Download Link A
Download Link B
Download Link B
’ناگن‘ مسعود جاوید کا لکھا ہوا ایک سنسنی خیز اور تجسس سے بھرپور جاسوسی ناول ہے جس کے مرکزی کردار مشہور سراغ رساں شہاب اور اس کا ساتھی نجمی ہیں۔ کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب نجمی گھبرایا ہوا شہاب کے مطب میں داخل ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ باہر ایک عجیب و غریب حلیے والا بوڑھا شخص موجود ہے جو یکم اپریل کی بات کرتا ہے۔ وہ بوڑھا شخص خود کو ”زیرو“ کہتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مسروقہ جواہرات کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ زیرو ایک انتہائی قیمتی سرخ ہیرا (جو تبت کی کالی وادی میں ناگ دیوتا کے مندر سے چوری کی گئی ناگ دیوتا کی آنکھ نما نایاب ہیرا تھا) شہاب کے پاس بطور امانت رکھواتا ہے کیونکہ اسے اپنے دشمن ”عقاب“ سے جان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ زیرو ایک ہفتہ وار ٹیلی فون کال کا نظام طے کرتا ہے تاکہ اس کی خیریت معلوم ہو سکے، بصورت دیگر شہاب کو لفافہ کھول کر انتقام لینے کا کہتا ہے۔ دوسری طرف، روحانی عاملہ فرازی کے پاس ایک لڑکی ”کملا“ لائی جاتی ہے جو پاگل خانے سے غائب ہو کر پراسرار طور پر اس کے پاس پہنچتی ہے اور بتاتی ہے کہ ناگ دیوتا کی طرف سے تین خوفناک سائے (روحیں) اس کا تعاقب کر رہے ہیں۔ بعد میں زیرو اپنے مطب میں مردہ پایا جاتا ہے اور اس کا گلا گھونٹا گیا ہوتا ہے، جبکہ اس کی الماری سے اصلی ہیرا غائب اور نقلی ہیرا برآمد ہوتا ہے۔ تفتیش آگے بڑھتی ہے تو انکشاف ہوتا ہے کہ زیرو کو قتل کرنے والا اور اس کا تعاقب کرنے والے دراصل تبت سے آئے ہوئے تین غیر ملکی پجاری ہیں۔ کہانی میں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ”کملا“ اور اس کی جڑواں بہن ”بملا“ (جو فادر فرڈینینڈ اور مس فرڈینینڈ کے روپ میں ہوٹل میں مقیم تھیں) اصل میں عقاب کے نام سے یہ سارا کھیل کھیل رہی تھیں۔ بمبلا ہی وہ ماسٹر مائنڈ ہوتی ہے جو ناگ دیوتا کی آنکھ (ہیرا) چراتی ہے، اپنے حریفوں کو زہریلے تیر اور گیس کے ذریعے ہلاک کرتی ہے، شاما (بوڑھی عورت) کا روپ دھارتی ہے اور آخرکار شہاب کی ہوشیاری اور پولیس کی مدد سے پریم کے ذریعے گرفتار کر لی جاتی ہے۔

%20Part%207%20By%20M%20A%20Rahat.jpg)



%20By%20Mayra%20Hani.jpg)






