یہ ناول تقسیمِ ہند سے پہلے کے گورداسپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں "شاہ پور" کی کہانی ہے، جہاں مسلمان، سکھ اور ہندو صدیوں سے مل جل کر رہ رہے تھے۔ کہانی کا مرکزی کردار سلیم ایک دیسی کسان اور مسلمان نوجوان ہے، جو اپنے کھیتوں اور بیلوں سے محبت کرتا ہے۔ سلیم دل ہی دل میں اپنے گاؤں کی ایک سکھ لڑکی پرجھو (پرتھو) سے محبت کرتا ہے۔ پرجھو بھی سلیم کی طرف مائل ہے اور دونوں کے درمیان محبت کا ایک خاموش رشتہ موجود ہے، لیکن مذہبی اور معاشرتی دیواروں کی وجہ سے وہ اس کا سرعام اظہار کرنے سے کتراتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ، جیسے سلیم کے والد فتح محمد، خیر دین اور شمشیر سنگھ، ماضی کی مشترکہ یادوں اور گہری دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ عید کے موقع پر جہاں پورا گاؤں خوشیاں مناتا ہے اور سکھ برادری مسلمانوں کو عیدیاں دیتی ہے، وہیں گاؤں کے بھائی چارے کی ایک بڑی مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب فتح محمد مسجد کے سامنے اپنا قیمتی پلاٹ سکھ برادری کو گردوارہ بنانے کے لیے مفت تحفے میں دے دیتا ہے۔ اس فیصلے کا پورے گاؤں میں خیرمقدم کیا جاتا ہے اور سکھ بزرگ "واہے گرو جی کا خالصہ، واہے گرو جی کی فتح" کے نعروں سے اس محبت کا جواب دیتے ہیں۔ تاہم، اس خوبصورت ماحول کے پسِ پردہ کچھ منفی اور شرپسند عناصر بھی سرگرم ہیں۔ جان سنگھ اور مہندر جیسے ہندو اور سکھ نوجوان مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بونے اور ماحول کو خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ کہانی میں اس وقت ایک بڑا طوفان اور موڑ آتا ہے جب امرتسر کے ایک امیر اور مغرور سکھ ادھم سنگھ کی انٹری ہوتی ہے، جو شمشیر سنگھ کا بھانجا اور پرجھو کا ہونے والا منگیتر ہے۔ ادھم سنگھ کے گاؤں میں آنے اور سلیم کے ساتھ اس کی تلخ کلامی سے کہانی میں ایک شدید تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ناول محبت، رواداری اور تقسیم کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جہاں سیاسی اور مذہبی سازشیں صدیوں پرانے انسانی رشتوں کو مٹانے کے درپے تھیں۔
Urdu Books
House of Urdu Book and Novels, Urdu Novels, Urdu Novel Download, Urdu Afsanay, Urdu Story, Noshad Adil Novels, New Urdu Novels,
Sunday, June 14, 2026
Family Magazine 7 July 2026
فیملی میگزین کا یہ شمارہ عالمی اور علاقائی سیاست، معیشت اور سائنسی ترقیوں کا ایک جامع مجموعہ ہے۔ اداریے میں بھارت کی عالمی تنہائی اور پاکستان کے ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر ابھرنے کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ میگزین میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ کامیاب دورہ چین کی تفصیلات شامل ہیں، جس کے دوران 7 ارب ڈالر کے معاہدوں اور 200 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خاص طور پر غزہ، لبنان اور شام میں جاری اسرائیلی جارحیت اور پاکستان کے ثالثی کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ میگزین میں عوامی مسائل جیسے مہنگائی، ٹیکس نادہندگان کی سموں کی بندش اور تعلیمی نظام کی اصلاح پر بھی سیر حاصل مضامین شامل ہیں۔ ادبی اور معلوماتی گوشوں میں عبید اللہ علیم کی شاعری، حیرت انگیز ایجادات اور فن لینڈ کی خوشحالی کے اسباب بیان کیے گئے ہیں۔
Sukh Chain Novel By Sameer Yaseen
"سکھ چین" شادی شدہ زندگی میں میاں بیوی کے رویوں، خاندانی ذمہ داریوں اور باہمی سمجھ بوجھ کی اہمیت پر لکھی گئی ایک اصلاحی اور سبق آموز کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار عمر ایک سلجھا ہوا اور فرماں بردار انسان ہے، جس نے اپنے والد عزیز صاحب کی مرضی کے خلاف ایک طلاق یافتہ عورت نادیہ سے پسند کی شادی کی تھی۔ نادیہ خوبصورت اور عمر کی محبت کے جنون سے واقف ہے، لیکن وہ شدید حد تک غیر ذمہ دار، لاپروا اور سسرال کے مقابلے میں اپنے میکے کو ترجیح دینے والی لڑکی ہے۔ اس کی غفلت پسندی کی وجہ سے پورا گھر بکھر رہا ہوتا ہے اور عزیز صاحب اپنے بیٹے کی زندگی کو تباہ ہوتے دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب نادیہ کے رویے سے تنگ آکر عمر کا پیمانۂ صبر لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اسے صاف کہہ دیتا ہے کہ اگر وہ خود کو بدل نہیں سکتی تو ان کا الگ ہو جانا ہی بہتر ہے۔ نادیہ غصے میں گھر چھوڑ کر نکل جاتی ہے، لیکن جب اسے اپنے میکے اور بہن بھائیوں کے ہاں پناہ اور عزت نہیں ملتی، تو وہ اپنی سب سے بہترین دوست مہوش کے گھر چلی جاتی ہے۔ مہوش، جو خود ماضی میں سسرال کے شدید ظلم و ستم کا شکار رہ چکی ہوتی ہے، نادیہ کو سچی محبت کی قدر کرنے اور عمر جیسے مخلص شوہر کا ساتھ دینے کا مخلصانہ مشورہ دیتی ہے۔ مہوش اور اس کے شوہر ابرار کے بدلتے ہوئے پرسکون حالات اور سچی محبت کو دیکھ کر نادیہ کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ اسی رات اپنے گھر واپس لوٹ آتی ہے۔ اگلے ہی دن وہ صبح سویرے اٹھ کر پورے گھر کی ذمہ داری سنبھالتی ہے اور وقت پر شاندار ناشتا تیار کر کے سسرال والوں کے دل جیت لیتی ہے، جس سے ان کے گھر میں کھویا ہوا "سکھ چین" واپس آ جاتا ہے۔
Hazaron Khwahishen Novel By Muhammad Zafar Hussain
Download Link A
"ہزاروں خواہشیں" سمندری زندگی کے پس منظر میں لکھی گئی ایک انتہائی سبق آموز، حقیقت پسندانہ اور جذباتی کہانی ہے، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کے مابین تلخ خاندانی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کہانی کا آغاز ایرانی بندرگاہ پر لنگر انداز ایک آئل ٹینکر 'ایم وی ایگل' سے ہوتا ہے، جہاں ایرانی چیف آفیسر کے اچانک چلے جانے کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ سی مین، انعام اللہ (چیف صاحب) کو متبادل کے طور پر بلوایا جاتا ہے۔ چیف صاحب جدید ڈیجیٹل مواصلاتی نظام اور کمپیوٹر سے ناواقف ہیں اور ان کی صحت بھی گر رہی ہے، جس کی وجہ سے جہاز کا سیکنڈ آفیسر (کہانی کا راوی) ہمدردی کے تحت ان کے دفتری کام کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب سنگاپور میں مرمت کے بعد جہاز واپس ایران پہنچتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے باعث جنگ چھڑ جاتی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے جہاز مہینوں سمندر میں پھنس جاتا ہے۔ راشن اور پینے کا پانی ختم ہو جاتا ہے اور تنخواہیں رک جاتی ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں بھی چیف صاحب کا نالائق اور خود غرض خاندان ان کی زندگی اور صحت کی پرواہ کیے بغیر عید، سالگرہ اور قربانی کے لیے الیکٹرک بائیک اور مہنگے جانوروں جیسی فرمائشوں کی بھرمار رکھتا ہے۔ چیف صاحب جوانی میں پیسے نہ بچا پانے اور اولاد کو فری ہینڈ دینے کے باعث بوڑھاپے میں اس دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں وہ خاندان کے لیے محض ایک 'قربانی کا بکرا' بن کر رہ گئے ہیں۔ آخر کار، سیکنڈ آفیسر چیف صاحب کی گرتی ہوئی صحت کو بچانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور حکومتِ پاکستان کی مدد سے انہیں باحفاظت وطن واپس پہنچاتا ہے، جہاں وہ نمود و نمائش کے بجائے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے اور سچی قربانی کا فلسفہ سیکھتے ہیں۔
Beley Ka Dukh Novel By Jam Mazhar Saleem
"بیلے کا دکھ" قانون، بغاوت اور محبت کی ایک پیچیدہ داستان ہے جس کا محور جنوبی پنجاب کے کچے کا علاقہ اور وہاں کا طاقتور سردار داد خان ہے۔ کہانی کا آغاز ڈی آئی جی رؤف شیرازی کے بھتیجے تیمور کے اغوا سے ہوتا ہے، جسے داد خان کا بیٹا زوار خان اپنے ساتھیوں کی رہائی اور پولیس آپریشن رکوانے کے لیے اغوا کرتا ہے۔ اس مہم کے دوران زوار کی نظر تیمور کی پڑوسی سارہ پر پڑتی ہے اور وہ اسے بھی اٹھا لاتا ہے، جس سے قبیلے کی روایات اور داد خان کی سرداری کو شدید دھچکا لگتا ہے۔
دوسری طرف، داد خان کی بھتیجی نوری قید میں موجود تیمور کی حالت دیکھ کر اس کی طرف مائل ہونے لگتی ہے اور اسے فرار کرانے کا عہد کرتی ہے۔ اسی دوران، داد خان کا حریف رستم خان، سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افسران اور وزیرِ داخلہ کے ساتھ مل کر داد خان کی سلطنت گرانے کی سازش کرتا ہے۔ داد خان اپنی سرداری بچانے کے لیے سارہ کو بلیک میل کر کے زوار کے سامنے شادی سے انکار کرواتا ہے، جس سے زوار ٹوٹ جاتا ہے۔ اب یہ جنگ محض قانون اور جرم کی نہیں بلکہ ذاتی انا، سیاسی مفادات اور کچے کے اقتدار کی ایک خونی جنگ بن چکی ہے جس میں ہر کردار اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہا ہے۔
Aitraf e Jurm Novel By Muhammad Bilal
یہ کہانی ضلع خوشاب کے ایک گاؤں 'چک تیرہ' کے گرد گھومتی ہے، جہاں ایک غریب موچی، صدیق، تھانے پہنچ کر اطلاع دیتا ہے کہ علاقے کے بااثر جاگیردار چوہدری نواز کے بیٹے، چوہدری امجد کا قتل ہو گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امجد کو اس کی دوسری شادی کی پہلی ہی رات اس کی نئی نویلی دلہن، لاڈو نے خنجر کے وار کر کے قتل کیا۔ پولیس جب لاڈو کو گرفتار کرتی ہے، تو وہ بنا کسی ندامت کے اپنا 'اعترافِ جرم' قلمبند کروانا شروع کرتی ہے، جہاں سے کہانی ماضی میں چلی جاتی ہے۔ لاڈو اپنے ماموں زاد، اشعر سے محبت کرتی تھی، جو شہر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ دوسری طرف، چوہدری امجد ایک بد مزاج اور عیاش شخص تھا جو پہلے سے شادی شدہ ہونے کے باوجود لاڈو کے حسن کا اسیر ہو کر اسے زبردستی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اشعر اور امجد کے درمیان کئی بار تلخ کلامی اور تصادم بھی ہوا۔ جب سراج دین (لاڈو کے والد) نے چوہدری نواز کی طرف سے امجد کے رشتے سے انکار کیا، تو بااثر چوہدریوں نے اپنی انا کی خاطر اسے دھمکانا شروع کر دیا۔ یہ کہانی طبقاتی کشمکش، محبت کی قربانی اور ایک مجبور لڑکی کے انتقام کی داستان معلوم ہوتی ہے۔
Titli Novel By Afsheen Naseem
ناول "تتلی" دو بالکل مختلف پس منظر رکھنے والے کرداروں، رومیصہ اور کمال آفریدی کی زندگیوں اور ان کے درمیان مصلحتاً ہونے والے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔
رومیصہ کا پس منظر: رومیصہ اپنے خاندان میں ایم اے اردو ادب کرنے والی اکلوتی بیٹی ہے۔ اس کے ابا (ارشاد صاحب) سونے اور چاندی کے زیورات کا کاروبار کرتے ہیں۔ رومیصہ کا بھائی ولید نااہل اور نکما ہے جو صرف امریکہ جانے کے خواب دیکھتا ہے۔ جب خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور ایک مخالف کمپنی 'رحمٰن جیولرز' ان کے ڈیزائن چوری کر کے ان کا کاروبار تباہ کرنے لگتی ہے، تو رومیصہ اپنے والد کا ساتھ دینے کے لیے خود کام سنبھالتی ہے۔
کمال آفریدی کا پس منظر: کمال کراچی کے بزنس مین نظام آفریدی کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ پاک فضائیہ میں فلائٹ لیفٹیننٹ تھا اور اکیڈمی سے "اعزازی شمشیر" حاصل کر چکا تھا۔ کمال دراصل ایک جینیاتی خرابی کا شکار تھا جسے اس کے والد نے جرمنی سے مہنگا علاج (جین ایڈیٹنگ اور بون میرو ٹرانسپلانٹ) کروا کے ایک صحت مند انسان بنایا۔ کمال کے والد کی سیاسی وابستگی اور اس کی ماں (بلوچستان کی وزیرِ اعلیٰ نور بانو) کی نفرت کی وجہ سے کمال کو زبردستی فوج سے استعفیٰ دینا پڑا۔
شادی اور معاہدہ: کمال رومیصہ کے گھر کی اوپر والی منزل میں بطور کرایہ دار رہتا ہے۔ جب رومیصہ پر زبردستی ایک ان پڑھ امیر شخص سے شادی کا دباؤ آتا ہے اور دوسری طرف اس کا خاندانی کاروبار خطرے میں ہوتا ہے، تو کمال اسے ایک 'بزنس ڈیل' (معاہدے) کی پیشکش کرتا ہے۔ وہ دونوں نکاح کر لیتے ہیں۔ کمال اپنی ذہانت سے رحمٰن جیولرز کی چوری پکڑوا کر رومیصہ کے خاندانی برانڈ کو بچاتا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر کامیاب کرتا ہے۔
انتقام اور محبت کا انجام: کمال کے والد کمال کو اس کی ماں (وزیرِ اعلیٰ نور بانو) کے مدِ مقابل الیکشن میں کھڑا کرنا چاہتے تھے، لیکن رومیصہ نور بانو کو اس کے غرور اور ماں کے امتحان میں فیل ہونے کا آئینہ دکھاتی ہے اور کمال کو اس سیاسی دلدل سے نکال لیتی ہے۔ کمال، جو فوجی ڈسپلن اور ماضی کے زخموں کی وجہ سے خود کو جذبات سے عاری ایک مشین سمجھتا تھا، آہستہ آہستہ رومیصہ کی محبت اور خلوص کے سامنے پگھل جاتا ہے۔ یوں مصلحت اور معاہدے کے تحت شروع ہونے والا یہ رشتہ ایک حقیقی اور خوبصورت محبت میں بدل جاتا ہے۔
Waris By Azra Firdous
یہ کہانی دو مختلف پس منظر رکھنے والے کرداروں، زریاب اور سارہ کے گرد گھومتی ہے۔ سارہ انگلینڈ کے آزاد ماحول میں پلی بڑھی ہے لیکن وہ اپنی سانولی رنگت اور شناخت کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہے۔ وہ اپنے پاکستانی مسلم والد، فیصل نواز سے ملنے کی خواہش رکھتی ہے جنہیں اس کی ماں (نیسیکا) نے طلاق کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ دوسری طرف، زریاب پنجاب کے ایک گاؤں کا رہنے والا اور یونیورسٹی کا طالب علم ہے، جسے بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرحومہ ماں نرگس کا سگا بیٹا نہیں بلکہ ان کی بیٹی زرمینہ کی لے پالک اولاد ہے۔ زرمینہ نے ماضی میں فیصل نواز سے خفیہ نکاح کیا تھا لیکن فیصل کے گھر والوں نے زرمینہ کو قبول نہیں کیا، جس کے صدمے سے اس کے نانا انتقال کر گئے اور زرمینہ سارہ کی پیدائش کے وقت دم توڑ گئی۔ قسمت زریاب کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن لے جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات سارہ سے ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو کر شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی دوران سارہ اپنے والد فیصل نواز کو ڈھونڈ نکالتی ہے۔ فیصل اپنی ماضی کی غلطیوں پر پشیمان ہیں اور سارہ کو اپنا لیتے ہیں۔ جب فیصل پاکستان اپنی آبائی حویلی جاتے ہیں تو وہاں انہیں دل کا دورہ پڑتا ہے اور وہ انتقال کر جاتے ہیں۔ سارہ جب پاکستان پہنچتی ہے تو اس کے ظالم تایا (وحید نواز) اور دادی جائیداد کی خاطر سارہ کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح اپنے پہلے سے شادی شدہ چنچل بیٹے عیان سے طے کر دیتے ہیں۔ سارہ اس وڈیرہ شاہی اور زبردستی کے فیصلے کے خلاف زریاب سے رابطہ کرتی ہے، جو اسے اس مشکل صورتحال سے نکالنے کا عزم کرتا ہے۔ متوازی کہانی میں مومنہ (زریاب کی پرانی پسند) کی شادی شاہ ویز سے ہوتی ہے۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ازدواجی تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور شاہ ویز گھر میں پناہ لینے والی ایک غریب لڑکی 'انشال' کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جس سے گھر میں شدید تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔
Saturday, June 13, 2026
Sawan Rut Ki Bahar By Aasia Razzaqi
یہ کہانی شاد نامی ایک سنجیدہ اور خود دار لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی خالہ ماہرہ بیگم کے گھر میں حالات کے سمجھوتے کے تحت ایک مہمان کی طرح زندگی گزار رہی ہے۔ کہانی میں بلال نامی لڑکے کے اچانک گھر والوں کے اعتماد کو دغا دے کر اور قیمتی اشیاء چوری کر کے امریکہ فرار ہونے سے ایک ہلچل مچتی ہے۔ شاد جب اپنے اسکول کی گولڈن جوبلی تقریب کے سلسلے میں مری اور اسلام آباد کے سفر پر جاتی ہے، تو وہاں اس کی ملاقات عامر زمان اور اس کے والد عمران زمان سے ہوتی ہے۔ وہ اسے اپنے گھر پنڈی لے جاتے ہیں جہاں شاد پر یہ حیران کن انکشاف ہوتا ہے کہ وہ دراصل سلطان زمان کی بیٹی ہے اور وہاں اس کی ایک ہم شکل جڑواں بہن "ناز" بھی موجود ہے۔ شاد کو اپنے والد کی تصویر اور اپنے طویل خاندان کا پتا چلتا ہے۔ اسی دوران اسے پتا چلتا ہے کہ بچپن میں ہی اس کے والد نے اس کی نسبت اس کے کزن عمیر الدین سے طے کی تھی، جو شاد سے مخلصانہ محبت کرتا ہے۔ تاہم، کہانی کا سب سے بڑا موڑ اس وقت آتا ہے جب خالہ ماہرہ بیگم شاد پر یہ حقیقت ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے گھر میں موجود لاڈلی اور ضدی لڑکی "اقصیٰ" کوئی کزن نہیں بلکہ شاد کی سگی چھوٹی بہن ہے، جسے مرتے وقت ان کی ماں زارا نے خالہ کے سپرد کیا تھا۔ اقصیٰ عمیر سے شادی کرنے کی ضد پر اڑ جاتی ہے۔ شاد اپنی سگی بہن کی خوشی اور محبت کی خاطر ایک بار پھر ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمیر کی محبت سے دستبردار ہونے اور اقصیٰ کے لیے رشتہ دینے کا فیصلہ کر لیتی ہے، جس سے اس کی زندگی میں خوشیوں کی بہار آنے سے پہلے ہی دوبارہ خزاں کی اداسی چھا جاتی ہے۔
Aik Raat Ki Baat By Sadia Ghazal
Download Link B
یہ کہانی دو نوعمر کرداروں، افتان اور الماس (جواہر) کے گرد گھومتی ہے، جو میٹرک اور آٹھویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ افتان ایک پابندِ روٹین اور شریف لڑکا ہے جبکہ الماس اپنے گھر کی اچانک عائد کردہ پابندیوں سے بیزار ہو کر نانی کے گھر زیادہ وقت گزارتی ہے۔ دونوں کی پہلی ملاقات شہباز (افتان کا دوست) کے فلیٹس کے پاس ہوتی ہے، جہاں سے ان کے درمیان روزانہ ملاقاتوں اور معصومانہ باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے کی طرف شدید راغب ہو جاتے ہیں اور شادی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ایک دن افتان اپنے اندر کی بے چینی اور جذبات کی شدت سے مغلوب ہو کر اپنے بڑے بھائی کو سب کچھ بتا دیتا ہے، جو اسے سمجھاتے ہیں اور فی الحال پڑھائی پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن اسی رات، افتان اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے رات کے وقت الماس سے ملنے اس کی نانی کے فلیٹ پہنچ جاتا ہے۔ الماس گھر والوں سے چھپ کر پچھلی طرف موٹروں والے نیم تاریک احاطے میں اس سے ملنے آتی ہے۔ ملاقات کے دوران جب افتان جذباتی ہو کر الماس کے قریب آتا ہے، تو اچانک الماس کے ماما انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں۔ الماس کے ماما غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں؛ وہ افتان کو بری طرح مار پیٹ کر باہر پھینک دیتے ہیں اور الماس کی بھی شدید پٹائی کرتے ہیں، جس سے یہ چھپا ہوا افیئر سب کے سامنے آ جاتا ہے اور کہانی ایک دردناک موڑ پر ختم ہوتی ہے۔
Thursday, June 11, 2026
Shan e Wafa By Mehboob Elahi Makhmoor
یہ کہانی پنجاب کے ایک گاؤں کے پس منظر میں لکھی گئی ہے، جہاں جاوید نامی کسان کا بیٹا چودھری حاکم کی بیٹی "اسماء" کی پہلی ہی نظر میں محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ چودھری کے چھ ظالم اور بااثر بیٹے ہیں جن کا پورے گاؤں میں خوف ہے۔ جاوید کی بہن شاداں، جو اسماء کی دوست ہے، جاوید کو بتاتی ہے کہ اسماء بھی اس سے سچی محبت کرتی ہے لیکن چودھری اس کی شادی اپنے بھتیجے ارشد سے کرنا چاہتا ہے۔
جاوید اور اسماء چھپ کر ایک رات قبرستان کے پاس ملتے ہیں، جہاں وہ محبت کا اقرار کرتے ہیں اور گاؤں سے فرار ہونے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ لیکن اسماء کے بھائیوں کو شک ہو جاتا ہے اور وہ اسماء پر سخت پہرا بٹھا دیتے ہیں۔ شادی والے دن اسماء، جاوید کو ایک خفیہ پرچے کے ذریعے الوداعی پیغام بھیجتی ہے۔ اسی رات گاؤں فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھتا ہے۔ چودھری کے بیٹے اسماء کو غیرت کے نام پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور اس سے اس کے محبوب کا نام اگلوانا چاہتے ہیں، لیکن اسماء اپنی محبت اور جاوید کی زندگی کی خاطر شدید تشدد سہنے کے باوجود زبان نہیں کھولتی اور جان دے دیتی ہے۔ حویلی والے اعلان کرتے ہیں کہ اسماء دل کا دورہ پڑنے سے مری ہے، لیکن جاوید جان جاتا ہے کہ اسماء نے اپنی جان دے کر "شانِ وفا" قائم رکھی، جبکہ وہ خود کو اپنی بزدلی پر کبھی معاف نہیں کر پاتا۔
Wednesday, June 10, 2026
Be Aasra By Neema Gul Memon
یہ کہانی دو اہم کرداروں، احد اور صبا کے گرد گھومتی ہے۔ احد ایک امیر کبیر اور نامور جج شمشیر رضوی کا اکلوتا بیٹا ہے جو مزاجاً خود پسند، ضدی لیکن اندر سے مخلص انسان ہے۔ ایک طوفانی رات بارش میں احد کو اپنے گھر کے لان میں ایک آٹھ سالہ سہمی ہوئی بچی صبا ملتی ہے، جس کے والدین سیلاب میں انتقال کر چکے تھے اور وہ اپنے خالو کے برے رویے اور ہوس سے تنگ آکر گھر سے بھاگ نکلی تھی۔ احد اور اس کے والد صبا کو اپنے گھر میں پناہ دیتے ہیں اور احد اس کی تمام ذمہ داری اپنے سر لے لیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صبا احد کی دیکھ بھال میں پڑھ لکھ کر جوان ہو جاتی ہے، اور احد لاشعوری طور پر اس کی حفاظت اور زندگی کے معاملے میں بہت زیادہ پوزیسیو (محتاط) ہو جاتا ہے۔ احد پڑھائی مکمل کر کے بیرسٹر بن جاتا ہے۔ کہانی میں اس وقت موڑ آتا ہے جب احد پر اسلام آباد میں ایک قاتلانہ حملہ ہوتا ہے، جس سے صبا کی اس کے لیے سچی محبت اور فکر کھل کر سامنے آتی ہے۔ احد کے والد دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے موجود محبت اور اپنائیت کو بھانپ لیتے ہیں اور احد کی مرضی کے بغیر نکاح کا ڈرامہ رچاتے ہیں، جس پر احد طیش میں آ جاتا ہے۔ آخر میں شمشیر رضوی انکشاف کرتے ہیں کہ وہ صبا کی شادی کسی اور سے نہیں بلکہ خود احد سے کر رہے ہیں، اور یوں یہ خوبصورت کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
Maut Ki Yaad By Dr Zafar ul Islam Islahi
موت ایک اٹل حقیقت: کائنات کا ہر جاندار موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے اور یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جہاں انسان ایک مقررہ مدت کے لیے بھیجا گیا ہے۔
قرآنی رہنمائی: قرآن مجید میں لفظ 'موت' 50 سے زائد مقامات پر آیا ہے، جو انسان کو غفلت سے بیدار کرنے اور اسے اللہ کے حضور پیشی اور حساب کتاب کی یاد دلانے کے لیے ہے۔ نیند اور موت کا تعلق: نیند کو 'وفاتِ صغریٰ' قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان روزانہ اپنی روح کے قبض ہونے اور بیدار ہونے کے عمل سے موت اور دوبارہ جی اٹھنے کا سبق سیکھے۔
موت کی یاد کی حکمت: موت کو کثرت سے یاد کرنا انسان کے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کرتا ہے، تکبر و غرور کا خاتمہ کرتا ہے اور اسے گناہوں سے روک کر نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔ قبر پہلی منزل: قبر آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے؛ اگر انسان ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ اس میں داخل ہو تو یہ جنت کا باغ بن جاتی ہے، ورنہ تکلیف دہ ٹھکانا۔
تنہا سفر: انسان اس دنیا سے مال، اولاد اور عہدہ سب پیچھے چھوڑ جاتا ہے، صرف اس کے اعمال ہی قبر میں اس کے ساتھی ہوتے ہیں۔
Tuesday, June 9, 2026
Jeetne Ke Shoq Mein By Najma Jabeen
Download Link B
ناول "جیتنے کے شوق میں" (مصنفہ: نجمہ جبین) کی کہانی مریم احمد کے گرد گھومتی ہے، جو ایک ایئر ہوسٹس ہے اور اپنے اصول پسند والد، وقار احمد کے ساتھ ایک سادہ مگر خوشحال زندگی گزارتی ہے۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب مریم کی ملاقات فلائٹ کے دوران ایک باوقار خاتون، تابندہ یزدانی سے ہوتی ہے، جو اسے بہت پسند کرتی ہے۔ بعد میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ تابندہ دراصل مریم کی وہ ماں ہے جس نے برسوں پہلے اسے اور اس کے والد کو چھوڑ دیا تھا۔ وقار احمد اپنی بیٹی کو تابندہ سے دور رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ماضی کے زخموں کو نہیں بھول پائے، لیکن تابندہ کی بیماری اور مامتا کی تڑپ مریم کو ایک مشکل فیصلے کے دو راہے پر کھڑا کر دیتی ہے۔
Saturday, June 6, 2026
Shehr e Wafa Ke Aaine By Najma Jabeen
Download Link B
یہ کہانی تابندہ نامی ایک صابر اور مخلص عورت کے گرد گھومتی ہے جس کی شادی اپنے ماموں زاد عثمان نیازی سے ہوتی ہے۔ عثمان کو شوبز اور اداکاری کا بے حد جنون ہوتا ہے، اور وہ تابندہ کی کوششوں اور قربانیوں کی بدولت فلم انڈسٹری کا ایک بہت بڑا سپر اسٹار بن جاتا ہے۔ شہرت اور دولت کی چکا چوند میں عثمان اپنی بیوی اور بیٹی فینی کو نظر انداز کر کے اپنی ساتھی اداکارہ "امرتا دیوی" کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور لندن میں اس سے خفیہ شادی کر لیتا ہے۔ تابندہ انتہائی دکھ اور خاموشی سے اس بے وفائی کو برداشت کرتی ہے اور اپنی بیٹی فینی کی تنہا پرورش کرتی ہے۔
برسوں بعد، عثمان نیازی ایک نئی ابھرتی ہوئی اداکارہ عدیلہ خان کے افیئر میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس سے امرتا دیوی اور اس کے درمیان شدید گھریلو کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ امرتا، تابندہ کے پاس آ کر اپنے گھر کو بچانے کی بھیک مانگتی ہے لیکن تابندہ ماضی کے زخموں کی وجہ سے کوئی مدد کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، امرتا اپنے ساتھ ہونے والی بے وفائی کا بدلہ لینے کے لیے عثمان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتی ہے اور خود جیل چلی جاتی ہے۔ ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے اور بدصورت ہو جانے والے عثمان کو شوبز کی دنیا تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے مشکل وقت میں، روایتی مشرقی عورت کی طرح تابندہ اپنے دل میں نفرت کو مٹا کر، اپنی بیٹی کے ہمراہ عثمان کو اپنا لیتی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عورت مرد کی تمام تر زیادتیاں بھلا کر بھی وفا کی دیوی بنی رہتی ہے۔
Azmaish Ka Safar By Najma Jabeen
یہ کہانی مہر بانو نامی لڑکی کی ہے، جو بچپن میں اپنے والدین کی لاڈلی اور پڑھائی کی بے حد شوقین تھی۔ مہر بانو کے بھائی شیراز کے ہاتھوں ان کے دیرینہ دشمن شمروز خان کے بیٹے شہباز کا قتل ہو جاتا ہے، جس کے بعد شیراز فرار ہو جاتا ہے۔ دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جرگہ یہ فیصلہ سناتا ہے کہ خون بہا اور تاوان کے طور پر مہر بانو کا نکاح شہباز کے چھوٹے بھائی ارباز خان سے کر دیا جائے۔ ارباز خان، جو شہر میں نایاب (نیا) نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا، اس زبردستی کے فیصلے پر شدید ناخوش تھا۔ نکاح کے بعد مہر بانو کو ارباز کے گھر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں اسے شدید تذلیل، مار پیٹ، اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارباز خان اسے پہلی ہی رات تھپڑ مار کر مسترد کر دیتا ہے اور یہ کہہ کر شہر چلا جاتا ہے کہ یہ نکاح محض کاغذی ہے۔ مہر بانو حویلی میں ملازموں سے بدتر زندگی گزارتی ہے، مگر ملازمہ پلوشہ کی ہمدردی اور مدد سے وہ چھپ کر اپنی پڑھائی جاری رکھتی ہے۔ دو سال بعد ارباز خان کے پورے خاندان کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو جاتی ہے اور مرنے سے پہلے ارباز کے والد مہر بانو کو اس کے باپ ہمایوں خان کے حوالے کر کے آزاد کر دیتے ہیں۔ آٹھ سال بعد، مہر بانو اپنی محنت اور لگن سے ایک نامور وکیل بن جاتی ہے۔ اسی دوران ارباز خان نیا سے شادی کر چکا ہوتا ہے۔ کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب ارباز کا دوست احسن نیازی اپنی بہن سائرہ کا کیس لے کر بیرسٹر مہر بانو کے پاس آتا ہے، اور ارباز مہر بانو کو پہچان کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مہر بانو اپنی ماضی کی تذلیل کا بدلہ لینے اور خود مختاری حاصل کرنے کے لیے ارباز کو خلع کا نوٹس بھیج دیتی ہے۔ ارباز اس کی کامیابی اور بدلے ہوئے روپ کو دیکھ کر پشیمان ہوتا ہے اور صلح کی بھیک مانگتا ہے، لیکن مہر بانو اسے صاف انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، ارباز شکست تسلیم کرتے ہوئے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ مہر بانو احسن نیازی کی مخلصانہ محبت اور پروپوزل کو قبول کر لیتی ہے اور احسن کے کوئٹہ تبادلے کے بعد اس کے ساتھ ایک نئی اور پرسکون زندگی کی شروعات کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔
Rafaqaton Ki Panah Mein By Najma Jabeen
Download Link B
رفاقتوں کی پناہ میں" نجمہ جبیں علیزی کا ایک جذباتی اور معاشرتی اردو ناول ہے، جس کی کہانی محبت، بے وفائی، حسد اور عورت کے ظرف کے گرد گھومتی ہے۔ ناول کی مرکزی کردار تابندہ اپنے ماموں زاد عثمان نیازی سے بے پناہ محبت کرتی ہے، جو بعد میں شوبز کی دنیا کا ایک بڑا سپراسٹار بن جاتا ہے۔ عثمان کی فلمی مصروفیات اور بدلتے رویے تابندہ کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیتے ہیں، اور کہانی میں اصل موڑ تب آتا ہے جب عثمان اپنی ساتھی اداکارہ امرتا دیوی کی محبت میں گرفتار ہو کر اس سے خفیہ شادی کر لیتا ہے۔ اس بے وفائی کے باوجود تابندہ طلاق کا لیبل سجانے کے بجائے اپنی بیٹی فینی کے ساتھ خاموشی سے الگ ہو کر زندگی گزارنے لگتی ہے۔ وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور عثمان نیازی ایک نئی اداکارہ عدیلہ خان کی زلفوں کا اسیر ہونے لگتا ہے، جس پر امرتا حسد اور انتقام کی آگ میں جل اٹھتی ہے۔ امرتا، تابندہ سے مدد مانگنے اتی ہے لیکن تابندہ ماضی کے زخموں کی وجہ سے انکار کر دیتی ہے۔ انجام کار، امرتا شدید غصے اور جنون میں عثمان نیازی کے خوبصورت چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے مسخ کر دیتی ہے اور خود جیل چلی جاتی ہے۔ جب شوبز کی دنیا اور مداح عثمان کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں، تو تابندہ اپنے اعلیٰ ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کچھ بھلا کر عثمان کو دوبارہ اپنی "رفاقتوں کی پناہ میں" لے لیتی ہے۔ یہ ناول مرد کی خود غرضی اور عورت کے لازوال خلوص و قربانی کی ایک بہترین عکاسی ہے۔
Anjanay Rastay By Syed Ali Hassan Gilani
Download Link A
Download Link B
Download Link B
انجانے راستے سید علی حسن گیلانی کا تحریر کردہ ایک خوفناک، پُراسرار اور اسلامی معلومات پر مبنی ناول ہے-کہانی کا آغاز کینیا کے جنگلوں سے ہوتا ہے جہاں امریکی ایجنسی "سپر گروپ" کے چیف میجر کارڈوف اور ان کی اسسٹنٹ کیپٹن سلینا ایک کیس کے سلسلے میں بھٹک کر ایک سیاہ اور ہولناک وادی کے غار میں پناہ لیتے ہیں- دوسری طرف، پاکستان میں شاہ زیب (ایک لاابالی کردار) اپنے ساتھیوں موتو، کاسٹر، ڈین جونز، مظہر اور کاشف کے ساتھ ایک ہوٹل میں موجود ہوتا ہے کہ اچانک اسے مارتھا کے اغوا کی خبر ملتی ہے، جس کا بیڈ روم جلا ہوا ہوتا ہے مگر لاش غائب ہوتی ہے- انڈیا میں ڈاکٹر عبدالجبار، ایس پی زین، ہارون اور ناصر خان بھی ایک ہوٹل میں ہوتے ہیں کہ انہیں بھی ماریا کے فلیٹ سے پُراسرار غائب ہونے کی اطلاع ملتی ہے- مارتھا اور ماریا دونوں کو شیطان کے خاص کارندے "مہان کالکا" نے کالا جادو اور سفلی طاقتوں کے ذریعے اغوا کر کے "کالی دنیا" (شیطان پرستوں کی سرزمین) میں قید کر رکھا ہے تاکہ اماوس کی رات کو ان کی قربانی دی جا سکے- مارتھا قید میں ہمت دکھاتے ہوئے آیت الکرسی کا ورد کرتی ہے- شاہ زیب اور اس کے ساتھی رہنمائی کے لیے پروفیسر صادق علی کے پاس جاتے ہیں، جو اپنے کشف کے ذریعے بتاتے ہیں کہ مہان کالکا شیطان کا بڑا گرو ہے اور اس نے ماریا اور مارتھا کو کالی دنیا میں قید کیا ہوا ہے- ڈاکٹر عبدالجبار بھی نینی تال کے بزرگ مہتاب علی شاہ سے مدد لینے نکلتے ہیں مگر راستے میں سیاہ شعلوں والے آگ کے الاؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ ناول روشنی اور تاریکی (رحمانی اور شیطانی قوتوں) کے درمیان معرکے پر مبنی ہے۔
Thandi Dozakh By Syed Ali Hassan Gilani
Download Link A
Download Link B
Download Link B
ٹھنڈی دوزخ، مصنف سید علی حسن گیلانی کا ایک یادگار، رومانوی اور سسپنس سے بھرپور ایڈونچر ناول ہے، جو پہلے مشہور رسالے "اخبارِ جہاں" میں "آزمائش" کے نام سے قسط وار شائع ہو کر بے پناہ مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔
کہانی کا آغاز جاوید نامی ایک قومی اخبار کے کرائم رپورٹر سے ہوتا ہے، جسے اپنے ہی آفس میں کام کرنے والی ایک انتہائی حسین، باصلاحیت اور مارشل آرٹ کی ماہر خاتون کرائم رپورٹر "نجمہ" سے محبت ہو جاتی ہے۔ دونوں کی منگنی ہو جاتی ہے اور شادی کی تاریخ بھی طے پا جاتی ہے، لیکن شادی سے کچھ عرصہ قبل ہی نجمہ ایک فضائی حادثے کا شکار ہو کر لاپتہ ہو جاتی ہے۔ اس کا جہاز شمالی علاقہ جات کے گھنے جنگلوں اور برفانی پہاڑوں میں کریش ہو جاتا ہے۔ جاوید اپنی منگیتر کو مردہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ایک ٹی وی رپورٹ کی مدد سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ حادثے سے قبل نجمہ سمیت 12 مسافر پیراشوٹ کے ذریعے کود کر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
اپنی محبت کو ڈھونڈنے کے لیے جاوید امریکہ کے ایک ماہر شکاری اور ریسرچ ممبر "جیکب" (جس کی بیوی مارٹینا بھی اسی جہاز میں تھی) اور چند دیگر غیر ملکیوں اور مقامی شکاریوں کے ساتھ مل کر ایک 12 رکنی سرچ ٹیم بناتا ہے۔ دوسری طرف، جہاز سے بچنے والے مسافر جن میں نجمہ، ایئر ہوسٹس صالحہ، بینک مینیجر ثاقب اور کچھ غیر ملکی شامل ہیں، شدید سردی، وادیِ لیپا کے گھنے جنگلات، عمیق کھائیوں اور برفانی ریچھوں، چیتوں جیسے درندوں کے خوف کے باوجود بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس سفر کے دوران صالحہ اور ثاقب کے درمیان بھی ایک خوبصورت رومانوی رشتہ پروان چڑھتا ہے۔ دونوں گروہ اس "ٹھنڈی دوزخ" جیسے برفیلے مصائب سے نکلنے، درندوں کا مقابلہ کرنے اور ایک دوسرے کو تلاش کرنے کے لیے شدید محنت اور جان لیوا ایڈونچرز سے گزرتے ہیں۔
اپنی محبت کو ڈھونڈنے کے لیے جاوید امریکہ کے ایک ماہر شکاری اور ریسرچ ممبر "جیکب" (جس کی بیوی مارٹینا بھی اسی جہاز میں تھی) اور چند دیگر غیر ملکیوں اور مقامی شکاریوں کے ساتھ مل کر ایک 12 رکنی سرچ ٹیم بناتا ہے۔ دوسری طرف، جہاز سے بچنے والے مسافر جن میں نجمہ، ایئر ہوسٹس صالحہ، بینک مینیجر ثاقب اور کچھ غیر ملکی شامل ہیں، شدید سردی، وادیِ لیپا کے گھنے جنگلات، عمیق کھائیوں اور برفانی ریچھوں، چیتوں جیسے درندوں کے خوف کے باوجود بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس سفر کے دوران صالحہ اور ثاقب کے درمیان بھی ایک خوبصورت رومانوی رشتہ پروان چڑھتا ہے۔ دونوں گروہ اس "ٹھنڈی دوزخ" جیسے برفیلے مصائب سے نکلنے، درندوں کا مقابلہ کرنے اور ایک دوسرے کو تلاش کرنے کے لیے شدید محنت اور جان لیوا ایڈونچرز سے گزرتے ہیں۔
Wednesday, June 3, 2026
Aakhri Aadmi Complete By Intizar Hussain
"آخری آدمی" اردو کے نامور افسانہ نگار انتظار حسین کا ایک مایہ ناز علامتی اور اساطیری افسانوی مجموعہ ہے۔ اس کتاب کے دیباچے میں سجاد باقر رضوی نے تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے نئے تہذیبی و تاریخی شعور اور انتظار حسین کے منفرد اسلوب پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس مجموعے کی کہانیاں انسان کے اخلاقی، روحانی اور تہذیبی زوال کی عکاسی کرتی ہیں۔ کتاب کی چند نمایاں کہانیاں درج ذیل ہیں: آخری آدمی: یہ کتاب کی پہلی کہانی ہے جو بائبل اور قرآن پاک کے تاریخی پس منظر (سبت کے دن مچھلیوں کے شکار کی ممانعت اور حکم عدولی) سے ماخوذ ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انسان اپنی حرص، مکر اور خوف جیسے منفی جذبات کے باعث انسانی سطح سے گر کر بندر بن جاتے ہیں۔ الیاسف نامی شخص آخری وقت تک انسان رہنے کی جدوجہد کرتا ہے مگر داخلی مکر اور خارجی طور پر "لفظ کی موت" (معاشرتی رشتوں کے خاتمے) کے سبب وہ بھی بالآخر بندر بن جاتا ہے۔ زرد کتا: یہ کہانی صوفیائے کرام کے ملفوظات کے اسلوب میں لکھی گئی ہے۔
یہاں "زرد کتا" انسان کے نفسِ امارہ اور طمعِ دنیا کی علامت ہے۔ کہانی میں ایک ایسے معاشرے کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں علم ناپید ہو جاتا ہے، لوگ سماعت سے محروم ہو جاتے ہیں اور منافقت عام ہو جاتی ہے۔
پر چھائیں: یہ انسانی وجود، وہم، خوف اور شناخت کی گمشدگی کی ایک نفسیاتی اور علامتی داستان ہے، جہاں انسان اپنے ہی سائے اور ماضی کے تعاقب سے خوفزدہ رہتا ہے۔
ہڈیوں کا ڈھانچ: یہ کہانی ایک قحط زدہ شہر اور انسانی لامتناہی بھوک کی علامت ہے، جو معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز مٹ جانے اور روحانی پستی کو ظاہر کرتی ہے۔
انتظار حسین نے ان کہانیوں میں داستانوی زبان، صوفیانہ روایات اور علامتی تیکنیک کا استعمال کر کے جدید انسان کی تنہائی اور زوال کو پیش کیا ہے۔
Monday, June 1, 2026
Darmiyane Novel Part 1 By Saif ur Rehman
کتاب "درمیانے" (تحقیق و تدوین: سیف الرحمن رانا) پاکستان میں ہیجڑوں (خواجہ سراؤں) کی نجی، سماجی اور معاشرتی زندگی پر کی گئی اپنی نوعیت کی پہلی تفصیلی تحقیقی دستاویز ہے۔ مصنف نے اپنے معاونین کے ساتھ مل کر سینکڑوں خواجہ سراؤں اور ان سے وابستہ افراد کے انٹرویوز اور سوالناموں کی مدد سے اس طبقے کے پوشیدہ گوشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ کتاب میں ہیجڑوں کی پیدائش، ان کے باقاعدہ تنظیمی طریق کار، گرو چیلے کے روابط، اور ان کی مخصوص ایجاد کردہ زبان "فارسی چندرنا" کی لغات اور تاریخ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پیدائشی نامرد، پیدائشی کھسری، اعضائے تناسل کٹوا کر شامل ہونے والے "زبان کھسرے" اور "شوقیہ کھسروں" کی درجہ بندی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کتاب معاشرے اور قلمکاروں کی جانب سے اس طبقے کو نظر انداز کرنے کے رویے پر سوال اٹھاتی ہے اور ان کی قانونی و آئینی حیثیت، معاشی مجبوریوں کے باعث جنسی بے راہروی، اور ان کی زندگی کے نفسیاتی و ثقافتی پہلوؤں کو قارئین کے سامنے لاتی ہے۔
Family Magazine 26 April 2026
Download Link A
Download Link B
Download Link B
ہفت روزہ فیملی میگزین کے اداریے اور خصوصی رپورٹس میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور پاکستان کے سفارتی کردار کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت ناکہ بندی اور تند و تیز بیانات کے باعث ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکہ کے غیر حقیقی مطالبات اور عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل متحرک ہیں، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران نہ ٹلا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ اسلام آباد اور پنجاب میں عوامی و سیاسی مسائل
میگزین میں اسلام آباد کے تاریخی سید پور گاؤں کے رہائشیوں کی جانب سے وزیر اعظم سے اپیل شائع کی گئی ہے جس میں سی ڈی اے حکام کی جانب سے غریب عوام کو بے گھر کرنے کی کوششوں پر رحم کی درخواست کی گئی ہے۔ ایک اور مضمون میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی دو سالہ کارکردگی اور ان کی عوامی فلاح و بہبود کی انقلابی پالیسیوں کی تعریف کی گئی ہے۔ مزید برآں، ملک میں بڑھتی ہوئی ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور نوجوان نسل میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے مضر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ایچ آئی وی/ایڈز کا پھیلاؤ
سرکاری رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ایچ آئی وی (ایڈز) کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 618 نئے کیسز سامنے آئے، جس کا مطلب ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ہر ماہ اوسطاً 40 سے زائد افراد اس موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ متاثرین میں مردوں اور خواتین کے علاوہ خواجہ سرا اور بچے بھی شامل ہیں۔ تونسہ میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق ملک بھر میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کو مراکز کے ذریعے مفت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی فراہم کی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال اور پروپیگنڈا کا جواب
خصوصی تجزیے میں جنیوا میں بلوچستان کے حوالے سے قائم کردہ مخصوص بیانیے اور پروپیگنڈے کا رد کیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق جبری گمشدگیوں کا مسئلہ سنجیدہ ہے جس کے لیے باقاعدہ کمیشن قائم ہے، لیکن ہر لاپتہ فرد کو ریاست کے کھاتے میں ڈالنا ناانصافی ہے کیونکہ متعدد افراد خود دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو کر روپوش ہو جاتے ہیں۔ سی پیک جیسے ترقیاتی منصوبے بلوچستان اور پورے خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں جنہیں نشانہ بنانا خطے کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ادبی و ثقافتی گوشہ اور چین کا احوال
میگزین میں ممتاز ادیب ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی خدمات اور شاعر عدیم ہاشمی کی دلکش شاعری کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، چین میں اکیس روزہ ٹریننگ پروگرام کے احوال میں دنیا کی سب سے بڑی فلمی اور ٹیلی ویژن شوٹنگ سٹی "ہینگڈیان ورلڈ سٹوڈیو" اور "ژجیانگ نارمل یونیورسٹی" کا دلچسپ تذکرہ شامل ہے، جسے چین کا بالی ووڈ بھی کہا جاتا ہے۔
میگزین میں اسلام آباد کے تاریخی سید پور گاؤں کے رہائشیوں کی جانب سے وزیر اعظم سے اپیل شائع کی گئی ہے جس میں سی ڈی اے حکام کی جانب سے غریب عوام کو بے گھر کرنے کی کوششوں پر رحم کی درخواست کی گئی ہے۔ ایک اور مضمون میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی دو سالہ کارکردگی اور ان کی عوامی فلاح و بہبود کی انقلابی پالیسیوں کی تعریف کی گئی ہے۔ مزید برآں، ملک میں بڑھتی ہوئی ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور نوجوان نسل میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے مضر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ایچ آئی وی/ایڈز کا پھیلاؤ
سرکاری رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ایچ آئی وی (ایڈز) کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 618 نئے کیسز سامنے آئے، جس کا مطلب ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ہر ماہ اوسطاً 40 سے زائد افراد اس موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ متاثرین میں مردوں اور خواتین کے علاوہ خواجہ سرا اور بچے بھی شامل ہیں۔ تونسہ میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق ملک بھر میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کو مراکز کے ذریعے مفت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی فراہم کی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال اور پروپیگنڈا کا جواب
خصوصی تجزیے میں جنیوا میں بلوچستان کے حوالے سے قائم کردہ مخصوص بیانیے اور پروپیگنڈے کا رد کیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق جبری گمشدگیوں کا مسئلہ سنجیدہ ہے جس کے لیے باقاعدہ کمیشن قائم ہے، لیکن ہر لاپتہ فرد کو ریاست کے کھاتے میں ڈالنا ناانصافی ہے کیونکہ متعدد افراد خود دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو کر روپوش ہو جاتے ہیں۔ سی پیک جیسے ترقیاتی منصوبے بلوچستان اور پورے خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں جنہیں نشانہ بنانا خطے کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ادبی و ثقافتی گوشہ اور چین کا احوال
میگزین میں ممتاز ادیب ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی خدمات اور شاعر عدیم ہاشمی کی دلکش شاعری کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، چین میں اکیس روزہ ٹریننگ پروگرام کے احوال میں دنیا کی سب سے بڑی فلمی اور ٹیلی ویژن شوٹنگ سٹی "ہینگڈیان ورلڈ سٹوڈیو" اور "ژجیانگ نارمل یونیورسٹی" کا دلچسپ تذکرہ شامل ہے، جسے چین کا بالی ووڈ بھی کہا جاتا ہے۔
Mulhad Novel By Rabail Rani
یہ ناول ایلیٹ کلاس (اشرافیہ) کے دوہرے معیار، عیاشیوں، منشیات کے بے دریغ استعمال، ڈارک ویب اور ایلومیناتی فرقے جیسے حساس موضوعات پر مبنی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ظافر نقی اٹھائیس سال کی عمر میں امریکہ سے تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس لوٹتا ہے۔ بظاہر وہ غریبوں، یتیم بچوں اور بے سہارا خواتین کے لیے کروڑوں روپے کے عطیات دینے والا ایک ہمدرد اور رحم دل سوشل ورکر نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب اس کا ایک شاطرانہ بزنس پلان اور معاشرے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کا ڈھونگ ہوتا ہے۔ پسِ پردہ وہ ڈارک ویب اور شیطانی پوجا کے نیٹ ورک سے جڑا ہے، اور یتیم خانے کے لالچی انچارج مسٹر تارڑ اور اپنے دوست ابان کے ذریعے کم عمر بے سہارا لڑکیوں کو فارم ہاؤس پر لا کر ظلم اور ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ دوسری طرف ظافر کے والدین اور اس کی بہن پریشے بھی ایلیٹ کلاس کی روایتی آزاد خیالی، پارٹیوں، شراب اور بوائے فرینڈز کے چکروں میں مگن ہیں، جہاں دولت اور پیسے کے بل بوتے پر حادثات اور جرائم کو دبا دیا جاتا ہے۔ کہانی میں زحلے ہمدانی کا کردار بھی شامل ہے جو بزنس ڈیلز اور ٹینڈرز حاصل کرنے کے لیے محبت اور رشتوں کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ یہ ناول اشرافیہ کے مکروہ چہروں، یتیم خانوں کی آڑ میں ہونے والے گھناؤنے دھندوں اور معصوم بچوں کے استحصال کی ایک دردناک داستان بیان کرتا ہے۔
Saturday, May 30, 2026
Maharaja Novel By Kanwar Hashmat Ali
ناول "مہاراجہ" (از قلم کنور حشمت علی) کی یہ داستان ایک عیاش، خود غرض اور بدفطرت حکمران راجہ رام سہائے، اس کے جڑواں بیٹوں (تلک رائے اور رتن رائے) اور ایک معصوم دوشیزہ پوجا کے گرد گھومتی ہے۔ راجہ رام سہائے جگیا پور کے جاگیردار کرم سنگھ کی بستی میں داخل ہوتا ہے، جہاں اس کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔ کرم سنگھ کی خوبصورت بیٹی پوجا راجہ پر پھول نچھاور کرتی ہے تو راجہ اس کے حسن کا دیوانہ ہو جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کی ہوس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ راجہ کا عیار مشیر، جگت رام، راجہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرم سنگھ کو مکھن پور کی سونا اگلنے والی جاگیر کا لالچ دیتا ہے۔ کرم سنگھ دولت اور طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اپنی بیٹی کا سودا کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ پوجا کے پانچوں بھائی اس بے غیرتی کی شدید مخالفت کرتے ہیں، لیکن پوجا اپنے خاندان کو راجہ کے غیظ و غضب اور تباہی سے بچانے کے لیے اپنی خوشیوں کا 'بلیدان' (قربانی) دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ محل پہنچنے کے بعد پوجا خود کو بھیڑیوں کے نرغے میں گھری ایک لاش کی طرح محسوس کرتی ہے۔ راجہ رام سہائے ابھی رسم و رواج (پھیروں) کے بغیر ہی اسے اپنے حصار میں لینا چاہتا ہے، لیکن پوجا بڑی چالاکی اور لومڑی جیسی ہوشیاری سے کام لے کر دھرم کا واسطہ دیتی ہے اور خود کو بچانے کی مہلت حاصل کرتی ہے۔ وہ دل کے سکون کے لیے محل کے اندر موجود مندر میں جاتی ہے، جہاں اس کی ملاقات راجہ کے صوفی منش اور سنیاسی بیٹے تلک رائے سے ہوتی ہے، جو اپنے عیاش باپ کے بالکل برعکس ایک مقدس اور پرجلال شخصیت کا مالک ہے۔ دوسری طرف، راجہ کا دوسرا بیٹا رتن رائے، جو اپنے باپ کی طرح راج پاٹ کے امور سنبھالتا ہے، پوجا کو دیکھ کر اس کا اسیر ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی خاندانی جبر، ہوسِ زر، محلاتی سازشوں، اور تقدیر کے جبر کے خلاف ایک مظلوم لڑکی کی ذہنی و جذباتی کشمکش کی سنسنی خیز داستان ہے۔
Maharani By Kanwar Hashmat Ali Khan
یہ کہانی اچھوت چمار برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انتہائی حسین، ذہین اور چالاک لڑکی "گوندنی" کی ہے، جو اپنی ماں "رسیلی" کی وفات اور نامساعد حالات کے بعد اپنے حسن اور شاندار اداکاری کے بل بوتے پر شاہی محل تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ گوندنی اپنی غربت اور نچلی ذات کے پس منظر سے نکل کر ریاست کے مہاراجہ "پرنام لال" کے دل کی رانی یعنی 'مہارانی' بننے کا عزم رکھتی ہے۔ اس سفر میں وہ محل کے مصلحت پسند مشیر "سری نام جی" اور پنڈت "ہر دیال" کی مدد سے اپنی اصل شناخت چھپا کر ایک اونچی ذات کی لڑکی کا روپ دھارتی ہے۔ جہاں ایک طرف بوڑھا مہاراجہ اس کے حسن کا اسیر ہو کر اس سے شادی کا اعلان کرتا ہے، وہاں دوسری طرف ہر دیال کا جوان بیٹا "پرتاپ" بھی گوندنی کے عشق میں مبتلا ہو کر محل کی سازشوں اور خاندانی تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ داستان حسن، عیاری، طبقاتی کشمکش اور اقتدار کو پانے کے گرد گھومتی ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

















