Pages

Showing posts with label History. Show all posts
Showing posts with label History. Show all posts

Tuesday, September 29, 2026

Mazi Ke Jharokon Se By Shaukat Afzal

Download Link A
Download Link B
یہ تاریخی ناول اسپین (اندلس) میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتا ہے، جو ایک چچا اپنے بھتیجے اور بھتیجی کو سناتا ہے۔ فٹبال میچ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چچا بتاتا ہے کہ ہسپانوی اور پرتگالی باشندوں کی کشش میں صدیوں پر محیط عرب مسلم حکمرانی کی جھلک آج بھی موجود ہے۔ وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ جب گوتھ بادشاہ راڈرک نے کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا کی عزت پامال کی، تو کاؤنٹ نے مسلمان گورنر موسیٰ بن نصیر سے مدد مانگی۔ جس کے بعد طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے کشتیاں جلا کر راڈرک کو شکست دی اور اندلس میں علم، سائنس اور تہذیب کا سنہری دور قائم کیا۔ آخر میں مصنف مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور عیش پرستی کے سبب زوال، سقوطِ غرناطہ، اور انکوائزیژن (Inquisition) کے
مظالم کا ذکر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو اپنے شاندار ماضی اور علم سے دوبارہ جڑنے کا سبق دیتا ہے۔

Thursday, September 17, 2026

Sikandar e Azam By Harold Lamb Tranlated Ghulam Rasool Mehar

Download Link A
Download Link B
سکندر اعظم، ہیرلڈ لیم کی لکھی ہوئی اک شاندار سوانحی تاریخ ہے جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر نے نہایت خوبصورت اور رواں اسلوب میں کیا ہے۔ اس کتاب میں سکندر کے بچپن سے لے کر اس کے دنیا کا عظیم ترین فاتح بننے اور بابل میں اس کی وفات تک کے تمام احوال کو مفصل اور دلکش انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔  خلاصہابتدائی زندگی اور تربیت: سکندر کی پیدائش اور اس کے ابتدائی ایام کی سخت تربیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی ماں اولمپیاس اور باپ فیلقوس کی آپسی کشمکش، سکندر کی ہومر کی "ایلیڈ" اور دیوتاؤں کے افسانوں سے محبت، اس کا سرکش گھوڑے 'بیوسی فالس' کو رام کرنا، اور پھر عظیم فلسفی ارسطو کی زیرِ نگرانی سائنس، حکمت، اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنا اس کے کردار کو نکھارتا ہے۔  عظیم فتوحات کا آغاز: فیلقوس کے قتل کے بعد کم سن سکندر کی تخت نشینی، مقدونیہ میں بغاوتوں کا خاتمہ، تھیبز کی تباہی اور ٹرائے کے راستے ایشیا (ایران/فارس) پر حملے کے مناظر کا احوال شامل ہے۔  ایرانی سلطنت کی تسخیر: جنگِ اسوس، صور اور دمشق پر قبضہ، مصر کی فتح، اور بالآخر پرسی پولس (تختِ جمشید) میں شاہِ ایران دارا کو شکست دے کر عظیم الشان ایرانی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی داستان رقم کی گئی ہے۔  مشرق اور ہندوستان کی مہم: سکندر کا وسطی ایشیا، روشنگ اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ آور ہونا، راجہ پورس کے ساتھ ہاتھیوں کی خوفناک جنگ، اور اپنی فوج کی تھکن کی وجہ سے بابل کی طرف واپسی کا سنسنی خیز احوال درج ہے۔  انجام: فتحِ عالم کی عیش و عشرت، فوج کی تباہی، دولت کے اثرات اور بابل میں سکندر کی پراسرار بیماری اور کم عمری میں وفات کے ساتھ ساتھ اس کے بعد سلطنت کے انتشار کا ذکر کیا گیا ہے۔  

Monday, September 14, 2026

Hazaron Saal Pehlay By Ibn e Haneef

Download Link A
Download Link B
ابن حنیف کی کتاب "ہزاروں سال پہلے" قدیم تاریخی، مذہبی اور تہذیبی ارتقا کا ایک تفصیلی اور محققانہ جائزہ ہے۔ کتاب کی شروعات عشتار (محبت، جنگ اور روئیدگی کی دیوی) کے تصور سے ہوتی ہے، جس کا آغاز سات ہزار سال قبل عراق میں مادری تہذیب سے ہوا اور بعد میں یہ مختلف اقوام و مذاہب، بشمول ہندومت، یہودیت اور عیسائیت میں مختلف ناموں سے شامل ہوئی۔ اس کے بعد طوفانِ نوح کی باہلی اور دیگر عالمی روایتوں (مثلاً گلگامش کی داستان) کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور آثارِ قدیمہ کی روشنی میں اس کے تاریخی شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، کتاب میں حضرت ابراہیم اور اسلافِ یہود کی تاریخ، حضرت یوسف اور ہائیکسوس قوم کا دور، مصر کی پہلی ملکہ حتشپسٹ، فاتح تھتمس، توحید پرست فرعون اخناتون، اور حضرت موسیٰ و فراعنہ کے تاریخی ادوار کا مفصل احاطہ کیا گیا ہے۔

Sunday, September 6, 2026

Khaqaan Ki Dastaan By Ilyas Sitapuri

Download Link B
«خاقان کی داستان» معروف تاریخی داستان گو الیاس سیتاپوری کا ایک شاہکار اور دلچسپ تاریخی ناول ہے۔ اس ناول میں وسطی ایشیا اور صحرائے گوبی کی بپھری ہوئی فتح مند قوموں، خصوصاً تتاریوں اور مغلوں کی تاریخ کے سنسنی خیز اور خونچکاں باب کو نہایت پراثر انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔
داستان کا تانا بانا خاقان عظیم، قبائل کی باہمی چپقلش، جنگی معرکوں اور اقتدار کی کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔ الیاس سیتاپوری نے اپنے مخصوص، سحر انگیز اور رعب دار اسلوبِ تحریر میں صحرائی زندگی کی سخت کوشی، قبائلی غیرت، انتقام کی آگ اور میدانِ جنگ کے ہولناک مناظر کو زندہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ناول میں سیاسی چالوں، سازشوں، اور محبت و وفا کے دلدوز واقعات کو بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے، جو قارئین کو ابتدا سے انجام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔

Friday, September 4, 2026

Andar Ka Admi By Ilyas Sitapuri

Download Link B
یہ داستان سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر تاریخی حملے، جاسوسی اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ علی مردان (ست پال) اور اسماعیل، محمود غزنوی کے بھیجے گئے مسلمان جاسوس ہیں جو ہندو یاتریوں کے روپ میں سومنات کے قلعے اور مندر کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ مندر میں علی مردان کی ملاقات چندراوتی نامی ایک پراسرار اور سوگوار دوشیزہ سے ہوتی ہے۔ بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ چندراوتی ایک "وش کنیا" (زہریلی عورت) ہے، جسے بچپن سے سنکھیا دے کر دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ وہ علی مردان کی حقیقت جاننے کے باوجود اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور اسے بچاتی ہے۔  دوسری طرف اسماعیل کو مندر کے لوگ مسلمان ہونے کے شک میں قتل کر کے سومنات کے قدموں میں اس کی قربانی دے دیتے ہیں۔ سلطان محمود غزنوی حملہ کر کے سومنات کا قلعہ اور مندر فتح کر لیتا ہے اور بت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ فتح کے بعد علی مردان اور چندراوتی غزنی چلے جاتے ہیں۔ چندراوتی، علی مردان کو اپنے عقیدے اور زہریلے وجود کی وجہ سے شادی سے روکتی ہے اور اس سے قسم لیتی ہے کہ وہ اس کی زندگی میں کسی اور سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, August 13, 2026

Tareekhi Shagufay By Amjad Ali Amjad

کتاب "تاریخی شگوفے" ممتاز مرتب میاں امجد علی امجد کی ایک دلچسپ اور بصیرت افروز تحریر ہے، جو ان کی سابقہ مقبول کتاب "بڑے لوگوں کی بڑی باتیں" کا دوسرا حصہ ہے۔ اس کتاب میں انبیاء کرام، صحابہ کرام، اولیائے عظام، نامور حکمرانوں، اور تاریخ ساز علمی و ادبی شخصیات کی زندگی کے متعدد دلچسپ، حکمت بھرے، ظریفانہ اور سبق آموز واقعات و لطائف کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہے۔
  کتاب کے اہم اور بنیادی موضوعات میں شامل ہیں:سیرت و واقعات: حضور اکرم ﷺ کی شفقت، حسنِ اخلاق، اور صحابہ کرام (مثلاً حضرت عمر، حضرت علی، حضرت بلال، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم) کی فہم و فراست، دانائی اور خوش طبعی کے ایمان افروز واقعات۔  حکمرانوں کی عدل و فیاضی: سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، طارق بن زیاد، اور عمر بن عبدالعزیز جیسے عظیم اسلامی حکمرانوں کے عدل، انکساری اور تاریخی فیصلوں کی داستانیں۔
  صوفیاء و علمائے کرام کی حکمت: حضرت داتا گنج بخش، خواجہ حسن بصری، مولانا روم، شیخ سعدی، اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی جیسے بزرگانِ دین کی حاضرجوابی، علمی نکتے اور فکر انگیز باتیں۔  ادبی و علمی طنز و مزاح: نامور ادبا اور فلاسفرز کے سنجیدہ و ظریفانہ جملے، جو تھکے ہوئے ذہنوں کو تازگی اور سکون بخشتے ہیں۔  مجموعی طور پر یہ کتاب سنجیدگی اور ظرافت کا ایک حسین امتزاج ہے جو قاری کو مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ فکر و بصیرت، حسنِ اخلاق اور تاریخی حقائق سے روشنی عطا کرتی ہے۔  

Muhammad Bin Qasim By Sadiq Hussain Siddiqui

یہ تاریخی ناول جزیرہ سراندیپ (موجودہ سری لنکا) سے عرب واپس لوٹنے والے مسلم خاندانوں اور تاجروں کے قافلے کی دلکش اور دردناک داستان سے شروع ہوتا ہے۔ اس قافلے میں اسلم اور طاہرہ نامی پاکباز اور باکردار نوجوان شامل ہیں جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر ازدواجی بندھن میں بندھنا چاہتے ہیں۔ راستے میں جنگلی ہاتھیوں کے خطرناک حملے کا بہادری سے مقابلہ کرنے کے بعد یہ لوگ سمندری جہازوں کے ذریعے ساحل کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔  سمندر میں شدید طوفان کا سامنا کرنے کے بعد جہاز مرمت کی غرض سے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیبل کے ساحل پر لگتے ہیں۔ وہاں سندھ کے راجہ داہر کے ظالم اور وحشی سپاہی غیر مسلح مسلمانوں پر اچانک حملہ کر کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں جکڑ کر قیدی بنا لیتے ہیں۔ راجہ داہر ان تمام بے گناہ مسلمانوں کو قید کر لیتا ہے اور طاہرہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا ہے، جس کے صدمے سے اسلم بے ہوش ہو جاتا ہے۔ قید خانے میں مسلمان عورتوں اور بچوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ایک مظلوم عورت پکار اٹھتی ہے: "اغثنی یا حجاج" (اے حجاج ہماری مدد کو پہنچو)۔کچھ مسلمان وہاں سے بچ نکل کر مکران اور شیراز کے راستے بصرہ پہنچتے ہیں اور بلادِ مشرق کے وائسرائے حجاج بن یوسف کو تمام ماجرا اور مظلوموں کی فریاد سناتے ہیں۔ حجاج بن یوسف غضبناک ہو کر مظلوموں کو آزاد کرانے کا عزم کرتا ہے۔ راجہ داہر کے پاس سفیر بھیج کر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، مگر مغرور راجہ داہر اس کی درخواست اور تاوان کی پیشکش کو تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے اور جنگ کا چیلنج دیتا ہے۔حجاج بن یوسف، خلیفہ ولید بن عبدالملک سے جنگ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اپنے 17 سالہ شجاع اور نڈر چچا زاد بھائی محمد بن قاسم کو چھ ہزار مجاہدین کے لشکر کا سپہ سالار منتخب کر کے سندھ روانہ کرتا ہے۔ دوسری طرف دیبل کے قید خانے میں ایک رحم دل بدھ پنڈت ابیہ مسلمانوں کی رسیاں کھول کر ان کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ کرتا ہے۔ کہانی کا یہ حصہ اسلامی غیرت، مظلوموں کی فریاد رسی اور محمد بن قاسم کی تاریخی فتحِ سندھ کی مہم کے آغاز پر محیط ہے۔

Sunday, August 2, 2026

Mehal Sara Ka Tamasha By Ilyas Sitapuri

یہ داستان عباسی خلیفہ جعفر مقتدر باللہ کے تیرہ سال کی کم عمری میں تخت نشین ہونے، اور اس کے نتیجے میں محل کی باطنی سیاست، سازشوں اور عیش و عشرت کا احاطہ کرتی ہے۔ خلیفہ مقتدر کے خلاف عبد اللہ بن معتز کی بغاوت کو مونس خادم اور خلیفہ کی والدہ (شغب) کی تدبیروں کے ذریعے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن معتز کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔  حکومت کے اصل اختیارات خلیفہ کی والدہ شغب اور قہرمانہ ام موسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، جس سے امیر الامراء مونس خادم اور دیگر امرا شدید نالان رہتے ہیں۔ مونس اقتدار کو مردوں (وزراء و امرا) کے ہاتھ میں واپس لانے اور محل کی خبریں رکھنے کے لیے بشری نامی لڑکی کا سہارا لیتا ہے۔ تاہم، بشری قصرِ خلافت میں جا کر مقتدر کی قربت حاصل کر لیتی ہے اور مونس کے پاس واپس جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ مقتدر مونس کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اسے قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور بشری کی موت کا جھوٹا بہانہ بناتا ہے۔ مونس اس سچائی سے واقف ہو کر اپنی فوج اور دیگر اہم امرا کو مقتدر کے خلاف متحد کر لیتا ہے اور عباسی خلافت کو نااہل و عیش پرست خلیفہ سے نجات دلانے کے لیے ایک نئی بغاوت کا علم بلند کرتا ہے۔

Wednesday, July 29, 2026

Rajpoot Mehbooba By Humayun Bilgrami

راجپوت محبوبہ، ہمایوں بلگرامی کا ایک تاریخی و رومانوی ناول ہے، جو سلطنتِ دہلی کے تغلق دور اور فیروز شاہ تغلق کے آخری ایام کے سیاسی انتشار کے پس منظر پر مبنی ہے۔ داستان کی بنیادی کردار "رجنی" ایک راجپوت دوشیزہ ہے، جس کے والد اور چچا کو تغلق فوج کے قتلِ عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کا سرپرست گو بند (حاجی برہان) انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے رجنی کو شمشیر زنی اور فنونِ حرب کی سخت تربیت دیتا ہے اور اسے مسلمانوں جیسا لب و لہجہ اپنانے کی مشق کرواتا ہے تاکہ وہ تغلق خاندان میں انتشار پھیلا کر سلطنت کو تباہ کر سکے۔اس منصوبے کے تحت رجنی، شاہی خاندان کے شہزادے ہمایوں خاں کو اپنے حسن اور بہادری سے رام کر لیتی ہے۔ بعد میں وہ ہمایوں خاں کی قاصد بن کر سلطان غیاث الدین تغلق کے محل تک رسائی حاصل کرتی ہے، جہاں محلاتی سازشوں اور ملک رکن الدین جندہ کی بغاوت کے نتیجے میں غیاث الدین کو فرار ہونا پڑتا ہے اور بعد میں چودھری کھر کو اسے قتل کر دیتا ہے۔ نئی تخت نشینی کے دوران شہزادہ ابو بکر سلطان بنتا ہے اور اس کی ملکہ صنوبر (جو دراصل رجنی کی گمشدہ چاچی اور انتقام کی پیاسی راجپوت عورت ہوتی ہے) رجنی کو اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ رجنی جو شہزادہ ہمایوں خاں کی سچی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہے، راجپوت گو بند کی سازشوں اور صنوبر کے ذاتی انتقامی منصوبوں کے درمیان اپنی محبت اور آئندہ لائحہ عمل کے تذبذب میں گھری نظر آتی ہے۔

Sunday, July 5, 2026

Sultan Tipu By Maulana Muhammad Saeed ur Rehman Alvi

یہ تحریر سلطنتِ میسور کے عظیم حکمران سلطان ٹیپو شہید کی زندگی، ان کے بلند کردار، انگریزوں کے خلاف جدوجہد اور ان کی وسیع النظری پر روشنی ڈالتی ہے۔ مصنف کے مطابق، سلطان ٹیپو برصغیر کے واحد حکمران تھے جنہوں نے مستقبل کے خطرات کو بھانپ کر انگریزوں کے خلاف "سودیشی تحریک" اور غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کا نعرہ لگایا۔ وہ ایک انتہائی محنتی اور فرض شناس حکمران تھے جو اپنے ملک و ملت کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔ تحریر میں علامہ اقبال اور مہاتما گاندھی جیسے رہنماؤں کے اعترافات کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطان نے ہمیشہ غیر ملکی غلامی کے خلاف ایک شیر کی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی اور اپنوں کی غداری کے باعث میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
مزید برآں، یہ مضمون انگریزوں کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ سلطان غیر مسلموں یا جنگی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈز سے ثابت ہے کہ سلطان ٹیپو اور ان کے والد حیدر علی خان کے دور میں ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ریاست کے قدیم مندروں کو شاہی سرپرستی، جاگیریں اور مالی امداد حاصل تھی۔ مرہٹوں کے حملے میں جب سرینگری مندر کو نقصان پہنچا، تو سلطان نے خود نقد رقم اور اشرفیاں بھیج کر بت کو دوبارہ نصب کروایا اور مندر کی مرمت کرائی، جو ان کی مذہبی رواداری اور وسیع النظری کی ایک لازوال مثال ہے۔

Sunday, May 3, 2026

Company Ki Hukumat By Bari Alig

Download Link A
Download Link B
باری علیگ کی یہ کتاب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈھائی سو سالہ دور کو تین اہم مراحل میں تقسیم کرتی ہے۔ پہلے دور میں کمپنی نے یورپی رقیبوں پر غلبہ پایا اور ہندوستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت شروع کی۔ پلاسی کی لڑائی کے بعد دوسرا دور شروع ہوا جس میں تجارت کے ساتھ حکومت بھی کمپنی کے ہاتھ میں آگئی اور اس دوران ہندوستان کی دولت سے انگلستان میں صنعتی انقلاب برپا ہوا۔ تیسرا دور کمپنی کے مقبوضات میں اضافے اور بالآخر 1857ء کے ہنگامے کے بعد برٹش پارلیمنٹ کے ہاتھوں کمپنی کے خاتمے پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اس تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ نہیں بنایا بلکہ اسے عالمگیر تاریخ کے تسلسل اور ان معاشی عناصر کی روشنی میں پیش کیا ہے جنہوں نے ہندوستان کی معیشت اور معاشرت کو تبدیل کیا۔ کتاب میں واسکوڈے گاما کی آمد، مغلوں کا زوال، مرہٹوں اور سکھوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ برطانوی گورنر جنرلز کی پالیسیوں کا بھی تنقیدی مطالعہ موجود ہے۔


Sunday, April 12, 2026

Undlas Ki Azmat e Rafta By Kaleem Chughtai

Download Link A
Download Link B
"Undlas Ki Azmat-e-Rafta" (The Vanished Glory of Andalusia) by Kaleem Chughtai is a historical work that chronicles the rise and fall of Muslim rule in Spain (Al-Andalus). The book explores the 800-year period of Islamic civilization, highlighting its immense contributions to science, architecture, and philosophy. It detail-oriented the tragic decline and the subsequent efforts by the new rulers to erase Muslim identity, such as banning the Arabic language. Through descriptions of landmarks like the Alhambra and the Great Mosque of Cordoba, Chughtai invites readers to reflect on the educational and cultural values that once made Andalusia a beacon of light for the world.

Friday, April 3, 2026

Tareekh e Saltanat e Lingha By Muhammad Faiz Ul Maram

Download Link A
Download Link B

Tareekh-e-Saltanat-e-Langah  written by Muhammad Faiz-ul-Maram, provides a historical account of the Langah Sultanate, which was established in the Multan region of southern Punjab during the 15th century.

Historical Context and Origin

  • Establishment: The sultanate was founded in 841 AH (1438 AD) during a period of political instability in India following the invasion of Amir Timur.

  • Regional Significance: The central territory of this kingdom was Southern Punjab, with Multan serving as its capital; consequently, it is often referred to as the "Sultanate of Multan".

  • Pre-Langah Multan: Before the Langahs, Multan was under the influence of the Sayyid dynasty, and at one point, Bahlul Khan Lodi was appointed as the governor of the region.

The Langah Tribe

  • Identity: While some historians classify the Langah as Rajputs, the author notes that they were a prominent tribe in the region that eventually consolidated power.

  • Leadership: The tribe was united under a leader whom they accepted as their Sultan, adopting royal titles typical of Islamic monarchies of that era.

Internal Conflicts and Decline

  • Political Strife: The narrative describes "the seeds of hypocrisy and discord" being sown within the sultanate.

  • Succession Issues: Following the death of Sultan Mahmud, the inexperience and poor temperament of Shuja-ul-Mulk led to immediate friction with the state's amirs (nobles).

  • Power Struggles: The royal ladies and Shuja-ul-Mulk were accused of establishing a monopoly over government affairs, which weakened the "pillars of the state" and led to internal collapse.

The Arghun Invasion

  • Military Defeat: Taking advantage of the internal divisions, the Arghun army, led by Mirza, launched an attack on the Langah forces.

  • The Fall of Multan: Despite some resistance near the Sutlej River, the Arghun forces eventually breached the gates of the Multan fort, leading to the massacre of opponents and the end of Langah dominance.

Friday, November 14, 2025

Sarkash By Zoya Ijaz

یہ کہانی عمر خیام کے گرد گھومتی ہے جو نیشاپور کے ایک مدرسے کا انتہائی ذہین، غیر معمولی اور سرکش طالب علم ہے. وہ لکیر کا فقیر بننے کے بجائے علم، تحقیق اور فلکیات کی گہرائیوں میں مگن رہتا ہے. اس کی اس بے نیازی اور علمی قابلیت کی وجہ سے اس کے ہم مکتب اس سے حسد کرتے ہیں. عمر کا ایک امیر دوست رحیم زادہ ہے، جو ہر موڑ پر اس کا ساتھ دیتا ہے، لیکن الپ ارسلان کی جنگ کے دوران وہ مارا جاتا ہے جس کا عمر کو گہرا صدمہ پہنچتا ہے. دوسری طرف، کتب فروش کی خوبصورت بیٹی یاسمین عمر سے والہانہ محبت کرتی ہے.  عمر کی علمی قابلیت اور پیشگوئیوں سے متاثر ہو کر وزیرِ سلطنت نظام الملک طوسی اس کی سرپرستی قبول کرتا ہے اور اسے رصد گاہ (ایوانِ سیارگان) بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے. تاہم، طوطش نامی ایک درباری عمر کی جاسوسی کے لیے ایک گداگر کو مقرر کرتا ہے. گداگر عمر اور یاسمین کی خفیہ ملاقاتوں کی مخبری یاسمین کے چچا سے کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں یاسمین پر تشدد کیا جاتا ہے اور اس کا نکاح زبردستی ایک بزاز سے کر کے اسے رخصت کر دیا جاتا ہے، جس سے عمر خیام ایک بار پھر گہرے کرب اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے.  

Masiha By Zoya Ijaz

 

Download Link A
Download Link B