Pages

Monday, September 7, 2026

Tabeer By Aqeela Hashmi

یہ کہانی شہیر نامی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو پڑھائی میں سخت نالائق ہے اور ایف اے کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد اپنے باپ تصدق صاحب کی سخت باتوں اور طنز کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ گھر میں صرف اس کی ماں طیبہ اس کی حمایت کرتی ہے، جبکہ اس کا بھائی احمد اور بہن عینی بھی اس کی عدم توجہی پر نالاں رہتے ہیں۔ شہیر کا دل پڑھائی کے بجائے اسپورٹس اور ایتھلیٹکس میں لگتا ہے اور وہ ایک کامیاب ایتھلیٹ بننے کے خواب دیکھتا ہے۔  کھیلوں کے کلب میں اس کی ملاقات نتاشا سے ہوتی ہے جو نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ ہر مشکل موڑ پر اس کا سہارا بنتی ہے۔ جب بین الصوبائی اسپورٹس فیسٹیول میں شہیر بہترین کارکردگی دکھاتا ہے تو گھر والوں، بالخصوص اس کے بھائی اور بہن کا رویہ بھی اس کے لیے بدلنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایشین گیمز کے لیے شہیر اور نتاشا دونوں کا انتخاب ہو جاتا ہے۔  ملک سے باہر جا کر شہیر اپنی محنت اور ماں کی دعاؤں کے بل بوتے پر لونگ جمپ (Long Jump) میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیتا ہے۔ اس عظیم کامیابی کے بعد اس کے والد کا غرور بھی ختم ہو جاتا ہے اور وہ فخر سے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیتے ہیں۔ آخر میں، دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شہیر اور نتاشا کا رشتہ طے پا جاتا ہے اور شہیر کے خواب ایک خوبصورت تعبیر میں ڈھل جاتے ہیں۔  

Shikast e Aarzo By Ahmed Saleem Saleemi

یہ کہانی عالیہ اور بلال احمد کی زندگی کی کشمکش اور ازدواجی تعلقات کی شکست و ریخت کے گرد گھومتی ہے۔ بلال ایک پرعزم اور محنتی نوجوان ہے جس نے اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد محنت اور جدوجہد سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ وہ اور اس کے دو بوڑھے ملازمین، قادر خان اور ان کی بیوی زلیخا، بلال کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جن کا اپنا اکلوتا بے گناہ بیٹا اکرم پولیس تشدد اور مقابلے میں مارا گیا تھا۔  بلال کو اپنے دوست جمال کے ذریعے ایک امیر اور ضدی لڑکی عالیہ سے محبت ہو جاتی ہے اور دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد بلال کی دفتری مصروفیات کی وجہ سے عالیہ کے رویے میں سرد مہری اور تلخی آنے لگتی ہے۔ عالیہ کی ضدی اور خود غرضانہ طبیعت اس وقت کھل کر سامنے آتی ہے جب وہ اپنی خوبصورتی اور سوشل سٹیٹس متاثر ہونے کے ڈر سے ماں نہیں بننا چاہتی اور بلال کی خواہش کے خلاف ابارشن کروانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ بلال کو جب یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے تو ان کے درمیان سخت جھگڑا ہوتا ہے اور غصے میں بلال عالیہ کو تھپڑ مار دیتا ہے، جس پر عالیہ ناراض ہو کر اپنے میکے چلی جاتی ہے۔  بعد میں عالیہ کے والد ملک شرافت علی کا ایک سڑک حادثے میں انتقال ہو جاتا ہے اور اسی حادثے کے نتیجے میں عالیہ کا بچہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار وہ بلال کو ٹھہراتی ہے اور میکے میں ہی رہنے پر اصرار کرتی ہے۔ دونوں کے درمیان فاصلے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ بلال کا دل عالیہ کی بے مروتی سے کھٹا ہو جاتا ہے۔ اسی دوران بلال کی ترقی ہوتی ہے اور اسے نیا بنگلہ ملتا ہے-------------------

Taqdeer Nigun Ho Jaye By Kiran Shah

یہ کہانی عائشہ کمال کی ہے، جو نامور بزنس مین احمد کمال کی اکلوتی بیٹی ہے۔ بچپن میں والدہ کی وفات اور والد کی دوسری شادی کے باعث وہ شدید احساسِ محرومی اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار رہی۔ یونیورسٹی کے اردو مباحثے میں ناکامی اور سمعان علوی نامی باصلاحیت اور پرکشش طالب علم کی شاندار تقریر نے عائشہ کی زندگی بدل دی۔ وہ سمعان کی شخصیت سے بے حد متاثر ہو کر اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے اور اس کی پسند کے مطابق اپنا لباس اور اندازِ زندگی بدلنے لگتی ہے۔
دوسری طرف سمعان کے گروپ کی اہم رکن، عدن شہزاد، عائشہ کے اس جذبے کو اپنے اور سمعان کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ عدن چالاکی سے عائشہ کے احساسِ کمتری کا فائدہ اٹھاتی ہے اور اپنے گروپ کے ذریعے اس کی شخصیت، لباس اور انداز کا مذاق بنوا کر اسے نفسیاتی طور پر توڑ دیتی ہے۔ بعد میں جب سمعان اور اس کا گروپ اسلام آباد کے ایک مقابلے میں ریکارڈ اسکور کے ساتھ فتح حاصل کرتے ہیں------------------------

Sunday, September 6, 2026

Khaqaan Ki Dastaan By Ilyas Sitapuri

Download Link B
«خاقان کی داستان» معروف تاریخی داستان گو الیاس سیتاپوری کا ایک شاہکار اور دلچسپ تاریخی ناول ہے۔ اس ناول میں وسطی ایشیا اور صحرائے گوبی کی بپھری ہوئی فتح مند قوموں، خصوصاً تتاریوں اور مغلوں کی تاریخ کے سنسنی خیز اور خونچکاں باب کو نہایت پراثر انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔
داستان کا تانا بانا خاقان عظیم، قبائل کی باہمی چپقلش، جنگی معرکوں اور اقتدار کی کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔ الیاس سیتاپوری نے اپنے مخصوص، سحر انگیز اور رعب دار اسلوبِ تحریر میں صحرائی زندگی کی سخت کوشی، قبائلی غیرت، انتقام کی آگ اور میدانِ جنگ کے ہولناک مناظر کو زندہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ناول میں سیاسی چالوں، سازشوں، اور محبت و وفا کے دلدوز واقعات کو بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے، جو قارئین کو ابتدا سے انجام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔

Majboor By Ibne Insha

«مجبور» (اصل عنوان: «سحر ہونے تک») معروف ادیب ابن انشا کا ترجمہ کردہ ایک اثر انگیز روسی ناول ہے، جس کے اصل مصنف یوگین چریکوف (Evgeny Chirikov) ہیں۔  یہ کہانی ایک بے قرار اور انقلابی روح، نوجوان طالب علم ’نکولس‘ (Nikolas) کی ہے، جو سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد مشروط طور پر اپنے گاؤں میں اپنے والدین کے پاس واپس لوٹتا ہے۔ نکولس کے بوڑھے اور مفلوک الحال والدین (اسٹیفن اور میریا) اپنے اکلوتے بیٹے کی واپسی پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل، مقامی پولیس اور اپنے خاندانی وقار کے بارے میں انتہائی ہراساں اور اندیشہ مند رہتے ہیں۔  گاؤں کے پرسکون اور جامد ماحول میں نکولس خود کو اجنبی اور قیدی محسوس کرتا ہے۔ ایک طرف اس کے والد اسے مقامی پولیس افسر (داروغہ) کے سامنے معافی نامہ اور ندامت تحریر کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکے، جبکہ دوسری طرف نکولس اپنے نظریات اور اصولوں پر سودے بازی کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ جیل کے ایام کی پراسرار اور حسین یادیں (بالخصوص "گولیا" نامی لڑکی کا تصور) اور اپنے نظریات کی پاسداری اسے اپنے والد کی سخت گیر ہدایات کا پابند ہونے سے روکتی ہیں۔  یہ ناول اندھے اخلاق، خاندانی توقعات، سخت گیر قانون اور قدامت پرستی کی زنجیروں میں جکڑے ایک ایسے نوجوان کی المیہ داستان ہے جو شباب کے تیز و تند دھارے میں اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے تنہائی، معاشی دباؤ اور خاندانی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔  

Mehak Magazine July to September 2026

دو ماہی "مہک میگزین" کا یہ خاص نمبر (جلد 04، شمارہ 03) بچوں کے لیے بہترین اخلاقی، اصلاحی اور تربیتی تحاریر پر مشتمل ہے۔ اس شمارے میں چیف ایڈیٹر آصف علی مہک اور ایڈیٹر ایس ایم رحمانی کے زیرِ اہتمام معیاری نثر و نظم شامل کیے گئے ہیں۔  شمارے میں حمد، نعت، اور گوناگوں سبق آموز کہانیاں اور ڈرامے شامل ہیں:  پکا مکان (کاوش صدیقی): ایک غریب بچے اور اس کے محنت کش والد کی جذبات سے بھرپور کہانی، جو ابا کے انتقال کے بعد ان کی تمام جمع پونجی سے ان کے لیے قبر کی صورت میں "پکا مکان" تعمیر کرتا ہے۔  چائلڈ ٹریفکنگ (حنیف سحر): دو نادان دوستوں کی کہانی جو شوبز کی چکاسوندھ میں آکر گھر سے بھاگتے ہیں اور بچوں کی سمگلنگ اور بیگار کیمپ کے خوفناک جال میں پھنس جاتے ہیں، لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے بحفاظت گھر لوٹ کر پڑھائی پر توجہ دیتے ہیں۔  آخری ملاقات (نذیر انبالوی): سڑک کی کشادگی کے باعث بوڑھے برگد کے درخت کو کاٹنے کے بجائے منتقل کرنے اور ماحولیات کی حفاظت کا پیغام دینے والی کہانی۔  سچا دوست (محمد علی ادیب) و دیگر تحاریر: سچائی، محنت، امتحانات میں نقل سے پاک رہنے اور والدین کی اطاعت پر مبنی خوبصورت ڈرامے، نظمیں اور کہانیوں کا مجموعہ۔  

Mehak Magazine April to June 2026

Download Link A
Download Link B
دو ماہی "مہک میگزین" کا یہ شمارہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے علمی، اخلاقی اور تفریحی تحریروں کا بہترین مجموعہ ہے۔ اداریے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بجائے خود تخلیق کارانہ تحریریں لکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ شمارے میں حمد، نعت اور دلچسپ نظموں (مثلاً "بہار آ گئی ہے" اور "جگنو") کے علاوہ تربیت آموز کہانیاں شامل ہیں۔  اہم کہانیوں میں "میں بڑا ہو کر ٹرک بنوں گا" (معاشی جدوجہد اور اونچی سوچ)، "کالو بندر اور بھالو" (دوستی اور شکوک و شبہات سے بچاؤ)، "سوئی کی کہانی شاہینہ کی زبانی" (سوئی کی ایجاد اور تاریخ)، "اصل کاروبار" (یتیموں کی دیکھ بھال کی فضیلت)، "محنت کی جیت" (مزدوروں کے حقوق اور یکم مئی کی اہمیت)، "بے نام صندوق" (ایمانداری اور خاموش مدد)، اور "پادشاہ" (اخلاق اور قرآن سے رہنمائی کی اہمیت) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ "کپ کیک" اور ڈراما "گھونسلہ ٹیوشن سینٹر" بچوں کی تفریح اور کردار سازی کا مؤثر ذریعہ ہیں۔  

Saturday, September 5, 2026

Gul e Nain By Umm e Aqsa

اردو ناول "گلِ نین" مصنفہ ام اقصی کی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار گلِ نین ایک سادہ اور کند ذہن سمجھی جانے والی لڑکی ہے، جس کی شادی طیب سے ہوتی ہے۔ طیب پہلے سے کسی اور لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے اور شادی کے بعد بھی گلِ نین کو دل سے قبول نہیں کرتا۔ ساس کی نصیحتوں اور صابرانہ سوچ کے ساتھ گلِ نین اپنے رشتے کو بچانے اور شوہر کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، حتیٰ کہ اپنے زیورات اور میکے کا حصہ بیچ کر طیب کی مالی مشکلات بھی دور کرتی ہے۔ تاہم، دو بچوں کی پیدائش کے بعد بھی طیب اس کو گھر سے نکال کر دوسری شادی کر لیتا ہے۔
غربت اور بچوں کی پرورش کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے، گلِ نین اپنے دونوں بیٹوں (صفی اللہ اور ذکی اللہ) کی محنت سے پرورش کرتی ہے۔ مگر بڑے ہو کر دونوں بیٹے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں؛ صفی اللہ بیرونِ ملک جا کر ماں کو بھول جاتا ہے اور ذکی اللہ شادی کی خاطر ماں کی محنت اور قربانیوں کو ٹھکرا کر اسے بے سہارا چھوڑ دیتا ہے۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ذکوان (جس کا تعلق ایک الگ خاندانی پس منظر سے ہے اور جو اپنی مرحومہ ماں کی یادوں اور باپ کی رویوں سے متاثر ہوتا ہے) گلِ نین کی بے بستی اور بیماری کا حال جان کر اسے اپنی دادی کے درجے پر اپنے ساتھ لے آتا ہے۔

Friday, September 4, 2026

Shuaa Digest May 2026

ماہنامہ شعاع مئی 2026 کے اس شمارے کا آغاز ادارے کے اہم اور اصلاحی تحریری پیغام سے ہوتا ہے، جس میں انسان کے تکبر، دنیاوی اقتدار کی فانی حیثیت اور معاشی بحران پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادارے کے بانی محمود ریاض مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دینی اور اصلاحی گوشے (نبی کی باتیں) میں یتیموں، مسکینوں کی کفالت، نیک لوگوں کی صحبت اور لڑکیوں کی پرورش کی دینی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔  دیگر باقاعدہ سلسلوں اور کہانیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:جب تجھ سے ناتا جوڑا: ایک شاد شدہ خاتون کا تفصیلی اور دلچسپ انٹرویو، جس میں انہوں نے اپنی شادی کے احوال، سسرالی ماحول، جوائنٹ فیملی سسٹم کے مسائل اور باہمی رویوں پر گفتگو کی ہے۔  دستک: ڈرامہ نگار اور مصنفہ شبانہ شوکت سے خاص بات چیت، جس میں انہوں نے اپنے ڈرامہ "مسافت"، تحریری سفر اور ڈرامہ رائٹنگ کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔  ایک کردار (ماں جی): منشا یاد کی تحریر، جس میں ایک سچی اور جذباتی کہانی کے ذریعے ماں کی محبت، ان کے ایثار، بچپن کی یادوں اور تعلیمی جدوجہد کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔  خطوط کا سلسلہ (خط آپ کے): قارئین کے بھیجے گئے پیغامات، آراء اور ناولوں/افسانوں پر ان کے تعمیری تبصرے شامل ہیں۔  سلسلۂ وار ناول (دھوپ دریچہ - مریم عزیز): کہانی میں خاندانی پیچیدگیاں، ماضی کے انتقام، حارث اور کوئل کے رشتوں کی کشمکش، اور ہالہ و زیمل سے جڑے واقعات کو دلچسپ موڑ دیا گیا ہے۔  

Andar Ka Admi By Ilyas Sitapuri

Download Link B
یہ داستان سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر تاریخی حملے، جاسوسی اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ علی مردان (ست پال) اور اسماعیل، محمود غزنوی کے بھیجے گئے مسلمان جاسوس ہیں جو ہندو یاتریوں کے روپ میں سومنات کے قلعے اور مندر کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ مندر میں علی مردان کی ملاقات چندراوتی نامی ایک پراسرار اور سوگوار دوشیزہ سے ہوتی ہے۔ بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ چندراوتی ایک "وش کنیا" (زہریلی عورت) ہے، جسے بچپن سے سنکھیا دے کر دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ وہ علی مردان کی حقیقت جاننے کے باوجود اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور اسے بچاتی ہے۔  دوسری طرف اسماعیل کو مندر کے لوگ مسلمان ہونے کے شک میں قتل کر کے سومنات کے قدموں میں اس کی قربانی دے دیتے ہیں۔ سلطان محمود غزنوی حملہ کر کے سومنات کا قلعہ اور مندر فتح کر لیتا ہے اور بت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ فتح کے بعد علی مردان اور چندراوتی غزنی چلے جاتے ہیں۔ چندراوتی، علی مردان کو اپنے عقیدے اور زہریلے وجود کی وجہ سے شادی سے روکتی ہے اور اس سے قسم لیتی ہے کہ وہ اس کی زندگی میں کسی اور سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Neeli Aankhon Wali Larki By Sarim Awan

Download Link A
Download Link B
ناول "نیلی آنکھوں والی لڑکی" (مصنف: صارم اعوان) ایک جذباتی اور سبق آموز محبت کی داستان ہے جو دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے کرداروں، آدم میر اور عائزل نور کے گرد گھومتی ہے۔
  کردار اور آغاز: آدم میر ایک انتہائی ذہین، خاموش طبع اور باکردار غریب طالب علم ہے، جو اپنی مرحومہ ماں کی دعاؤں اور باپ (میر سلیم) کی تربیت کے ساتھ یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر پڑھ رہا ہے۔ عائزل نور ایک امیر ایئر لائن کے مالک کی بیٹی ہے، جس کی نیلی آنکھیں اور دلکش شخصیت سب کو متوجہ کرتی ہیں۔ لائبریری اور کلاس سے شروع ہونے والی یہ معمولی جان پہچان جلد ہی ایک گہری دوستی اور خاموش محبت میں بدل جاتی ہے۔
  سازشیں اور آزمائشیں: ان کی قربت یونیورسٹی کے مغرور اور بااثر طالب علم زریان شاہ سے برداشت نہیں ہوتی۔ وہ آدم کو بدنام کرنے کے لیے امتحانی پرچہ چوری کرنے کا جھوٹا الزام لگواتا ہے اور عائزل کے والد (حاجی عمان نور) تک ان کی تصاویر پہنچا کر دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 
 مرکزی پیغام: مشکلات، حسد، رقابت اور خاندانی فاصلوں کے باوجود، یہ ناول دکھاتا ہے کہ سچی محبت کا مقصد صرف کسی کو حاصل کرنا نہیں، بلکہ عزت، قربانی، باپ کی تربیت اور پاکیزہ یادوں کو تمام عمر نبھانا ہے۔  

Thursday, September 3, 2026

Mor To Saare Man Ke Hain By Humera Ali

Download Link A
Download Link B
ناول "مور تو سارے من کے ہیں" (تحریر: حمیرا علی) ایک خاندانی ڈراما اور نفسیاتی کشمکش پر مبنی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکز شارعین ہے، جو سالوں بعد ہندوستان سے اپنے والد صاحبزادہ بہروز کے خاندانی گھر پاکستان آتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اپنے والد کی جائیداد میں اپنا جائز حق حاصل کرنا اور اپنے کزن/شوہر صاحبزادہ فراسین شمروز سے طلاق/خلع کے کاغذات پر دستخط کروانا ہوتا ہے۔  شارعین کی ماں تاجور نے ماضی کی تلخیوں، غلط فہمیوں اور اپنی خود غرضی کی وجہ سے شارعین کے دل میں اپنے والد اور ان کے خاندان کے خلاف سخت نفرت اور بدگمانی بھر دی ہوتی ہے۔ لیکن جب شارعین اس گھر میں قیام کرتی ہے، تو اسے دادی تحسین بانو، تایا، ندرت آنٹی، اور اپنے بھائیوں ظافر اور عاشر کی طرف سے شدید محبت اور اپنائیت ملتی ہے۔ رفتہ رفتہ ندرت آنٹی کے ذریعے ماضی کی سچائی شارعین پر کھلی کہ اس کی ماں کا رویہ اور خود غرضی ہی تمام تباہی کی جڑ تھی--------------------------

Europe Ki Alif Laila By Ali Sufyan Afaqi

یہ سفرنامہ علی سفیان آفاقی کے 1970ء کی دہائی کے آغاز میں بیروت اور یورپ کے سفر کے دلچسپ اور مزاحیہ احوال پر مبنی ہے۔ مصنف اپنے دو منفرد ساتھیوں—خان صاحب اور شوکت بٹ—کے ہمراہ کراچی سے روم، یورپ اور بالخصوص بیروت کا سفر کرتے ہیں۔ کہانی میں ہوائی جہاز کے مختلف تجربات، زبان کی رکاوٹوں، حرام و حلال کھانے کی پریشانیوں اور نائٹ کلب و سوئمنگ پول کے دلچسپ واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ واپسی پر وہ بیروت کے ساحلوں، ہوٹلوں اور حسین مناظر کی رنگینیوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ساتھ ہی وہاں کے مسلمانوں، عیسائیوں اور فلسطینی کیمپوں کے زمینی حقائق کا مشاہدہ بھی پیش کرتے ہیں۔  

Eakva Ki Choori Translated By Iqbal Kazmi

یہ کہانی نِک ویلویٹ کی ہے جسے سنگاپور میں "ایکوا" (پانی) کی ایک پراسرار اور نایاب بوتل چرانے کے لیے بھاری رقم دی جاتی ہے۔ سنگاپور پہنچتے ہی وہ ایک پراسرار مجرمانہ نیٹ ورک کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بوتل "ڈینی" نامی ایک سفاک شخص کے پاس ہے، جسے وہ ایک پلازہ کے لاکر میں چھپا دیتا ہے۔ نک ویلویٹ گیسٹ ہاؤس کی مالکن مسز منگ اور ہیمو کازی کی مدد سے بڑی ہوشیاری سے وہ بوتل حاصل کر لیتا ہے۔ بعد میں کیمیائی تجزیے سے یہ خوفناک انکشاف ہوتا ہے کہ اس پانی میں انسان کش اور ہلاکت خیز جراثیم موجود تھے جو انسانی خون کے رابطے میں آتے ہی دنیا میں طاعون سے بھی زیادہ خطرناک تباہی پھیلا سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan e Jana By Iqra Sagheer Ahmed

یہ کہانی ایک مغرور اور ضدی لڑکی، مہکار کی ہے جو اپنے حسن اور باپ کی دولت پر بے حد گھمنڈ کرتی ہے۔ اپنے رشتیداروں بالخصوص شموئیل کو کم تر سمجھ کر وہ اکثر ان کا مذاق اڑاتی ہے اور بدتمیزی سے پیش آتی ہے۔ شموئیل ایک کامیاب ڈاکٹر ہے جو تمام باتوں کے باوجود مہکار سے محبت کرتا ہے۔ حالات اس وقت بدتر ہوتے ہیں جب مہکار کے والد اشفاق صاحب کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے اور ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔  اس دکھ کی گھڑی میں شموئیل آگے بڑھ کر مہکار کی ذمہ داری اٹھاتا ہے اور اس سے شادی کر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, August 31, 2026

Ganga Aur Toofan By Yaqoob Jameel

Download Link B
’گنگا اور طوفان‘ یعقوب جمیل کا لکھا ہوا ایک سچا اور تہلکہ خیز تاریخی واقعہ ہے جس کی کہانی انگریزوں کے دورِ حکومت کے راجستھان کے پس منظر میں رقم کی گئی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار گنگا، راجستھان کے ایک گاؤں درگا پور میں پنڈت سیتا رام کے گھر پیدا ہونے والی ایک غیر معمولی، انتہائی ذہین اور بہادر لڑکی ہے۔ پرانے مذہبی اور سماجی تعصبات کے باوجود اس کے والد اسے لڑکوں کے اسکول میں داخل کرواتے ہیں اور وہ پورے راجستھان میں میٹرک پاس کرنے والی پہلی لڑکی بن کر ابھرتی ہے۔ والد کے انتقال کے بعد گنگا اپنے چھوٹے بھائی شیو اور والدہ کی تمام ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر اٹھا لیتی ہے اور گاؤں کی لڑکیوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ لاٹھی، تیر کمان اور دفاعی علوم سکھانے میں مصروف ہو جاتی ہے۔  گنگا کی منگنی ڈاکٹر بننے کی کوششوں میں مصروف نوجوان درگیش سے طے شدہ ہے۔ تاہم، درگا پور کے تھا کر خاندان کا ہوس پرست اور اوباش نوجوان وارث، ٹھا کر شمشیر سنگھ، گنگا کے حسن پر بدنیتی رکھ کر اسے حاصل کرنے کی سازشیں شروع کر دیتا ہے۔ شمشیر سنگھ گنگا کے لالچی، شرابی اور جواری چچا دتا رام کو رقم اور عیش و عشرت کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔ دتا رام درگیش کی طرف سے گنگا کے نام آئے ہوئے محبت بھرے خطوط کو چرانے اور گنگا کی زندگی میں زہر گھولنے کا آلہ کار بنتا ہے۔ مظلومیت کے خلاف اٹھی ہوئی یہ کہانی یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ظلم کی حدیں پار ہونے پر ایک سادہ لوح لڑکی ظالموں اور حالات کے خلاف طوفان بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔  

Sunday, August 30, 2026

Dulari By Aitbar Sajid

اکتوبر 1947ء کے پس منظر میں لکھی گئی یہ کہانی تقسیمِ ہند کے انسانی المیے اور درپیش بحران کو اجاگر کرتی ہے۔ مرکزی کردار دلاری، جو ایک دکھی اور بے سہارا ہندو لڑکی ہے، والدین کے انتقال کے بعد آشرم میں پناہ لیتی ہے۔ وہاں کے ناظم کے برے رویے سے تنگ آ کر وہ ہسپتال میں نوکری اور پھر سیٹھ رام داس کے ہاں ملازم ہو جاتی ہے۔ سیٹھ کے ہاں اس کی ملاقات راجندر سے ہوتی ہے جو اس کی تصویر بناتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک برطانوی فوجی سارجنٹ ولسن دلاری کی عزّت لوٹنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کشمکش میں سارجنٹ کا قتل ہو جاتا ہے۔ اس قتل کے الزام میں دلاری کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ مقدمے کی پیچیدگیوں کے دوران قانون دان ایاز الدین اور دیگر لوگ اس کے دفاع اور انصاف کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، جبکہ کہانی اس دور کے سیاسی تناؤ اور انسانی رشتوں کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے-

Tarke Ana Tajdeede Mohabbat Novel By Umar Jadoon

ناول "ترکِ انا تجدیدِ محبت" از عمر جدون انا، ضداور ذاتی رنجشوں کی وجہ سے برباد ہونے والے رشتوں اور پھر انہی رشتوں کے درمیان محبت، تلافی اور وفا کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ کہانی کا محور پاشا خاندان کی اندرونی کشمکش، زوریز پاشا کی زندگی کی قید و بند کا واقعہ، زرحیات پاشا کی سنجیدہ شخصیت، اور قید خانے کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی میں زوریز کی جیل کے اندر اور باہر اپنے دوستوں (صالح، وہاج، عاقب، بادشاہ) کے ساتھ تعلقات، دانین کے ساتھ محبت میں آنے والی رکاوٹیں، اور خاندان کے بڑوں حاکم پاشا اور حلیمہ بیگم کے فیصلوں کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ داستان قارئین کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اپنی خودداری کو قائم رکھتے ہوئے کیسے انا کے بت کو توڑ کر رشتوں کو دوبارہ محبت کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔  

Mashal e Raah Urdu Novel By Umar Jadoon

یہ ناول انسان کی داخلی جنگ، خود آگہی، ذہنی صحت اور حقیقی محبت کی تلاش کا ایک با معنی سفر ہے۔ کہانی کے اہم کردار فارس، حیدر اور قیس اپنی اپنی زندگی کی محرومیوں، جذباتی الجھنوں اور اذیتوں سے نبرد آزما ہیں۔ فارس ماضی کے صدمات اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کے باعث ایک سپاٹ اور سخت گیر شخصیت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری طرف، حیدر بچپن کے اکیلے پن اور سوتیلی ماں کی بے رخی کا شکار رہا ہے؛ وہ محبت کی تلاش میں اپنے دوستوں (بہرام اور فارس) کے ساتھ کراچی کا رخ کرتا ہے تاکہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکے۔  ناول کا دوسرا رخ قیس کی زندگی کو ظاہر کرتا ہے جو خاندانی نفرتوں، طعنوں اور منفی ماحول کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت، خوف اور اینگزائٹی میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی ذات کی تلاش اور اس گھٹن سے نکلنے کے لیے ایک ماہر نفسیات (ڈاکٹر وقار) سے مدد لیتا ہے۔ ڈاکٹر وقار کی رہنمائی میں قیس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل جنگ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پانے اور حاصل و لاحاصل کے فرق کو سمجھنے میں ہے۔ یہ کہانی یہ پیام دیتی ہے کہ جب انسان اپنے اندر کی تاریکیوں کو چھوڈ کر خود آگہی اور صبر کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے زندگی کی حقیقی "مشعل راہ" اور سکون حاصل ہو جاتا ہے۔  

Saturday, August 29, 2026

Aaghosh By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا ناولٹ "آغوش" شہاب، صفورہ اور معصوم بچے گوشی (علی) کے گرد گھومتی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے। شہاب، جو کاروبار کی دنیا کا ایک کامیاب اور مصروف ترین شخص ہے، ذہنی سکون اور ڈوپریشن سے فرار کی خاطر شہر سے دور ایک پرسکون اور سادہ علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لیتا ہے। اس کے ساتھ والے پورشن میں صفورہ اپنے چھوٹے سے بچے گوشی کے ساتھ رہائش پذیر ہوتی ہے۔  شروع میں شہاب اور صفورہ کے درمیان سخت ناگواری اور بدگمانی کی فضا قائم رہتی ہے۔ صفورہ حالات کے جبر اور تنہائی کے باعث سخت مزاج نظر آتی ہے، جبکہ شہاب کو بچے گوشی کی بے پروائی اور دیکھ بھال میں غفلت پر غصہ آتا ہے۔ تاہم، معصوم گوشی کے ساتھ شہاب کا ایک ان دیکھا اور گہرا جذباتی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ آگے چل کر شہاب پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ صفورہ گوشی کی حقیقی ماں نہیں بلکہ ایک لاوارث بچے کو گود لے کر اس کی پرورش کر رہی ہے-------------

Friday, August 28, 2026

Hazrat Miran Hussain Zanjani By Professor Khalid Pervaiz

پروفیسر خالد پرویز کا یہ مضمون لاہور کی قدیم ترین صوفی شخصیت حضرت سید میراں حسین زنجانیؒ کے حالاتِ زندگی، ان کے روحانی مقام اور تبلیغی خدمات پر روشنی ڈالتا ہے۔ حضرت میراں حسین زنجانیؒ، جن کا تعلق ایران کے شہر زنجان سے تھا، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی لاہور آمد سے پہلے خطہٴ پنجاب میں اسلام کے نور کو پھیلانے کے لیے تشریف لائے۔اس مضمون میں آپ کی تقویٰ و طہارت، مجاہدہ و ریاضت اور مقامی لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آپ نے لاہور کے علاقے چاہِ میران (چاہِ زنجانی) میں قیام فرما کر ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔ مضمون کا اختتام اس اہم تاریخی واقعے پر ہوتا ہے کہ حضرت داتا گنج بخشؒ جب لاہور پہنچے تو اسی دن حضرت میراں حسین زنجانیؒ کا وصال ہوا اور حضرت داتا گنج بخشؒ نے خود آپ کا جنازہ پڑھایا۔

Hazrat Baba Shah Jamal By Professor Khalid Pervaiz

 پروفیسر خالد پرویز کی تحریر کردہ یہ داستان حضرت بابا شاہ جمال (اصل نام حسن شاہ) کے روحانی سفر، زہد و تقویٰ اور کرامات کو بیان کرتی ہے۔ آپ نے اپنے مرشد سید عبدالواحد شداد اور بعد ازاں حضرت عمرا ایوب سے معرفت و سلوک کی منازل طے کیں۔ مرشد کے حکم پر آپ نے لاہور کے علاقے اچھرہ کی نواحی بستی میں قیام فرمایا اور خلقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کی۔  اس تحریر میں آپ کے ایک مرید خاص (حسن شاہ عرف شوتیلی) کی دیانتداری کے امتحان اور برکت، ایک بے اولاد کھتری کو پالک بیٹا (فخر الدین) ملنے، اور شاہی معماروں کے ذریعے ایک عالی شان سات منزلہ حجرہ/مقبول عمارت کی تعمیر کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب شہزادی سلطان بیگم نے عمارت کی بلندی پر اعتراض کیا، تو آپ نے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔ سکھ دور میں عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، مگر آپ کا آستانہ آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1049ھ کو ہوا۔  

Andhery Se Ujaley Tak By Asma Taqi

Download Link B
یہ کہانی ایک بیوہ طاہرہ بیگم اور ان کے شوہر علی رضا کے گھرانے کے گرد گھومتی ہے، جن کی پانچ بیٹیاں—امینہ، یمنی، رمنا، مومنہ، اور آمنہ ہیں۔ ہر بہن کا مزاج ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ طاہرہ بیگم پانچ بیٹیوں کے مستقبل اور ان کی شادیوں کی فکر میں ہر وقت پریشان اور بد مزاج رہتی ہیں، جبکہ علی رضا ہر حالت میں صابر اور پرسکون رہتے ہیں۔  اسی دوران علی رضا کے مرحوم دوست کے بیٹے ندیم اور ان کی خالہ شاکرہ بیگم کا ذکر آتا ہے، جن کی کفالت ندیم کے چچا متین صاحب نے کی تھی۔ متین صاحب ندیم کی بہن سامیہ کی شادی ریحان سے کروا دیتے ہیں۔ بعد میں ندیم اور رمنا کی منگنی طے ہو جاتی ہے۔  زندگی پرسکون گزر رہی ہوتی ہے کہ ایک حادثے میں لڑکیوں کے والدین (علی رضا اور طاہرہ بیگم) کی ناگہانی موت ہو جاتی ہے، جس سے پانچوں بہنیں بالکل بے سہارا اور تنہا ہو جاتی ہیں۔ اس مشکل وقت میں امینہ بڑی بہن ہونے کے ناطے سنبھالا لیتی ہے اور تمام بہنیں مل کر اپنی تعلیم، ٹیوشنز اور سلائی کڑھائی کے ذریعہ خود کفیل ہونے کا فیصلہ کرتی ہیں-------------------

Thursday, August 27, 2026

Dargah e Ishq By S Marwa Mirza

یہ کہانی دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے کرداروں کی ہے: عبداللہ وجدان، جو ایک نیک، بااصول، شیریں زبان موذن اور ایک دلیر انسپکٹر ہے، اور دوسری طرف زالے مراد، جو ایک مغرور، امیر اور سرکش لڑکی ہے۔ کہانی میں جرم، سمگلنگ، ڈرگز اور ذاتی بدلے کے درپردہ حق، باطل اور ہدایت کی جنگ دکھائی گئی ہے۔ عبداللہ وجدان اپنے فرض کے دوران ایک سمگلنگ گینگ کا پردہ چاک کرتے ہوئے شدید زخمی ہو جاتا ہے، جبکہ زالے مراد کا خاندان اور اس کے دوست جرم اور دکھاوے کی دنیا میں ملوث ہیں۔ واقعاتی موڑ زالے کی زندگی کو بے سکونی میں مبتلا کرتے ہیں اور وہ ایک مسجد کے قریب پہنچ کر ایک گہرے روحانی و اخلاقی موڑ کا سامنا کرتی ہے----------------------------

Aarsh By Komal Zeeshan

ناول "آرش" (مصنفہ: کومل ذیشان) ایک منفرد، تخیلاتی اور سائنسی فینٹسی کہانی ہے۔ اس کا مرکزی کردار "آرش" ڈھائی ہزار سال کی عمر کا ایک جن ہے جو شاہ بلوط کے درخت پر رہتا ہے۔ اس کی اکلوتی اور گہری دوست "سارا" اکیس سالہ بیمار لڑکی ہے، جو طلاق یافتہ اور کینسر جیسے موذی مرض کا شکار رہ چکی ہے۔ سارا کی آنکھیں عجیب ہیں اور وہ زندگی اور کائنات کا حقیقت پسندانہ نظارہ کرنا چاہتی ہے۔ آرش اپنے قدیمی نقشے اور وقت کے ابعاد (Dimensions) کی مدد سے سارا کو کائنات، خلا، ستاروں کی دنیا، سائنس اور انسانی تاریخ کی سیر کرواتا ہے۔ اس سفر کے دوران وہ سارا کو نظامِ شمسی، گلیلیو اور کوپرنیکس کی ایجادات، ڈائنوسار کے دور، جنگلات کی مخلوقات، کیمیا گری (Periodic Table)، فزکس اور برقی ایجادات اور مسلمان سائنسدانوں کے تاریخی کارناموں کا مشاہدہ کرواتا ہے----------------------------------