Download Link A
Download Link B
Download Link B
یہ تحریر حضرت بدر الدین اسحاقؒ کے علمی و روحانی سفر، ان کی علمی تشفی کی تلاش اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے ان کی ارادت و وابستگی کی داستان ہے۔ دہلی کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہونے والے بدر الدین اسحاق کو بچپن ہی سے فن سپاہ گری اور علوم و معارف میں مہارت حاصل تھی۔ اپنے گہرے علمی و روحانی سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر وہ کافی بے چین رہتے تھے۔ بالاخر اپنے دوست کے مشورے پر وہ اجودھن (پاکپتن) پہنچے جہاں حضرت بابا فریدؒ نے ان کے تمام سوالات کے انتہائی جامع اور علمی جوابات دے کر ان کی تشفی فرمائی۔حضرت بدر الدین اسحاقؒ نے بابا فریدؒ کی خانقاہ میں زہد، عبادت اور سخت ریاضت اختیار کی۔ ان کی علمی صلاحیت، عاجزی اور انکساری کو دیکھتے ہوئے بابا فریدؒ نے انہیں نہ صرف اپنا خلیفہ، مریدین کی امامت اور خط وکتابت کا ذمہ دار بنایا بلکہ اپنی صاحبزادی کا نکاح بھی ان سے کر کے انہیں دامادی کا شرف بخشا۔ تحریر میں ان کے علمی مقام، عاجزی، حاسدین کے شر سے حفاظت اور اولیاء کرام کی حقیقی کرامت (شریعت و سنت پر استقامت) کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ اجودھن کی جامع مسجد میں گوشہ نشین ہو گئے اور حالتِ سجدہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.