Download Link A
Download Link B
Download Link B
مصنف مظہر کلیم ایم اے کا یہ ناول "تاروت" (عمران سیریز) خیر و شر کی آویزش اور مصر کی ایک قدیم و خطرناک شیطانی و دہشت گرد تنظیم "راہول" کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کی شروعات میں مصر سے ڈاکٹر جمال کی بیٹی اساطیری پاکیشیا اے۔ آئی ڈی کے چیف علی عمران سے ملنے آتی ہے تاکہ ایک قدیم مصری معبد (راہول معبد) کی تلاش میں اس کی مدد حاصل کر سکے۔ ڈاکٹر جمال اور اساطیری کو راہول نامی شیطانی قوت اور اس کے پجاریوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں، جس کے باعث ڈاکٹر جمال خوفزدہ ہو کر اساطیری کو فوراً واپس مصر بلا لیتے ہیں۔ اسی دوران حکومت مصر سے پاکیشیا حکومت کو ایک انتہائی خفیہ فائل موصول ہوتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہی سے راہول نامی ایک خطرناک دہشت گرد تنظیم پاکیشیا میں بڑی تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ سر سلطان اس فائل پر عمران کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ دوسری طرف مصر میں راہول کے پجاری ڈاکٹر جمال کو انتہائی دردناک انداز میں قتل کر کے اساطیری کو اغوا کر لیتے ہیں تاکہ وادیِ حلفہ کا وہ قدیم نقشہ حاصل کر سکیں جو معبد کی نشاندہی کرتا تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد پاکیشیا سیکرٹ سروس کی ممبر صالحہ کو بھی مصر کے ایک ہوٹل سے راہولی نقاب پوشوں کے ذریعے اغوا کر کے وادیِ حلفہ کے صحرا میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ عمران مصر کے پولیس چیف اعظم کمال اور ماہرِ مصریات ڈاکٹر ناصر سے رابطہ قائم کر کے کارروائی کرواتا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس ہیلی کاپٹر کے ذریعے صالحہ کو وادیِ حلفہ سے صحیح سلامت برآمد کر لیتی ہے۔ عمران اور بلیک زیرو اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ راہول گروپ دراصل پاکیشیا سیکرٹ سروس اور عمران کو وادیِ حلفہ کے صحرا میں کھینچنے یا اپنے شیطانی عزائم کی راہ سے ہٹانے کے لیے یہ چالیں چل رہا ہے، جبکہ راہول کا سربراہ (آقا) عمران کی پراسرار و نیکی پر مبنی صلاحیتوں سے خوفزدہ ہو کر اپنے کارندے تارم کو براہِ راست عمران سے الجھنے سے منع کرتا ہے۔














