول ماسٹر عبد الشکور نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا اور تعلیم دلائی۔   اسلم نے محنت اور تعلیم کو اپنا مقصد بنایا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں اس کے بھائی میجر عامر نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ ۱۹۷۱ء کے سانحہ مشرقی پاکستان میں اس کی اہلیہ شاہدہ کے گھر والے ڈھاکہ میں شہید ہو گئے۔ ان تمام ذاتی و قومی صدمات کے باوجود اسلم نے ہمت نہ ہاری اور 'آغوش' نامی فلاحی تنظیم کے ذریعے لاوارث بچوں، خواتین اور محتاجوں کی خدمت کی اور معاشرے کے لیے ایک فعال شہری بنا۔ کہانی کا اختتام اسلم کے اس تاریخی اور جذباتی پیغام پر ہوتا ہے کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دی گئی ہے، اور نئی نسل کو اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔  

Monday, September 21, 2026

Aalmi Digest August 1979

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ "عالمی ڈائجسٹ" (اگست 1979ء) کا یہ شمارہ متنوع، سنسنی خیز اور اصلاحی تحریروں کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ اس شمارے میں شامل اہم تحاریر درج ذیل ہیں:
زنده مرده (کامران شامی کا شاہکار): برفانی طوفان میں 20 سال تک منجمد رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے والے ایک نوجوان فرمان گل کی سنسنی خیز اور پرپیچ داستان۔ اس کے چچا زاد بھائی تیمور گل نے جائیداد کی ہوس اور فرمان کی منگیتر ریشم جان کو حاصل کرنے کے لیے اسے برفانی غار میں سُلا کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ کہانی میں کامران شامی اور یوسف ثانی کی عقلمندی سے فرمان گل کی کھوئی ہوئی یادداشت واپس لائی جاتی ہے اور تیمور گل کے مکر و فریب کو بے نقاب کر کے 21 سالہ بیٹی مہرن اور بیوی ریشم جان سے اس کا ملن کرایا جاتا ہے۔
شرع الواقع (نیر ندیم): انگریزی مصنف ایمپلی ہرٹ کام کے قلم سے ایک سبق آموز تحریر، جس میں افریقہ میں تبلیغی خدمات انجام دینے والے پادری ڈاکٹر میک، ان کی زوجہ اور لارڈ ڈیوڈ کے بحری سفر کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ کہانی میں ایک بے راہ رو اور بے لباس خاتون "مس تھامسن" کی اخلاقی اصلاح کے لیے کی جانے والی کوششوں اور انسان کو برائی سے روکنے کے دینی و اخلاقی طریقوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔
دیگر اشاعتی مواد: شمارے میں ادارے کی جانب سے کہانیوں کے مقابلے کے انعامات، قارئین کے خطوط (اظہارِ خیال)، اور اس دور کے مشہور تجارتی اشتہارات (مثلاً این آئی ٹی، اوریگا کامپلیکس، میجک اپوکسی اسٹیل، پولکا آئس کریم اور ڈینٹونک) بھی شامل ہیں۔

Thursday, September 17, 2026

Aatish Ruba The Foundation By Amjad Raees

Download Link A
Download Link B
کہانی ایک نازک بدن اور ذہین دوشیزہ کوئین کلیری (Queen Cleary) کے ارد گرد گھومتی ہے، جو غریب اور نیم متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کے سب سے بہترین اور مہنگے میڈیکل کالج "انگر اہم کالج آف میڈیسن" (Ingraham College of Medicine) میں داخلہ حاصل کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ انگر اہم کالج میں تمام سہولیات، رہائش اور تعلیم بالکل مفت ہوتی ہے لیکن وہاں کے داخلے کی شرائط اور معیار نہایت سخت ہیں۔  انٹرویو اور دورے کے دوران کوئین کو ڈاکٹر کلیرسن ایمرسن اور سیکیورٹی چیف لوئیس ویرن کے ساتھ کیمپس، جدید ریسرچ لیبز اور وارڈز دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ سائنس سینٹر کے برن وارڈ (Ward C) میں کوئین روئی اور پٹیوں میں لپٹے ہوئے آتش زدہ مریضوں ("سبجیکٹس") کو دیکھتی ہے، جہاں ایک بے بس مریض کی التجا بھری نیلی آنکھیں اور پراسرار ماحول اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔  ٹیسٹ کے دوران کوئین کا دوست ٹم براؤن (Tim Brown)، جس کی یادداشت نا قابلِ یقین ہے، پراسرار "کلیڈرمین ایکویشن" (Klederman Equation) سے متعلق سوالات کے جوابات کوئین کی انسر شیٹ پر خود سے نشان زد کر دیتا ہے۔ کوئین کا نام پہلے ویٹنگ لسٹ میں آتا ہے، لیکن اس کے دوستوں (میٹ اور ٹم) کی حکمت عملی اور ڈاکٹر کلیرسن کی حمایت کی بدولت بالآخر اسے انگر اہم میں داخلہ مل جاتا ہے۔  تعلیم کے آغاز کے ساتھ ہی کہانی میں سنسنی اور پراسرار راز کھلنے لگتے ہیں۔ ٹم تحقیقات سے یہ اندازہ لگاتا ہے کہ ٹیسٹ سے پہلی رات تمام امیدواروں کو خواب آور دوا دی گئی تھی اور ہپناٹزم یا کسی خاص تکنیک سے ان کے ذہنوں میں جوابات جذب کیے گئے تھے۔ دوسری طرف کوئین بھی ایک لاوارث لاش "ڈوروتھی" کی حقیقت تلاش کرتے ہوئے ایک نرسنگ ہوم اور کلیڈرمین فاؤنڈیشن کے پراسرار نیٹ ورک تک پہنچتی ہے۔ بعد ازاں، ڈاکٹر کلیرسن کوئین کو اپنی جدید نیورو فارماکولوجیکل تحقیق (کمپاؤنڈ 9574) میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ شامل کر لیتا ہے۔ یوں اُمید و ناامیدی، رومانس، سنسنی اور وائٹ کالر میڈیکل کرائمز کے خوفناک سایوں کے درمیان کوئین کا علمی و جدوجہد سے بھرپور سفر آگے بڑھتا ہے۔  

Azab Rishte By Akhtar Hussain Sheikh

Download Link B
عذاب رشتے اختر حسین شیخ کی تحریر کردہ ایک سبق آموز اور دردناک کہانی ہے، جو معاشی بدحالی، نشے کی لعنت، اور گھریلو اخلاقی زوال کے نتیجے میں برباد ہونے والے ایک خاندان اور بے گناہ لڑکی "روبی" کے المناک انجام کا احاطہ کرتی ہے۔  روبی اور اس کا پس منظر: کہانی کا راوی (ایک صحافی) اپنی عزیزہ روبی کو اس کی بلا کی ذہانت اور معصومیت کی وجہ سے "گڑیا" کہتا ہے۔ روبی کا تعلق اندرونِ لاہور کے ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں کا ماحول جوئے اور نا جائز ذرائع آمدن کی وجہ سے بگڑ چکا تھا، لیکن روبی نے تعلیم اور کتب بینی کے شوق کی وجہ سے خود کو اس ماحول سے الگ رکھا۔  ازدواجی زندگی اور ظلم و ستم: روبی کی شادی "بابو" نامی شخص سے کی جاتی ہے جو شدید نشئی تھا اور مردانہ صلاحیتوں سے محروم تھا۔ روبی اپنی شادی اور خاندان کی عزت بچانے کے لیے ہر ظلم برداشت کرتی ہے۔ بابو کا دوست "اینڈی بٹ" اور روبی کی نند "رانی" غلط تعلقات میں ملوث ہو جاتے ہیں۔  سازش اور بہتان: جب روبی کی ساس "زینب" اپنی بیٹی رانی اور اینڈی بٹ کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیتی ہے، تو وہ اپنی بیٹی کی رسوائی اور گناہ کو چھپانے کے لیے اینڈی بٹ کا روبی کے ساتھ پرانا تعلق ہونے کا جھوٹا ڈرامہ رچاتی ہے اور روبی پر بہتان لگا دیتی ہے۔  حاملہ نند اور خوفناک انجام: رانی کے غیر اخلاقی تعلقات کی وجہ سے جب وہ حاملہ ہو جاتی ہے، تو ساس زینب اس راز کے افشا ہونے کے خوف اور سچائی کی واحد گواہ روبی کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بناتی ہے۔ وہ بابو کے نشئی دوست عرفی کے ذریعے کچن کے مٹی کے تیل والے چولہے کے سوراخوں سے سوت کی ڈوریاں نکال کر اسے تکنیکی طور پر بم بنا دیتی ہے۔  

Monday, September 14, 2026

Anhoni By Aatir Shaheen

عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی سچی تبدیلیوں پر مبنی ناول "آنہونی"، تین گہری سہیلیوں—نادیہ، حمنہ اور عائشہ—کی کہانی پر محیط ہے۔ نادیہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اپنے والد و بھائی کے ساتھ ہوٹل کا بزنس سنبھالتی ہے، جبکہ حمنہ اور عائشہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کہانی میں اچانک موڑ اس وقت آتا ہے جب عائشہ بغیر کسی کو بتائے پراسرار طور پر یونیورسٹی سے غائب ہو جاتی ہے اور اس کا پورا گھرانہ شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جس پر نادیہ اور حمنہ شدید پریشان اور دکھ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔  پراسرار نئی تقرری: تعلیم مکمل ہونے کے بعد نادیہ اپنے والد کے ہوٹل کی دیکھ بھال شروع کرتی ہے، جہاں لندن سے ہسٹری اور مینجمنٹ پاس ایک انتہائی قابل، ذہین اور جاذبِ نظر نوجوان "حسیب اشرف" بطور جنرل منیجر تعینات ہوتا ہے۔  حقیقت کا انکشاف: حسیب کی کچھ عادات، ہاتھوں پر کٹ کا نشان اور گفتگو کا انداز نادیہ کو عائشہ کی یاد دلاتا ہے۔ بعد میں حمنہ اور حسیب کی گفتگو سے نادیہ پر یہ حیران کن اور انوکھا سچ کھلتا ہے کہ حسیب اصل میں وہی عائشہ ہے۔  قدرتی تبدیلی اور آپریشن: عائشہ میں قدرتی جسمانی و ہارمونل تبدیلیوں کے باعث اسے ہنگامی بنیادوں پر لندن جا کر آپریشن کروانا پڑا، جس سے وہ لڑکی سے مکمل مرد میں تبدیل ہو گئی اور اس نے اپنا نیا نام "حسیب اشرف" رکھا۔ شرمندگی اور سرپرائز دینے کی وجہ سے اس نے اپنا ماضی عارضی طور پر چھپایا تھا۔  

Friday, September 4, 2026

Andar Ka Admi By Ilyas Sitapuri

Download Link B
یہ داستان سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر تاریخی حملے، جاسوسی اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ علی مردان (ست پال) اور اسماعیل، محمود غزنوی کے بھیجے گئے مسلمان جاسوس ہیں جو ہندو یاتریوں کے روپ میں سومنات کے قلعے اور مندر کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ مندر میں علی مردان کی ملاقات چندراوتی نامی ایک پراسرار اور سوگوار دوشیزہ سے ہوتی ہے۔ بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ چندراوتی ایک "وش کنیا" (زہریلی عورت) ہے، جسے بچپن سے سنکھیا دے کر دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ وہ علی مردان کی حقیقت جاننے کے باوجود اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور اسے بچاتی ہے۔  دوسری طرف اسماعیل کو مندر کے لوگ مسلمان ہونے کے شک میں قتل کر کے سومنات کے قدموں میں اس کی قربانی دے دیتے ہیں۔ سلطان محمود غزنوی حملہ کر کے سومنات کا قلعہ اور مندر فتح کر لیتا ہے اور بت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ فتح کے بعد علی مردان اور چندراوتی غزنی چلے جاتے ہیں۔ چندراوتی، علی مردان کو اپنے عقیدے اور زہریلے وجود کی وجہ سے شادی سے روکتی ہے اور اس سے قسم لیتی ہے کہ وہ اس کی زندگی میں کسی اور سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 29, 2026

Aaghosh By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا ناولٹ "آغوش" شہاب، صفورہ اور معصوم بچے گوشی (علی) کے گرد گھومتی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے। شہاب، جو کاروبار کی دنیا کا ایک کامیاب اور مصروف ترین شخص ہے، ذہنی سکون اور ڈوپریشن سے فرار کی خاطر شہر سے دور ایک پرسکون اور سادہ علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لیتا ہے। اس کے ساتھ والے پورشن میں صفورہ اپنے چھوٹے سے بچے گوشی کے ساتھ رہائش پذیر ہوتی ہے۔  شروع میں شہاب اور صفورہ کے درمیان سخت ناگواری اور بدگمانی کی فضا قائم رہتی ہے۔ صفورہ حالات کے جبر اور تنہائی کے باعث سخت مزاج نظر آتی ہے، جبکہ شہاب کو بچے گوشی کی بے پروائی اور دیکھ بھال میں غفلت پر غصہ آتا ہے۔ تاہم، معصوم گوشی کے ساتھ شہاب کا ایک ان دیکھا اور گہرا جذباتی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ آگے چل کر شہاب پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ صفورہ گوشی کی حقیقی ماں نہیں بلکہ ایک لاوارث بچے کو گود لے کر اس کی پرورش کر رہی ہے-------------

Friday, August 28, 2026

Andhery Se Ujaley Tak By Asma Taqi

Download Link B
یہ کہانی ایک بیوہ طاہرہ بیگم اور ان کے شوہر علی رضا کے گھرانے کے گرد گھومتی ہے، جن کی پانچ بیٹیاں—امینہ، یمنی، رمنا، مومنہ، اور آمنہ ہیں۔ ہر بہن کا مزاج ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ طاہرہ بیگم پانچ بیٹیوں کے مستقبل اور ان کی شادیوں کی فکر میں ہر وقت پریشان اور بد مزاج رہتی ہیں، جبکہ علی رضا ہر حالت میں صابر اور پرسکون رہتے ہیں۔  اسی دوران علی رضا کے مرحوم دوست کے بیٹے ندیم اور ان کی خالہ شاکرہ بیگم کا ذکر آتا ہے، جن کی کفالت ندیم کے چچا متین صاحب نے کی تھی۔ متین صاحب ندیم کی بہن سامیہ کی شادی ریحان سے کروا دیتے ہیں۔ بعد میں ندیم اور رمنا کی منگنی طے ہو جاتی ہے۔  زندگی پرسکون گزر رہی ہوتی ہے کہ ایک حادثے میں لڑکیوں کے والدین (علی رضا اور طاہرہ بیگم) کی ناگہانی موت ہو جاتی ہے، جس سے پانچوں بہنیں بالکل بے سہارا اور تنہا ہو جاتی ہیں۔ اس مشکل وقت میں امینہ بڑی بہن ہونے کے ناطے سنبھالا لیتی ہے اور تمام بہنیں مل کر اپنی تعلیم، ٹیوشنز اور سلائی کڑھائی کے ذریعہ خود کفیل ہونے کا فیصلہ کرتی ہیں-------------------

Thursday, August 27, 2026

Aarsh By Komal Zeeshan

ناول "آرش" (مصنفہ: کومل ذیشان) ایک منفرد، تخیلاتی اور سائنسی فینٹسی کہانی ہے۔ اس کا مرکزی کردار "آرش" ڈھائی ہزار سال کی عمر کا ایک جن ہے جو شاہ بلوط کے درخت پر رہتا ہے۔ اس کی اکلوتی اور گہری دوست "سارا" اکیس سالہ بیمار لڑکی ہے، جو طلاق یافتہ اور کینسر جیسے موذی مرض کا شکار رہ چکی ہے۔ سارا کی آنکھیں عجیب ہیں اور وہ زندگی اور کائنات کا حقیقت پسندانہ نظارہ کرنا چاہتی ہے۔ آرش اپنے قدیمی نقشے اور وقت کے ابعاد (Dimensions) کی مدد سے سارا کو کائنات، خلا، ستاروں کی دنیا، سائنس اور انسانی تاریخ کی سیر کرواتا ہے۔ اس سفر کے دوران وہ سارا کو نظامِ شمسی، گلیلیو اور کوپرنیکس کی ایجادات، ڈائنوسار کے دور، جنگلات کی مخلوقات، کیمیا گری (Periodic Table)، فزکس اور برقی ایجادات اور مسلمان سائنسدانوں کے تاریخی کارناموں کا مشاہدہ کرواتا ہے----------------------------------

Tuesday, August 25, 2026

Alif Laila o Laila Complete By Dr Abul Hasan Mansoor

الف لیلا و لیلہ ایک ہزار ایک راتوں کی مشہور داستانوں سے منتخب کی گئی سنسنی خیز اور طلسماتی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں، تاجروں، مسافروں، فقیرزادوں، جادوگروں اور پراسرار مخلوقات سے متعلق بے شمار دلچسپ واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ کہانیوں میں محبت، وفاداری، بہادری، عقل مندی، دھوکے، قسمت کے اتار چڑھاؤ اور انسانی جذبات کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
داستانوں کا بنیادی انداز ایسا ہے کہ ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دیتا ہے اور قاری مسلسل نئی مہم، راز اور حیرت انگیز موڑ سے گزرتا رہتا ہے۔ کہیں کردار مشکل حالات میں اپنی دانائی سے راستہ نکالتے ہیں، کہیں محبت اور وفاداری آزمائش میں پڑتی ہے اور کہیں جادوئی طاقتیں اور پراسرار واقعات کہانی کو نئی سمت دے دیتے ہیں۔
ڈاکٹر ابوالحسن منصور کی پیش کردہ یہ کتاب روایتی مشرقی داستان گوئی، مہم جوئی، تخیل اور انسانی زندگی کے مختلف رنگوں کو یکجا کرتی ہے۔ مجموعی طور پر الف لیلا و لیلہ ایسی داستانوں کا سلسلہ ہے جو تجسس، حیرت اور دلچسپی کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔

Sunday, August 16, 2026

Aalmi Digest May 1979

Download Link A
Download Link B
عالمی ڈائجسٹ مئی 1979 ایک ادبی اور فکری رسالہ ہے جس میں افسانے، مضامین، تاریخی واقعات اور سماجی تجزیے شامل ہیں۔ اس شمارے میں اُس دور کے سیاسی و معاشرتی حالات کی جھلک ملتی ہے، ساتھ ہی ادبی تخلیقات اور فکری مباحث بھی پیش کیے گئے ہیں۔ قارئین کو نہ صرف کہانیوں اور شاعری کا لطف ملتا ہے بلکہ تاریخ اور معاشرتی مسائل پر گہری بصیرت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

Thursday, August 13, 2026

Aseer e Mohabbat By Fareeda Narejo

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی داؤد اور سندیہ کے پیچیدہ تعلقات، بچپن کی تکرار اور انا کی جنگ سے محبت کے سفر کے گرد گھومتی ہے۔ بچپن ہی سے دونوں ایک دوسرے کے متضاد مزاج کی وجہ سے آپس میں لڑتے رہتے تھے، جہاں داؤد ضدی اور غصیلا تھا اور سندیہ ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب دینے والی چلاک لڑکی تھی۔ بڑوں کی خواہش پر دونوں کا رشتہ طے ہوا اور شادی بھی ہو گئی، مگر ان کی آپسی ان بن، طنز اور زبانی جنگ ختم نہ ہوئی۔ اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد سندیہ کا ایک حادثہ پیش آتا ہے جس میں وہ شدید زخمی ہو جاتی ہے۔ اس وقت داؤد کو پہلی بار اسے کھونے کا شدید خوف محسوس ہوتا ہے اور اس کی انا ٹوٹ جاتی ہے۔ اریب کے سمجھانے پر داؤد اپنی محبت کا اعتراف کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ کراچی واپسی کے بعد ہی سے اس سے محبت کرنے لگا تھا لیکن اپنی انا کی وجہ سے اظہار نہ کر سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Al Quran Al Kareem Urdu Tarjuma Aur Tafseer By Shah Fahad Printing Press

Download Link B

Monday, August 10, 2026

Ashk e Nadamat By Doctor Majid

کتاب ”اشکِ ندامت“ (مصنف: ڈاکٹر ماجد) انسانی نفسیات، ندامت، گناہوں کے اثرات اور مکافاتِ عمل پر مبنی ایک سبق آموز اور عبرت ناک کہانی ہے۔ داستان کا مرکزی کردار حاجی محمد سلیم ہے، جو بظاہر معاشرے میں ایک پارسا اور محترم شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم، اس کی ماضی کی ایک بھیانک غلطی اور حرام کاری اس کی اور اس سے جڑے افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔  حاجی صاحب کی اس غلطی کے نتیجے میں ایک معصوم اور ذہنی طور پر معذور لڑکی (پکی) کی زندگی برباد ہوتی ہے، اور بعد میں ایدز (AIDS) جیسی مہلک بیماری ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ سالوں بعد جب حاجی صاحب واپس لوٹتے ہیں، تو وہ شدید جسمانی و روح فرسا بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے کیے پر سخت پشیمان ہوتے ہیں۔ کہانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان چاہے اپنے گناہوں کو دنیا سے کتنا ہی چھپا لے، لیکن مکافاتِ عمل اور ضمیر کی ندامت سے کبھی نہیں بھاگ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 4, 2026

Aik Thi Bela By Aliya Bukhari

Download Link A
Download Link B
ایک تھی بیلا (عالیہ بخاری): بیلا ایک سادہ اور قانع لڑکی ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ان کے پڑوس میں سیمیں باجی رہتی ہیں، جو انتہائی صفائی پسند، بدگمان اور طنز کرنے کی عادی ہیں۔ سیمیں کا رشتہ زوار سے طے شدہ ہوتا ہے، لیکن سیمیں کی تنگ دلی اور ناخوشگوار رویے سے تنگ آ کر زوار اس رشتے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی والدہ بیلا کا ہاتھ مانگتی ہیں۔ لیکن بیلا اپنی والدہ کے دباؤ کے باوجود زوار سے شادی کے بجائے کمال کے ساتھ ایک سادہ اور خوشگوار زندگی کا انتخاب کرتی ہے۔  زرو زمانوں کا سویرا (نبيلہ ابر راجہ): زلزلے کی تباہ کاریوں اور المیہ کے بعد کے حالات پر مبنی کہانی۔ خضر جو زلزلے میں اپنے خاندان کے متعدد افراد کو کھو چکا ہے، اپنی بھابھی آسیہ اور چھوٹی بچی صفی کا سہارا بنتا ہے۔ خضر کی منگیتر فاریہ چاہتی ہے کہ وہ ان سب کو چھوڑ کر اس کے ساتھ سیٹل ہو جائے، لیکن خضر فاریہ کی خود غرضی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور خاندان کا ساتھ دینے کا پختہ فیصلہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aalmi Digest August 1985

Download Link A
Download Link B
عالمي ڈائجسٹ (اگست 1985ء) کا یہ شمارہ زاہدہ حنا کی اہتمام کاری اور ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت کے ساتھ شائع ہوا۔
  مدیرانہ و خطوط: زاہدہ حنا اور علی ندیم نے قارئین کے خطوط کے جوابات دیے، جبکہ ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت اور ان کی تحریروں کا خیرمقدم کیا گیا۔ 
 تاریخی و ادبی تحاریر: نسیم حجازی کا تاریخی ناول "ہمیشہ ہمیشہ" شائع ہوا، جس میں وادیِ کشمیر کے ایک رئیس زادے بلال، اس کے اتالیق کلوکا، اور احمد شاہ کی آگرہ کی طرف سفر، شہنشاہ اکبر کے دربار، اور ابوالفضل سے ملاقات کے احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔
  دیگر مضامین: اس شمارے میں مختلف اشتہارات، جیسے کہ روح افزا، مصفی خاص، اور بلا سود بینکاری کے تعارف سمیت قارئین کی دلچسپی کی متنوع تخلیقات شامل ہیں۔  

Sunday, August 2, 2026

Aakhiri Tohfa By Iffat Mohani

یہ کہانی عفت موہانی کے ناول "آخری تحفہ" کا ایک حصہ ہے جو سیمیں اور اس کی چھوٹی بہن رومی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی والدہ رفیعہ بیگم کے انتقال کے بعد ان کے ذہنی طور پر بیمار والد، علی محمد صاحب، کو اسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور دونوں بے سہارا بہنیں اپنی مغرور اور دولت مند خالہ صفیہ بیگم کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔ صفیہ بیگم اور ان کے بڑے بیٹے گھر میں ان دونوں کو کمتر سمجھتے ہیں جبکہ خالہ کی بیٹی عامرہ اور بیٹا آفتاب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Asool Pasand By Aatir Shaheen

عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی کہانی "اصول پسند" ایک ایمان دار ڈی ایس پی رفاقت احمد اور ان کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار نبیلہ، جو ایک طالبہ ہے، اپنے ماموں رفاقت احمد کے گھر ٹھہرنے آتی ہے۔ وہاں اس کا ماموں زاد بھائی ماجد، جو ایک آوارہ اور بے روزگار نوجوان ہے، نبیلہ کو پسند کرنے لگتا ہے اور اس سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ تاہم، نبیلہ ماجد کے برے کردار اور رویے کی وجہ سے اس رشتے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔  انکار سے طیش میں آکر ماجد اپنے دوستوں کی مدد سے نبیلہ کو اغوا کروا لیتا ہے اور زبردستی نکاح کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ جب ڈی ایس پی رفاقت احمد کو سچائی کا علم ہوتا ہے کہ اس کی بھانجی کے اغوا کے پیچھے خود ان کا اپنا بیٹا ماجد شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔