Pages

Tuesday, October 20, 2026

Utra Hai Wo Sahil Par By Lubna Jadoon

Download Link B
ناول "اترا ہے وہ ساحل پر" لبنى جدون کی ایک نہایت دل سوز اور جذباتی کہانی ہے جو حب الوطن، والدین کی محبت، قربانی اور جذبہِ شہادت کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار شاہ خاور ہے، جو ایک بہادر اور باصلاحیت نوجوان ہے۔ اس کے والد کرنل ابرار خود ایک فوجی ہیں جو ملک کی خاطر اپنی ٹانگوں کی معذوری مول لے چکے ہیں۔ شاہ خاور کی والدہ آمنہ اپنے اکلوتے بیٹے کو فوج میں بھیجنے سے شدید خائف اور پریشان رہتی ہیں کیونکہ وہ جنگ میں اپنے والد اور شوہر کی قربانیوں کے دکھ سے جڑی ہوئی ہیں، مگر شاہ خاور کے اصرار اور عزمِ صمیم کے آگے وہ ہار مان لیتی ہیں۔   شاہ خاور ملٹری کالج جہلم سے شاندار کامیابی کے بعد پاک فوج میں کمیشن حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنی محنت اور لگن سے پاس آؤٹ ہو کر "سোর্ড آف آنر" اور دیگر اعزازات اپنے نام کرتا ہے۔ اس کی زندگی میں اس کی کزن حور شمائل ایک اہم مقام رکھتی ہے، اور دونوں کے دلوں میں ایک پاکیزہ محبت پروان چڑھتی ہے، یہاں تک کہ ان کی منگنی کی بات بھی طے ہو جاتی ہے۔   فوج میں شاندار کارکردگی کے بعد شاہ خاور کی تعیناتی سیاچن کے انتہائی خطرناک اور بلند ترین محاذ پر ہوتی ہے۔ وطن کی حفاظت اور دشمن کی ناکہ بندی کی اس کٹھن مہم کے دوران ایک برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے شاہ خاور شہید ہو جاتا ہے۔ شہادت سے پہلے وہ اپنے والد کے نام ایک خط چھوڑ جاتا ہے جس میں وطن سے محبت اور اپنے عزم کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ ابتدا میں صدمے سے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے، بالخصوص آمنہ اور حور کا دل بیٹھ جاتا ہے، لیکن بعد میں وہ اپنے شہید بیٹے کی عظمت اور وطن کی آبرو پر فخر کرتے ہوئے صبر کا دامن تھام لیتے ہیں۔  

Sunday, October 18, 2026

Uchiyan Majajan Wala Urdu Novel By Faiza Iftikhar Chanda

ناول "اُچیاں مڄاجاں والا" مصنفہ فائزہ افتخار کا ایک بہترین اور دلچسپ معاشرتی و اصلاحی ناول ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار جہاں آرا بیگم ہیں جو اپنے اکلوتے بیٹے عالمگیر زیدی اور مرحوم شوہر کی یادوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ عالمگیر ایک خود پسند، اکھڑ مزاج اور پڑھا لکھا نوجوان ہے جو اپنے علاوہ کسی کو اہمیت نہیں دیتا۔ جہاں آرا اپنے دیور نجیب اللہ اور اس کی سمجھ دار بیوی نرگس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب نرگس کی چھوٹی بہن "جاوداں" کچھ عرصے کے لیے ان کے گھر رہنے آتی ہے۔ جاوداں ایک سلجھی ہوئی، محنتی اور بااصول لڑکی ہے، جو گھر کے کاموں میں جہاں آرا کا ہاتھ بٹاتی ہے اور بچوں کو بھی پڑھاتی ہے۔ عالمگیر اور جاوداں کی ابتدا میں نوک جھونک اور طنزیہ جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے، کیونکہ عالمگیر کو ہر بات پر تنقید کرنے اور دوسروں کا مذاق اڑانے کی عادت ہوتی ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ جہاں آرا کی شدید خواہش اور خاندانی حالات کے پیشِ نظر ان کا رشتہ طے پانے کی بات چلتی ہے۔
کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب جہاں آرا شدید بیمار ہو جاتی ہیں اور حادثے کا شکار بھی ہوتی ہیں، جس سے گھر کا ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اس مشکل وقت میں جہاں عالمگیر کے اندر چھپی ہوئی حسساسیت اور ذمہ داری ابھر کر سامنے آتی ہے، وہیں جاوداں کی خلوص نیت اور محنت سب کا دل جیت لیتی ہے۔ بالآخر، عالمگیر اپنی خود پسندی کے خول سے باہر نکلتا ہے اور تمام غلط فہمیوں اور تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر جاوداں کو اپنی شریکِ حیات کے طور پر قبول کرتا ہے۔ ناول انسان کو غرور ترک کرنے، اپنوں کے خلوص کی قدر کرنے اور زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کا درس دیتا ہے۔

Al Birr Urdu Novel By Mubeen Fatima

ناول "البر" مبین فاطمہ کا ایک خوبصورت اور اصلاحی معاشرتی ناول ہے، جو کشمیر کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی محور سیدہ فاطمہ اور اس کے خاندان کی زندگی کے گرد گھومتا ہے، جہاں روایتی پابندیوں کے باوجود فاطمہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور سائیکالوجسٹ بننے کا خواب دیکھتی ہے۔ ناول میں اسلامی تعلیمات، توکل، صبر، قرآن سے رہنمائی اور نفسیاتی الجھنوں کا بہت خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کہانی میں ردا اور زاوی کے درمیان ایک خاموش محبت، اور دیہاتی ماحول میں رانی اور احمد کی نوک جھونک پر مبنی ہلکا پھلکا اور دلچسپ رومانس بھی شامل ہے۔ یہ ناول انسان کو مایوسی سے نکال کر توکلِ الٰہی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کا درس دیتا ہے۔


Qalandar Urdu Novel By Sania Sheikh

یہ کہانی صرف رومان یا دولت کی دوڑ کی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے قلندرانہ سوچ اور کردار کی ہے جو دنیا کی زنجیروں سے آزاد ہو کر دوسروں کے دکھ بانٹنے اور حق کی خاطر لڑنے کو اپنی زندگی کا مقصد بناتا ہے। سلمان شاہ اور اس کے ساتھی معاشرے کی برائیوں، خاص طور پر منشیات کے خلاف خفیہ تحریک چلاتے ہیں۔ دوسری طرف، گھریلو جکڑ بندیاں، جذباتی رشتے، اور علیزہ اور زویا جیسے کرداروں کی جذباتی کشمکش اس کہانی کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ ناول میں محبت، نفرت، دوستی، دشمنی اور حق و باطل کی یہ جنگ پڑھنے والے کو اپنے اندر کا قلندر ڈھونڈنے پر مجبور کرتی ہے۔   

Khan Haveli Urdu Novel By Anabia Shah

"خان حویلی" انابیہ شاہ کا ایک بہترین اور سنسنی خیز اردو ناول ہے، جس کی کہانی روایات، محبت، نفرت اور خاندانی رنجشوں کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی میں زمان خان کے تینوں بچے (ہادی، باذل اور آعنا) لندن سے طویل عرصے بعد پاکستان اپنے خاندانی پس منظر والی 'خان حویلی' واپس آتے ہیں۔ دوسری طرف حویلی کے سخت گیر روایات کے حامل بزرگ "داجی" اور ان کا لاڈلا پوتا زاویار خان ہیں، جبکہ ارشمان خان جیسے کردار بھی ہیں جو اپنی ان پڑھ بیوی مریم پر شدید ظلم اور بے توجہی کی انتہا کرتے ہیں۔ ناول میں جہاں ایک طرف بچپن کی منگنیوں اور خاندانی فیصلوں کی کشمکش دکھائی گئی ہے، وہیں دوسری طرف ہادی، باذل اور آعنا کی ہلکی پھلکی نوک جھونک اور شرارتیں کہانی میں دلچسپی پیدا کرتی ہیں۔ بالاخر ناول جذباتی موڑ لیتا ہے جہاں رشتے اپنی اصل حقیقت اور محبت کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔

Saturday, October 17, 2026

Chupke Se Utar Mujh Mein Novel By Farwa Khalid

ناول "چپکے سے اتر مجھ میں" از فروا خالد ایک دلچسپ اور جذباتی کہانی ہے جو نوشیروان خانزادہ اور عرزش کی زندگی کے گرد گھومتی ہے. نوشیروان ایک طاقتور اور نامور بزنس مین ہے، جبکہ عرزش اپنے باپ اور بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اس سے ٹکراتی ہے. کہانی میں محبت، نفرت، غلط فہمیوں اور رشتے کی خوبصورت کشمکش کو دکھایا گیا ہے، جو آخر کار دلوں کو جوڑ دیتی ہے.   

Thursday, October 15, 2026

Muqyas By Memoona Sadaf

ہ کہانی دو لڑکیوں زاشا اور رفعیہ بانو (زاشا کی ماں) کے گرد گھومتی ہے۔ شروع میں زاشا ایک ملازمت پیشہ لڑکی کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کے رشتے اسی لیے ٹوٹتے ہیں کہ وہ نوکری کرتی ہے۔ رشتہ دیکھنے آئی الفت آنٹی اس سے کہتی ہیں کہ پڑھی لکھی لڑکی تو ٹھیک ہے مگر کماؤ بیوی نہیں۔ زاشا صاف کہہ دیتی ہے کہ وہ نوکری اپنی مرضی سے کرتی ہے اور اپنی کمائی خود پر خرچ کرے گی۔ ایسا شوہر وہ نہیں چاہتی جو اس کی کمائی پر پلے۔ وہ ماں سے بھی یہ بات کرتی ہے کہ وہ ایسا مرد چاہتی ہے جو محنتی ہو اور ذمہ داری اٹھائے۔
زاشا کی ماں رفعیہ بانو ایک مضبوط عورت ہیں جنہوں نے شوہر کے ظلم کے باوجود بیٹی کو پالا۔ زاشا کا باپ نشئی اور آوارہ تھا، بیوی کو مارتا پیٹتا اور پیسے چھین لیتا تھا۔ بچپن میں زاشا نے یہ سب دیکھا اور سہا۔ بی ایس سی کے دوران باپ کی لاش ملی اور زاشا کو اس کی موت پر رونا تک نہ آیا۔ اس کے بعد دوستوں نے بھی کنارہ کیا، کیونکہ اسے "بشیر چرسی کی بیٹی" کے طعنے سنے پڑتے تھے۔ اسی لیے وہ کسی سے قریبی تعلق نہیں رکھتی اور اپنے ماضی کو چھپاتی ہے۔
کمپنی کی طرف سے زاشا دو ہفتے کی ٹریننگ کے لیے استنبول (ترکی) جاتی ہے۔ وہاں ہوٹل کے ریستوران میں اس کی ملاقات بلال سے ہوتی ہے۔ وہ اسے ترک یا ایرانی سمجھ کر انگریزی میں بات کرتی ہے اور اسے "شارٹ کٹ" کہہ کر مذاق بھی بنا دیتی ہے، مگر بعد میں پتا چلتا ہے کہ بلال پاکستانی نژاد ہے۔ اس کے والد پاکستانی اور والدہ ترک ہیں۔ زاشا کو شرمندگی ہوتی ہے مگر بلال اس بات کا برا نہیں مناتا اور اسے استنبول گھمانے کی پیشکش کرتا ہے۔
بلال اسے بورصہ لے جاتا ہے اور اپنی ماں فیروز سے ملواتا ہے، جو زاشا کے لیے تازہ روٹی اور پاکستانی کھانا بنواتی ہیں۔ بلال کی کہانی میں اس کا باپ ایک محنتی اور ذمہ دار انسان ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو پی ایچ ڈی کرنے دی اور ہمیشہ گھر کا خرچ خود اٹھایا۔ زاشا کو یہ سن کر حیرت بھی ہوتی ہے اور اندر ہی اندر دکھ بھی کہ اسے ایسا باپ کیوں نہ ملا۔
وقت گزرنے کے ساتھ زاشا بلال کی صحبت میں سکون محسوس کرنے لگتی ہے۔ بلال اس کا خیال رکھتا ہے، اسے وقت دیتا ہے اور شہر کی سیر کراتا ہے۔ آخری شام دونوں کے درمیان "آپ" اور "تم" پر بات ہوتی ہے۔ بلال کہتا ہے کہ وہ اسے اپنے گھر والوں سے ملوانا چاہتا ہے، مگر زاشا رو پڑتی ہے اور پہلی بار اپنا راز کھول دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ وہ ایک نشئی باپ کی بیٹی ہے اور اسی وجہ سے بلال کے خاندان میں شامل ہونے کے قابل نہیں۔
بلال اس کی بات سن کر کہتا ہے کہ باپ کے گناہوں کی سزا بیٹی کو دینا عقلمندی نہیں۔ زاشا کا کردار اس کا اپنا ہے اور اس کی ماں کی محنت نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ اس "مقیاس" (پیمانے) کو توڑ دیتا ہے جس میں زاشا کو اس کے باپ کے گناہوں سے ناپا جاتا ہے۔ زاشا کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ کوئی اسے اس کے ماضی سے الگ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ کہانی کا اختتام ہلکے پھلکے انداز میں ہوتا ہے، جب وہ دونوں ہنستے ہوئے ہوٹل کی طرف لوٹتے ہیں۔ زاشا کو ماں کو بتانا تھا کہ جو وہ کہتی تھیں کہ خدا خود ڈھونڈ لے گا، آخرکار اس نے اسے ڈھونڈ ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Bekhudi Ka Mausam By Farwa Khalid

فروا خالد کا ناول "بے خودی کا موسم" سیاست، خاندانی دشمنی، انتقام اور محبت کے گرد گھومتی ایک پُرکشش اور جذباتی کہانی ہے۔
کہانی کا آغاز مشک یوسفزئی کے نکاح سے ہوتا ہے۔ وہ ملک کے ایک نامور سیاسی رہنما سلمان یوسفزئی کی لاڈلی بیٹی ہے۔ اس شادی پر گھر والوں میں خوشی نہیں، اس کی والدہ شائنہ بیگم ناراض اور پریشان ہیں، اور رخصتی کے وقت سب کے دل بوجھل ہیں۔ دلہا سلطان شاہ کی آنکھوں میں مشک کے خاندان کے لیے نفرت اور بدلے کا جذبہ ہے، کیونکہ وہ اپنے والد کی موت کا حساب چکانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے یہ رشتہ محبت سے زیادہ ضد اور انتقام کا ذریعہ ہے۔
مشک پر پہلے بھی منصوبہ بندی کے ساتھ حملے ہو چکے ہیں، اس لیے وہ خوف اور صدمے کا شکار رہتی ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے گارڈز اور گاڑیاں ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ دوسری جانب بااثر کورائی خاندان کا ایک اہم فرد، زرک خان کورائی، اپنی سیاسی حیثیت اور اندرونی کشمکش کے ساتھ کہانی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی دادی وحیدہ بیگم، اربازخان کورائی اور باقی گھر والے اس کی حفاظت اور صحت کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ مشک اور زرک کے درمیان غصہ، شک، ٹکراؤ اور بے بسی کے مراحل آتے ہیں، جن میں مشک اس سے کہتی ہے کہ تم اس خاندان کے دشمن ہو۔ اس دوران افنان، امبر،عباس یوسفزئی اور وکیل جیسے کردار بھی اہم فیصلوں اور غلط فہمیوں کا حصہ بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, October 12, 2026

Doosri Aurat By Rajni Patel

"دوسری عورت" نامی اس کتاب میں مختلف معاشرتی موضوعات اور کرداروں کی نفسیاتی جراحی پر مبنی افسانے شامل ہیں۔ یہ مجموعہ معاشرتی تلخیوں، انسانی جبلتوں، اور تلخ حقائق کو نہایت ماہرانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ کتاب میں شامل کہانیاں معاشرے کے ان پوشیدہ ناسوروں کو بے نقاب کرتی ہیں جو انسانی رشتوں اور اخلاقیات کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اس میں متوسط اور نچلے طبقے کی کشمکش، مجبور عورتوں کے مسائل اور انسانی نفسیات کے گہرے پہلوؤں کو بڑی چابک دستی سے موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔  

Maut Ka Payambar By Najma Safi

Download Link A
Download Link B
"موت کا پیغامبر" نجمہ صفی کا جاسوسی ناول ہے جو "جاسوسی دنیا" کے عمران سیریز کے سلسلے سے تعلق رکھتا ہے۔ دیباچے میں مصنفہ بتاتی ہیں کہ اس سے پہلے "باؤلا بندر" شائع ہو چکا ہے اور اگلا ناول "ڈریم لینڈ" ہوگا۔ وہ یہ بھی لکھتی ہیں کہ یہ سلسلہ نرا ایڈونچر نہیں بلکہ جاسوسی کہانی ہے۔
کہانی کا آغاز حمید کی رپورٹ سے ہوتا ہے، جو وہ ڈی آئی جی کو پیش کرتا ہے۔ فریدی کی طرح وہ بھی ساری ذمہ داری اپنے سر نہیں لینا چاہتا۔ اس کی قید میں تین افراد ہیں: احسان احمد ایڈووکیٹ، رودرا اور اس کا باپ۔ حمید نے ان سے سختی نہیں کی، کیونکہ رودرا ایک لڑکی ہے۔
شہر میں پراسرار قتل ہو رہے ہیں۔ ماہرِ نشانات کی رپورٹ کے مطابق قتل کے مقامات پر ملنے والے ہاتھوں کے نشانات سات مختلف آدمیوں کے ہیں، جن میں سے کوئی بھی مجرم ثابت نہیں ہوتا۔ پولیس کو لگتا ہے کہ قاتل نے ان سب کے نشانات کسی نہ کسی طرح حاصل کر لیے ہیں۔ دوسری طرف، شہر کے بڑے لوگوں پر خوف کا سایہ ہے اور سب کی نظریں ایک ماہرِ روحانیات پر ہیں۔
اسی دوران ڈاکٹر بادرڈ ایک روحانی عمل کا اہتمام کرتا ہے۔ ایک بڑے ہال میں تمام مشتبہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور اچانک اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ہال میں عجیب و غریب آوازیں گونجتی ہیں، جس سے لوگوں میں گھبراہٹ پھیل جاتی ہے۔ حمید اور فریدی اس سارے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناول کے آخر میں حمید ہال میں ہونے والے واقعات کو دیکھتا ہے اور ایک کے بعد ایک رازوں پر سے پردہ اٹھتا جاتا ہے۔

Mirza Amjad Baig Collection 1

Download Link A
Download Link B
یہ کتاب مرزا امجد بیگ (ایڈووکیٹ) کے لکھے ہوئے سنسنی خیز اور دلچسپ عدالتی و قانونی کہانیوں پر مشتمل ہے، جن میں قانونی پیچیدگیوں، عدالتی کارروائیوں اور مختلف مقدمات کے اہم رموز و نکات کو اجاگر کیا گیا ہے.   کتاب کے پہلے حصے میں "آنگن ٹیڑھا" نامی کہانی میں ایک ایسے مقدمے کی عکاسی کی گئی ہے جہاں ایک شخص کو محبت اور اعتماد کے دھوکے میں قتل کے ایک جھوٹے الزام میں پھنسا دیا جاتا ہے، اور پھر کس طرح ایک باصلاحیت وکیل اپنی ذہانت اور جرح کے ذریعے اصل مجید کو بے نقاب کر کے اپنے موکل کو باعزت بری کراتا ہے.   دوسرے حصے میں "درست آید" کے عنوان سے ایک اور قانونی معمہ پیش کیا گیا ہے جہاں ایک عام ملازم پر قتل کا الزام لگایا جاتا ہے اور وکیل صفائی گہرائی سے تفتیش کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں.   

Insan Aur Shaitan By Hafiz Mubashar Hussain Lahori

Download Link A
Download Link B
حافظ مبشر حسین لاہوری کی تصنیف کردہ کتاب "انسان اور شیطان" قرآن و سنت کی روشنی میں شیطان کی حقیقت، اس کے مکرو فریب، اور انسان کے ساتھ اس کے ازلی تعلق کا احاطہ کرتی ہے۔   کتاب کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں:کتاب میں مختلف مذاہب کے تصورِ شیطان اور فلسفہ خیر و شر پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔   واضح کیا گیا ہے کہ شیطان اور جنات محض فرضی تصور یا انسانی خیالات نہیں بلکہ ایک خارجی وجود رکھنے والی مخلوق ہیں۔   شیطانِ اکبر (ابلیس) کی تخلیق، اس کی سرکشی، اور ہر انسان کے ساتھ مقرر کردہ قرین (شیطان) کی حقیقت کو قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔   نفس انسانی کی مختلف حالتوں (نفس امارہ، لوامہ اور مطمئنہ) اور شیطانی وسوسوں کے اثرات کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔   شیاطین کے ہتھکنڈوں، ان کے مکروہ عزائم، اور ان سے بچنے کے لیے اسلامی تدابیر اور ہتھیاروں (جیسے ذکرِ الٰہی اور تعوذ) کو بیان کیا گیا ہے۔   روحوں کی حاضری، جنات کی دنیا، اور منکرینِ جن و شیاطین کے اعتراضات کا مدلل اور علمی رد کیا گیا ہے۔   

Pehla Wo Ghar Khuda Ka By Ghulam Sarwar

Download Link A
Download Link B

"پہلا وہ گھر خدا کا" غلام سرور کا لکھا ہوا ایک سفرنامہ ہے، جو انہوں نے اپنے دورۂ حج (۱۹۶۵ء) کے موقع پر مرتب کیا۔ اس سفرنامے میں مصنف نے دانا پور (بہار) سے اپنی روانگی، بمبئی سے بحری جہاز (مظفری) کا سفر، عدن کے راستے جدہ آمد، اور پھر مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کی زیارت اور ارکانِ حج کی ادائیگی کا احوال نہایت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کتاب میں اس وقت کی عالمی اسلامی کانفرنس (مؤتمر العالم الاسلامی) کی روداد اور کشمیر کے مسئلے پر ہونے والی بحثوں کا بھی ذکر موجود ہے۔

Sunday, October 11, 2026

Waris Kon By Ziyad Asghar Zarwan

Download Link A
Download Link B
"وارث کون؟" زیاد اصغر زارون کی لکھی ہوئی ایک معاشرتی اور اصلاحی کہانی ہے۔ یہ کہانی عائشہ نامی ایک لڑکی کی ہے جو گھر سے باہر ایک انجان شخص نقیب کے فریب میں آ جاتی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود اس شخص کے ساتھ تعلق جوڑ لیتی ہے، لیکن بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ نقیب ایک فریب کار اور نشے کا عادی شخص ہے۔ نقیب اس کا سارا زیور اور جمع پونجی ہتھیا لیتا ہے اور اسے انتہائی کسمپرسی اور اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ کہانی ان غلط فیصلوں کا عبرت ناک انجام دکھاتی ہے جو انسان جذبات کے اندھے پن میں آ کر کرتا ہے۔   

Weran Farm House By Ahmed Saeed Paracha

Download Link A
Download Link B
ویران فارم ہاؤس‘ احمد سعید پراچہ کی لکھی ہوئی ایک سنسنی خیز اور پر اسرار کہانی ہے۔ کہانی کا آغاز پانچ یونیورسٹی کے دوستوں—ارمان، حارث، زین، عائشہ اور مریم—کے سفر سے ہوتا ہے جو تعطیلات گزارنے کے لیے ارمان کے چچا کے ایک سنسان فارم ہاؤس جا رہے ہوتے ہیں۔ راستے میں پراسرار واقعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور فارم ہاؤس پہنچنے پر انہیں شدید خوفناک ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔   فارم ہاؤس کے تہہ خانے میں ایک بدروح اور پراسرار طاقت کا راج ہوتا ہے جو وہاں آنے والوں کو ایک ایک کر کے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پچاس سال قبل ایک معصوم لڑکی کو یہاں زندہ دفن کیا گیا تھا جس کی بددعا اور ایک تاریک معاہدے کی وجہ سے یہ جگہ لعنتی بن چکی تھی۔ حارث، زین اور مریم اس پراسرار قوت کا شکار ہو کر لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ آخر کار ارمان اور عائشہ بڑی مشکل سے قرآنِ مجید اور ایک مبارک تعویذ کی مدد سے اس سیاہ وجود اور شیطانی قوت کا خاتمہ کر کے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تاہم کہانی کے آخر میں مہینوں بعد جب اس فارم ہاؤس کی مرمت شروع ہوتی ہے تو وہشیطانی کھیل ایک بار پھر سے زندہ ہو جاتا ہے۔  

Gresan Ki Wapsi By Muhammad Shakir Labana

Download Link A
Download Link B
’گریسن کی واپسی‘ محمد شاکر لبانہ کی ایک سنسنی خیز اور پراسرار کہانی ہے جس کا آغاز ڈک گریسن کے نام ایک خط سے ہوتا ہے۔ ڈک گریسن کا بچپن ’ہیلی سرکس‘ میں گزرا تھا، جہاں چھ سال کی عمر میں اس کے والدین (جو کہ سرکس کے ماہر کرتب باز تھے) کو کسی انجان مجرم نے قتل کر دیا تھا۔ سرکس کے مالک مسٹر ہیلی نے ڈک کی پرورش اپنے بیٹے کی طرح کی تھی۔ مسٹر ہیلی کے انتقال کے بعد جب ان کی وصیت پڑھی جاتی ہے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی جائیداد اور سرکس کا مالک ڈک گریسن کو بنایا ہے، جس پر مسٹر ہیلی کا مغرور بیٹا برائن شدید غصے میں آجاتا ہے۔   ڈک کو مسٹر ہیلی کا ایک خط ملتا ہے جس میں انکشاف ہوتا ہے کہ اس کے والدین کا قاتل ٹونی زکو نامی ایک بھتہ خور مجرم تھا۔ سرکس کو بچانے اور مالی معاونت کے لیے جب ڈک میونسپل بینک سے لون کے سلسلے میں سونیا زکو نامی ایجنٹ سے ملتا ہے، تو اسے پتہ چلتا ہے کہ سونیا اسی ٹونی زکو کی بیٹی ہے۔ ادھر سرکس کے گرینڈ شو کے دوران برائن اور ریمنڈ کی سازش سے سرکس میں آگ لگ جاتی ہے، اور ریمنڈ (جو ڈک کا پرانا دوست تھا مگر حسد کی وجہ سے غدار بن چکا تھا) ڈک پر حملہ کر دیتا ہے۔ پولیس بروقت پہنچ کر ریمنڈ اور رایا کو گرفتار کر لیتی ہے جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ آخر کار، ڈک اپنے والدین کے قاتل ٹونی زکو کو بھی قانون کے کٹہرے میں لے آتا ہے، اور سرکس کی رونقیں بحال ہو جاتی ہیں۔ 

Nadeeda Sanp By Rajpoot Iqbal Ahmed

Download Link A
Download Link B
’نادیدہ سانپ‘ راجپوت اقبال احمد کی ایک سنسنی خیز طویل کہانی ہے جو ایک سمندری سفر اور پراسرار واقعات کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار جم بودن ہے جو اپنی پرانی کشتی ’بلیو کراس‘ پر دس ہزار پونڈ مالیت کے موتیوں کی کھیپ کے ساتھ کیرنس کی طرف سفر کر رہا ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران سمندر میں ایک ہوائی جہاز کا حادثہ پیش آتا ہے، اور جم بودن اپنے ساتھی ٹونگو کی مدد سے چار مسافروں—جن میں لارا، جین، گورڈن اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کا انسپکٹر پال شامل ہیں—کی جان بچا کر انھیں اپنی کشتی پر سوار کر لیتا ہے۔   کشتی کا انجن خراب ہونے پر سب کو ’ٹرٹل آئی لینڈ‘ نامی ایک ویران جزیرے پر عارضی قیام کرنا پڑتا ہے۔ جزیرے پر ایک پراسرار بوڑھے رینڈم کا قتل ہو جاتا ہے اور انجن میں جان بوجھ کر ریت ڈالی جاتی ہے تاکہ سفر میں تاخیر ہو۔ جلد ہی یہ انکشاف ہوتا ہے کہ پال دراصل جیرالڈ انیکرس نامی ایک مفرور مجرم ہے جس نے اصلی پال کا روپ دھار رکھا ہے، اور وہ گورڈن کے ساتھ مل کر تمام موتیوں اور رقم پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ کہانی کے آخر میں، جب گورڈن اور جین جم بودن، لارا اور ٹونگو کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ٹونگو اور جیرالڈ بروقت کارروائی کر کے ان کی سازش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ اس طرح جم بودن اور لارا کی جان بچ جاتی ہے، اور مجرم اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔  

Sufaid Raatein Translate By Dua Book Palace

’سفید راتیں‘ روسی ادب کے جید کلاسک مصنف فیودور دوستوفسکی کا ایک دل کو چھو لینے والا شاہکار ناول ہے جسے دعا بک پیلس، کراچی کے تحت اردو قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ یہ کہانی ایک تنہا، تنہائی پسند اور خیالی دنیا میں رہنے والے نوجوان (خواب دیکھنے والے) کی زبانی بیان کی گئی ہے جو سینٹ پیٹرزبرگ کی سنسان اور روشن راتوں میں اکیلا گھوما کرتا ہے۔ ایک شب، نہر کے کنارے اس کی ملاقات ”نسٹینکا“ نامی ایک ایسی دلکش لڑکی سے ہوتی ہے جو کسی پرانے غم میں مبتلا رو رہی ہوتی ہے۔ نسٹینکا اپنی دادی کے ساتھ سختی اور قید جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ایک ایسے شخص کی محبت میں گرفتار ہے جس نے ایک سال قبل ماسکو جانے کے بعد واپس لوٹنے کا وعدہ کیا تھا۔   اگلے تین دنوں تک یہ دونوں مسلسل سفید راتوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اپنے دل کی باتیں بانٹتے ہیں اور خوابیدہ دنیا کے قصے سناتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی ہیرو نسٹینکا کی صحبت سے عشق کر بیٹھتا ہے اور اس کی محبت میں پناہ پاتا ہے۔ آخری رات جب اس کا محبوب طویل انتظار کے باوجود واپس نہیں آتا تو نسٹینکا ناامید ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔ ہیرو ہمدردی کی انتہا کرتے ہوئے اس کے غم کو بانٹتا ہے اور اپنے ٹوٹے ہوئے دل کے باوجود اسے تسلی دیتا ہے۔ اتنے میں اچانک نسٹینکا کا وہ پرانا محبوب وہاں آجاتا ہے؛ نسٹینکا خوشی سے اس کی بانہوں میں چلی جاتی ہے اور جاتے ہوئے ہیرو کو گلے لگا کر ہمیشہ دوست رہنے کا کہتی ہے۔ ناول کا اختتام اس دلگیر احساس پر ہوتا ہے کہ ہیرو کا یہ ایک مختصر سا جذباتی لمحہ اور کسی کی خوشی کا ذریعہ بننا ہی اس کی پوری تنہا زندگی کے لیے کافی تھا۔ 

Saturday, October 10, 2026

Nagan By Masood Javed

Download Link A
Download Link B
’ناگن‘ مسعود جاوید کا لکھا ہوا ایک سنسنی خیز اور تجسس سے بھرپور جاسوسی ناول ہے جس کے مرکزی کردار مشہور سراغ رساں شہاب اور اس کا ساتھی نجمی ہیں۔ کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب نجمی گھبرایا ہوا شہاب کے مطب میں داخل ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ باہر ایک عجیب و غریب حلیے والا بوڑھا شخص موجود ہے جو یکم اپریل کی بات کرتا ہے۔ وہ بوڑھا شخص خود کو ”زیرو“ کہتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مسروقہ جواہرات کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ زیرو ایک انتہائی قیمتی سرخ ہیرا (جو تبت کی کالی وادی میں ناگ دیوتا کے مندر سے چوری کی گئی ناگ دیوتا کی آنکھ نما نایاب ہیرا تھا) شہاب کے پاس بطور امانت رکھواتا ہے کیونکہ اسے اپنے دشمن ”عقاب“ سے جان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ زیرو ایک ہفتہ وار ٹیلی فون کال کا نظام طے کرتا ہے تاکہ اس کی خیریت معلوم ہو سکے، بصورت دیگر شہاب کو لفافہ کھول کر انتقام لینے کا کہتا ہے۔   دوسری طرف، روحانی عاملہ فرازی کے پاس ایک لڑکی ”کملا“ لائی جاتی ہے جو پاگل خانے سے غائب ہو کر پراسرار طور پر اس کے پاس پہنچتی ہے اور بتاتی ہے کہ ناگ دیوتا کی طرف سے تین خوفناک سائے (روحیں) اس کا تعاقب کر رہے ہیں۔ بعد میں زیرو اپنے مطب میں مردہ پایا جاتا ہے اور اس کا گلا گھونٹا گیا ہوتا ہے، جبکہ اس کی الماری سے اصلی ہیرا غائب اور نقلی ہیرا برآمد ہوتا ہے۔ تفتیش آگے بڑھتی ہے تو انکشاف ہوتا ہے کہ زیرو کو قتل کرنے والا اور اس کا تعاقب کرنے والے دراصل تبت سے آئے ہوئے تین غیر ملکی پجاری ہیں۔ کہانی میں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ”کملا“ اور اس کی جڑواں بہن ”بملا“ (جو فادر فرڈینینڈ اور مس فرڈینینڈ کے روپ میں ہوٹل میں مقیم تھیں) اصل میں عقاب کے نام سے یہ سارا کھیل کھیل رہی تھیں۔ بمبلا ہی وہ ماسٹر مائنڈ ہوتی ہے جو ناگ دیوتا کی آنکھ (ہیرا) چراتی ہے، اپنے حریفوں کو زہریلے تیر اور گیس کے ذریعے ہلاک کرتی ہے، شاما (بوڑھی عورت) کا روپ دھارتی ہے اور آخرکار شہاب کی ہوشیاری اور پولیس کی مدد سے پریم کے ذریعے گرفتار کر لی جاتی ہے۔  

Thursday, October 8, 2026

Main Hoon Dilip Kumar Translate By Raheela Khalid

’میں ہوں دلیپ کمار‘ بالی ووڈ کے عظیم اور نامور اداکار دلیپ کمار (محمد یوسف خان) کی خود نوشت سوانح حیات کا اردو ترجمہ ہے جو راحیلہ خالد اور نظام الدولہ نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں دلیپ کمار نے پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کی گلیوں میں اپنے پیدا ہونے سے لے کر ہندوستانی سنیما کا ’ٹریجڈی کنگ‘ اور شہنشاہِ جذبات بننے تک کا تمام سفر تفصیلاً بیان کیا ہے۔ کہانی کا آغاز ان کے پٹھان خاندانی پس منظر، دادا دادی اور والدین کی محبت، ایک فقیر کی پیشگوئی، اور بچپن کے پر مسرت ماحول و روایات کے تذکرے سے ہوتا ہے۔   بعد ازاں، معاشی حالات، دوسری جنگِ عظیم کے اثرات اور والد (آغا جی) کے پھلوں کے کاروبار کی وجہ سے ان کا خاندان بمبئی منتقل ہو گیا۔ بمبئی اور دیولالی میں قیام کے دوران انہوں نے تعلیم حاصل کی، انگریزی اور اردو ادب سے لگاؤ پیدا کیا اور فٹ بال کے کھیل میں گہری دلچسپی لی۔ والد سے معمولی اختلاف اور معاشی آزادی کے جذبے کے تحت وہ گھر چھوڑ کر پونا چلے گئے جہاں انہوں نے ایک برطانوی آرمی کینٹین میں مینیجر کے معاون اور سینڈوچ بیچنے کا کام کر کے اپنی صلاحیت ثابت کی۔ پھر بمبئی واپسی پر، چرچ گیٹ اسٹیشن پر ڈاکٹر مشانی کے توسط سے بمبئی ٹاکیز کی مالکہ دیویکا رانی سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے یوسف خان کی دلکش شخصیت، شستہ اردو اور انگریزی بول چال سے متاثر ہو کر انہیں 1250 روپے ماہانہ پر اداکار کے طور پر سائن کر لیا اور ان کا نام بدل کر "دلیپ کمار" رکھ دیا۔   1944ء میں فلم ’جوار بھاٹا‘ سے فلمی سفر کا آغاز کرنے کے بعد انہوں نے ’میلہ‘، ’شہید‘، ’انداز‘، ’دیوداس‘، ’آزاد‘، ’گنگا جمنا‘ اور ’مغلِ اعظم‘ جیسی شاہکار فلموں کے ذریعے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ کتاب میں راج کپور کے ساتھ کالج کی یادگار دوستی، اشوک کمار (اشوک بھیا) اور ایس مکھرجی کی رہنمائی، اپنے بھائی ایوب اور والدہ کی وفات کے دردناک صدمات، اور مختلف ہم عصر اداکاراؤں کے ساتھ کام کرنے کے تجارب کا ذکر بڑے خلوص سے کیا گیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک اداکار کی زندگی کی داستان نہیں بلکہ برصغیر کے ماضی، ثقافت، خاندانی قدروں اور جذبات کی سچی تصویر ہے۔   

Monday, October 5, 2026

Talash By Neema Gul Memon

Download Link A
Download Link B
’تلاش‘ نیما گل میمن کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور روحانی کہانی پر مبنی ناولٹ ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار عدیل ہے، جو سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار کا ایک درویش صفت فقیر (یسین والے بابا) ہے۔ چودہ پندرہ سال پہلے بچپن میں مزار پر اس کی ملاقات پری وش (پری) نامی ایک چھوٹی بچی سے ہوئی تھی، جس کے ہاتھ سے آئس کریم گر گئی تھی。 اس واقعے کے بعد عدیل دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر مزار کی روحانیت اور پری کے عشق میں گرفتار ہو گیا اور اس کی روح مزار سے وابستہ ہو گئی۔   دوسری جانب، پری فیشن ڈیزائننگ کی طالبہ ہے اور اپنے کزن علی شیر کو پسند کرتی ہے جو کینیڈا میں مقیم ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ علی شیر اور اس کے گھر والوں کی طرف سے رشتہ مسلسل لٹکائے جانے کی وجہ سے پری شدید ذہنی الجھن کا شکار رہتی ہے۔ ایک دن پری اپنی بہن کے ساتھ دعا مانگنے مزار پر آتی ہے اور عدیل سے اس کا سامنا ہوتا ہے۔ عدیل کی پرخلوص اور سحر انگیز شخصیت، اس کا جاہ و جلال اور بغیر کسی لالچ و ہدیے کے لوگوں کے لیے دعا کرنا پری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, October 4, 2026

Mere Khawab Lota Do By Nighat Abdullah

Download Link A
Download Link B
”میرے خواب لوٹا دو“ نگہت عبداللہ کا تحریر کردہ ایک جذباتی اور اصلاحی اردو ناول ہے۔ کہانی کے مرکزی پلاٹ میں خاندانی تعلقات، محبت، ایثار اور معاشرتی روایتی دباؤ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول کے کردار اپنی خواہشات، رشتوں کے تحفظ اور تلخ حقیقتوں کے درمیان کشمکش کا شکار نظر آتے ہیں۔ مصنفہ نے احساسات کی باریکیوں اور انسانی نفس کی الجھنوں کو نہایت خوبصورت اور شائستہ اسلوب میں پیش کیا ہے، جو قارئین کو ضبط اور خلوصِ نیت کا درس دیتا ہے۔

Saturday, October 3, 2026

Dasht e Shab By Zia Farooqui

ضیا فاروقی کا شعری مجموعہ ”دشتِ شب“ اردو غزل اور نظموں کا ایک معتبر انتخاب ہے، جسے اردو مرکز لاس اینجلس کے مالی تعاون سے شائع کیا گیا ہے۔ شاعر نے اپنے اس کلام میں قصباتی تہذیب، خاندانی روایات، زوالِ زمینداری، ہجرت کے غم اور جدید دور کے پیچیدہ مسائل و نفسیاتی کیفیات کو کلاسک اور جدید اسلوب کے حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کتاب کا آغاز حمد اور نعتِ رسول مقبول سے ہوتا ہے، جس کے بعد خوبصورت غزلیات اور نظمیں جیسے ”افکارِ یخ بستہ“، ”بصارتِ گم گشتہ“، اور ”تو کیا کرو گے“ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں حزن و ملال، ذات کا کرب، وقت کی گردش، عشق و وفا کی پاسداری، اور امید کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

Friday, October 2, 2026

Subrang Digest January February 1977

سب رنگ ڈائجسٹ کا یہ شمارہ ادب، سوانح، اور سنسنی خیز تحریروں کا ایک بہترین امتزاج ہے:   سخنِ دل نواز (مدیر کی بات): شکیل عادل زادہ اپنے خوبصورت انداز میں زندگی کے تلخ حقائق کا ذکر کرتے ہیں۔ اس تحریر میں ممتاز ادیب کرشن چندر کی وفات کا انتہائی غمگین لہجے میں ذکر کیا گیا ہے اور کرشن چندر کا وہ آخری تفصیلی خط بھی شائع کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی وفات اور بیماری کے دنوں کے حالات پر شکیل عادل زادہ کو لکھا تھا۔   بندگی: کہانی کا مرکزی کردار "رحمت علی" ایک غریب اور کم پڑھا لکھا انسان ہے۔ وہ ملک کی پیچیدہ سیاست، صدارتی یا پارلیمانی نظام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اس کی کل کائنات اور آرزو صرف اتنی ہے کہ اس کی بہنوں کی اچھی جگہ شادی ہو جائے، ٹین کی چھت پختہ ہو، بچے اسکول پڑھ سکیں اور اسے معاشرے میں عزت اور انصاف کے ساتھ جینے کا حق ملے۔   کبوتری (اردو ادب کی منتخب کہانی): ہاجرہ مسرور کا لکھا ہوا ایک شاندار اور اثر انگیز افسانہ۔ یہ کہانی ایک ایسے متوسط طبقے کے نوجوان "گلو میاں" اور اس کے خاندان کی ہے جو ظاہری رکھ رکھاؤ کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ گلو میاں نیکی اور ایمانداری کی باتوں پر یقین رکھتا ہے، لیکن جب وہ ایک امیر تاجر عورت کی بیٹی سے شادی کر کے گھر داماد بنتا ہے تو امیر گھرانے کے کاروباری پیچ و خم، لالچ اور بدلتے رویے اسے بالکل بے بس کر دیتے ہیں۔ افسانے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح معاشی مجبوریاں اور بناوٹی سماجی قدریں انسان کے معصوم خوابوں کو توڑ دیتی ہیں۔   ایک مستان کا قصہ: ہندوستان کے مشہور ادیب گوپی چند نارانگ کی ایک دلچسپ تحریر۔   کرائم، سنسنی اور تراجم (توشہ خاص): اس شمارے میں مغرب اور امریکہ کے شاہکار، سنسنی خیز قصے اور جرم و سزا پر مبنی مترجم داستانیں جیسے قفل الابجد، ایک پاگل کی داد، بازی گر، شعلہ نوا، اور پارس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طویل اور مقبول سلسلوں اور خطوط کا دلکش انتخاب شاملِ اشاعت ہے۔   

Pakeeza Digest August 2026

ماہنامہ پاکیزہ اگست 2026ء ایک کثیر الجہتی اشاعت ہے جو حب الوطنی، دینی رہنمائی، گھریلو زندگی اور اصلاحی ادب کا ایک خوبصورت امتزاج پیش کرتی ہے۔   اداریہ و پیغام: مدیرہ نزہت اصغر نے اپنے اداریے "مجھے کچھ کہنا ہے" میں تمام قارئین کو جشنِ آزادی پاکستان کی مبارکباد دی ہے اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت اور مسلمانوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے ملک و ملت کی ترقی، خوشحالی اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔   دینی و اخلاقی مضامین: شمارے کا آغاز القران (سورة طٰہٰ اور سورة الانبیاء) کے ترجمے و تفسیر اور مفاہیمِ احادیث (سنن ابو داؤد سے مساجد کی فضیلت، پاکیزگی اور چراغ جلانے کے بیان) سے کیا گیا ہے جو قارئین کو روحانی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔   سلسلے وار و مکمل ناولز:"کیا ہے ہاتھوں پر" (نگہت عبداللہ): ناول کی 15ویں قسط میں مظلوم اور یتیم لڑکی گڑیا کے حالات اور آزمائشوں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ سسرالی مظالم اور مامی (ثریا) کی بے حسی کے بعد وہ بے گھر ہو جاتی ہے۔ ایک نیک دل مولوی صاحب اور ماسی مختاراں اسے پناہ دیتے ہیں۔ شوہر اسفند یار کی بے وفائی، جھوٹے الزامات، طلاق نامہ بھیجنے اور بچے کو یتیم خانے میں دینے کے مشورے کے بعد گڑیا مایوسی کی انتہا پر پہنچ کر مولوی صاحب سے شادی کی درخواست کرتی ہے یا دارالامان جانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس قسط میں مانچسٹر اور نیویارک کے پس منظر میں خورشید حیدر، ان کی اہلیہ عطیہ اور ایک قانونی و سازشی مقدمے کا احوال بھی شامل ہے۔   "دو آنسو" (نگہت عبداللہ): یونیورسٹی کے دور سے شروع ہونے والی محبت کی ایک حساس کہانی۔ ثوبیہ اور امیر علی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، لیکن خاندانی مسائل اور بہنوں کی شادی کی ذمہ داریوں کے باعث رشتے میں تاخیر اور بے یقینی کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔ ثوبیہ اپنے رشتے کا انتظار کرتی ہے جبکہ لمحہ بہ لمحہ گزرتا وقت اس کی امیدوں کی امتحان لیتا ہے۔   مستقل عنوانات و مضامین: اس شمارے میں بہنوں کی محفل، خوش ذائقہ (ترکیبات)، پاکیزہ ڈائری، ہومیو کلینک، یومِ آزادی کی مناسبت سے خصوصی مضامین اور تعزیتی تحریریں شامل ہیں جو گھریلو قارئین بالخصوص خواتین کی دلچسپی کو پورا کرتی ہیں۔