Pages

Showing posts with label Shaukat Afzal. Show all posts
Showing posts with label Shaukat Afzal. Show all posts

Tuesday, September 29, 2026

Mazi Ke Jharokon Se By Shaukat Afzal

Download Link A
Download Link B
یہ تاریخی ناول اسپین (اندلس) میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتا ہے، جو ایک چچا اپنے بھتیجے اور بھتیجی کو سناتا ہے۔ فٹبال میچ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چچا بتاتا ہے کہ ہسپانوی اور پرتگالی باشندوں کی کشش میں صدیوں پر محیط عرب مسلم حکمرانی کی جھلک آج بھی موجود ہے۔ وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ جب گوتھ بادشاہ راڈرک نے کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا کی عزت پامال کی، تو کاؤنٹ نے مسلمان گورنر موسیٰ بن نصیر سے مدد مانگی۔ جس کے بعد طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے کشتیاں جلا کر راڈرک کو شکست دی اور اندلس میں علم، سائنس اور تہذیب کا سنہری دور قائم کیا۔ آخر میں مصنف مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور عیش پرستی کے سبب زوال، سقوطِ غرناطہ، اور انکوائزیژن (Inquisition) کے
مظالم کا ذکر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو اپنے شاندار ماضی اور علم سے دوبارہ جڑنے کا سبق دیتا ہے۔

Sunday, October 5, 2025

Khiltee Hai Arzoo Ki Kali By Shaukat Afzal

یہ کہانی دو سہیلیوں، یاسمین اور شمسہ کی گہری دوستی اور ان کی زندگی کے نشیب و فراز پر مبنی ہے۔ یاسمین کو گانے کا شوق ہے جبکہ شمسہ ایک شوخ، زندہ دل اور خوبصورت لڑکی ہے جو بعد میں خود بھی ایک بہترین گلوکارہ بن جاتی ہے۔ شمسہ کے والد کے اچانک انتقال کے بعد اس کی زندگی بدل جاتی ہے اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کے لیے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کر کے ایک سرکاری اسکول کی پرنسپل بن جاتی ہے۔ اسی دوران طارق نامی ایک خوبرو شاعر شمسہ کی تحریروں اور شخصیت کا دیوانہ ہو جاتا ہے اور دونوں میں محبت ہو جاتی ہے۔ تاہم، طارق کے گھر والے، خاص طور پر اس کی ماں، شمسہ کے متوسط طبقے سے ہونے کی وجہ سے اس رشتے کو مسترد کر دیتے ہیں اور طارق کی مرضی کے خلاف اس کی شادی ایک مغرور اور امیر ڈاکٹر راشدہ سے کروا دیتے ہیں۔ طارق اور راشدہ کی شادی ناکام ثابت ہوتی ہے کیونکہ راشدہ کو صرف اپنے اسٹیٹس اور دولت سے مطلب ہوتا ہے۔ دوسری طرف، شمسہ اپنی ماں کی انا اور خاندانی روایات کی خاطر طارق سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی تمام زندگی اپنے خاندان کے لیے قربان کر دیتی ہے۔ کہانی محبت، خاندانی دباؤ، ایثار اور تقدیر کے بے رحم فیصلوں کی عکاسی کرتی ہے۔