Pages

Showing posts with label Aslam Rahi. Show all posts
Showing posts with label Aslam Rahi. Show all posts

Thursday, July 30, 2026

Galga Mission By Aslam Rahi

روايت کے مطابق ۲۸ویں صدی قبل مسیح میں، بعلبک کے حکمران لوگل باندہ کے سابق وزیر اشلات، کیش کے جابر حکمران اتانا کے مظالم کی شکایت لے کر عراق کے شہر اریک میں بادشاہ گلگامش کے پاس پہنچتے ہیں۔ اتانا نے بعلبک پر حملہ کرکے لوگل باندہ کو قید کر دیا تھا اور اس کی حسین بیٹی اسلیم، بیٹے اریش اور اس کی منگیتر اراتا کو لبنانی ساحر انو کے حوالے کر دیا تھا، جس نے اپنے سحر سے ان کی زندگیوں کو انسانی اور حیوانی روپ (صبح و شام کی شفق سے منسلک) میں تقسیم کر دیا تھا۔ اریک کے سفر کے دوران اشلات کی ملاقات فرات کے کنارے ملاحوں کے سردار تموز سے ہوتی ہے جو اسے گلگامش کے ساتھ ساتھ اس کے طاقتور اور روحانی صفات کے حامل دوست سموقان سے مدد لینے کا مشورہ دیتا ہے۔
دوسری طرف، سردار تموز اور اس کے چرواہے جنگل کے ایک بے حد طاقتور اور وحشی انسان "ان کدو" کو اپنے ساتھ ملا کر گلگامش کو تخت سے ہٹانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان لیل مندر کی خوبصورت دیوداسی "زوستا" کو بھیجا جاتا ہے جو اپنی محبت اور حسن کے جال میں ان کدو کو رام کرکے آبادی میں لے آتی ہے۔ اریک پہنچ کر ان کدو کا مقابلہ پہلے گلگامش سے اور پھر سموقان سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, October 29, 2020

Ableka By Aslam Rahi

Download Link A
Download Link B
"ابلیکا" اسلم راہی کا ایک منفرد اور ضخیم تاریخی ناول ہے جو کئی حصوں پر مشتمل ہے۔ یہ کہانی تخلیقِ کائنات کے بعد سے حق اور باطل، اور خیر و شر کے درمیان جاری ابدی جنگ کا احاطہ کرتی ہے۔  خیر و شر کی جنگ کا آغاز: کہانی کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے قبائل کے مابین تنازع سے ہوتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نسلوں تک پھیل جاتا ہے۔ خیر کی نمائندگی کے لیے "یوناف" نامی ایک لافانی اور الہی قوتوں کے حامل کردار کو پیش کیا گیا ہے، جبکہ شر کی علامت کے طور پر "عزازیل" اور دیگر شیطانی قوتیں متحرک رہتی ہیں۔  انبیاء اور تاریخی قوموں کے احوال: اس ناول میں محض افسانوی رنگ نہیں ہے، بلکہ مصنف نے نہایت مہارت سے قدیم انسانی تاریخ، سلطنتوں اور مختلف انبیاء کرام (جیسے حضرت شیث، حضرت ادریس، حضرت اسماعیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام) کے ادوار کو کہانی کے تانے بانے میں پرویا ہے۔  تہذیبوں کا عروج و زوال: کہانی کے دوران سمیری قوم، قومِ عاد، قدیم عرب قبائل، بنی اسرائیل، فرعونِ مصر، اور رومی و یونانی سلطنتوں کے عروج و زوال، ان کے مذاہب اور عقائد کو بڑی تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے سبق حاصل کر سکیں۔  

Aatish Parast By Aslam Rahi

 

Download Link A
Download Link B

Friday, July 31, 2020

Yaroshalam Ki Sahira By Aslam Rahi

Download Link A
Download Link B
"یروشلم کی ساحرہ" اسلام سے پہلے کے زمانے پر مبنی ایک تاریخی اور مہم جویانہ ناول ہے۔ کہانی نبطی عربوں کی عظیم تاریخ، ان کے بادشاہ حارث، دارالحکومت رقیم (پیٹرا) اور فتح کے معرکوں کے گرد گھومتی ہے۔   مرکزی پلاٹ حبیب بن عثمان نامی ایک بہادر اور غیرت مند نبطی نوجوان کے گرد گردش کرتا ہے۔ حبیب اور اس کے ماموں زاد بھائیوں (سعید اور علی) کو ایک معمولی جھگڑے میں رقیم کے کوتوال کے ظلم کی وجہ سے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جیل میں حبیب اپنی بے پناہ شجاعت سے خطرناک قیدیوں (قلیص اور شناتر) کو شکست دیتا ہے، جس سے متاثر ہو کر نبطی بادشاہ حارث کا بیٹا، ولی عہد مالک بن حارث، انہیں بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔   بادشاہ حارث، حبیب کو ایک نہایت اہم اور دشوار مہم سونپتا ہے۔ یروشلم میں "اوزال" نامی ایک حسین و جمیل صابی رقاصہ و مغنیہ (جسے 'یروشلم کی ساحرہ' بھی کہا جاتا ہے) موجود ہے، جسے یروشلم کا حاکم ہیرودیس دمشق کے بادشاہ حداد بن حداد کو تحفے میں دینا چاہتا ہے۔ اوزال اس زبردستی کی شادی سے انکار کر کے روپوش ہو جاتی ہے، جس پر ہیرودیس اس کے تمام اہل خانہ کو قتل کروا دیتا ہے۔ حارث کی بیٹی عریب (جو ہیرودیس کی بیوی ہے) اوزال کو بچانا چاہتی ہے۔ بادشاہ حارث، حبیب کو اوزال کو محفوظ طریقے سے یروشلم سے نکال کر رقیم لانے کی ذمہ داری دیتا ہے۔   مہم پر روانہ ہونے سے قبل، حبیب اپنے نخلستان میں واقع گھر پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں کچھ ظالموں نے اس کے باپ کو قتل اور ماں (یو باب) کو اندھا کر دیا ہے۔ حبیب قسم کھاتا ہے کہ جب تک وہ اپنے باپ کے قاتلوں سے بدلہ نہیں لے لیتا، تب تک وہ نیا لباس پہنے گا اور نہ ہی شادی کرے گا۔ وہ پہلے اپنے رب کے حضور خانہ کعبہ (مکہ) جا کر کامیابی اور نصرت کی دعا مانگتا ہے اور پھر یروشلم کے لیے روانہ ہو جاتا ہے۔   یروشلم پہنچ کر حبیب ایک یہودی مکابی رہنما عازور سے ملتا ہے اور رومن، یہودی اور شامی ریاستوں کی سیاسی سازشوں، کشمکش اور برابا جیسے ڈاکوؤں کے پھیلاؤ کا جائزہ لیتا ہے۔ ناول میں ایمانی غیرت، عشق، تاریخی حقائق، بت پرستی کے خاتمے اور آنے والے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بشارتوں کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔