یہ تاریخی ناول جزیرہ سراندیپ (موجودہ سری لنکا) سے عرب واپس لوٹنے والے مسلم خاندانوں اور تاجروں کے قافلے کی دلکش اور دردناک داستان سے شروع ہوتا ہے۔ اس قافلے میں اسلم اور طاہرہ نامی پاکباز اور باکردار نوجوان شامل ہیں جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر ازدواجی بندھن میں بندھنا چاہتے ہیں۔ راستے میں جنگلی ہاتھیوں کے خطرناک حملے کا بہادری سے مقابلہ کرنے کے بعد یہ لوگ سمندری جہازوں کے ذریعے ساحل کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ سمندر میں شدید طوفان کا سامنا کرنے کے بعد جہاز مرمت کی غرض سے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیبل کے ساحل پر لگتے ہیں۔ وہاں سندھ کے راجہ داہر کے ظالم اور وحشی سپاہی غیر مسلح مسلمانوں پر اچانک حملہ کر کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں جکڑ کر قیدی بنا لیتے ہیں۔ راجہ داہر ان تمام بے گناہ مسلمانوں کو قید کر لیتا ہے اور طاہرہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا ہے، جس کے صدمے سے اسلم بے ہوش ہو جاتا ہے۔ قید خانے میں مسلمان عورتوں اور بچوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ایک مظلوم عورت پکار اٹھتی ہے: "اغثنی یا حجاج" (اے حجاج ہماری مدد کو پہنچو)۔کچھ مسلمان وہاں سے بچ نکل کر مکران اور شیراز کے راستے بصرہ پہنچتے ہیں اور بلادِ مشرق کے وائسرائے حجاج بن یوسف کو تمام ماجرا اور مظلوموں کی فریاد سناتے ہیں۔ حجاج بن یوسف غضبناک ہو کر مظلوموں کو آزاد کرانے کا عزم کرتا ہے۔ راجہ داہر کے پاس سفیر بھیج کر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، مگر مغرور راجہ داہر اس کی درخواست اور تاوان کی پیشکش کو تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے اور جنگ کا چیلنج دیتا ہے۔حجاج بن یوسف، خلیفہ ولید بن عبدالملک سے جنگ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اپنے 17 سالہ شجاع اور نڈر چچا زاد بھائی محمد بن قاسم کو چھ ہزار مجاہدین کے لشکر کا سپہ سالار منتخب کر کے سندھ روانہ کرتا ہے۔ دوسری طرف دیبل کے قید خانے میں ایک رحم دل بدھ پنڈت ابیہ مسلمانوں کی رسیاں کھول کر ان کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ کرتا ہے۔ کہانی کا یہ حصہ اسلامی غیرت، مظلوموں کی فریاد رسی اور محمد بن قاسم کی تاریخی فتحِ سندھ کی مہم کے آغاز پر محیط ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.