"لالی" مصنفہ فضاء بتول کا ایک جذباتی اور رازوں سے بھرپور ناول ہے، جو محبت، جدائی، خاندانی اصولوں اور سچ کی جستجو کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار فریال (جس کا نک نیم لالی ہے) ایک خاموش طبع اور حساس لڑکی ہے جو اکثر ایک ہی مبہم خواب دیکھ کر گھبرا کر اٹھتی ہے۔ وہ حقیقت سے دور اپنی ہی دنیا میں گم رہتی ہے۔ اسے بچپن سے ہی سرخ پھول، کتابیں اور لائبریری کا آخری شیلف پسند ہیں۔
دوسری طرف ہاشم ہے، جو بارہ سال پہلے نہر کے کنارے ملنے والی ایک ایسی لڑکی (پری) کی تلاش میں ہے جس کے گھنگھریالے بال، بھوری آنکھیں اور گال کا گڑھا اس کے دل میں نقش کر چکے ہیں۔ ہاشم نے اس لڑکی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے بچانے ضرور آئے گا اور اس وعدے کی خاطر وہ شہر کی ہر لائبریری کے آخری شیلف کی خاک چھانتا رہا۔کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب ہاشم اور لالی کا سامنا دوبارہ یونیورسٹی کی لائبریری کے آخری شیلف پر ہوتا ہے، جہاں سرخ پھولوں کے سوکھے پتے گرے ہوتے ہیں۔ لالی کو پتہ چلتا ہے کہ جسے وہ ہمیشہ سے نونو (سعیدہ بیگم) سمجھتی رہی، وہ دراصل اس کی سگی ماں نہیں تھی، بلکہ اس کی سگی ماں "سارا" تھی جس نے اپنی بیٹی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کے لیے ایک ایسی ڈائری لکھی تھی جو لالی کو لائبریری کے آخری شیلف سے ملنی تھی۔ یہ ناول ان عورتوں کی خاموش قربانیوں اور جیت کی کہانی ہے جو ماضی کے چھپے رازوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی سچی محبت اور پہچان کو پا لیتی ہیں۔