Pages

Showing posts with label Novels. Show all posts
Showing posts with label Novels. Show all posts

Saturday, October 10, 2026

Nagan By Masood Javed

Download Link A
Download Link B
’ناگن‘ مسعود جاوید کا لکھا ہوا ایک سنسنی خیز اور تجسس سے بھرپور جاسوسی ناول ہے جس کے مرکزی کردار مشہور سراغ رساں شہاب اور اس کا ساتھی نجمی ہیں۔ کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب نجمی گھبرایا ہوا شہاب کے مطب میں داخل ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ باہر ایک عجیب و غریب حلیے والا بوڑھا شخص موجود ہے جو یکم اپریل کی بات کرتا ہے۔ وہ بوڑھا شخص خود کو ”زیرو“ کہتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مسروقہ جواہرات کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ زیرو ایک انتہائی قیمتی سرخ ہیرا (جو تبت کی کالی وادی میں ناگ دیوتا کے مندر سے چوری کی گئی ناگ دیوتا کی آنکھ نما نایاب ہیرا تھا) شہاب کے پاس بطور امانت رکھواتا ہے کیونکہ اسے اپنے دشمن ”عقاب“ سے جان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ زیرو ایک ہفتہ وار ٹیلی فون کال کا نظام طے کرتا ہے تاکہ اس کی خیریت معلوم ہو سکے، بصورت دیگر شہاب کو لفافہ کھول کر انتقام لینے کا کہتا ہے۔   دوسری طرف، روحانی عاملہ فرازی کے پاس ایک لڑکی ”کملا“ لائی جاتی ہے جو پاگل خانے سے غائب ہو کر پراسرار طور پر اس کے پاس پہنچتی ہے اور بتاتی ہے کہ ناگ دیوتا کی طرف سے تین خوفناک سائے (روحیں) اس کا تعاقب کر رہے ہیں۔ بعد میں زیرو اپنے مطب میں مردہ پایا جاتا ہے اور اس کا گلا گھونٹا گیا ہوتا ہے، جبکہ اس کی الماری سے اصلی ہیرا غائب اور نقلی ہیرا برآمد ہوتا ہے۔ تفتیش آگے بڑھتی ہے تو انکشاف ہوتا ہے کہ زیرو کو قتل کرنے والا اور اس کا تعاقب کرنے والے دراصل تبت سے آئے ہوئے تین غیر ملکی پجاری ہیں۔ کہانی میں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ”کملا“ اور اس کی جڑواں بہن ”بملا“ (جو فادر فرڈینینڈ اور مس فرڈینینڈ کے روپ میں ہوٹل میں مقیم تھیں) اصل میں عقاب کے نام سے یہ سارا کھیل کھیل رہی تھیں۔ بمبلا ہی وہ ماسٹر مائنڈ ہوتی ہے جو ناگ دیوتا کی آنکھ (ہیرا) چراتی ہے، اپنے حریفوں کو زہریلے تیر اور گیس کے ذریعے ہلاک کرتی ہے، شاما (بوڑھی عورت) کا روپ دھارتی ہے اور آخرکار شہاب کی ہوشیاری اور پولیس کی مدد سے پریم کے ذریعے گرفتار کر لی جاتی ہے۔  

Monday, October 5, 2026

Talash By Neema Gul Memon

Download Link A
Download Link B
’تلاش‘ نیما گل میمن کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور روحانی کہانی پر مبنی ناولٹ ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار عدیل ہے، جو سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار کا ایک درویش صفت فقیر (یسین والے بابا) ہے۔ چودہ پندرہ سال پہلے بچپن میں مزار پر اس کی ملاقات پری وش (پری) نامی ایک چھوٹی بچی سے ہوئی تھی، جس کے ہاتھ سے آئس کریم گر گئی تھی。 اس واقعے کے بعد عدیل دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر مزار کی روحانیت اور پری کے عشق میں گرفتار ہو گیا اور اس کی روح مزار سے وابستہ ہو گئی۔   دوسری جانب، پری فیشن ڈیزائننگ کی طالبہ ہے اور اپنے کزن علی شیر کو پسند کرتی ہے جو کینیڈا میں مقیم ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ علی شیر اور اس کے گھر والوں کی طرف سے رشتہ مسلسل لٹکائے جانے کی وجہ سے پری شدید ذہنی الجھن کا شکار رہتی ہے۔ ایک دن پری اپنی بہن کے ساتھ دعا مانگنے مزار پر آتی ہے اور عدیل سے اس کا سامنا ہوتا ہے۔ عدیل کی پرخلوص اور سحر انگیز شخصیت، اس کا جاہ و جلال اور بغیر کسی لالچ و ہدیے کے لوگوں کے لیے دعا کرنا پری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, October 4, 2026

Mere Khawab Lota Do By Nighat Abdullah

Download Link A
Download Link B
”میرے خواب لوٹا دو“ نگہت عبداللہ کا تحریر کردہ ایک جذباتی اور اصلاحی اردو ناول ہے۔ کہانی کے مرکزی پلاٹ میں خاندانی تعلقات، محبت، ایثار اور معاشرتی روایتی دباؤ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول کے کردار اپنی خواہشات، رشتوں کے تحفظ اور تلخ حقیقتوں کے درمیان کشمکش کا شکار نظر آتے ہیں۔ مصنفہ نے احساسات کی باریکیوں اور انسانی نفس کی الجھنوں کو نہایت خوبصورت اور شائستہ اسلوب میں پیش کیا ہے، جو قارئین کو ضبط اور خلوصِ نیت کا درس دیتا ہے۔

Wednesday, September 30, 2026

Qalbi Qatalni Complete By Reem Farooq

Download Link A
Download Link B
"قلبی قتلنی" ریم فاروق کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور سسپنس سے بھرپور ناولٹ/ناول ہے۔ اس کا انتساب ان لوگوں کے نام کیا گیا ہے جن کے دلوں نے بے جا خواہشات اور جذباتی فیصلوں کی وجہ سے انہیں جیتے جی مار ڈالا۔   داستان کی اہم خصوصیات اور مرکزی نکات:انتقام، جیوپلیٹکس اور گریم ریپر (بلا ج سکندر):
قصے کا آغاز ایک پراسرار اور خوفناک منظر سے ہوتا ہے جہاں "گریم ریپر" کے نام سے جانا جانے والا ہیرو/اینٹی ہیرو بلاج سکندر (جس کی سبز آنکھیں اور گوری رنگت ہے) اپنے ساتھی حازق کے ساتھ مل کر اپنے دشمن حمدانی کے وکیل سے زبردستی غیر قانونی پراپرٹی کاغذات پر دستخط کرواتا ہے اور اپنی بات کاٹنے کی سزا کے طور پر خونریز کارروائی کرتا ہے۔ بلاج اپنے باپ کی طرح شریر انداز اور اپنے قوانین سے دنیا کو چلاتا ہے۔   مرحا، انسانیت اور ایماندارانہ ذہنیت:
دوسری طرف داستان میں مرحا کا کردار ہے، جو ایک باپ کی لاڈلی، باپردہ اور انتہائی دین دار، حساس اور سلجھی ہوئی ہیڈ گرل ہے۔ مرحا سائیکالوجی (نفسیات) کی طالبہ ہے اور وہ یونیورسٹی کی سطح پر ناانصافی اور رینگنگ کے خلاف بلا خوف آواز اٹھاتی ہے۔   نفسیاتی ہسپتال (فونٹین ہاؤس) کے مناظر:
اپنی ہاسپٹل اسائنمنٹ کی غرض سے مرحا اپنی غیر مسلم دوست ڈیزی کے ساتھ "آمنہ بلاک" جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات گل نامی ایک ممبر (مریضہ) سے ہوتی ہے۔ گل ذہنی صدمے کے باعث اپنے مرحوم شوہر کو اپنے خیالات میں زندہ سمجھتی ہے۔ مرحا اسے محبت، ذہنی صحت اور انسان کے اپنے وجود کی اہمیت کے فلسفے پر شفقت سے سمجھاتی ہے۔   محبت اور بد گمانی کی ڈرامائی پرتیں:
کہانی میں ایک طرف شہریار ہے جو مرحا کے پردے کا احترام کرتا ہے اور اس کی نیلی آنکھوں کی پاکیزگی پر فدا ہے، جبکہ دوسری طرف منتہا ہے جو بلاج سکندر سے والہانہ لیکن یکطرفہ محبت کرتی ہے اور کینوس پر اس کی سبز آنکھوں کے پورٹریٹ بناتی ہے۔ بلاج عورتوں کی محفل سے دور بھاگنے والا شخص ہے۔   ناولٹ میں معاشرتی مسائل، فلسطین کے حق میں مظاہرے، دینی و اخلاقی اقدار اور انسان کی ذہنی و قلبی جنگوں کو بڑی خوبصورتی اور روانی کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔   

Tuesday, September 29, 2026

Mazi Ke Jharokon Se By Shaukat Afzal

Download Link A
Download Link B
یہ تاریخی ناول اسپین (اندلس) میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتا ہے، جو ایک چچا اپنے بھتیجے اور بھتیجی کو سناتا ہے۔ فٹبال میچ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چچا بتاتا ہے کہ ہسپانوی اور پرتگالی باشندوں کی کشش میں صدیوں پر محیط عرب مسلم حکمرانی کی جھلک آج بھی موجود ہے۔ وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ جب گوتھ بادشاہ راڈرک نے کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا کی عزت پامال کی، تو کاؤنٹ نے مسلمان گورنر موسیٰ بن نصیر سے مدد مانگی۔ جس کے بعد طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے کشتیاں جلا کر راڈرک کو شکست دی اور اندلس میں علم، سائنس اور تہذیب کا سنہری دور قائم کیا۔ آخر میں مصنف مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور عیش پرستی کے سبب زوال، سقوطِ غرناطہ، اور انکوائزیژن (Inquisition) کے
مظالم کا ذکر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو اپنے شاندار ماضی اور علم سے دوبارہ جڑنے کا سبق دیتا ہے۔

Monday, September 28, 2026

Aqabla By Jabir Bin Yusuf Al Baqar

Download Link A
Download Link B
"اقابلا" جابر بن یوسف الباقر کا ایک پُراسرار اور سنسنی خیز ایڈونچر ناول ہے۔ یہ دہلی کے "کتاب والا" نے سن 2000ء میں شائع کیا۔ اس کا راوی جابر ہے، جو ایک ریٹائرڈ اعلیٰ خفیہ پولیس افسر یوسف الباقر کا بیٹا ہے۔
کہانی کا آغاز ایک بحری سفر سے ہوتا ہے، جس میں جابر کے ساتھ میڈم فلورا ہے۔ وہ بندرگاہ پر پولیس کی نظروں سے بچ کر جہاز میں سوار ہونا چاہتا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اس کے والد کو خبر مل گئی تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ آگے چل کر واقعات اسے اجنبی اور خطرناک علاقوں تک لے جاتے ہیں۔ وہاں غار، طلسمی آلات، ایک ساحر اور "دیوی" جیسی پراسرار طاقتیں ہیں، جن کے سامنے اس کی جان بار بار خطرے میں پڑتی ہے۔
اس سفر میں سرنگا، ڈاکٹر جواد، شراڈ اور جارا کاکا جیسے کردار ملتے ہیں، اور ان کی وفاداری اور بے اعتمادی کہانی کو آگے بڑھاتی ہے۔ "آقابلا" اس داستان کی مرکزی پراسرار قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ آخری صفحات میں سب بچ جانے والے ساتھی جدائی اور ماضی کے صدمے کے بعد ایک خاندان کی طرح مل کر رہنے کا عہد کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tiger By Mushtaq Ahmed Qureshi

Download Link A
Download Link B
"ٹائیگر" مشتاق احمد قریشی کی جاسوسی اور ایکشن پر مبنی مقبول سلسلہ وار کہانی ہے۔ اس کا مرکزی کردار ٹائیگر ایک نڈر، ذہین اور بے خوف خفیہ ایجنٹ ہے۔ وہ مجرموں کے منظم گروہوں، بین الاقوامی سازشوں اور خطرناک دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
کہانی کے آغاز میں پولیس، عدالت، وکیلِ صفائی اور سزائے موت جیسے ماحول کے ساتھ سنسنی خیز فضا بنتی ہے۔ آگے چل کر ہر جلد میں نیا مشن، نئے کردار اور نئی چالیں سامنے آتی ہیں۔ آخری حصوں میں ڈاکٹر بہرام، ساحل بہاماس اور لوشان جیسے کردار ٹائیگر کے ساتھ مختلف خفیہ منصوبوں اور جوابی کارروائیوں میں نظر آتے ہیں۔پوری کہانی میں دوستی اور غداری، خطرے اور چالاکی، اور انسانیت و انصاف کی کشمکش نمایاں رہتی ہے۔ رفتار تیز ہے اور ہر موڑ پر سسپنس برقرار رہتا ہے، اس لیے یہ جاسوسی ادب کے شائقین کے لیے دل چسپ مطالعہ ہے۔

Saturday, September 26, 2026

Shor Hai Gali Gali Novel By Aasha Rani

Download Link A
Download Link B
یہ ناول ایک غریب نواب زادی نازش کی دکھ بھری کہانی ہے، جس کی شادی اس کے والد نواب صفدر جنگ نے محض پیسے کی خاطر ایک عمر رسیدہ اور عیاش سیٹھ ناصر علی سے کر دی۔ نازش کے کنوارے اور خوبصورت خواب سیٹھ ناصر کے بوڑھے اور وحشیانہ رویے کی وجہ سے چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ سیٹھ ناصر نہ صرف نازش کی زندگی برباد کرتا ہے بلکہ اسے بلیک میل کرتا ہے۔   وقت کے ساتھ نازش اپنے حالات سے بددل ہو کر انتقام کی راہ اختیار کر لیتی ہے۔ اس دردناک حقیقت کے سامنے آنے پر نازش ناصر کو گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہے اور اسلم کو بھی قتل کر دیتی ہے۔   اس واقعے کے بعد نازش کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ چودہ سال بعد جیل سے رہائی کے وقت نازش کو اپنی کی ہوئی غلطیوں اور ثروت کی برباد شدہ زندگی کا سخت پچھتاوا ہوتا ہے۔ آخر کار وہ اپنے بچی ہوئی زندگی پچھتاوے، ندامت اور اداسی کے سایہ میں گزار دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

Mukhbar Kon Tha By Anwar Siddiqui

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی لندن میں ہونے والی پراسرار ڈکیتیوں اور پولیس کے کیپٹن پاول کی تحقیقات کے گرد گھومتی ہے:   ڈکیتی اور پر اسرار مخبر: پوسٹ آفس میں ڈکیتی کے بعد ایک گمنام مخبر کیپٹن پاول کو فون کر کے مسروقہ گاڑی سے پروفیسر تھامس کا پرس اور فنگر پرنٹس برآمد کرواتا ہے، جس کی بنیاد پر پروفیسر کو دو سال کی سزا ہو جاتی ہے۔   حیرت انگیز موڑ: پروفیسر کے جیل میں ہونے کے باوجود انہی کے فنگر پرنٹس کے ساتھ سٹی بینک میں ڈکیتی ہو جاتی ہے، جس پر عدالت پروفیسر کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیتی ہے۔   اصل حقیقت کا انکشاف: کیپٹن پاول نوکری سے استعفیٰ کا ڈراما کر کے بھیس بدلتا ہے اور راز فاش کرتا ہے کہ اصل مخبر اور مجرم خود پروفیسر تھامس ہی تھا۔ اس نے جعلی فنگر پرنٹس

Tuesday, September 22, 2026

Chashm e Nam By Adil Rasheed

"چشم نم" عادل رشید کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور اصلاحی ناول ہے۔ اس کی کہانی ایک ایسی لڑکی "ودیا" کے گرد گھومتی ہے جو انتہائی نیک سیرت، بااخلاق، اور اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے) ہے۔ ودیا کے والد ہیم چندر لکھنؤ کے ایک کامیاب اور دیانت دار وکیل ہیں۔ ودیا ہر لحاظ سے ایک بہترین اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے، لیکن اس کی ظاہری رنگت سانولی اور روپ خوبصورت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی میں مسلسل رکاوٹیں آتی ہیں۔   ودیا کے والدین اس کی شادی کے لیے بہت پریشان رہتے ہیں اور کئی جگہ بات چیت کرتے ہیں۔ تاہم، ہر بار لوگ صرف ظاہری صورت و صورت یا دولت دیکھتے ہیں۔ ایک موقع پر ایک لالچی شخص "کامتا پرشاد" اپنے جالی بیٹے اور ایک بدنام چور کو شریف لڑکا بنا کر وکیل صاحب سے شادی اور دولت ہتھیا نے کا ڈرامہ رچاتا ہے، جسے ودیا اپنی دانشمندی سے بے نقاب کر دیتی ہے اور پولیس کے حوالے کروا دیتی ہے۔ ان تمام رسوائیوں اور تلخ تجربات سے تنگ آ کر ودیا شادی سے انکار کر دیتی ہے اور تنہا رہنے کا فیصلہ کرتی ہے۔اسی دوران ودیا کے والدین ایک حادثے (ٹرین حادثے) میں وفات پا جاتے ہیں، جس سے ودیا بالکل تنہا اور ٹوٹ جاتی ہے۔ خود کو مصروف رکھنے کے لیے وہ اپنی تعلیم اور ریسرچ (ڈاکٹریٹ) کا سلسلہ آگے بڑھاتی ہے۔ لائبریری میں اس کی ملاقات "نرمل کمار" نامی ایک ادیب/شاعر سے ہوتی ہے۔ نرمل اپنے آپ کو مظلوم اور بااخلاق ظاہر کر کے ودیا کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کر لیتا ہے۔ ودیا اس کی مالی مدد کرتی ہے اور اسے سچی محبت اور اپنا جیون ساتھی سمجھنے لگتی ہے۔

Monday, September 21, 2026

Barf Ki Deewar By Mael Malihabadi

یہ ناول آزاد ہندوستان کے بعد کے سماجی، اخلاقی اور مذہبی مسائل، بالخصوص ذات پات کی تفریق، چھوت چھات اور فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی ایک اصلاحی کہانی ہے۔   کہانی کا مرکزی کردار کمل شرما ایک برہمن نوجوان ہے، جس نے عربی زبان میں ایم اے کیا ہے اور آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کرتا ہے۔ لکھنؤ میں اس کے تعلقات مالتی نامی ایک لڑکی سے ہوتے ہیں، لیکن جب کمل کو معلوم ہوتا ہے کہ مالتی کی ماں اچھوت (دھوبن) تھی، تو وہ اپنے تعصب اور ذات پات کے گھمنڈ میں مالتی کو تحقیر کے ساتھ ٹھکرا دیتا ہے۔ مالتی اس ذلت سے شدید رنجیدہ ہوتی ہے اور اونچی ذات کے برہمنوں کے اس مصنوعی نظام اور نفرت کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔   دہلی جا کر کمل کی ملاقات عربی شعبے کی مصری نگراں فریدہ اور شعبے کے سربراہ مولانا سے ہوتی ہے۔ وہاں فریدہ اور دیگر لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور مولانا کی شرافت و اخلاق کو دیکھ کر کمل کی سوچ بدلنے لگتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ انسانیت اور اخلاق کسی ذات یا مذہب کے مرہونِ منت نہیں ہیں۔ آخرکار ایک دن فریدہ کے ساتھ چائے پی کر کمل اپنی صدیوں پرانی چھوت چھات کی روایت اور تعصب کی "برف کی دیوار" کو توڑ دیتا ہے اور اسے اپنے ماضی کے رویے پر ندامت ہوتی ہے۔   دوسری طرف مالتی کی زندگی میں راجہ رام نامی ایک دولت مند کاروباری شخص آتا ہے جو اس کی ذات کی پروا کیے بغیر اس سے رشتہ قائم کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ ناول بنیادی طور پر یہ درس دیتا ہے کہ جو سماج ذات پات اور مذہبی نفرت میں بٹا رہے گا وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا اور عوامی انقلاب ایسے فرسودہ نظام کو مٹا کر رکھ دے گا۔

Nikamma By Behzad Sheikh

Download Link B
حارث کی خاندانی زندگی اور "نکمے" کا تاثر:
حارث 26 سالہ نوجوان ہے جو اپنے والدین (شاہد آفندی اور تہمینہ بیگم) اور جڑواں بہن سارا کے ساتھ لاہور میں رہتا ہے۔ شاہد صاحب ایک ذمہ دار اور سخت مزاج والد ہیں، جو حارث کے کوئی کام نہ کرنے، دن بھر آوارہ گردی کرنے اور لائف میں سنجیدہ نہ ہونے پر اکثر ڈانٹتے رہتے ہیں اور اسے "نکما" سمجھتے ہیں۔ بہن سارا کے ساتھ اس کی نوک جھونک اور شرارتیں چلتی رہتی ہیں، جبکہ ماں تہمینہ بیگم ہمیشہ اسے پیار سے سنبھالتی ہیں۔
   حارث کی اصل حقیقت:
گھر والوں اور محلے داروں کی نظر میں لاپرواہ اور آوارہ نظر آنے والا حارث اصل میں پاکستان کے ایک سیکیورٹی ادارے کا ایک انتہائی تربیت یافتہ اور انڈر کور ایجنٹ (میجر حارث آفندی - کوڈ نیم: ایگل) ہے۔ وہ جان بوجھ کر بے فکری کا نقاب اوڑھے رکھتا ہے تاکہ کسی کو اس کی حساس سرگرمیوں کا شک نہ ہو۔ رات کی تاریکی میں وہ اپنے مشنز پر نکلتا ہے۔
   لالہ زار پل پر خطرناک مشن:
کرنل شہیر اپنے ایجنٹوں کو اہم قومی بریفنگ دیتے ہیں کہ "لالہ زار پل" پر بارڈر پار دشمن کے ساتھ ایک بڑی اسلحہ ڈیل اور حساس دستاویزات/فہرست کا سودا ہونے والا ہے۔ میجر حارث اس مشن کی قیادت کرتا ہے۔ بارش اور اندھیرے میں لالہ زار پل پر دشمن سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ حارث اپنی جان پر کھیل کر دشمن کا ریموٹ بم دریا میں گراتا ہے، دشمن کے باس کو ہلاک اور گرفتار کرتا ہے اور اہم ثبوت و فائلز محفوظ کر لیتا ہے۔
   دھماکا اور آخری جدوجہد:
مشن کی کامیابی کے بعد واپسی کے راستے میں حارث کی بائیک پر پہلے سے نصب ٹائم بم کا دھماکا ہو جاتا ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں سڑک کے کنارے گر جاتا ہے۔ دشمن کے مزید اہلکار اسے ختم کرنے آتے ہیں، لیکن زخمی حارث ہمت نہیں ہارتا، ان پر حملہ کر کے انہیں ڈھیر کرتا ہے اور اپنی ذہانت سے بم کا نیلا تار کاٹ کر وقت ختم ہونے سے چند سیکنڈ پہلے بم ڈفیوز کر دیتا ہے۔
   ہسپتال میں صحتیابی اور قومی ہیرو:
حارث کا دوست اور ایجنٹ سہیل ٹیم کے ساتھ پہنچ کر حارث کو ہسپتال (CMH) منتقل کرتا ہے۔ شدید سرجری کے بعد ڈاکٹر حارث کی جان بچا لیتے ہیں۔ کرنل شہیر اور سہیل اس کی بہادری کو سراہتے ہیں، اور ٹی وی پر خبریں چلتی ہیں کہ ایک گمنام ہیرو نے ملک کو بڑے حادثے سے بچا لیا۔ حارث دل ہی دل میں اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ جس بیٹے کو دنیا "نکما" کہتی تھی، اس نے خاموشی سے اپنے وطن کی دفاعی جنگ جیت لی۔

Khatarnak Formula Translated By Siraj ud Din

Download Link A
Download Link B
یہ ناول بین الاقوامی جاسوسی، سسپنس اور سائنسی رازوں کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی ایک انتہائی قیمتی سائنسی فارمولے "زیڈ سی ایکس" (ZCX) اور ایک نایاب انقلابی دھات کے کوڈ کو حاصل کرنے کی پراسرار جدوجہد کے بارے میں ہے۔ ایک بین الاقوامی شاطر مجرم رینڈت (Rendt) اس خفیہ فارمولے کو حاصل کر کے کروڑوں ڈالر میں خرید و فروخت کا منصوبہ بناتا ہے۔ فارمولے کا موجد پال فارسٹر (Paul Forrester) اپنے شدید ذہنی توازن کی خرابی کے باعث ایک دماغی شفا خانے (Asylum) میں زیر علاج ہے اور وہی اس رمز (Code) کو توڑ سکتا ہے۔   رینڈت اور اس کا دستِ راست لنڈسی (Lindsey) اپنے پیادوں سلک، کیگن اور دیگر آلاتِ کار کے ذریعے بلیک میلنگ، اغوا، دھوکے اور قتل و غارت کے ذریعے اس فارمولے کا کوڈ حاصل کرنے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بلیک میلنگ کا جال بچھاتے ہیں۔ سنسنی، سسپنس، اور جرم و جاسوسی کے حیرت انگیز موڑوں سے بھرپور یہ ناول قاری کو آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔   

Sunday, September 20, 2026

Had e Ana Se Had e Ishq Tak By Syeda Hafsa

Download Link A
Download Link B
 کہانی کا آغاز در شفا سلمان کے پررونق اور پرآسائش ماحول سے ہوتا ہے جہاں وہ اپنے بابا سلمان حیدرزادہ، گھر کے ملازمین (فری بوا اور رحمت چچا) اور اپنے شوخ و چنچل کزنز کی لاڈلی اور توجہ کا مرکز ہے۔ وہ ایک زندہ دل، پراعتماد اور کتابوں کی شوقین لڑکی ہے جو زندگی کے ہر لمحے کو کھل کر جیتی ہے۔ ایک دن سلمان حیدرزادہ اپنی بیٹی شفا کو اپنے پرانے اور قریبی دوست ارتضیٰ خان کے گاؤں (درہ آدم خیل کے پاس شینوارئی کلی) لے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ شفا کچھ نیا اور مختلف تجربہ کر سکے۔ گاؤں روانگی سے قبل سلمان حیدرزادہ کے گھر کزنز کی محفل سجتی ہے اور سب شفا کو گاؤں جانے پر چھیڑتے ہیں۔گاؤں پہنچنے پر شفا کا پرجوش اور پرخلوص استقبال کیا جاتا ہے۔ ارتضیٰ خان، ان کی اہلیہ زرمینہ بیگم، بی بی جان، میمونہ، ازمیر اور دیگر گھر والے اپنی روایتی پٹھانی مہمان نوازی اور سادگی سے شفا کا دل جیت لیتے ہیں۔ شفا کی شخصیت، اس کے نفاست بھرے انداز اور بالخصوص اس کے انتہائی لمبے، گھنے اور ریشمی بالوں کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی دوران حویلی میں میر اسفندیار خان کی آمد ہوتی ہے—سیاہ شلوار قمیص اور خاکی واسکٹ میں ملبوس، رعب دار، خاموش طبع اور بارعب شخصیت کا مالک نوجوان، جس کے چہرے پر پڑنے والا ڈمپل اور سنجیدہ نگاہیں اسے دوسروں سے منفرد بناتی ہیں۔ میمونہ شفا کو بتاتی ہے کہ اسفند یار کے والدین کو سالوں پہلے خاندانی دشمنی میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ انتہائی خاموش، سنجیدہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان بن چکا ہے۔ رات کے وقت جب شفا اور میمونہ سیڑھیوں پر بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں تو اسفند یار کی بھاری اور رعب دار آواز میں ڈانٹ شفا کو چونکا دیتی ہے اور دونوں کے درمیان پہلا خاموش تعارف قائم ہوتا ہے۔دوسری طرف، شہر میں سلمان حیدرزادہ کی فیکٹری میں اچانک ایک ناخوشگوار حادثہ پیش آتا ہے جس کے باعث انہیں شفا کو گاؤں چھوڑ کر فوراً واپس جانا پڑتا ہے، مگر شفا گاؤں میں ہی رکنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ دریں اثناء شہر میں شفا کے چاچاؤں (فہیم اور حمزہ حیدرزادہ) کے گھر ناگہانی طور پر حارث اور جویریہ کی منگنی کا فیصلہ سنایا جاتا ہے، جس پر حارث شدید غصے میں آ کر انکار کر دیتا ہے اور جویریہ سکتے میں آ جاتی ہے۔ اگلی صبح گاؤں میں میمونہ شفا کو کھیت اور گاؤں گھمانے نکلتی ہے جہاں باتوں باتوں میں میمونہ اپنی طے شدہ شادی کا بتاتی ہے، اور پھر اچانک شفا کی نظر کھیتوں میں کام کا جائزہ لیتے ہوئے میر اسفندیار خان پر پڑتی ہے، جسے دیکھ کر میمونہ اسے شرارت سے چھیڑتی ہے۔

Yaariyan By Kiran Mushtaq

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی رابیل، ماہین اور انیلا نامی تین سہیلیوں اور ان کے تین دوستوں (احمر، مراد اور وجی) کے گرد گھومتی ہے۔ رابیل ایک غریب لیکن خوددار لڑکی ہے جو سکالرشپ پر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ کلاس کے پہلے ہی دن احمر احمقانہ مذاق اور ریگنگ کے دوران رابیل کو کاکروچوں سے ڈراتا ہے، جس سے رابیل کو فوبیا ہوتا ہے۔ اس پر رابیل سب کے سامنے احمر کی بے عزتی کر دیتی ہے۔ احمر اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور بدلہ لینے کے لیے رابیل کو بار بار نوکریوں سے نکلوا دیتا ہے۔   دوسری طرف احمر، مراد اور وجی خطرناک بائیک ریسنگ کا شوق رکھتے ہیں۔ ایک ریس کے دوران احمر حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب رابیل اور احمر کا سامنا ہوتا ہے تو رابیل روتے ہوئے اپنی مشکلات کا ذکر کرتی ہے، جس پر احمر کو شدید شرمندگی اور اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس سے معافی مانگ لیتا ہے۔   اسی اثنا میں رابیل کے گاؤں کا ایک شاطر اور بااثر شخص چوہدری ابرار، جو اس سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے، رابیل کا پیچھا کرتے ہوئے شہر پہنچ جاتا ہے۔ ایک ہوٹل میں وہ رابیل کو دیکھ کر تماشہ کھڑا کرتا ہے اور اس پر غلط الزامات لگاتا ہے۔ احمر، وجی اور مراد رابیل کی حمایت میں آگے آتے ہیں اور چوہدری ابرار کی دھونس کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ احمر اپنی خاندانی اور سیاسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پولیس اور سیکورٹی کے ذریعے چوہدری ابرار کو قابو کرتا ہے اور رابیل کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کہانی دوستی، انا کی قربانی، اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔   

Thursday, September 17, 2026

Dil Gazeeda Novel By Bilal Aslam

Download Link A
Download Link B

کہانی "دل گزیدہ" ایک ۴۸ سالہ غیر شادی شدہ سرکاری سکول کے استاد ارشد نصیر کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، جو اندرون لاہور کے ایک پرانے گھر میں اکیلا اور تنہا رہتا ہے۔ ارشد شروع ہی سے کاملیت پسند ہے اور اپنی جوانی میں ایک خیالی "آئیڈیل" عورت کی تلاش میں شادی کے وقت کو گنوا بیٹھتا ہے۔ ایک دن سکول میں ایک نئی ٹیچر، "سکینہ"، کا تقرر ہوتا ہے جو بیوہ ہے اور اپنے آٹھ نو سالہ بیٹے احمد کے ساتھ رہتی ہے۔ سکینہ کے باوقار اخلاق، سادگی اور سمجھداری ارشد کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں، اور وہ پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ سکینہ ہی اس کے تمام عمر کے خوابوں کا آئیڈیل ہے۔
جب ارشد بیمار پڑتا ہے تو سکینہ اس کے گھر آ کر اس کی عیادت کرتی ہے، ناشتہ اور کھانا بناتی ہے اور اس کا خیال رکھتی ہے۔ اس قربت اور دیکھ بھال سے ارشد کا ویران گھر اور دل زندگی کے نئے رنگوں اور امیدوں سے بھر جاتے ہیں۔ بعد میں، جب ارشد کی بچپن کی جاننے والی "اماں سعیداں" اچانک اس کے گھر آتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ اس کی بیمار پھوپھی خورشیداں اسے یاد کر رہی ہیں، تو ارشد بادل نخواستہ ان کے ساتھ اوچ شریف اپنے آبائی گاؤں جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر سالوں پرانے گلے شکوے مٹ جاتے ہیں اور اس کی ملاقات اپنی بچپن کی کزن زینت سے ہوتی ہے، جو اب ایک بردبار اور باوقار خاتون بن چکی ہے۔

Sikandar e Azam By Harold Lamb Tranlated Ghulam Rasool Mehar

Download Link A
Download Link B
سکندر اعظم، ہیرلڈ لیم کی لکھی ہوئی اک شاندار سوانحی تاریخ ہے جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر نے نہایت خوبصورت اور رواں اسلوب میں کیا ہے۔ اس کتاب میں سکندر کے بچپن سے لے کر اس کے دنیا کا عظیم ترین فاتح بننے اور بابل میں اس کی وفات تک کے تمام احوال کو مفصل اور دلکش انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔  خلاصہابتدائی زندگی اور تربیت: سکندر کی پیدائش اور اس کے ابتدائی ایام کی سخت تربیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی ماں اولمپیاس اور باپ فیلقوس کی آپسی کشمکش، سکندر کی ہومر کی "ایلیڈ" اور دیوتاؤں کے افسانوں سے محبت، اس کا سرکش گھوڑے 'بیوسی فالس' کو رام کرنا، اور پھر عظیم فلسفی ارسطو کی زیرِ نگرانی سائنس، حکمت، اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنا اس کے کردار کو نکھارتا ہے۔  عظیم فتوحات کا آغاز: فیلقوس کے قتل کے بعد کم سن سکندر کی تخت نشینی، مقدونیہ میں بغاوتوں کا خاتمہ، تھیبز کی تباہی اور ٹرائے کے راستے ایشیا (ایران/فارس) پر حملے کے مناظر کا احوال شامل ہے۔  ایرانی سلطنت کی تسخیر: جنگِ اسوس، صور اور دمشق پر قبضہ، مصر کی فتح، اور بالآخر پرسی پولس (تختِ جمشید) میں شاہِ ایران دارا کو شکست دے کر عظیم الشان ایرانی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی داستان رقم کی گئی ہے۔  مشرق اور ہندوستان کی مہم: سکندر کا وسطی ایشیا، روشنگ اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ آور ہونا، راجہ پورس کے ساتھ ہاتھیوں کی خوفناک جنگ، اور اپنی فوج کی تھکن کی وجہ سے بابل کی طرف واپسی کا سنسنی خیز احوال درج ہے۔  انجام: فتحِ عالم کی عیش و عشرت، فوج کی تباہی، دولت کے اثرات اور بابل میں سکندر کی پراسرار بیماری اور کم عمری میں وفات کے ساتھ ساتھ اس کے بعد سلطنت کے انتشار کا ذکر کیا گیا ہے۔  

Aatish Ruba The Foundation By Amjad Raees

Download Link A
Download Link B
کہانی ایک نازک بدن اور ذہین دوشیزہ کوئین کلیری (Queen Cleary) کے ارد گرد گھومتی ہے، جو غریب اور نیم متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کے سب سے بہترین اور مہنگے میڈیکل کالج "انگر اہم کالج آف میڈیسن" (Ingraham College of Medicine) میں داخلہ حاصل کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ انگر اہم کالج میں تمام سہولیات، رہائش اور تعلیم بالکل مفت ہوتی ہے لیکن وہاں کے داخلے کی شرائط اور معیار نہایت سخت ہیں۔  انٹرویو اور دورے کے دوران کوئین کو ڈاکٹر کلیرسن ایمرسن اور سیکیورٹی چیف لوئیس ویرن کے ساتھ کیمپس، جدید ریسرچ لیبز اور وارڈز دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ سائنس سینٹر کے برن وارڈ (Ward C) میں کوئین روئی اور پٹیوں میں لپٹے ہوئے آتش زدہ مریضوں ("سبجیکٹس") کو دیکھتی ہے، جہاں ایک بے بس مریض کی التجا بھری نیلی آنکھیں اور پراسرار ماحول اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔  ٹیسٹ کے دوران کوئین کا دوست ٹم براؤن (Tim Brown)، جس کی یادداشت نا قابلِ یقین ہے، پراسرار "کلیڈرمین ایکویشن" (Klederman Equation) سے متعلق سوالات کے جوابات کوئین کی انسر شیٹ پر خود سے نشان زد کر دیتا ہے۔ کوئین کا نام پہلے ویٹنگ لسٹ میں آتا ہے، لیکن اس کے دوستوں (میٹ اور ٹم) کی حکمت عملی اور ڈاکٹر کلیرسن کی حمایت کی بدولت بالآخر اسے انگر اہم میں داخلہ مل جاتا ہے۔  تعلیم کے آغاز کے ساتھ ہی کہانی میں سنسنی اور پراسرار راز کھلنے لگتے ہیں۔ ٹم تحقیقات سے یہ اندازہ لگاتا ہے کہ ٹیسٹ سے پہلی رات تمام امیدواروں کو خواب آور دوا دی گئی تھی اور ہپناٹزم یا کسی خاص تکنیک سے ان کے ذہنوں میں جوابات جذب کیے گئے تھے۔ دوسری طرف کوئین بھی ایک لاوارث لاش "ڈوروتھی" کی حقیقت تلاش کرتے ہوئے ایک نرسنگ ہوم اور کلیڈرمین فاؤنڈیشن کے پراسرار نیٹ ورک تک پہنچتی ہے۔ بعد ازاں، ڈاکٹر کلیرسن کوئین کو اپنی جدید نیورو فارماکولوجیکل تحقیق (کمپاؤنڈ 9574) میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ شامل کر لیتا ہے۔ یوں اُمید و ناامیدی، رومانس، سنسنی اور وائٹ کالر میڈیکل کرائمز کے خوفناک سایوں کے درمیان کوئین کا علمی و جدوجہد سے بھرپور سفر آگے بڑھتا ہے۔  

Azab Rishte By Akhtar Hussain Sheikh

Download Link B
عذاب رشتے اختر حسین شیخ کی تحریر کردہ ایک سبق آموز اور دردناک کہانی ہے، جو معاشی بدحالی، نشے کی لعنت، اور گھریلو اخلاقی زوال کے نتیجے میں برباد ہونے والے ایک خاندان اور بے گناہ لڑکی "روبی" کے المناک انجام کا احاطہ کرتی ہے۔  روبی اور اس کا پس منظر: کہانی کا راوی (ایک صحافی) اپنی عزیزہ روبی کو اس کی بلا کی ذہانت اور معصومیت کی وجہ سے "گڑیا" کہتا ہے۔ روبی کا تعلق اندرونِ لاہور کے ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں کا ماحول جوئے اور نا جائز ذرائع آمدن کی وجہ سے بگڑ چکا تھا، لیکن روبی نے تعلیم اور کتب بینی کے شوق کی وجہ سے خود کو اس ماحول سے الگ رکھا۔  ازدواجی زندگی اور ظلم و ستم: روبی کی شادی "بابو" نامی شخص سے کی جاتی ہے جو شدید نشئی تھا اور مردانہ صلاحیتوں سے محروم تھا۔ روبی اپنی شادی اور خاندان کی عزت بچانے کے لیے ہر ظلم برداشت کرتی ہے۔ بابو کا دوست "اینڈی بٹ" اور روبی کی نند "رانی" غلط تعلقات میں ملوث ہو جاتے ہیں۔  سازش اور بہتان: جب روبی کی ساس "زینب" اپنی بیٹی رانی اور اینڈی بٹ کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیتی ہے، تو وہ اپنی بیٹی کی رسوائی اور گناہ کو چھپانے کے لیے اینڈی بٹ کا روبی کے ساتھ پرانا تعلق ہونے کا جھوٹا ڈرامہ رچاتی ہے اور روبی پر بہتان لگا دیتی ہے۔  حاملہ نند اور خوفناک انجام: رانی کے غیر اخلاقی تعلقات کی وجہ سے جب وہ حاملہ ہو جاتی ہے، تو ساس زینب اس راز کے افشا ہونے کے خوف اور سچائی کی واحد گواہ روبی کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بناتی ہے۔ وہ بابو کے نشئی دوست عرفی کے ذریعے کچن کے مٹی کے تیل والے چولہے کے سوراخوں سے سوت کی ڈوریاں نکال کر اسے تکنیکی طور پر بم بنا دیتی ہے۔  

Wednesday, September 16, 2026

Hum Ke Thehre Ajnabi Novel By Nazia Kanwal Nazi

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی زویا اور سعد درانی کی ہے جو فرسٹ کزن اور بچپن کے دوست ہیں۔ زویا کے واجبی سے حسن کے باوجود سعد نے اُس سے سچی محبت کی اور شادی کی۔ ان کے دو بیٹے، علی اور طلحہ ہیں، اور وہ دبئی میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔
زندگی میں تلخی اُس وقت گھلی جب زویا کی یونیورسٹی کی پرانی دوست تبسم (جس کی اپنے شوہر حمزہ سے طلاق ہو چکی تھی) پانچ سال بعد دبئی میں ملی۔ سعد کے منع کرنے کے باوجود زویا نے تبسم کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دی۔ تبسم درحقیقت ماضی میں سعد سے محبت کرتی تھی لیکن غلط فہمیوں کے باعث اُس نے حمزہ سے شادی کر لی تھی۔ زویا کو اپنے گھر لا کر تبسم نے اُس کے ذہن میں سعد کی پارسائی اور وفاداری کے خلاف زہر گھولنا شروع کر دیا اور سعد کی پرسنل سیکرٹری اُجالا کے نام سے شک پیدا کر دیا۔
تبسم کے بہکاوے میں آ کر زویا نے اپنا حلیہ، مزاج اور ترجیحات بدل لیں۔ وہ گھر، شوہر اور بچوں (علی اور طلحہ) کو ملازمہ کے سپرد کر کے ظہیر میوزیکل کمپنی کے ساتھ گلوکاری اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ کر آزاد خیال ہو گئی۔ جب سعد نے اُسے روکا تو زویا نے بدتمیزی کی اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔
زویا کی اس بے حسی اور خود سری کے بعد سعد نے اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیا۔ تبسم نے سعد کی بیماری میں دیکھ بھال کی اور اپنی پرانی محبت کا اعتراف کر کے معافی مانگی۔ سعد نے زویا کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر تبسم اور اپنے بچوں کو توجہ دینا شروع کر دی اور زویا کو اپنے گھر میں بالکل نظر انداز کر دیا۔ زویا کو میڈیا کی دنیا کی چکا چوند میں کامیابی تو ملی لیکن وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ گئی۔