Pages

Monday, September 14, 2026

Nagin Novel Complete By Ijaz Ahmed Nawab

یہ داستان ایک پراسرار اور انتقامی ناگن (شکنتلا) اور ناگ (ارجن) کی ہے جو سو سال کی انسانی قربانیوں کی رسم کے بعد انسانی روپ دھارتے ہیں۔ ایک جوگی اور اس کے لالچی چیلے صابو کے ہاتھوں ناگ دیوتا کے مندر میں آخری قربانی کے بعد یہ جوڑا انسان بن جاتا ہے۔ صابو، جو جوگی کو قتل کر کے ان ناگوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا تھا، خود ناگ اور ناگن کا پہلا شکار بن جاتا ہے اور دونوں اس کا خون پی کر اپنی انسانی جوانی قائم رکھتے ہیں۔
اس کے بعد ارجن اور شکنتلا مختلف روپ بدلتے ہوئے انسانی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ ایک گاؤں میں رندھیر نامی شخص سے ان کا سامنا ہوتا ہے۔ رندھیر شکنتلا کی خوبصورتی پر نیت خراب کر لیتا ہے، جس پر شکنتلا ناگن کا روپ دھار کر وہاں سے نکلتی ہے۔ اس دوران گاؤں والے ارجن (ناگ) کو گھیر کر تیل ڈال کر زندہ جلا دیتے ہیں۔
اپنے محبوب ارجن کے اس دردناک انجام کو دیکھ کر شکنتلا انتقام کی آگ میں جل اٹھتی ہے۔ وہ گاؤں والوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے کر بھاگتی ہے، جہاں راستے میں اسے ریاست تابانہ کے مہاراجہ رام ناتھ کا شاہی قافلہ ملتا ہے۔ شکنتلا مکر و فریب اور اپنے بے پناہ حسن کے سحر سے مہاراجہ کو اپنے جال میں پھنسا لیتی ہے اور خود کو مظلوم ثابت کر کے شاہی محل تک پہنچ جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ مہاراجہ رام ناتھ سے شادی کر کے ریاست تابانہ کی نئی ملکہ اور مہارانی بن جاتی ہے اور محل کے اندر اپنے اقتدار اور اختیارات کی دھاک بٹھا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Khushbuon Ke Shehar Mein By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا ناولٹ "خوشبوؤں کے شہر میں" میزاب کی کہانی ہے، جو اپنے والد نظیر الحسن کے انتقال کے بعد شدید تنہائی اور خاندانی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ میزاب کی سوتیلی ماں بلقیس اور ان کا بھانجا ولید اس کا خیال رکھتے ہیں، لیکن رشتہ داروں کی لالچ اور سائیڈ پر کیے جانے والے مطالبات کے باعث گھر میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ماضی کی کچھ غلط فہمیوں اور شمع کی وجہ سے میزاب اور ولید کے درمیان دوریاں آ جاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ اور حالات کی تلخیوں کے بعد ولید اور میزاب کے درمیان تمام غلط فہمیاں ختم ہو جاتی ہیں، وہ ایک دوسرے پر اعتماد بحال کرتے ہیں اور بالآخر محبت اور خوشگوار رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Hazaron Saal Pehlay By Ibn e Haneef

Download Link A
Download Link B
ابن حنیف کی کتاب "ہزاروں سال پہلے" قدیم تاریخی، مذہبی اور تہذیبی ارتقا کا ایک تفصیلی اور محققانہ جائزہ ہے۔ کتاب کی شروعات عشتار (محبت، جنگ اور روئیدگی کی دیوی) کے تصور سے ہوتی ہے، جس کا آغاز سات ہزار سال قبل عراق میں مادری تہذیب سے ہوا اور بعد میں یہ مختلف اقوام و مذاہب، بشمول ہندومت، یہودیت اور عیسائیت میں مختلف ناموں سے شامل ہوئی۔ اس کے بعد طوفانِ نوح کی باہلی اور دیگر عالمی روایتوں (مثلاً گلگامش کی داستان) کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور آثارِ قدیمہ کی روشنی میں اس کے تاریخی شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، کتاب میں حضرت ابراہیم اور اسلافِ یہود کی تاریخ، حضرت یوسف اور ہائیکسوس قوم کا دور، مصر کی پہلی ملکہ حتشپسٹ، فاتح تھتمس، توحید پرست فرعون اخناتون، اور حضرت موسیٰ و فراعنہ کے تاریخی ادوار کا مفصل احاطہ کیا گیا ہے۔

Daffodils Novel By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا تحریر کردہ ناول "ڈیفوڈلز" (Daffodils) تاشفین اور ریحان کی محبت، ایثار اور تقدیر کی خوبصورت داستان ہے:  حافاتی واقعہ اور نجات: کوریا سے واپسی پر ریحان اغوا کاروں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ایک گہری کھائی میں گر کر شدید زخمی ہو جاتا ہے۔ وہاں سے گزرتی ہوئی تاشفین اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کھائی میں اترتی ہے، ریحان کی پیاس بجھاتی ہے اور اپنے بھائی اور گھر والوں کی مدد سے اس کی جان بچاتی ہے۔  احسان اور غلط فہمی: ہسپتال سے صحتیابی کے بعد ریحان اپنی نجات دہندہ سے ملنے کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن تاشفین اپنے چہرے اور ہاتھوں پر جلد کے نشانات کی جھجھک اور خود داری کے باعث اپنی جڑواں بہن تہنیت کو اپنے نام سے بھیج دیتی ہے۔ تاہم، ریحان تاشفین کے لمس اور ہاتھوں کو پہچان کر اس چال کو فوراً پکڑ لیتا ہے۔  محبت کا اعتراف: جب ریحان اور تاشفین کی دوبارہ ملاقات ہوتی ہے تو ریحان بتاتا ہے کہ اس کے لیے ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ تاشفین کا خلوص اور سیرت اہم ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ریحان اپنی والدہ کی دی ہوئی قیمتی زنجیر تاشفین کو تحفے میں دے کر اس سے اپنے جذبات کا سچا اعتراف کرتا ہے---------

Hazrat Mansoor Bin Ammar By Professor Khalid Pervaiz

Download Link B
پروفیسر خالد پرویز کا تحریر کردہ سوانحی و اصلاحی مضمون "حضرت منصور بن عمار" (منارہ نور) ان کی بااثر شخصیت، بصیرت اور حکمت پر مبنی واقعات کا احاطہ کرتا ہے:  چار درہم اور قبولیتِ دعا: حضرت منصور بن عمار کے وعظ کے دوران ایک غلام نے چار درہم پیش کیے۔ آپ نے درویش کو رقم دے کر غلام کی چاروں خواہشات (آزادی، رقم کی تلافی، توبہ اور حاضرین کی بخشش) کے لیے دعا کی، جو اللہ تعالی نے فوراً قبول فرما دیں۔  اخلاق اور صداقت کا اثر: آپ کے مواعظ اور نصائح سے لوگوں کے دل نرم ہوتے، چغل خوری اور جھوٹ کے خاتمے کی ترغیب ملتی اور گناہگار آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتے۔  اسمِ الٰہی کی تعظیم و مقامِ معرفت: ایک بار راستے میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کا کاغذ ملنے پر آپ نے اسے احتراماً نگل لیا۔ خواب میں آپ کو حکمت و معرفت کی راہیں کھولے جانے اور دائمی مقبولیت کی بشارت دی گئی۔  

Anhoni By Aatir Shaheen

عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی سچی تبدیلیوں پر مبنی ناول "آنہونی"، تین گہری سہیلیوں—نادیہ، حمنہ اور عائشہ—کی کہانی پر محیط ہے۔ نادیہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اپنے والد و بھائی کے ساتھ ہوٹل کا بزنس سنبھالتی ہے، جبکہ حمنہ اور عائشہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کہانی میں اچانک موڑ اس وقت آتا ہے جب عائشہ بغیر کسی کو بتائے پراسرار طور پر یونیورسٹی سے غائب ہو جاتی ہے اور اس کا پورا گھرانہ شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جس پر نادیہ اور حمنہ شدید پریشان اور دکھ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔  پراسرار نئی تقرری: تعلیم مکمل ہونے کے بعد نادیہ اپنے والد کے ہوٹل کی دیکھ بھال شروع کرتی ہے، جہاں لندن سے ہسٹری اور مینجمنٹ پاس ایک انتہائی قابل، ذہین اور جاذبِ نظر نوجوان "حسیب اشرف" بطور جنرل منیجر تعینات ہوتا ہے۔  حقیقت کا انکشاف: حسیب کی کچھ عادات، ہاتھوں پر کٹ کا نشان اور گفتگو کا انداز نادیہ کو عائشہ کی یاد دلاتا ہے۔ بعد میں حمنہ اور حسیب کی گفتگو سے نادیہ پر یہ حیران کن اور انوکھا سچ کھلتا ہے کہ حسیب اصل میں وہی عائشہ ہے۔  قدرتی تبدیلی اور آپریشن: عائشہ میں قدرتی جسمانی و ہارمونل تبدیلیوں کے باعث اسے ہنگامی بنیادوں پر لندن جا کر آپریشن کروانا پڑا، جس سے وہ لڑکی سے مکمل مرد میں تبدیل ہو گئی اور اس نے اپنا نیا نام "حسیب اشرف" رکھا۔ شرمندگی اور سرپرائز دینے کی وجہ سے اس نے اپنا ماضی عارضی طور پر چھپایا تھا۔  

Hum Wehshi Hain By Krishan Chander

کرشن چندر کا شاہکار مجموعہ "ہم وحشی ہیں"  1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والے خونریز فرقہ وارانہ فسادات، انسان سوز مظالم اور تہذیبی زوال کا انتہائی دردناک اور اثر انگیز تاریخی دستاویز ہے۔ یہ کتاب صرف تقسیم کے جغرافیائی حادثے کا بیان نہیں، بلکہ ان انسانی قدروں اور اخلاقیات کے جنازے کی دردناک داستان ہے جو صدیاں پرانی سانجھی تہذیب کا حصہ تھیں۔
انسانیت کا زوال اور وحشت: اس مجموعے کی کہانیاں (جیسے پشاور ایکسپریس، اندھے، لال باغ، امرتسر آزادی سے پہلے اور امرتسر آزادی کے بعد) یہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح مذہبی جنون اور نفرت نے عام انسانوں کو درندوں میں بدل دیا۔ جو لوگ کل تک ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے شریک اور ہمسائے تھے، وہ آزادی کی پہلی ہی رات ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔
تہذیب، عورت اور بچوں کا استحصال: کرشن چندر نے فسادات کے دوران عورتوں پر ہونے والے مظالم، ان کی عصمت دری، بچوں کے قتل اور بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کو بے باکی سے قلمبند کیا۔ انہوں نے دکھایا کہ پنجاب اور ہندوستان کا سانجھا کلچر، محبت اور رواداری کس طرح سیاست دانوں، سامراجی سازشوں اور مذہبی رجعت پسندی کی نذر ہو گئے۔
سیاسی اور سامراجی تنقید: کہانیوں اور دیباچوں میں برطانوی سامراج کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی، سرمایہ دارانہ طبقے کی منافع خوری اور سیاسی رہنماؤں کی بے حسی پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے کر رہے تھے، وہ عوام کے اس دکھ کو سمجھنے سے قاصر تھے جو اپنی جڑوں سے اکھڑ چکے تھے۔
یہ مجموعہ ایک المیہ اور گہرے دکھ کا ماتم ہے، جو پڑھنے والے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگ اور نفرت میں کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، صرف انسانیت ہارتی ہے۔

Friday, September 11, 2026

Waqt Ka Beta Translate By Abu Zia Iqbal

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی ایک ایرانی نوجوان کی آپ بیتی ہے جس کے والد اصفہان میں حجام تھے۔ وہ مختلف علوم اور فنون سیکھنے کے بعد اپنے شہر سے بغداد اور خراسان کے سفر پر نکلتا ہے۔ راستے میں اسے اور اس کے تاجر آقا عثمان آغا کو ترکمان قزاق (ڈاکو) اغوا کر لیتے ہیں۔ اپنی حاضر دماغی، چالاکی اور حکمت عملی کی بدولت وہ نہ صرف ڈاکوؤں کے سردار اور اس کی بیوی کا اعتماد حاصل کرتا ہے، بلکہ اپنے آقا کی چوری شدہ اشرفیاں بھی حکمت سے واپس نکال لیتا ہے۔  بعد میں، وہ ترکمانوں کی فوج کے ساتھ اصفہان کی ایک کاروان سرائے پر ڈاکہ ڈالنے کی مہم میں رہبر کے طور پر شامل ہوتا ہے۔ وہاں سے بھاگ نکلنے کے بعد وہ مختلف کرداروں جیسے ایک شاعر (فتح علی)، ایک مکار درویش، اور شاہی دربار کے افراد سے ملتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں حجام، سقہ (پانی پلانے والا)، غلیان (حقہ) فروش اور تعویذ نویس درویش کے معاون جیسے متعدد پیشے اپناتا ہے۔ تمام تر مشکلات، قید و بند اور سفر کے مصائب کے باوجود وہ اپنی چرب زبانی، چالاکی اور زمانے کی گرم و سرد کو سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہر مصیبت سے نکلنے میں کامیاب رہتا ہے۔  

Wo Raat By Rizwan Ali Soomro

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی مرزا اکبر علی خان نامی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی محبوبة نوشابہ (کوہ نور) کو حاصل کرنے کی جنونی دھن میں مبتلا ہے۔ جب نوشابہ کی منگنی اس کے امیر رقیب ذاکر سے ہو جاتی ہے، تو اکبر ذاکر کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایک جعلی عامل شنکر لال کے پاس جاتا ہے۔ شنکر اسے ایک پرانے آسیبی قبرستان سے دو سو سال پرانی کھوپڑی اور دل لانے کے بہانے بھیجتا ہے۔ قبرستان میں اکبر کی ملاقات نادر شاہ نامی ایک پرسرار بدروح سے ہوتی ہے، جسے اس کی بے وفا بیوی زویا اور اس کے آشنا کامران نے قتل کر دیا تھا۔ نادر شاہ اکبر کے جسم میں داخل ہو کر اپنے قاتلوں سے اپنا دردناک انتقام لیتا ہے۔ اس ہولناک تجربے کے بعد، نادر شاہ کی روح اکبر کو یہ احساس دلاتی ہے کہ کسی کا پیار زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا، جس پر اکبر اپنی ناکام محبت کا ماتم چھوڑ کر اپنی ہار تسلیم کر لیتا ہے۔  

Thursday, September 10, 2026

Mohsin By Afsheen Naseem

"محسن" افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک پراسرار اور سسپنس سے بھرپور اردو افسانہ ہے۔ کہانی علشبہ، اس کے امیر والد سرفراز احمد اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت مصور افراسیاب کے گرد گھومتی ہے۔ علشبہ افراسیاب کی سحر انگیز شخصیت اور طلسمی آنکھوں کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ تاہم افراسیاب کا دوست رؤف، جو کہ ایک موقع پرست اور جادو ٹونے کا دلدادہ شخص ہوتا ہے، کٹاس راج مندر کے نیچے دفن ناگ رانی کے خزانے کو حاصل کرنے کے لیے سرفراز احمد کی اکلوتی اولاد (علشبہ) کو قربانی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ علشبہ اور اس کے والد افراسیاب کو رؤف کے خطرے سے بچانے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی لاگت سے افراسیاب کا ہم شکل ایک جدید روبوٹ (شیری) حاصل کرتے ہیں۔ جب کٹاس راج کے مندر میں خزانہ نہیں ملتا تو رؤف مایوس ہو جاتا ہے اور بعد میں فارم ہاؤس میں پراسرار طور پر قتل ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ رؤف کا قتل انسان نما روبوٹ شیری کی آنکھوں میں لگی لیزر گن کی شعاعوں سے ہوا تھا۔ علشبہ کا یہ قدم افراسیاب کی جان بچا لیتا ہے اور افراسیاب اس کی اس قربانی پر اسے اپنا "محسن" مان لیتا ہے۔

Tuesday, September 8, 2026

Qismat Ka Waar By Sumair Yaseen

سمیر یسین کا ناول "قسمت کا وار" اسماء اور خالد کی زبردستی کی شادی اور ان کی کشیدہ ازدواجی زندگی کی کہانی ہے۔ خالد، جو کہ بلدیہ میں 17 گریڈ کا افسر ہے، اسماء کو جاہل اور کم عقل سمجھ کر ہر وقت اس کی تحقیر کرتا ہے۔ اسماء، اپنے شوہر کی ناپسندیدگی اور روکھے رویے کے باوجود، صبر و تحمل اور خاموشی سے اپنے گھر اور شوہر کا خیال رکھتی ہے۔  کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب خالد کی بچپن کی محبت اور پھوپھی زاد، گڑیا، اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ بیوہ ہو کر ان کے گھر رہنے آتی ہے۔ خالد گڑیا اور اس کے بیٹے پر بے پناہ محبت اور دولت نچھاور کرتا ہے اور اسماء کو مزید نظر انداز کرنے لگتا ہے، حتیٰ کہ گڑیا کے سامنے اسماء کو بانجھ ہونے کا طعنہ بھی دیتا ہے۔ اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر اسماء خالد کو حقیقت بتاتی ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹس کے مطابق مسئلہ اسماء میں نہیں بلکہ خالد میں ہے۔ اس سچائی سے خالد کا غرور خاک میں مل جاتا ہے اور وہ گڑیا کے ساتھ دوسری شادی اور وراثت کی منصوبہ بندی کرنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Hazrat Badar ud Din Ishaq By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
 یہ تحریر حضرت بدر الدین اسحاقؒ کے علمی و روحانی سفر، ان کی علمی تشفی کی تلاش اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے ان کی ارادت و وابستگی کی داستان ہے۔ دہلی کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہونے والے بدر الدین اسحاق کو بچپن ہی سے فن سپاہ گری اور علوم و معارف میں مہارت حاصل تھی۔ اپنے گہرے علمی و روحانی سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر وہ کافی بے چین رہتے تھے۔ بالاخر اپنے دوست کے مشورے پر وہ اجودھن (پاکپتن) پہنچے جہاں حضرت بابا فریدؒ نے ان کے تمام سوالات کے انتہائی جامع اور علمی جوابات دے کر ان کی تشفی فرمائی۔حضرت بدر الدین اسحاقؒ نے بابا فریدؒ کی خانقاہ میں زہد، عبادت اور سخت ریاضت اختیار کی۔ ان کی علمی صلاحیت، عاجزی اور انکساری کو دیکھتے ہوئے بابا فریدؒ نے انہیں نہ صرف اپنا خلیفہ، مریدین کی امامت اور خط وکتابت کا ذمہ دار بنایا بلکہ اپنی صاحبزادی کا نکاح بھی ان سے کر کے انہیں دامادی کا شرف بخشا۔ تحریر میں ان کے علمی مقام، عاجزی، حاسدین کے شر سے حفاظت اور اولیاء کرام کی حقیقی کرامت (شریعت و سنت پر استقامت) کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ اجودھن کی جامع مسجد میں گوشہ نشین ہو گئے اور حالتِ سجدہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

Monday, September 7, 2026

Tabeer By Aqeela Hashmi

یہ کہانی شہیر نامی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو پڑھائی میں سخت نالائق ہے اور ایف اے کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد اپنے باپ تصدق صاحب کی سخت باتوں اور طنز کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ گھر میں صرف اس کی ماں طیبہ اس کی حمایت کرتی ہے، جبکہ اس کا بھائی احمد اور بہن عینی بھی اس کی عدم توجہی پر نالاں رہتے ہیں۔ شہیر کا دل پڑھائی کے بجائے اسپورٹس اور ایتھلیٹکس میں لگتا ہے اور وہ ایک کامیاب ایتھلیٹ بننے کے خواب دیکھتا ہے۔  کھیلوں کے کلب میں اس کی ملاقات نتاشا سے ہوتی ہے جو نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ ہر مشکل موڑ پر اس کا سہارا بنتی ہے۔ جب بین الصوبائی اسپورٹس فیسٹیول میں شہیر بہترین کارکردگی دکھاتا ہے تو گھر والوں، بالخصوص اس کے بھائی اور بہن کا رویہ بھی اس کے لیے بدلنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایشین گیمز کے لیے شہیر اور نتاشا دونوں کا انتخاب ہو جاتا ہے۔  ملک سے باہر جا کر شہیر اپنی محنت اور ماں کی دعاؤں کے بل بوتے پر لونگ جمپ (Long Jump) میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیتا ہے۔ اس عظیم کامیابی کے بعد اس کے والد کا غرور بھی ختم ہو جاتا ہے اور وہ فخر سے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیتے ہیں۔ آخر میں، دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شہیر اور نتاشا کا رشتہ طے پا جاتا ہے اور شہیر کے خواب ایک خوبصورت تعبیر میں ڈھل جاتے ہیں۔  

Shikast e Aarzo By Ahmed Saleem Saleemi

یہ کہانی عالیہ اور بلال احمد کی زندگی کی کشمکش اور ازدواجی تعلقات کی شکست و ریخت کے گرد گھومتی ہے۔ بلال ایک پرعزم اور محنتی نوجوان ہے جس نے اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد محنت اور جدوجہد سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ وہ اور اس کے دو بوڑھے ملازمین، قادر خان اور ان کی بیوی زلیخا، بلال کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جن کا اپنا اکلوتا بے گناہ بیٹا اکرم پولیس تشدد اور مقابلے میں مارا گیا تھا۔  بلال کو اپنے دوست جمال کے ذریعے ایک امیر اور ضدی لڑکی عالیہ سے محبت ہو جاتی ہے اور دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد بلال کی دفتری مصروفیات کی وجہ سے عالیہ کے رویے میں سرد مہری اور تلخی آنے لگتی ہے۔ عالیہ کی ضدی اور خود غرضانہ طبیعت اس وقت کھل کر سامنے آتی ہے جب وہ اپنی خوبصورتی اور سوشل سٹیٹس متاثر ہونے کے ڈر سے ماں نہیں بننا چاہتی اور بلال کی خواہش کے خلاف ابارشن کروانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ بلال کو جب یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے تو ان کے درمیان سخت جھگڑا ہوتا ہے اور غصے میں بلال عالیہ کو تھپڑ مار دیتا ہے، جس پر عالیہ ناراض ہو کر اپنے میکے چلی جاتی ہے۔  بعد میں عالیہ کے والد ملک شرافت علی کا ایک سڑک حادثے میں انتقال ہو جاتا ہے اور اسی حادثے کے نتیجے میں عالیہ کا بچہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار وہ بلال کو ٹھہراتی ہے اور میکے میں ہی رہنے پر اصرار کرتی ہے۔ دونوں کے درمیان فاصلے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ بلال کا دل عالیہ کی بے مروتی سے کھٹا ہو جاتا ہے۔ اسی دوران بلال کی ترقی ہوتی ہے اور اسے نیا بنگلہ ملتا ہے-------------------

Taqdeer Nigun Ho Jaye By Kiran Shah

یہ کہانی عائشہ کمال کی ہے، جو نامور بزنس مین احمد کمال کی اکلوتی بیٹی ہے۔ بچپن میں والدہ کی وفات اور والد کی دوسری شادی کے باعث وہ شدید احساسِ محرومی اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار رہی۔ یونیورسٹی کے اردو مباحثے میں ناکامی اور سمعان علوی نامی باصلاحیت اور پرکشش طالب علم کی شاندار تقریر نے عائشہ کی زندگی بدل دی۔ وہ سمعان کی شخصیت سے بے حد متاثر ہو کر اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے اور اس کی پسند کے مطابق اپنا لباس اور اندازِ زندگی بدلنے لگتی ہے۔
دوسری طرف سمعان کے گروپ کی اہم رکن، عدن شہزاد، عائشہ کے اس جذبے کو اپنے اور سمعان کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ عدن چالاکی سے عائشہ کے احساسِ کمتری کا فائدہ اٹھاتی ہے اور اپنے گروپ کے ذریعے اس کی شخصیت، لباس اور انداز کا مذاق بنوا کر اسے نفسیاتی طور پر توڑ دیتی ہے۔ بعد میں جب سمعان اور اس کا گروپ اسلام آباد کے ایک مقابلے میں ریکارڈ اسکور کے ساتھ فتح حاصل کرتے ہیں------------------------

Sunday, September 6, 2026

Khaqaan Ki Dastaan By Ilyas Sitapuri

Download Link B
«خاقان کی داستان» معروف تاریخی داستان گو الیاس سیتاپوری کا ایک شاہکار اور دلچسپ تاریخی ناول ہے۔ اس ناول میں وسطی ایشیا اور صحرائے گوبی کی بپھری ہوئی فتح مند قوموں، خصوصاً تتاریوں اور مغلوں کی تاریخ کے سنسنی خیز اور خونچکاں باب کو نہایت پراثر انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔
داستان کا تانا بانا خاقان عظیم، قبائل کی باہمی چپقلش، جنگی معرکوں اور اقتدار کی کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔ الیاس سیتاپوری نے اپنے مخصوص، سحر انگیز اور رعب دار اسلوبِ تحریر میں صحرائی زندگی کی سخت کوشی، قبائلی غیرت، انتقام کی آگ اور میدانِ جنگ کے ہولناک مناظر کو زندہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ناول میں سیاسی چالوں، سازشوں، اور محبت و وفا کے دلدوز واقعات کو بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے، جو قارئین کو ابتدا سے انجام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔

Majboor By Ibne Insha

«مجبور» (اصل عنوان: «سحر ہونے تک») معروف ادیب ابن انشا کا ترجمہ کردہ ایک اثر انگیز روسی ناول ہے، جس کے اصل مصنف یوگین چریکوف (Evgeny Chirikov) ہیں۔  یہ کہانی ایک بے قرار اور انقلابی روح، نوجوان طالب علم ’نکولس‘ (Nikolas) کی ہے، جو سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد مشروط طور پر اپنے گاؤں میں اپنے والدین کے پاس واپس لوٹتا ہے۔ نکولس کے بوڑھے اور مفلوک الحال والدین (اسٹیفن اور میریا) اپنے اکلوتے بیٹے کی واپسی پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل، مقامی پولیس اور اپنے خاندانی وقار کے بارے میں انتہائی ہراساں اور اندیشہ مند رہتے ہیں۔  گاؤں کے پرسکون اور جامد ماحول میں نکولس خود کو اجنبی اور قیدی محسوس کرتا ہے۔ ایک طرف اس کے والد اسے مقامی پولیس افسر (داروغہ) کے سامنے معافی نامہ اور ندامت تحریر کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکے، جبکہ دوسری طرف نکولس اپنے نظریات اور اصولوں پر سودے بازی کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ جیل کے ایام کی پراسرار اور حسین یادیں (بالخصوص "گولیا" نامی لڑکی کا تصور) اور اپنے نظریات کی پاسداری اسے اپنے والد کی سخت گیر ہدایات کا پابند ہونے سے روکتی ہیں۔  یہ ناول اندھے اخلاق، خاندانی توقعات، سخت گیر قانون اور قدامت پرستی کی زنجیروں میں جکڑے ایک ایسے نوجوان کی المیہ داستان ہے جو شباب کے تیز و تند دھارے میں اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے تنہائی، معاشی دباؤ اور خاندانی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔  

Mehak Magazine July to September 2026

دو ماہی "مہک میگزین" کا یہ خاص نمبر (جلد 04، شمارہ 03) بچوں کے لیے بہترین اخلاقی، اصلاحی اور تربیتی تحاریر پر مشتمل ہے۔ اس شمارے میں چیف ایڈیٹر آصف علی مہک اور ایڈیٹر ایس ایم رحمانی کے زیرِ اہتمام معیاری نثر و نظم شامل کیے گئے ہیں۔  شمارے میں حمد، نعت، اور گوناگوں سبق آموز کہانیاں اور ڈرامے شامل ہیں:  پکا مکان (کاوش صدیقی): ایک غریب بچے اور اس کے محنت کش والد کی جذبات سے بھرپور کہانی، جو ابا کے انتقال کے بعد ان کی تمام جمع پونجی سے ان کے لیے قبر کی صورت میں "پکا مکان" تعمیر کرتا ہے۔  چائلڈ ٹریفکنگ (حنیف سحر): دو نادان دوستوں کی کہانی جو شوبز کی چکاسوندھ میں آکر گھر سے بھاگتے ہیں اور بچوں کی سمگلنگ اور بیگار کیمپ کے خوفناک جال میں پھنس جاتے ہیں، لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے بحفاظت گھر لوٹ کر پڑھائی پر توجہ دیتے ہیں۔  آخری ملاقات (نذیر انبالوی): سڑک کی کشادگی کے باعث بوڑھے برگد کے درخت کو کاٹنے کے بجائے منتقل کرنے اور ماحولیات کی حفاظت کا پیغام دینے والی کہانی۔  سچا دوست (محمد علی ادیب) و دیگر تحاریر: سچائی، محنت، امتحانات میں نقل سے پاک رہنے اور والدین کی اطاعت پر مبنی خوبصورت ڈرامے، نظمیں اور کہانیوں کا مجموعہ۔  

Mehak Magazine April to June 2026

Download Link A
Download Link B
دو ماہی "مہک میگزین" کا یہ شمارہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے علمی، اخلاقی اور تفریحی تحریروں کا بہترین مجموعہ ہے۔ اداریے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بجائے خود تخلیق کارانہ تحریریں لکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ شمارے میں حمد، نعت اور دلچسپ نظموں (مثلاً "بہار آ گئی ہے" اور "جگنو") کے علاوہ تربیت آموز کہانیاں شامل ہیں۔  اہم کہانیوں میں "میں بڑا ہو کر ٹرک بنوں گا" (معاشی جدوجہد اور اونچی سوچ)، "کالو بندر اور بھالو" (دوستی اور شکوک و شبہات سے بچاؤ)، "سوئی کی کہانی شاہینہ کی زبانی" (سوئی کی ایجاد اور تاریخ)، "اصل کاروبار" (یتیموں کی دیکھ بھال کی فضیلت)، "محنت کی جیت" (مزدوروں کے حقوق اور یکم مئی کی اہمیت)، "بے نام صندوق" (ایمانداری اور خاموش مدد)، اور "پادشاہ" (اخلاق اور قرآن سے رہنمائی کی اہمیت) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ "کپ کیک" اور ڈراما "گھونسلہ ٹیوشن سینٹر" بچوں کی تفریح اور کردار سازی کا مؤثر ذریعہ ہیں۔  

Saturday, September 5, 2026

Gul e Nain By Umm e Aqsa

اردو ناول "گلِ نین" مصنفہ ام اقصی کی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار گلِ نین ایک سادہ اور کند ذہن سمجھی جانے والی لڑکی ہے، جس کی شادی طیب سے ہوتی ہے۔ طیب پہلے سے کسی اور لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے اور شادی کے بعد بھی گلِ نین کو دل سے قبول نہیں کرتا۔ ساس کی نصیحتوں اور صابرانہ سوچ کے ساتھ گلِ نین اپنے رشتے کو بچانے اور شوہر کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، حتیٰ کہ اپنے زیورات اور میکے کا حصہ بیچ کر طیب کی مالی مشکلات بھی دور کرتی ہے۔ تاہم، دو بچوں کی پیدائش کے بعد بھی طیب اس کو گھر سے نکال کر دوسری شادی کر لیتا ہے۔
غربت اور بچوں کی پرورش کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے، گلِ نین اپنے دونوں بیٹوں (صفی اللہ اور ذکی اللہ) کی محنت سے پرورش کرتی ہے۔ مگر بڑے ہو کر دونوں بیٹے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں؛ صفی اللہ بیرونِ ملک جا کر ماں کو بھول جاتا ہے اور ذکی اللہ شادی کی خاطر ماں کی محنت اور قربانیوں کو ٹھکرا کر اسے بے سہارا چھوڑ دیتا ہے۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ذکوان (جس کا تعلق ایک الگ خاندانی پس منظر سے ہے اور جو اپنی مرحومہ ماں کی یادوں اور باپ کی رویوں سے متاثر ہوتا ہے) گلِ نین کی بے بستی اور بیماری کا حال جان کر اسے اپنی دادی کے درجے پر اپنے ساتھ لے آتا ہے۔

Friday, September 4, 2026

Shuaa Digest May 2026

ماہنامہ شعاع مئی 2026 کے اس شمارے کا آغاز ادارے کے اہم اور اصلاحی تحریری پیغام سے ہوتا ہے، جس میں انسان کے تکبر، دنیاوی اقتدار کی فانی حیثیت اور معاشی بحران پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادارے کے بانی محمود ریاض مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دینی اور اصلاحی گوشے (نبی کی باتیں) میں یتیموں، مسکینوں کی کفالت، نیک لوگوں کی صحبت اور لڑکیوں کی پرورش کی دینی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔  دیگر باقاعدہ سلسلوں اور کہانیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:جب تجھ سے ناتا جوڑا: ایک شاد شدہ خاتون کا تفصیلی اور دلچسپ انٹرویو، جس میں انہوں نے اپنی شادی کے احوال، سسرالی ماحول، جوائنٹ فیملی سسٹم کے مسائل اور باہمی رویوں پر گفتگو کی ہے۔  دستک: ڈرامہ نگار اور مصنفہ شبانہ شوکت سے خاص بات چیت، جس میں انہوں نے اپنے ڈرامہ "مسافت"، تحریری سفر اور ڈرامہ رائٹنگ کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔  ایک کردار (ماں جی): منشا یاد کی تحریر، جس میں ایک سچی اور جذباتی کہانی کے ذریعے ماں کی محبت، ان کے ایثار، بچپن کی یادوں اور تعلیمی جدوجہد کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔  خطوط کا سلسلہ (خط آپ کے): قارئین کے بھیجے گئے پیغامات، آراء اور ناولوں/افسانوں پر ان کے تعمیری تبصرے شامل ہیں۔  سلسلۂ وار ناول (دھوپ دریچہ - مریم عزیز): کہانی میں خاندانی پیچیدگیاں، ماضی کے انتقام، حارث اور کوئل کے رشتوں کی کشمکش، اور ہالہ و زیمل سے جڑے واقعات کو دلچسپ موڑ دیا گیا ہے۔  

Andar Ka Admi By Ilyas Sitapuri

Download Link B
یہ داستان سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر تاریخی حملے، جاسوسی اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ علی مردان (ست پال) اور اسماعیل، محمود غزنوی کے بھیجے گئے مسلمان جاسوس ہیں جو ہندو یاتریوں کے روپ میں سومنات کے قلعے اور مندر کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ مندر میں علی مردان کی ملاقات چندراوتی نامی ایک پراسرار اور سوگوار دوشیزہ سے ہوتی ہے۔ بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ چندراوتی ایک "وش کنیا" (زہریلی عورت) ہے، جسے بچپن سے سنکھیا دے کر دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ وہ علی مردان کی حقیقت جاننے کے باوجود اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور اسے بچاتی ہے۔  دوسری طرف اسماعیل کو مندر کے لوگ مسلمان ہونے کے شک میں قتل کر کے سومنات کے قدموں میں اس کی قربانی دے دیتے ہیں۔ سلطان محمود غزنوی حملہ کر کے سومنات کا قلعہ اور مندر فتح کر لیتا ہے اور بت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ فتح کے بعد علی مردان اور چندراوتی غزنی چلے جاتے ہیں۔ چندراوتی، علی مردان کو اپنے عقیدے اور زہریلے وجود کی وجہ سے شادی سے روکتی ہے اور اس سے قسم لیتی ہے کہ وہ اس کی زندگی میں کسی اور سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Neeli Aankhon Wali Larki By Sarim Awan

Download Link A
Download Link B
ناول "نیلی آنکھوں والی لڑکی" (مصنف: صارم اعوان) ایک جذباتی اور سبق آموز محبت کی داستان ہے جو دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے کرداروں، آدم میر اور عائزل نور کے گرد گھومتی ہے۔
  کردار اور آغاز: آدم میر ایک انتہائی ذہین، خاموش طبع اور باکردار غریب طالب علم ہے، جو اپنی مرحومہ ماں کی دعاؤں اور باپ (میر سلیم) کی تربیت کے ساتھ یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر پڑھ رہا ہے۔ عائزل نور ایک امیر ایئر لائن کے مالک کی بیٹی ہے، جس کی نیلی آنکھیں اور دلکش شخصیت سب کو متوجہ کرتی ہیں۔ لائبریری اور کلاس سے شروع ہونے والی یہ معمولی جان پہچان جلد ہی ایک گہری دوستی اور خاموش محبت میں بدل جاتی ہے۔
  سازشیں اور آزمائشیں: ان کی قربت یونیورسٹی کے مغرور اور بااثر طالب علم زریان شاہ سے برداشت نہیں ہوتی۔ وہ آدم کو بدنام کرنے کے لیے امتحانی پرچہ چوری کرنے کا جھوٹا الزام لگواتا ہے اور عائزل کے والد (حاجی عمان نور) تک ان کی تصاویر پہنچا کر دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 
 مرکزی پیغام: مشکلات، حسد، رقابت اور خاندانی فاصلوں کے باوجود، یہ ناول دکھاتا ہے کہ سچی محبت کا مقصد صرف کسی کو حاصل کرنا نہیں، بلکہ عزت، قربانی، باپ کی تربیت اور پاکیزہ یادوں کو تمام عمر نبھانا ہے۔  

Thursday, September 3, 2026

Mor To Saare Man Ke Hain By Humera Ali

Download Link A
Download Link B
ناول "مور تو سارے من کے ہیں" (تحریر: حمیرا علی) ایک خاندانی ڈراما اور نفسیاتی کشمکش پر مبنی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکز شارعین ہے، جو سالوں بعد ہندوستان سے اپنے والد صاحبزادہ بہروز کے خاندانی گھر پاکستان آتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اپنے والد کی جائیداد میں اپنا جائز حق حاصل کرنا اور اپنے کزن/شوہر صاحبزادہ فراسین شمروز سے طلاق/خلع کے کاغذات پر دستخط کروانا ہوتا ہے۔  شارعین کی ماں تاجور نے ماضی کی تلخیوں، غلط فہمیوں اور اپنی خود غرضی کی وجہ سے شارعین کے دل میں اپنے والد اور ان کے خاندان کے خلاف سخت نفرت اور بدگمانی بھر دی ہوتی ہے۔ لیکن جب شارعین اس گھر میں قیام کرتی ہے، تو اسے دادی تحسین بانو، تایا، ندرت آنٹی، اور اپنے بھائیوں ظافر اور عاشر کی طرف سے شدید محبت اور اپنائیت ملتی ہے۔ رفتہ رفتہ ندرت آنٹی کے ذریعے ماضی کی سچائی شارعین پر کھلی کہ اس کی ماں کا رویہ اور خود غرضی ہی تمام تباہی کی جڑ تھی--------------------------

Europe Ki Alif Laila By Ali Sufyan Afaqi

یہ سفرنامہ علی سفیان آفاقی کے 1970ء کی دہائی کے آغاز میں بیروت اور یورپ کے سفر کے دلچسپ اور مزاحیہ احوال پر مبنی ہے۔ مصنف اپنے دو منفرد ساتھیوں—خان صاحب اور شوکت بٹ—کے ہمراہ کراچی سے روم، یورپ اور بالخصوص بیروت کا سفر کرتے ہیں۔ کہانی میں ہوائی جہاز کے مختلف تجربات، زبان کی رکاوٹوں، حرام و حلال کھانے کی پریشانیوں اور نائٹ کلب و سوئمنگ پول کے دلچسپ واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ واپسی پر وہ بیروت کے ساحلوں، ہوٹلوں اور حسین مناظر کی رنگینیوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ساتھ ہی وہاں کے مسلمانوں، عیسائیوں اور فلسطینی کیمپوں کے زمینی حقائق کا مشاہدہ بھی پیش کرتے ہیں۔