Pages

Showing posts with label Islamic. Show all posts
Showing posts with label Islamic. Show all posts

Friday, August 28, 2026

Hazrat Miran Hussain Zanjani By Professor Khalid Pervaiz

پروفیسر خالد پرویز کا یہ مضمون لاہور کی قدیم ترین صوفی شخصیت حضرت سید میراں حسین زنجانیؒ کے حالاتِ زندگی، ان کے روحانی مقام اور تبلیغی خدمات پر روشنی ڈالتا ہے۔ حضرت میراں حسین زنجانیؒ، جن کا تعلق ایران کے شہر زنجان سے تھا، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی لاہور آمد سے پہلے خطہٴ پنجاب میں اسلام کے نور کو پھیلانے کے لیے تشریف لائے۔اس مضمون میں آپ کی تقویٰ و طہارت، مجاہدہ و ریاضت اور مقامی لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آپ نے لاہور کے علاقے چاہِ میران (چاہِ زنجانی) میں قیام فرما کر ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔ مضمون کا اختتام اس اہم تاریخی واقعے پر ہوتا ہے کہ حضرت داتا گنج بخشؒ جب لاہور پہنچے تو اسی دن حضرت میراں حسین زنجانیؒ کا وصال ہوا اور حضرت داتا گنج بخشؒ نے خود آپ کا جنازہ پڑھایا۔

Hazrat Baba Shah Jamal By Professor Khalid Pervaiz

 پروفیسر خالد پرویز کی تحریر کردہ یہ داستان حضرت بابا شاہ جمال (اصل نام حسن شاہ) کے روحانی سفر، زہد و تقویٰ اور کرامات کو بیان کرتی ہے۔ آپ نے اپنے مرشد سید عبدالواحد شداد اور بعد ازاں حضرت عمرا ایوب سے معرفت و سلوک کی منازل طے کیں۔ مرشد کے حکم پر آپ نے لاہور کے علاقے اچھرہ کی نواحی بستی میں قیام فرمایا اور خلقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کی۔  اس تحریر میں آپ کے ایک مرید خاص (حسن شاہ عرف شوتیلی) کی دیانتداری کے امتحان اور برکت، ایک بے اولاد کھتری کو پالک بیٹا (فخر الدین) ملنے، اور شاہی معماروں کے ذریعے ایک عالی شان سات منزلہ حجرہ/مقبول عمارت کی تعمیر کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب شہزادی سلطان بیگم نے عمارت کی بلندی پر اعتراض کیا، تو آپ نے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔ سکھ دور میں عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، مگر آپ کا آستانہ آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1049ھ کو ہوا۔  

Sunday, August 23, 2026

Hazrat Abu Saeed Abu Al Khair By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
 یہ تحریر معروف صوفی باصفا حضرت ابو سعید ابو الخیر کی حیاتِ مبارکہ، روحانی مدارج اور تعلیمات پر مشتمل ہے۔ اس میں ان کی انکساری، عاجزی اور حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، نیز بتایا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے گناہ گاروں اور گمراہوں کو اصلاح کی راہ دکھائی۔ تحریر میں حضرت ابو الحسن خرقانی اور دیگر ہم عصر صوفیاء کے ساتھ ان کے پرخلوص تعلقات، باہمی احترام اور علمی و روحانی محافل کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بالآخر 4 شعبان المعظم 440 ہجری کو حضرت ابو سعید ابو الخیر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔

Friday, August 14, 2026

Hazrat Abu Al Hassan Shazli By Professor Khalid Pervaiz

پروفیسر خالد پرویز کا یہ مضمون معروف صوفی بزرگ اور سلسلۂ شاذلیہ کے بانی حضرت ابو الحسن شاذلیؒ کی مبارک زندگی، تصوف، روحانی مقام اور تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے۔  ولادت اور نسب: آپ کا تعلق سادات سے تھا اور آپ کی ولادت مغرب (مراکش) کے علاقے میں ہوئی۔  علمی و روحانی سفر: ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے تصوف اور سلوک کی منازل طے کیں اور اپنے وقت کے عظیم مشائخ سے روحانی فیض حاصل کیا۔  سلسلۂ شاذلیہ کی بنیاد: آپ نے شاذلیہ سلسلے کی بنیاد رکھی جس نے دنیا بھر بالخصوص شمالی افریقہ اور مصر میں اسلام کی روحانی تعلیمات کو عام کیا۔  تعلیمات: حضرت ابو الحسن شاذلیؒ نے شریعت اور طریقت کے ملاپ، توکل علی اللہ، ذکرِ الٰہی اور نفس کی پاکیزگی پر زور دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 11, 2026

Hazrat Abu Al Hassan Kharqani By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
محمود غزنوی کا امتحان اور عقیدت: محمود غزنوی سومنات کی مہم میں کامیابی کے لیے حضرت ابو الحسن خرقانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابتدا میں اس نے لباس بدل کر امتحان لینا چاہا، مگر حضرت خرقانی نے فراست سے اسے پہچان لیا اور اشرفیاں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
  فتح سومنات کے لیے دعا: سلطان کی عاجزی اور التجا پر حضرت نے فتح کی بشارت اور اپنا پیراہن مبارک عطا کیا۔ جنگ کے دوران اس پیراہن کے وسیلے سے سلطان کو عظیم فتح حاصل ہوئی۔ 
حضرت بایزید بسطامیؒ سے روحانی تعلق: حضرت بایزید بسطامیؒ نے اپنے وصال سے سالوں پہلے ہی حضرت خرقانی کی ولادت، نام اور بلند روحانی مقام کی پیشگوئی فرمائی تھی۔سائلین اور نامور شخصیات کی آمد: شیخ الرئیس بو علی سینا اور شیخ ابو سعید ابوالخیر جیسی عظیم شخصیات نے آپ کی بارگاہ میں حاضری دی۔ بو علی سینا آپ کی کرامات اور علمی و روحانی مرتبے کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔
علمِ لدنی اور قرآنی معارف: آپ بظاہر ان پڑھ اور کاشتکار تھے، مگر اللہ تعالی کے فضل سے آپ پر تمام علومِ شریعہ، قرآن و حدیث کے اسرار اور علمِ لدنی کے تمام معارف خود بخود ظاہر ہو گئے

Sunday, July 19, 2026

Aur Aik Nishani Raat Hai By Professor Khurshid Ahmed

پروفیسر خورشید احمد اپنے اس مضمون میں کائنات کے نظام اور گردشِ لیل و نہار (دن اور رات کے بدلنے) کو انسانی زندگی کے اخلاقی اور عملی پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق، جس طرح دن ایک سچائی ہے، اسی طرح رات بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ کائنات کی ہر تبدیلی انسان کے لیے ایک چیلنج اور آزمائش کا نیا باب کھولتی ہے، جس سے انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا چلتا ہے۔  قرآنِ کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دن رات کے الٹ پھیر کو محض ایک روزمرہ کا معمول سمجھ کر غفلت سے نہ گزر جائے، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما دستِ قدرت اور بصیرت کو تلاش کرے۔ رات صرف اندھیرا نہیں، بلکہ ایک لباس ہے جو انسان کو آرام و سکون فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اگلی صبح کے نئے چیلنجز کے لیے نئی توانائی حاصل کر سکے۔  مصنف کے مطابق، رات معاشرے میں دو قسم کے کرداروں کو نمایاں کرتی ہے: ایک وہ جو اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر جرائم اور فسادِ فی الارض میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور دوسرے وہ خدا پرست لوگ جو رات کو روح کے محاسبے، عبادت، تہجد اور دعا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کے لیے حالات کی تبدیلیاں (خوشی یا غم، بلندی یا پستی) عارضی ہوتی ہیں؛ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی حالات کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔ یہ مضمون انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness) پیدا کرنے اور ہر لمحہ اپنے مقصدِ حیات پر نظر رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔  

Sunday, July 5, 2026

Hazrat Mian Sher Muhammad Sharaqpuri By Professor Khalid Pervaiz

یہ مضمون برصغیر پاک و ہند کے عظیم ولیِ کامل حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کی حیاتِ مبارکہ، اخلاقی تعلیمات اور ان کی زندگی سے وابستہ سچے ایمان افروز واقعات پر روشنی ڈالتا ہے۔  ولادت اور بچپن کی خصوصیت: آپ کی ولادت 1866ء میں شرقپور (ضلع شیخوپورہ) کے ایک پرہیزگار گھرانے میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کی ذات میں ولایت کے آثار نمایاں تھے، یہاں تک کہ شیر خواری کے زمانے میں بھی آپ عام بچوں کی طرح روتے نہیں تھے۔ آپ کے استادِ مکرم مولانا غلام رسول نے مکتب ہی کے زمانے میں آپ کے چہرے پر خوفِ خدا، عشقِ الٰہی اور استغراقی کیفیت کو بھانپ لیا تھا اور پیشگوئی کی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر دہر کا ولیِ کامل بنے گا۔  شرم و حیا کا پیکر: میاں صاحبؒ بے پناہ شرم و حیا کے مالک تھے اور محلے کی خواتین کے بے پردہ بیٹھنے کی عادت کی وجہ سے خود چادر اوڑھ کر یا منہ چھپا کر باہر نکلتے تھے، تاکہ کسی غیر محرم پر نگاہ نہ پڑے۔ بعد میں آپ کی اس پاکیزہ روش نے پورے محلے میں پردے کی خوبصورت روایت قائم کر دی۔  کرامات اور عاجزی: آپ مستجاب الدعوات (جن کی دعا فوراً قبول ہو) کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ مضمون میں آپ کے کئی واقعات کا ذکر ہے؛ جیسے ایک سکھ نوجوان کو کلمہ پڑھا کر دائرۂ اسلام میں داخل کرنا، اپنے ایک مرید کے گھر غائبانہ جا کر کوڑا کرکٹ خود صاف کرنا، اور ایک مغرور سکھ تھانیدار کو اس کی بدتمیزی پر تنبیہ کرنا (جس کے بعد تھانیدار کا گھر چوری ہو گیا اور اس نے معافی مانگی)۔  

Monday, June 29, 2026

Chadar Wali Sarkar By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
یہ کتاب برگزیدہ ولی اللہ حضرت ولی محمد شاہ المعروف چادر والی سرکار کی حیاتِ مبارکہ، ان کے فضائل، عبادات، کشف و کرامات اور انسانیت و حیوانات کے لیے ان کے لطف و کرم پر مبنی ہے۔  ولادت اور بچپن: آپ کی ولادت پر ایک درویش نے پیشگوئی کی اور آپ کا نام 'ولی محمد' تجویز کیا۔ آپ نے بچپن ہی میں نہایت خوبصورت طرز پر قرآن پاک کی تعلیم مکمل کی۔  امیرِ ملت سے ارادت: آپ نے خواب میں قبلہ عالم امیرِ ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ کی زیارت کی اور بعد میں ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔ پیر و مرشد سے آپ کو بے پناہ محبت تھی اور آپ نے اپنا بیٹا 'سعید اختر' بھی مرشد کے قدموں میں قربان کر دیا۔
 خصوصیات و لنگر کا انتظام: آپ ہمیشہ سفید لباس اور سفید چادر اوڑھتے تھے۔ آپ کا دسترخوان (لنگر) ہر خاص و عام، امیر و غریب کے لیے کھلا رہتا تھا۔ آپ غریبوں کو اپنا ایمان کہتے تھے اور امیروں کے تکبر کو ناپسند فرماتے تھے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ آپ کو کبوتروں اور دیگر حیوانات سے بھی خاص انس تھا۔
 تحریکِ پاکستان اور حبِ وطنی: آپ نے تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور قائدِ اعظم کی تائید کی۔ 

Wednesday, June 10, 2026

Maut Ki Yaad By Dr Zafar ul Islam Islahi

موت ایک اٹل حقیقت: کائنات کا ہر جاندار موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے اور یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جہاں انسان ایک مقررہ مدت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ 
 قرآنی رہنمائی: قرآن مجید میں لفظ 'موت' 50 سے زائد مقامات پر آیا ہے، جو انسان کو غفلت سے بیدار کرنے اور اسے اللہ کے حضور پیشی اور حساب کتاب کی یاد دلانے کے لیے ہے۔  نیند اور موت کا تعلق: نیند کو 'وفاتِ صغریٰ' قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان روزانہ اپنی روح کے قبض ہونے اور بیدار ہونے کے عمل سے موت اور دوبارہ جی اٹھنے کا سبق سیکھے۔
  موت کی یاد کی حکمت: موت کو کثرت سے یاد کرنا انسان کے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کرتا ہے، تکبر و غرور کا خاتمہ کرتا ہے اور اسے گناہوں سے روک کر نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔  قبر پہلی منزل: قبر آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے؛ اگر انسان ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ اس میں داخل ہو تو یہ جنت کا باغ بن جاتی ہے، ورنہ تکلیف دہ ٹھکانا۔
  تنہا سفر: انسان اس دنیا سے مال، اولاد اور عہدہ سب پیچھے چھوڑ جاتا ہے، صرف اس کے اعمال ہی قبر میں اس کے ساتھی ہوتے ہیں۔  

Tuesday, May 26, 2026

Bagh e Nabuwat Ka Phool Part 1 By Ashfaq Ahmed Khan

یہ کتاب "باغِ نبوت کا پھول" (حصہ اول) اشفاق احمد خان کی تحریر کردہ ایک انتہائی خوبصورت، ایمان افروز اور معلوماتی اسلامی کتاب ہے، جو "سلسلہ دورِ نبوت کے بچے" کے تحت شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی موضوع نواسہ رسولؐ، جگر گوشہ فاطمہؓ، سیدنا حسن بن علیؓ کی مبارک زندگی اور ان کے بچپن کے ایمان افروز واقعات ہیں۔ مصنف نے انتہائی سادہ اور دلکش اسلوب میں بچوں اور عام قارئین کے لیے سیدنا حسنؓ کا تعارف، ان کی پیدائش، ان کی والدہ محترمہ سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ اور نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی محبت اور گہرے تعلق کو پیش کیا ہے۔ یہ کتاب نئی نسل کی اخلاقی و مذہبی تربیت اور سیرتِ اہل بیتؓ کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

Wednesday, January 28, 2026

Aath Sad Sala Peshan Goiyan By Hazrat Naimat Ullah Shah Wali

Urdu Novels, Free Urdu Novels, Download Free Urdu PDF Books, Islamic Books, Quran, Hadiths, Wazaif, Seerat, Biographies, Urdu Books, Novels, Romance, Fiction, Adventure, Jasoosi, Purisrar, Mysterious, Comedy, Crimes, Historic, Horror, Religious, History, Urdu Poetry, Kids Stories and Much More.............