Pages

Showing posts with label M. Show all posts
Showing posts with label M. Show all posts

Friday, September 18, 2026

Majalis e Turabi By Allama Rasheed Turabi

Download Link A
Download Link B
مجالسِ ترابی (مصنف: علامہ رشید ترابی) مختلف دینی و علمی موضوعات، اخلاقی اقدار اور فلسفۂ شہادت پر مبنی خطبات کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں توکل، رضائے الٰہی، دعا کی اہمیت، سجدے کی حقیقت اور یقین و ایمان کے مراتب کی وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، واقعہ کربلا، فلسفۂ ایثار، اہل بیتؑ کی قربانیوں، خصوصاً امام حسینؑ کی آخری مناجات اور شب عاشور و شامِ غریباں کے مصائب کو رقت انگیز اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔   

Thursday, September 10, 2026

Mohsin By Afsheen Naseem

"محسن" افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک پراسرار اور سسپنس سے بھرپور اردو افسانہ ہے۔ کہانی علشبہ، اس کے امیر والد سرفراز احمد اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت مصور افراسیاب کے گرد گھومتی ہے۔ علشبہ افراسیاب کی سحر انگیز شخصیت اور طلسمی آنکھوں کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ تاہم افراسیاب کا دوست رؤف، جو کہ ایک موقع پرست اور جادو ٹونے کا دلدادہ شخص ہوتا ہے، کٹاس راج مندر کے نیچے دفن ناگ رانی کے خزانے کو حاصل کرنے کے لیے سرفراز احمد کی اکلوتی اولاد (علشبہ) کو قربانی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ علشبہ اور اس کے والد افراسیاب کو رؤف کے خطرے سے بچانے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی لاگت سے افراسیاب کا ہم شکل ایک جدید روبوٹ (شیری) حاصل کرتے ہیں۔ جب کٹاس راج کے مندر میں خزانہ نہیں ملتا تو رؤف مایوس ہو جاتا ہے اور بعد میں فارم ہاؤس میں پراسرار طور پر قتل ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ رؤف کا قتل انسان نما روبوٹ شیری کی آنکھوں میں لگی لیزر گن کی شعاعوں سے ہوا تھا۔ علشبہ کا یہ قدم افراسیاب کی جان بچا لیتا ہے اور افراسیاب اس کی اس قربانی پر اسے اپنا "محسن" مان لیتا ہے۔

Sunday, September 6, 2026

Majboor By Ibne Insha

«مجبور» (اصل عنوان: «سحر ہونے تک») معروف ادیب ابن انشا کا ترجمہ کردہ ایک اثر انگیز روسی ناول ہے، جس کے اصل مصنف یوگین چریکوف (Evgeny Chirikov) ہیں۔  یہ کہانی ایک بے قرار اور انقلابی روح، نوجوان طالب علم ’نکولس‘ (Nikolas) کی ہے، جو سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد مشروط طور پر اپنے گاؤں میں اپنے والدین کے پاس واپس لوٹتا ہے۔ نکولس کے بوڑھے اور مفلوک الحال والدین (اسٹیفن اور میریا) اپنے اکلوتے بیٹے کی واپسی پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل، مقامی پولیس اور اپنے خاندانی وقار کے بارے میں انتہائی ہراساں اور اندیشہ مند رہتے ہیں۔  گاؤں کے پرسکون اور جامد ماحول میں نکولس خود کو اجنبی اور قیدی محسوس کرتا ہے۔ ایک طرف اس کے والد اسے مقامی پولیس افسر (داروغہ) کے سامنے معافی نامہ اور ندامت تحریر کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکے، جبکہ دوسری طرف نکولس اپنے نظریات اور اصولوں پر سودے بازی کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ جیل کے ایام کی پراسرار اور حسین یادیں (بالخصوص "گولیا" نامی لڑکی کا تصور) اور اپنے نظریات کی پاسداری اسے اپنے والد کی سخت گیر ہدایات کا پابند ہونے سے روکتی ہیں۔  یہ ناول اندھے اخلاق، خاندانی توقعات، سخت گیر قانون اور قدامت پرستی کی زنجیروں میں جکڑے ایک ایسے نوجوان کی المیہ داستان ہے جو شباب کے تیز و تند دھارے میں اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے تنہائی، معاشی دباؤ اور خاندانی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔  

Mehak Magazine July to September 2026

دو ماہی "مہک میگزین" کا یہ خاص نمبر (جلد 04، شمارہ 03) بچوں کے لیے بہترین اخلاقی، اصلاحی اور تربیتی تحاریر پر مشتمل ہے۔ اس شمارے میں چیف ایڈیٹر آصف علی مہک اور ایڈیٹر ایس ایم رحمانی کے زیرِ اہتمام معیاری نثر و نظم شامل کیے گئے ہیں۔  شمارے میں حمد، نعت، اور گوناگوں سبق آموز کہانیاں اور ڈرامے شامل ہیں:  پکا مکان (کاوش صدیقی): ایک غریب بچے اور اس کے محنت کش والد کی جذبات سے بھرپور کہانی، جو ابا کے انتقال کے بعد ان کی تمام جمع پونجی سے ان کے لیے قبر کی صورت میں "پکا مکان" تعمیر کرتا ہے۔  چائلڈ ٹریفکنگ (حنیف سحر): دو نادان دوستوں کی کہانی جو شوبز کی چکاسوندھ میں آکر گھر سے بھاگتے ہیں اور بچوں کی سمگلنگ اور بیگار کیمپ کے خوفناک جال میں پھنس جاتے ہیں، لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے بحفاظت گھر لوٹ کر پڑھائی پر توجہ دیتے ہیں۔  آخری ملاقات (نذیر انبالوی): سڑک کی کشادگی کے باعث بوڑھے برگد کے درخت کو کاٹنے کے بجائے منتقل کرنے اور ماحولیات کی حفاظت کا پیغام دینے والی کہانی۔  سچا دوست (محمد علی ادیب) و دیگر تحاریر: سچائی، محنت، امتحانات میں نقل سے پاک رہنے اور والدین کی اطاعت پر مبنی خوبصورت ڈرامے، نظمیں اور کہانیوں کا مجموعہ۔  

Mehak Magazine April to June 2026

Download Link A
Download Link B
دو ماہی "مہک میگزین" کا یہ شمارہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے علمی، اخلاقی اور تفریحی تحریروں کا بہترین مجموعہ ہے۔ اداریے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بجائے خود تخلیق کارانہ تحریریں لکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ شمارے میں حمد، نعت اور دلچسپ نظموں (مثلاً "بہار آ گئی ہے" اور "جگنو") کے علاوہ تربیت آموز کہانیاں شامل ہیں۔  اہم کہانیوں میں "میں بڑا ہو کر ٹرک بنوں گا" (معاشی جدوجہد اور اونچی سوچ)، "کالو بندر اور بھالو" (دوستی اور شکوک و شبہات سے بچاؤ)، "سوئی کی کہانی شاہینہ کی زبانی" (سوئی کی ایجاد اور تاریخ)، "اصل کاروبار" (یتیموں کی دیکھ بھال کی فضیلت)، "محنت کی جیت" (مزدوروں کے حقوق اور یکم مئی کی اہمیت)، "بے نام صندوق" (ایمانداری اور خاموش مدد)، اور "پادشاہ" (اخلاق اور قرآن سے رہنمائی کی اہمیت) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ "کپ کیک" اور ڈراما "گھونسلہ ٹیوشن سینٹر" بچوں کی تفریح اور کردار سازی کا مؤثر ذریعہ ہیں۔  

Thursday, September 3, 2026

Mor To Saare Man Ke Hain By Humera Ali

Download Link A
Download Link B
ناول "مور تو سارے من کے ہیں" (تحریر: حمیرا علی) ایک خاندانی ڈراما اور نفسیاتی کشمکش پر مبنی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکز شارعین ہے، جو سالوں بعد ہندوستان سے اپنے والد صاحبزادہ بہروز کے خاندانی گھر پاکستان آتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اپنے والد کی جائیداد میں اپنا جائز حق حاصل کرنا اور اپنے کزن/شوہر صاحبزادہ فراسین شمروز سے طلاق/خلع کے کاغذات پر دستخط کروانا ہوتا ہے۔  شارعین کی ماں تاجور نے ماضی کی تلخیوں، غلط فہمیوں اور اپنی خود غرضی کی وجہ سے شارعین کے دل میں اپنے والد اور ان کے خاندان کے خلاف سخت نفرت اور بدگمانی بھر دی ہوتی ہے۔ لیکن جب شارعین اس گھر میں قیام کرتی ہے، تو اسے دادی تحسین بانو، تایا، ندرت آنٹی، اور اپنے بھائیوں ظافر اور عاشر کی طرف سے شدید محبت اور اپنائیت ملتی ہے۔ رفتہ رفتہ ندرت آنٹی کے ذریعے ماضی کی سچائی شارعین پر کھلی کہ اس کی ماں کا رویہ اور خود غرضی ہی تمام تباہی کی جڑ تھی--------------------------

Sunday, August 30, 2026

Mashal e Raah Urdu Novel By Umar Jadoon

یہ ناول انسان کی داخلی جنگ، خود آگہی، ذہنی صحت اور حقیقی محبت کی تلاش کا ایک با معنی سفر ہے۔ کہانی کے اہم کردار فارس، حیدر اور قیس اپنی اپنی زندگی کی محرومیوں، جذباتی الجھنوں اور اذیتوں سے نبرد آزما ہیں۔ فارس ماضی کے صدمات اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کے باعث ایک سپاٹ اور سخت گیر شخصیت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری طرف، حیدر بچپن کے اکیلے پن اور سوتیلی ماں کی بے رخی کا شکار رہا ہے؛ وہ محبت کی تلاش میں اپنے دوستوں (بہرام اور فارس) کے ساتھ کراچی کا رخ کرتا ہے تاکہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکے۔  ناول کا دوسرا رخ قیس کی زندگی کو ظاہر کرتا ہے جو خاندانی نفرتوں، طعنوں اور منفی ماحول کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت، خوف اور اینگزائٹی میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی ذات کی تلاش اور اس گھٹن سے نکلنے کے لیے ایک ماہر نفسیات (ڈاکٹر وقار) سے مدد لیتا ہے۔ ڈاکٹر وقار کی رہنمائی میں قیس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل جنگ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پانے اور حاصل و لاحاصل کے فرق کو سمجھنے میں ہے۔ یہ کہانی یہ پیام دیتی ہے کہ جب انسان اپنے اندر کی تاریکیوں کو چھوڈ کر خود آگہی اور صبر کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے زندگی کی حقیقی "مشعل راہ" اور سکون حاصل ہو جاتا ہے۔  

Thursday, August 13, 2026

Muhammad Bin Qasim By Sadiq Hussain Siddiqui

یہ تاریخی ناول جزیرہ سراندیپ (موجودہ سری لنکا) سے عرب واپس لوٹنے والے مسلم خاندانوں اور تاجروں کے قافلے کی دلکش اور دردناک داستان سے شروع ہوتا ہے۔ اس قافلے میں اسلم اور طاہرہ نامی پاکباز اور باکردار نوجوان شامل ہیں جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر ازدواجی بندھن میں بندھنا چاہتے ہیں۔ راستے میں جنگلی ہاتھیوں کے خطرناک حملے کا بہادری سے مقابلہ کرنے کے بعد یہ لوگ سمندری جہازوں کے ذریعے ساحل کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔  سمندر میں شدید طوفان کا سامنا کرنے کے بعد جہاز مرمت کی غرض سے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیبل کے ساحل پر لگتے ہیں۔ وہاں سندھ کے راجہ داہر کے ظالم اور وحشی سپاہی غیر مسلح مسلمانوں پر اچانک حملہ کر کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں جکڑ کر قیدی بنا لیتے ہیں۔ راجہ داہر ان تمام بے گناہ مسلمانوں کو قید کر لیتا ہے اور طاہرہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا ہے، جس کے صدمے سے اسلم بے ہوش ہو جاتا ہے۔ قید خانے میں مسلمان عورتوں اور بچوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ایک مظلوم عورت پکار اٹھتی ہے: "اغثنی یا حجاج" (اے حجاج ہماری مدد کو پہنچو)۔کچھ مسلمان وہاں سے بچ نکل کر مکران اور شیراز کے راستے بصرہ پہنچتے ہیں اور بلادِ مشرق کے وائسرائے حجاج بن یوسف کو تمام ماجرا اور مظلوموں کی فریاد سناتے ہیں۔ حجاج بن یوسف غضبناک ہو کر مظلوموں کو آزاد کرانے کا عزم کرتا ہے۔ راجہ داہر کے پاس سفیر بھیج کر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، مگر مغرور راجہ داہر اس کی درخواست اور تاوان کی پیشکش کو تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے اور جنگ کا چیلنج دیتا ہے۔حجاج بن یوسف، خلیفہ ولید بن عبدالملک سے جنگ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اپنے 17 سالہ شجاع اور نڈر چچا زاد بھائی محمد بن قاسم کو چھ ہزار مجاہدین کے لشکر کا سپہ سالار منتخب کر کے سندھ روانہ کرتا ہے۔ دوسری طرف دیبل کے قید خانے میں ایک رحم دل بدھ پنڈت ابیہ مسلمانوں کی رسیاں کھول کر ان کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ کرتا ہے۔ کہانی کا یہ حصہ اسلامی غیرت، مظلوموں کی فریاد رسی اور محمد بن قاسم کی تاریخی فتحِ سندھ کی مہم کے آغاز پر محیط ہے۔

Wednesday, August 12, 2026

Mangol By Muhammad Naeem Mirza

یہ کتاب منگول قوم کے آغاز، ان کی وشیانہ ہسٹری اور چنگیز خان (تموجین) کے عروج و زوال کی مکمل داستان بیان کرتی ہے۔ تموجین نے انتہائی سخت حالات، قبیلوں کی آپسی دشمنیوں اور قید و بند کی صعوبتوں سے نکل کر صحرائے گوبی کے صحرانہ قبائل کو متحد کیا۔ بعد ازاں اس نے چنگیز خان کا لقب اختیار کر کے ایشیا سے یورپ تک ایک عظیم اور خوفناک سلطنت کی بنیاد رکھی۔
منگولوں نے جہاں کا رخ کیا وہاں شہر کے شہر تباہ کر دیے اور انسانوں کے سروں کے مینار کھڑے کر دیے۔ کتاب میں خاص طور پر خوارزمی سلطنت، سلطان علاؤ الدین خوارزم شاہ اور ان کے بہادر بیٹے جلال الدین خوارزم شاہ کے ساتھ منگولوں کے خونریز معرکوں، بخارا، سمرقند، مرو اور ہرات کی تباہی اور بالآخر چنگیز خان کے انجام کو تفصیلی اور مؤثر انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔

Saturday, August 8, 2026

Musafat By Afsheen Naseem

مسافت افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک سائنس فکشن اور مافوق الفطرت ناول ہے۔ اس کی کہانی ایک باپ (سرمد اعوان) کی اپنے بیٹے (سمیر) کی محبت، ماضی کے رازوں اور "وقت کا ارتعاش" (زمان و مکان کے سفر) کے گرد گھومتی ہے۔
ماضی کا راز اور خلش: سرمد اعوان کو اپنی والدہ کی وفات کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ یتیم خانے سے گود لیا گیا تھا۔ اس خلش اور اپنے حقیقی ماضی کی تلاش میں وہ ایک نجومی (بابا زمان) تک پہنچتا ہے۔ بابا زمان اس کے ماضی کا راز افشا کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا اکلوتا بیٹا سمیر غائب ہو جائے گا۔
  بیٹے کی پراسرار گمشدگی: راولپنڈی میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران سمیر اچانک غائب ہو جاتا ہے اور وہاں صرف خون کے دھبے ملتے ہیں۔  وقت کے قاتل سے رابطہ: بابا زمان کے علم اور ایک ماہر ہیکر کی مدد سے سرمد کو معلوم ہوتا ہے کہ 1820ء کی دہائی کا معروف اسکاٹ لینڈ کا قاتل اور "باڈی اسنیچر" ولیم برک (William Burke) جدید ٹیکنالوجی اور "زمانی لہروں" (زمان کے ارتعاش) کا فائدہ اٹھا کر وقت کا سفر کر کے سمیر کو لے گیا ہے۔ 

Tuesday, August 4, 2026

Mere Gumshuda By Fakhira Jabeen

Download Link B
نول "میرے گمشدہ" فخرہ جبین کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور احساسات سے بھرپور ناول ہے۔ کہانی ماورا، اس کے بیمار اور معذور والد (ابا) اور کاکا جان کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ کاکا جان ماورا کی پڑھائی اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے خواب اور ناولز اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں۔  ماورا کی زندگی میں اس وقت شدید بحران آتا ہے جب کاکا جان اچانک کہیں غائب (گمشدہ) ہو جاتے ہیں اور والد کا بھی انتقال ہو جاتا ہے۔ اس مشکل اور تنہائی کے وقت میں سلیم اور اس کا ساتھی ہارون اسرار اس کی زندگی میں آتے ہیں۔ جہاں سلیم کے رویے اور خود غرضی سے ماورا کو دکھ پہنچتا ہے، وہیں ہارون اسرار اس کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور اس کی بے لوث محبت و حمایت ماورا کی بکھری ہوئی زندگی کو سنبھالا دیتی ہے۔ یہ کہانی رشتوں کی قربانی، اپنوں کی جدائی کے درد اور سچی محبت کے احساس کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔

Sunday, August 2, 2026

Maria By Iffat Mohani

یہ کہانی معاذ نامی ایک حساس اور جذباتی جوان کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے شدید بدگمانی اور احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے والد، ڈاکٹر سرفراز، شہر کے نامور معالج ہیں جنہوں نے بیوی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ معاذ اپنے والد کو ماں کی موت کا ذمہ دار اور سوتیلی ماں (رفیعہ بیگم) کو ایک ناپسندیدہ شخصیت سمجھتا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ایک دن معاذ والد اور سوتیلی ماں کے درمیان اپنے چھوٹے بھائی فراز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے متعلق گفتگو سن لیتا ہے۔ جب والد معاذ کے ماضی کے مواقع اور موجودہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے غصے میں "جہنم میں جائے" کا جملہ ادا کرتے ہیں، تو معاذ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ خاموشی سے سمارٹ کیس اٹھا کر اپنی مرحوم والدہ کے نام پر خریدی گئی پرانی کوٹھری (بنگلے) کی طرف نکل جاتا ہے۔
کوٹھی پہنچ کر اس کی ملاقات بوڑھے باغبان غلام قادر، اس کے بیٹے نادر اور بیٹی لاجو سے ہوتی ہے۔ ان غریب مگر مخلص لوگوں کی محبت، خلوص اور سادگی معاذ کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر لاجو کا معصومانہ احترام اور نادر کی باتیں اسے متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، گھر میں والد، سوتیلی ماں، اور بہن بھائی (فراز، ایاز، عذرا) اس کے ناگہاں غائب ہونے پر شدید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز معاذ کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر وہ وہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mehal Sara Ka Tamasha By Ilyas Sitapuri

یہ داستان عباسی خلیفہ جعفر مقتدر باللہ کے تیرہ سال کی کم عمری میں تخت نشین ہونے، اور اس کے نتیجے میں محل کی باطنی سیاست، سازشوں اور عیش و عشرت کا احاطہ کرتی ہے۔ خلیفہ مقتدر کے خلاف عبد اللہ بن معتز کی بغاوت کو مونس خادم اور خلیفہ کی والدہ (شغب) کی تدبیروں کے ذریعے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن معتز کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔  حکومت کے اصل اختیارات خلیفہ کی والدہ شغب اور قہرمانہ ام موسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، جس سے امیر الامراء مونس خادم اور دیگر امرا شدید نالان رہتے ہیں۔ مونس اقتدار کو مردوں (وزراء و امرا) کے ہاتھ میں واپس لانے اور محل کی خبریں رکھنے کے لیے بشری نامی لڑکی کا سہارا لیتا ہے۔ تاہم، بشری قصرِ خلافت میں جا کر مقتدر کی قربت حاصل کر لیتی ہے اور مونس کے پاس واپس جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ مقتدر مونس کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اسے قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور بشری کی موت کا جھوٹا بہانہ بناتا ہے۔ مونس اس سچائی سے واقف ہو کر اپنی فوج اور دیگر اہم امرا کو مقتدر کے خلاف متحد کر لیتا ہے اور عباسی خلافت کو نااہل و عیش پرست خلیفہ سے نجات دلانے کے لیے ایک نئی بغاوت کا علم بلند کرتا ہے۔

Thursday, July 30, 2026

Malal By Ahmed Rao

”ملال“ احمد راؤ کا لکھا ہوا ایک سسپنس، تھرل اور جذبات سے بھرپور ناول ہے، جس کی کہانی چار اہم کرداروں—براق ہشام، انسپکٹر منہا، لائلہ سلطان اور ازلان خان— کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کی شروعات براق ہشام کی جیل سے رہائی اور ایک خطرناک حادثے سے ہوتی ہے، جس کے بعد وہ مہتشم کے خفیہ گینگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ مہتشم کا مقصد براق کو جعلی پولیس کنسلٹنٹ بنا کر انسپکٹر منہا کی جاسوسی پر لگانا ہے۔ منہا ایک باہمت، نڈر اور ذہین افسر ہے جو پیچیدہ قتل کے کیسز حل کرنے میں ماہر ہے۔ براق جب پولیس کنسلٹنٹ بن کر منہا کے ساتھ کام کرتا ہے تو ان کے درمیان ایک دلچسپ اور جذباتی تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔

Wednesday, June 10, 2026

Maut Ki Yaad By Dr Zafar ul Islam Islahi

موت ایک اٹل حقیقت: کائنات کا ہر جاندار موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے اور یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جہاں انسان ایک مقررہ مدت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ 
 قرآنی رہنمائی: قرآن مجید میں لفظ 'موت' 50 سے زائد مقامات پر آیا ہے، جو انسان کو غفلت سے بیدار کرنے اور اسے اللہ کے حضور پیشی اور حساب کتاب کی یاد دلانے کے لیے ہے۔  نیند اور موت کا تعلق: نیند کو 'وفاتِ صغریٰ' قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان روزانہ اپنی روح کے قبض ہونے اور بیدار ہونے کے عمل سے موت اور دوبارہ جی اٹھنے کا سبق سیکھے۔
  موت کی یاد کی حکمت: موت کو کثرت سے یاد کرنا انسان کے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کرتا ہے، تکبر و غرور کا خاتمہ کرتا ہے اور اسے گناہوں سے روک کر نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔  قبر پہلی منزل: قبر آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے؛ اگر انسان ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ اس میں داخل ہو تو یہ جنت کا باغ بن جاتی ہے، ورنہ تکلیف دہ ٹھکانا۔
  تنہا سفر: انسان اس دنیا سے مال، اولاد اور عہدہ سب پیچھے چھوڑ جاتا ہے، صرف اس کے اعمال ہی قبر میں اس کے ساتھی ہوتے ہیں۔  

Monday, June 1, 2026

Mulhad Novel By Rabail Rani

یہ ناول ایلیٹ کلاس (اشرافیہ) کے دوہرے معیار، عیاشیوں، منشیات کے بے دریغ استعمال، ڈارک ویب اور ایلومیناتی فرقے جیسے حساس موضوعات پر مبنی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ظافر نقی اٹھائیس سال کی عمر میں امریکہ سے تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس لوٹتا ہے۔ بظاہر وہ غریبوں، یتیم بچوں اور بے سہارا خواتین کے لیے کروڑوں روپے کے عطیات دینے والا ایک ہمدرد اور رحم دل سوشل ورکر نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب اس کا ایک شاطرانہ بزنس پلان اور معاشرے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کا ڈھونگ ہوتا ہے۔ پسِ پردہ وہ ڈارک ویب اور شیطانی پوجا کے نیٹ ورک سے جڑا ہے، اور یتیم خانے کے لالچی انچارج مسٹر تارڑ اور اپنے دوست ابان کے ذریعے کم عمر بے سہارا لڑکیوں کو فارم ہاؤس پر لا کر ظلم اور ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ دوسری طرف ظافر کے والدین اور اس کی بہن پریشے بھی ایلیٹ کلاس کی روایتی آزاد خیالی، پارٹیوں، شراب اور بوائے فرینڈز کے چکروں میں مگن ہیں، جہاں دولت اور پیسے کے بل بوتے پر حادثات اور جرائم کو دبا دیا جاتا ہے۔ کہانی میں زحلے ہمدانی کا کردار بھی شامل ہے جو بزنس ڈیلز اور ٹینڈرز حاصل کرنے کے لیے محبت اور رشتوں کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ یہ ناول اشرافیہ کے مکروہ چہروں، یتیم خانوں کی آڑ میں ہونے والے گھناؤنے دھندوں اور معصوم بچوں کے استحصال کی ایک دردناک داستان بیان کرتا ہے۔  

Saturday, May 30, 2026

Maharaja Novel By Kanwar Hashmat Ali

ناول "مہاراجہ" (از قلم کنور حشمت علی) کی یہ داستان ایک عیاش، خود غرض اور بدفطرت حکمران راجہ رام سہائے، اس کے جڑواں بیٹوں (تلک رائے اور رتن رائے) اور ایک معصوم دوشیزہ پوجا کے گرد گھومتی ہے۔  راجہ رام سہائے جگیا پور کے جاگیردار کرم سنگھ کی بستی میں داخل ہوتا ہے، جہاں اس کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔ کرم سنگھ کی خوبصورت بیٹی پوجا راجہ پر پھول نچھاور کرتی ہے تو راجہ اس کے حسن کا دیوانہ ہو جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کی ہوس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ راجہ کا عیار مشیر، جگت رام، راجہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرم سنگھ کو مکھن پور کی سونا اگلنے والی جاگیر کا لالچ دیتا ہے۔ کرم سنگھ دولت اور طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اپنی بیٹی کا سودا کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ پوجا کے پانچوں بھائی اس بے غیرتی کی شدید مخالفت کرتے ہیں، لیکن پوجا اپنے خاندان کو راجہ کے غیظ و غضب اور تباہی سے بچانے کے لیے اپنی خوشیوں کا 'بلیدان' (قربانی) دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔  محل پہنچنے کے بعد پوجا خود کو بھیڑیوں کے نرغے میں گھری ایک لاش کی طرح محسوس کرتی ہے۔ راجہ رام سہائے ابھی رسم و رواج (پھیروں) کے بغیر ہی اسے اپنے حصار میں لینا چاہتا ہے، لیکن پوجا بڑی چالاکی اور لومڑی جیسی ہوشیاری سے کام لے کر دھرم کا واسطہ دیتی ہے اور خود کو بچانے کی مہلت حاصل کرتی ہے۔ وہ دل کے سکون کے لیے محل کے اندر موجود مندر میں جاتی ہے، جہاں اس کی ملاقات راجہ کے صوفی منش اور سنیاسی بیٹے تلک رائے سے ہوتی ہے، جو اپنے عیاش باپ کے بالکل برعکس ایک مقدس اور پرجلال شخصیت کا مالک ہے۔ دوسری طرف، راجہ کا دوسرا بیٹا رتن رائے، جو اپنے باپ کی طرح راج پاٹ کے امور سنبھالتا ہے، پوجا کو دیکھ کر اس کا اسیر ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی خاندانی جبر، ہوسِ زر، محلاتی سازشوں، اور تقدیر کے جبر کے خلاف ایک مظلوم لڑکی کی ذہنی و جذباتی کشمکش کی سنسنی خیز داستان ہے۔ 

Maharani By Kanwar Hashmat Ali Khan

یہ کہانی اچھوت چمار برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انتہائی حسین، ذہین اور چالاک لڑکی "گوندنی" کی ہے، جو اپنی ماں "رسیلی" کی وفات اور نامساعد حالات کے بعد اپنے حسن اور شاندار اداکاری کے بل بوتے پر شاہی محل تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ گوندنی اپنی غربت اور نچلی ذات کے پس منظر سے نکل کر ریاست کے مہاراجہ "پرنام لال" کے دل کی رانی یعنی 'مہارانی' بننے کا عزم رکھتی ہے۔ اس سفر میں وہ محل کے مصلحت پسند مشیر "سری نام جی" اور پنڈت "ہر دیال" کی مدد سے اپنی اصل شناخت چھپا کر ایک اونچی ذات کی لڑکی کا روپ دھارتی ہے۔ جہاں ایک طرف بوڑھا مہاراجہ اس کے حسن کا اسیر ہو کر اس سے شادی کا اعلان کرتا ہے، وہاں دوسری طرف ہر دیال کا جوان بیٹا "پرتاپ" بھی گوندنی کے عشق میں مبتلا ہو کر محل کی سازشوں اور خاندانی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ داستان حسن، عیاری، طبقاتی کشمکش اور اقتدار کو پانے کے گرد گھومتی ہے۔ 

Sunday, May 24, 2026

Mera Hamzad Mera Dost By Dr Imran Anjum

یہ کہانی "میرا ہمزاد، میرا دوست" ڈاکٹر عمران انجم کی تحریر کردہ ایک انتہائی پُراسرار، سحر انگیز اور مافوق الفطرت موضوع پر مبنی داستان ہے۔ کہانی کا آغاز ایک ایسے پُراسرار بچے کی پیدائش سے ہوتا ہے جو عام بچوں کے برعکس پیدا ہوتے ہی روتا نہیں بلکہ دایہ کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور غیر معمولی شعور کا مالک ہوتا ہے۔ اس کے پاس پیدائش کے وقت سے ہی کائنات کے پوشیدہ اسرار اور یادیں موجود ہوتی ہیں۔ کہانی میں خوف، تجسس اور سسپنس کا عنصر اس وقت گہرا ہو جاتا ہے جب ہمزاد (خفیہ ہمزاد اور شیطانی قوتوں) کا نادیدہ کھیل، خوفناک آسیب اور جادوئی حصار کرداروں کی زندگیوں کو اپنے چنگل میں لے لیتے ہیں۔ مصنف نے انسانی شعور، باطنی دنیا کی جنگ اور مافوق الفطرت دنیا کے سائے کو انتہائی جاندار اور لرزہ خیز انداز میں پیش کیا ہے۔

Monday, May 11, 2026

Mujh Mein Hai Qayam Tera By Aasiya Raees Khan

Download Link A
Download Link B
یہ ناول آسیہ رئیس خان کے قلم سے نکلی ایک جذباتی اور رومانوی داستان ہے، جو انسانی رشتوں کی گہرائی اور محبت کے مختلف رنگوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار اپنی انا، اصولوں اور حالات کے درمیان توازن تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ مصنفہ نے انسانی نفسیات، خاص طور پر عورت کے صبر، استقامت اور اس کے باطنی سفر کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ناول کا اسلوب سادہ مگر اثر انگیز ہے، جو قاری کو کرداروں کے دکھ سکھ اور ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ سے جوڑے رکھتا ہے۔ یہ کہانی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سچی محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل قیام ہے جو انسان کے اندر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔