Pages

Showing posts with label Professor Khalid Pervaiz. Show all posts
Showing posts with label Professor Khalid Pervaiz. Show all posts

Monday, September 14, 2026

Hazrat Mansoor Bin Ammar By Professor Khalid Pervaiz

Download Link B
پروفیسر خالد پرویز کا تحریر کردہ سوانحی و اصلاحی مضمون "حضرت منصور بن عمار" (منارہ نور) ان کی بااثر شخصیت، بصیرت اور حکمت پر مبنی واقعات کا احاطہ کرتا ہے:  چار درہم اور قبولیتِ دعا: حضرت منصور بن عمار کے وعظ کے دوران ایک غلام نے چار درہم پیش کیے۔ آپ نے درویش کو رقم دے کر غلام کی چاروں خواہشات (آزادی، رقم کی تلافی، توبہ اور حاضرین کی بخشش) کے لیے دعا کی، جو اللہ تعالی نے فوراً قبول فرما دیں۔  اخلاق اور صداقت کا اثر: آپ کے مواعظ اور نصائح سے لوگوں کے دل نرم ہوتے، چغل خوری اور جھوٹ کے خاتمے کی ترغیب ملتی اور گناہگار آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتے۔  اسمِ الٰہی کی تعظیم و مقامِ معرفت: ایک بار راستے میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کا کاغذ ملنے پر آپ نے اسے احتراماً نگل لیا۔ خواب میں آپ کو حکمت و معرفت کی راہیں کھولے جانے اور دائمی مقبولیت کی بشارت دی گئی۔  

Tuesday, September 8, 2026

Hazrat Badar ud Din Ishaq By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
 یہ تحریر حضرت بدر الدین اسحاقؒ کے علمی و روحانی سفر، ان کی علمی تشفی کی تلاش اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے ان کی ارادت و وابستگی کی داستان ہے۔ دہلی کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہونے والے بدر الدین اسحاق کو بچپن ہی سے فن سپاہ گری اور علوم و معارف میں مہارت حاصل تھی۔ اپنے گہرے علمی و روحانی سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر وہ کافی بے چین رہتے تھے۔ بالاخر اپنے دوست کے مشورے پر وہ اجودھن (پاکپتن) پہنچے جہاں حضرت بابا فریدؒ نے ان کے تمام سوالات کے انتہائی جامع اور علمی جوابات دے کر ان کی تشفی فرمائی۔حضرت بدر الدین اسحاقؒ نے بابا فریدؒ کی خانقاہ میں زہد، عبادت اور سخت ریاضت اختیار کی۔ ان کی علمی صلاحیت، عاجزی اور انکساری کو دیکھتے ہوئے بابا فریدؒ نے انہیں نہ صرف اپنا خلیفہ، مریدین کی امامت اور خط وکتابت کا ذمہ دار بنایا بلکہ اپنی صاحبزادی کا نکاح بھی ان سے کر کے انہیں دامادی کا شرف بخشا۔ تحریر میں ان کے علمی مقام، عاجزی، حاسدین کے شر سے حفاظت اور اولیاء کرام کی حقیقی کرامت (شریعت و سنت پر استقامت) کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ اجودھن کی جامع مسجد میں گوشہ نشین ہو گئے اور حالتِ سجدہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

Friday, August 28, 2026

Hazrat Miran Hussain Zanjani By Professor Khalid Pervaiz

پروفیسر خالد پرویز کا یہ مضمون لاہور کی قدیم ترین صوفی شخصیت حضرت سید میراں حسین زنجانیؒ کے حالاتِ زندگی، ان کے روحانی مقام اور تبلیغی خدمات پر روشنی ڈالتا ہے۔ حضرت میراں حسین زنجانیؒ، جن کا تعلق ایران کے شہر زنجان سے تھا، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی لاہور آمد سے پہلے خطہٴ پنجاب میں اسلام کے نور کو پھیلانے کے لیے تشریف لائے۔اس مضمون میں آپ کی تقویٰ و طہارت، مجاہدہ و ریاضت اور مقامی لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آپ نے لاہور کے علاقے چاہِ میران (چاہِ زنجانی) میں قیام فرما کر ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔ مضمون کا اختتام اس اہم تاریخی واقعے پر ہوتا ہے کہ حضرت داتا گنج بخشؒ جب لاہور پہنچے تو اسی دن حضرت میراں حسین زنجانیؒ کا وصال ہوا اور حضرت داتا گنج بخشؒ نے خود آپ کا جنازہ پڑھایا۔

Hazrat Baba Shah Jamal By Professor Khalid Pervaiz

 پروفیسر خالد پرویز کی تحریر کردہ یہ داستان حضرت بابا شاہ جمال (اصل نام حسن شاہ) کے روحانی سفر، زہد و تقویٰ اور کرامات کو بیان کرتی ہے۔ آپ نے اپنے مرشد سید عبدالواحد شداد اور بعد ازاں حضرت عمرا ایوب سے معرفت و سلوک کی منازل طے کیں۔ مرشد کے حکم پر آپ نے لاہور کے علاقے اچھرہ کی نواحی بستی میں قیام فرمایا اور خلقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کی۔  اس تحریر میں آپ کے ایک مرید خاص (حسن شاہ عرف شوتیلی) کی دیانتداری کے امتحان اور برکت، ایک بے اولاد کھتری کو پالک بیٹا (فخر الدین) ملنے، اور شاہی معماروں کے ذریعے ایک عالی شان سات منزلہ حجرہ/مقبول عمارت کی تعمیر کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب شہزادی سلطان بیگم نے عمارت کی بلندی پر اعتراض کیا، تو آپ نے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔ سکھ دور میں عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، مگر آپ کا آستانہ آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1049ھ کو ہوا۔  

Sunday, August 23, 2026

Hazrat Abu Saeed Abu Al Khair By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
 یہ تحریر معروف صوفی باصفا حضرت ابو سعید ابو الخیر کی حیاتِ مبارکہ، روحانی مدارج اور تعلیمات پر مشتمل ہے۔ اس میں ان کی انکساری، عاجزی اور حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، نیز بتایا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے گناہ گاروں اور گمراہوں کو اصلاح کی راہ دکھائی۔ تحریر میں حضرت ابو الحسن خرقانی اور دیگر ہم عصر صوفیاء کے ساتھ ان کے پرخلوص تعلقات، باہمی احترام اور علمی و روحانی محافل کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بالآخر 4 شعبان المعظم 440 ہجری کو حضرت ابو سعید ابو الخیر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔

Friday, August 14, 2026

Hazrat Abu Al Hassan Shazli By Professor Khalid Pervaiz

پروفیسر خالد پرویز کا یہ مضمون معروف صوفی بزرگ اور سلسلۂ شاذلیہ کے بانی حضرت ابو الحسن شاذلیؒ کی مبارک زندگی، تصوف، روحانی مقام اور تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے۔  ولادت اور نسب: آپ کا تعلق سادات سے تھا اور آپ کی ولادت مغرب (مراکش) کے علاقے میں ہوئی۔  علمی و روحانی سفر: ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے تصوف اور سلوک کی منازل طے کیں اور اپنے وقت کے عظیم مشائخ سے روحانی فیض حاصل کیا۔  سلسلۂ شاذلیہ کی بنیاد: آپ نے شاذلیہ سلسلے کی بنیاد رکھی جس نے دنیا بھر بالخصوص شمالی افریقہ اور مصر میں اسلام کی روحانی تعلیمات کو عام کیا۔  تعلیمات: حضرت ابو الحسن شاذلیؒ نے شریعت اور طریقت کے ملاپ، توکل علی اللہ، ذکرِ الٰہی اور نفس کی پاکیزگی پر زور دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 11, 2026

Hazrat Abu Al Hassan Kharqani By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
محمود غزنوی کا امتحان اور عقیدت: محمود غزنوی سومنات کی مہم میں کامیابی کے لیے حضرت ابو الحسن خرقانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابتدا میں اس نے لباس بدل کر امتحان لینا چاہا، مگر حضرت خرقانی نے فراست سے اسے پہچان لیا اور اشرفیاں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
  فتح سومنات کے لیے دعا: سلطان کی عاجزی اور التجا پر حضرت نے فتح کی بشارت اور اپنا پیراہن مبارک عطا کیا۔ جنگ کے دوران اس پیراہن کے وسیلے سے سلطان کو عظیم فتح حاصل ہوئی۔ 
حضرت بایزید بسطامیؒ سے روحانی تعلق: حضرت بایزید بسطامیؒ نے اپنے وصال سے سالوں پہلے ہی حضرت خرقانی کی ولادت، نام اور بلند روحانی مقام کی پیشگوئی فرمائی تھی۔سائلین اور نامور شخصیات کی آمد: شیخ الرئیس بو علی سینا اور شیخ ابو سعید ابوالخیر جیسی عظیم شخصیات نے آپ کی بارگاہ میں حاضری دی۔ بو علی سینا آپ کی کرامات اور علمی و روحانی مرتبے کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔
علمِ لدنی اور قرآنی معارف: آپ بظاہر ان پڑھ اور کاشتکار تھے، مگر اللہ تعالی کے فضل سے آپ پر تمام علومِ شریعہ، قرآن و حدیث کے اسرار اور علمِ لدنی کے تمام معارف خود بخود ظاہر ہو گئے

Sunday, July 5, 2026

Hazrat Mian Sher Muhammad Sharaqpuri By Professor Khalid Pervaiz

یہ مضمون برصغیر پاک و ہند کے عظیم ولیِ کامل حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کی حیاتِ مبارکہ، اخلاقی تعلیمات اور ان کی زندگی سے وابستہ سچے ایمان افروز واقعات پر روشنی ڈالتا ہے۔  ولادت اور بچپن کی خصوصیت: آپ کی ولادت 1866ء میں شرقپور (ضلع شیخوپورہ) کے ایک پرہیزگار گھرانے میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کی ذات میں ولایت کے آثار نمایاں تھے، یہاں تک کہ شیر خواری کے زمانے میں بھی آپ عام بچوں کی طرح روتے نہیں تھے۔ آپ کے استادِ مکرم مولانا غلام رسول نے مکتب ہی کے زمانے میں آپ کے چہرے پر خوفِ خدا، عشقِ الٰہی اور استغراقی کیفیت کو بھانپ لیا تھا اور پیشگوئی کی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر دہر کا ولیِ کامل بنے گا۔  شرم و حیا کا پیکر: میاں صاحبؒ بے پناہ شرم و حیا کے مالک تھے اور محلے کی خواتین کے بے پردہ بیٹھنے کی عادت کی وجہ سے خود چادر اوڑھ کر یا منہ چھپا کر باہر نکلتے تھے، تاکہ کسی غیر محرم پر نگاہ نہ پڑے۔ بعد میں آپ کی اس پاکیزہ روش نے پورے محلے میں پردے کی خوبصورت روایت قائم کر دی۔  کرامات اور عاجزی: آپ مستجاب الدعوات (جن کی دعا فوراً قبول ہو) کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ مضمون میں آپ کے کئی واقعات کا ذکر ہے؛ جیسے ایک سکھ نوجوان کو کلمہ پڑھا کر دائرۂ اسلام میں داخل کرنا، اپنے ایک مرید کے گھر غائبانہ جا کر کوڑا کرکٹ خود صاف کرنا، اور ایک مغرور سکھ تھانیدار کو اس کی بدتمیزی پر تنبیہ کرنا (جس کے بعد تھانیدار کا گھر چوری ہو گیا اور اس نے معافی مانگی)۔  

Monday, June 29, 2026

Chadar Wali Sarkar By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
یہ کتاب برگزیدہ ولی اللہ حضرت ولی محمد شاہ المعروف چادر والی سرکار کی حیاتِ مبارکہ، ان کے فضائل، عبادات، کشف و کرامات اور انسانیت و حیوانات کے لیے ان کے لطف و کرم پر مبنی ہے۔  ولادت اور بچپن: آپ کی ولادت پر ایک درویش نے پیشگوئی کی اور آپ کا نام 'ولی محمد' تجویز کیا۔ آپ نے بچپن ہی میں نہایت خوبصورت طرز پر قرآن پاک کی تعلیم مکمل کی۔  امیرِ ملت سے ارادت: آپ نے خواب میں قبلہ عالم امیرِ ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ کی زیارت کی اور بعد میں ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔ پیر و مرشد سے آپ کو بے پناہ محبت تھی اور آپ نے اپنا بیٹا 'سعید اختر' بھی مرشد کے قدموں میں قربان کر دیا۔
 خصوصیات و لنگر کا انتظام: آپ ہمیشہ سفید لباس اور سفید چادر اوڑھتے تھے۔ آپ کا دسترخوان (لنگر) ہر خاص و عام، امیر و غریب کے لیے کھلا رہتا تھا۔ آپ غریبوں کو اپنا ایمان کہتے تھے اور امیروں کے تکبر کو ناپسند فرماتے تھے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ آپ کو کبوتروں اور دیگر حیوانات سے بھی خاص انس تھا۔
 تحریکِ پاکستان اور حبِ وطنی: آپ نے تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور قائدِ اعظم کی تائید کی۔