یہ داستان اقلیم علیم کے ناول "ناگ بھون" کا ابتدائی حصہ ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار، جو ایک غریب بڑھئی کا بیٹا تھا، ایک انگریز کے گود لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پرنس سلطان بن جاتا ہے۔ وہ اپنی محبت ستارہ سے شادی کر کے شملہ منتقل ہو جاتا ہے، جہاں وہ حشرات الارض اور سانپوں پر تحقیق کرتا ہے۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب تجربہ گاہ میں ایک سیاہ ناگ ان پر حملہ آور ہوتا ہے اور بعد میں ستارہ کو ڈس کر ہلاک کر دیتا ہے۔
ستارہ کی موت کے بعد سلطان انتقام کی آگ میں جلنے لگتا ہے اور سانپوں کو کھولتے پانی میں ڈال کر مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی دوران ایک پراسرار اور شاندار سفید ناگ ظاہر ہو کر اسے مفلوج کر دیتا ہے اور بقیہ سانپوں کو بچا کر لے جاتا ہے۔ بعد میں ستارہ کی قبر کھدی ہوئی ملتی ہے اور اس کی لاش غائب ہوتی ہے۔ درویش حیدر شاہ سلطان پر انکشاف کرتا ہے کہ ستارہ مری نہیں بلکہ زندہ ہے اور ناگوں کی دنیا "ناگ بھون" میں قید ہے۔ جو لڑکی اندراوتی کے روپ میں سلطان کے قریب آئی تھی، وہ دراصل ایک پراسرار سفید ناگن تھی۔ حیدر شاہ سلطان کو ایک منکا دیتا ہے جو ناگن کے زہر سے بچاتا ہے اور سلطان اپنی محبت ستارہ کو ناگ بھون سے آزاد کرانے کے لیے ایک ہولناک سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.