Download Link B
حارث کی خاندانی زندگی اور "نکمے" کا تاثر:
حارث 26 سالہ نوجوان ہے جو اپنے والدین (شاہد آفندی اور تہمینہ بیگم) اور جڑواں بہن سارا کے ساتھ لاہور میں رہتا ہے۔ شاہد صاحب ایک ذمہ دار اور سخت مزاج والد ہیں، جو حارث کے کوئی کام نہ کرنے، دن بھر آوارہ گردی کرنے اور لائف میں سنجیدہ نہ ہونے پر اکثر ڈانٹتے رہتے ہیں اور اسے "نکما" سمجھتے ہیں۔ بہن سارا کے ساتھ اس کی نوک جھونک اور شرارتیں چلتی رہتی ہیں، جبکہ ماں تہمینہ بیگم ہمیشہ اسے پیار سے سنبھالتی ہیں۔
حارث کی اصل حقیقت:
گھر والوں اور محلے داروں کی نظر میں لاپرواہ اور آوارہ نظر آنے والا حارث اصل میں پاکستان کے ایک سیکیورٹی ادارے کا ایک انتہائی تربیت یافتہ اور انڈر کور ایجنٹ (میجر حارث آفندی - کوڈ نیم: ایگل) ہے۔ وہ جان بوجھ کر بے فکری کا نقاب اوڑھے رکھتا ہے تاکہ کسی کو اس کی حساس سرگرمیوں کا شک نہ ہو۔ رات کی تاریکی میں وہ اپنے مشنز پر نکلتا ہے۔
لالہ زار پل پر خطرناک مشن:
کرنل شہیر اپنے ایجنٹوں کو اہم قومی بریفنگ دیتے ہیں کہ "لالہ زار پل" پر بارڈر پار دشمن کے ساتھ ایک بڑی اسلحہ ڈیل اور حساس دستاویزات/فہرست کا سودا ہونے والا ہے۔ میجر حارث اس مشن کی قیادت کرتا ہے۔ بارش اور اندھیرے میں لالہ زار پل پر دشمن سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ حارث اپنی جان پر کھیل کر دشمن کا ریموٹ بم دریا میں گراتا ہے، دشمن کے باس کو ہلاک اور گرفتار کرتا ہے اور اہم ثبوت و فائلز محفوظ کر لیتا ہے۔
دھماکا اور آخری جدوجہد:
مشن کی کامیابی کے بعد واپسی کے راستے میں حارث کی بائیک پر پہلے سے نصب ٹائم بم کا دھماکا ہو جاتا ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں سڑک کے کنارے گر جاتا ہے۔ دشمن کے مزید اہلکار اسے ختم کرنے آتے ہیں، لیکن زخمی حارث ہمت نہیں ہارتا، ان پر حملہ کر کے انہیں ڈھیر کرتا ہے اور اپنی ذہانت سے بم کا نیلا تار کاٹ کر وقت ختم ہونے سے چند سیکنڈ پہلے بم ڈفیوز کر دیتا ہے۔
ہسپتال میں صحتیابی اور قومی ہیرو:
حارث کا دوست اور ایجنٹ سہیل ٹیم کے ساتھ پہنچ کر حارث کو ہسپتال (CMH) منتقل کرتا ہے۔ شدید سرجری کے بعد ڈاکٹر حارث کی جان بچا لیتے ہیں۔ کرنل شہیر اور سہیل اس کی بہادری کو سراہتے ہیں، اور ٹی وی پر خبریں چلتی ہیں کہ ایک گمنام ہیرو نے ملک کو بڑے حادثے سے بچا لیا۔ حارث دل ہی دل میں اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ جس بیٹے کو دنیا "نکما" کہتی تھی، اس نے خاموشی سے اپنے وطن کی دفاعی جنگ جیت لی۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.