Pages

Sunday, August 2, 2026

Maria By Iffat Mohani

یہ کہانی معاذ نامی ایک حساس اور جذباتی جوان کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے شدید بدگمانی اور احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے والد، ڈاکٹر سرفراز، شہر کے نامور معالج ہیں جنہوں نے بیوی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ معاذ اپنے والد کو ماں کی موت کا ذمہ دار اور سوتیلی ماں (رفیعہ بیگم) کو ایک ناپسندیدہ شخصیت سمجھتا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ایک دن معاذ والد اور سوتیلی ماں کے درمیان اپنے چھوٹے بھائی فراز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے متعلق گفتگو سن لیتا ہے۔ جب والد معاذ کے ماضی کے مواقع اور موجودہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے غصے میں "جہنم میں جائے" کا جملہ ادا کرتے ہیں، تو معاذ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ خاموشی سے سمارٹ کیس اٹھا کر اپنی مرحوم والدہ کے نام پر خریدی گئی پرانی کوٹھری (بنگلے) کی طرف نکل جاتا ہے۔
کوٹھی پہنچ کر اس کی ملاقات بوڑھے باغبان غلام قادر، اس کے بیٹے نادر اور بیٹی لاجو سے ہوتی ہے۔ ان غریب مگر مخلص لوگوں کی محبت، خلوص اور سادگی معاذ کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر لاجو کا معصومانہ احترام اور نادر کی باتیں اسے متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، گھر میں والد، سوتیلی ماں، اور بہن بھائی (فراز، ایاز، عذرا) اس کے ناگہاں غائب ہونے پر شدید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز معاذ کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر وہ وہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mehal Sara Ka Tamasha By Ilyas Sitapuri

یہ داستان عباسی خلیفہ جعفر مقتدر باللہ کے تیرہ سال کی کم عمری میں تخت نشین ہونے، اور اس کے نتیجے میں محل کی باطنی سیاست، سازشوں اور عیش و عشرت کا احاطہ کرتی ہے۔ خلیفہ مقتدر کے خلاف عبد اللہ بن معتز کی بغاوت کو مونس خادم اور خلیفہ کی والدہ (شغب) کی تدبیروں کے ذریعے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن معتز کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔  حکومت کے اصل اختیارات خلیفہ کی والدہ شغب اور قہرمانہ ام موسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، جس سے امیر الامراء مونس خادم اور دیگر امرا شدید نالان رہتے ہیں۔ مونس اقتدار کو مردوں (وزراء و امرا) کے ہاتھ میں واپس لانے اور محل کی خبریں رکھنے کے لیے بشری نامی لڑکی کا سہارا لیتا ہے۔ تاہم، بشری قصرِ خلافت میں جا کر مقتدر کی قربت حاصل کر لیتی ہے اور مونس کے پاس واپس جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ مقتدر مونس کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اسے قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور بشری کی موت کا جھوٹا بہانہ بناتا ہے۔ مونس اس سچائی سے واقف ہو کر اپنی فوج اور دیگر اہم امرا کو مقتدر کے خلاف متحد کر لیتا ہے اور عباسی خلافت کو نااہل و عیش پرست خلیفہ سے نجات دلانے کے لیے ایک نئی بغاوت کا علم بلند کرتا ہے۔

Wo Ishq Saraab Sa By Huria Malik

ناول "وہ عشق سراب سا" حوریہ ملک کا تحریر کردہ ایک سنسنی خیز اور جذباتی اردو ناول ہے۔ کہانی کی اہم جھلکیاں درج ذیل ہیں:  مرکزی کردار اور تعلقات: کہانی مرکزی کرداروں ایس کے (سلطان خان)، روشانے خان، زوار خان، اور کیپٹن کے گرد گھومتی ہے۔ سلطان خان ایک بااثر اور خوفناک گینگسٹر (انڈر ورلڈ کی شخصیت) ہے جس سے روشانے کی شادی ہوئی ہے۔  کرداروں کی الجھن: روشانے اپنے شوہر کے تشدد اور جنون سے خوفزدہ بھی ہے اور زوار خان کی طرف مائل محسوس ہوتی ہے، جبکہ زوار خان اور سلطان خان کی شخصیت میں اسے گہری مماثلت نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Kiran Digest July 2026

یہ شمارہ ادبی اور گھریلو تحریروں کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
 صالحہ عزیز نے اپنے کالم "بہو سے ساس تک کا سفر" میں زندگی کے تجربات اور گھریلو رشتوں کی بدلتی ڈائنامکس کو بیان کیا ہے۔ اداکاروں کے انٹرویو "میری بھی سنیے" میں علی جوش نے اپنی زندگی اور شوبز کے تجربات شیئر کیے ہیں۔
  مختلف اقساط اور کہانیوں کا خلاصہ:کوئے جاناں سے پرے (نکہت سیما): تاجور کے گھر پر پرانے تعلقات اور ماضی کے دکھوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف آفرین، حسان اور عالی کی زندگی میں اتفاقات اور جذبات کے رنگ نمایاں ہیں۔ 
 طائر آشیاں (منعم ملک): سالک اپنی تعلیم مکمل کر کے راولپنڈی میں ہاؤس جاب کی تیاری کر رہا ہے۔ گاؤں میں ہاجراں اور قمرن کے ماضی اور ڈر کی کہانی دکھائی گئی ہے۔
شاہ ولی کا خاندان (ایمن اور ام البنین): ایمن شاہ بیرونی ملک سے واپسی اور خاندانی اصولوں پر گفتگو کرتی ہے۔ ام البنین کے دل میں ایک غیر متوقع ملاقات کے بعد زندگی کی نئی امید اور چراغ روشن ہوتے ہیں۔  

Hisar e Doran By Kashif Zubair

حصارِ دوراں کاشف زبیر کا تحریر کردہ ایک پُرتجسس اور سنسنی خیز جاسوسی و تاریخی ناول ہے۔ کہانی کا بنیادی محور دوسری جنگِ عظیم کے دوران پیش آنے والا ایک انتہائی خفیہ مشن اور ایٹمی بم (مین ہٹن پروجیکٹ) کے لیے استعمال ہونے والی خام یورینیم (یلو کیک) سے جڑا ایک سنگین تاریخی اور بین الاقوامی راز ہے۔
کہانی کے اہم تانے بانے اور کردار درج ذیل ہیں:
تاریخی پس منظر: ۱۹۴۳ء میں جاپان، امریکہ اور جرمنی کی بحری افواج اور آبدوزوں کا انڈونیشیا کے سمندر (بحیرہ مولوکا) میں ایک پرسرار مشن کے لیے تصادم ہوتا ہے۔ جاپانی بحری جہاز "یوکی آئیوا" پر ایک انتہائی خفیہ اور وزنی کھیپ (یورینیم) لادی جاتی ہے، جس کے بعد اس جہاز کو تارپیڈو کر کے سمندر کی گہرائیوں میں غرق کر دیا جاتا ہے اور تمام گواہوں کو ختم کر دیا جاتا ہے۔
موجودہ دور کی تحقیقات: ۲۰۰۴ء میں جاپانی صحافی آشی ہیروکی (جو اس مشن کے جاپانی انچارج رین ہیروکی کی نواسی ہے) اور جنوبی افریقہ کا صحافی سمیر احمد شاہ (ایس اے شاہ) اس حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سمیر کے والد (عمیر احمد) ۱۹۴۶ء میں کانگو کی اس کان کا حصہ تھے جس کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ یورینیم وہاں سے حاصل کی گئی تھی، حالانکہ وہ کان اس وقت شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aakhiri Tohfa By Iffat Mohani

یہ کہانی عفت موہانی کے ناول "آخری تحفہ" کا ایک حصہ ہے جو سیمیں اور اس کی چھوٹی بہن رومی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی والدہ رفیعہ بیگم کے انتقال کے بعد ان کے ذہنی طور پر بیمار والد، علی محمد صاحب، کو اسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور دونوں بے سہارا بہنیں اپنی مغرور اور دولت مند خالہ صفیہ بیگم کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔ صفیہ بیگم اور ان کے بڑے بیٹے گھر میں ان دونوں کو کمتر سمجھتے ہیں جبکہ خالہ کی بیٹی عامرہ اور بیٹا آفتاب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gul e Umeed By Quratul Ain Farooq

قرة العين فاروق کی تحریر کردہ مکمل کہانی "گلِ امید" ثمرین نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے والدین کی اکلوتی اور ہنرمند بیٹی ہے۔ ثمرین نے ڈوہ کرافٹ (Dooh Craft) کے ذریعے چیزیں بنانے اور سجانے میں خاص مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ یونیورسٹی کے زمانے میں شہزاد نامی ایک امیر لڑکا اس کی خوبصورتی پر فریفتہ ہو کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی سے قبل ثمرین کا ایک خاص طور پر سجایا ہوا موبائل فون ڈکیتی میں چھن جاتا ہے۔ شادی کے بعد شہزاد وہی موبائل فون ثمرین کو گفٹ کے طور پر دیتا ہے اور یہ جھوٹ بولتا ہے کہ یہ اس کے دوست کی بہن نے سجا کر دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Asool Pasand By Aatir Shaheen

عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی کہانی "اصول پسند" ایک ایمان دار ڈی ایس پی رفاقت احمد اور ان کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار نبیلہ، جو ایک طالبہ ہے، اپنے ماموں رفاقت احمد کے گھر ٹھہرنے آتی ہے۔ وہاں اس کا ماموں زاد بھائی ماجد، جو ایک آوارہ اور بے روزگار نوجوان ہے، نبیلہ کو پسند کرنے لگتا ہے اور اس سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ تاہم، نبیلہ ماجد کے برے کردار اور رویے کی وجہ سے اس رشتے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔  انکار سے طیش میں آکر ماجد اپنے دوستوں کی مدد سے نبیلہ کو اغوا کروا لیتا ہے اور زبردستی نکاح کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ جب ڈی ایس پی رفاقت احمد کو سچائی کا علم ہوتا ہے کہ اس کی بھانجی کے اغوا کے پیچھے خود ان کا اپنا بیٹا ماجد شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 1, 2026

Bhanwar Novel By Iffat Mohani

یہ کہانی ایک جذباتی اور نفسیاتی ڈرامے پر مبنی ہے، جس کا مرکزی کردار عبیر ایک انتہائی تعلیم یافتہ (آکسفورڈ کا گریجویٹ) اور خوش حال کرنل کا بیٹا ہے۔ ایک پراسرار ماضی، محبت کی ناکامی اور شدید جذباتی صدمے (محبوبہ سحابی کی کسی اور سے شادی) کی وجہ سے عبیر اپنی یادداشت اور ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ وہ اکثر یہ سوچ کر پریشان رہتا ہے کہ اس کا دل پھٹ جائے گا اور اسے غشی یا دورے پڑنے لگتے ہیں۔ اس کے والد کرنل اختر، بیمار ماں ثمینہ بیگم، دوست شباہت اور منگیتر توقیر اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں اور اسے صحت مند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  کہانی میں مدحت نامی ایک حساس لڑکی کا کردار آتا ہے، جو عبیر کی بہن سریر کی سہیلی ہے۔ مدحت خاموشی سے عبیر کی معصومیت اور اس کے غم کو محسوس کرتے ہوئے اس کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ کرنل اختر اپنے بیٹے عبیر کی ذہنی صحت کی بحالی کے لیے اس کی شادی مدحت سے کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Hijar Ke Aansu By Huria Malik

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی پریزے (زری) کی زندگی، اس کی محبت اور اس کی تذلیل و شکست کے گرد گھومتی ہے۔ پریزے بچپن سے ہی اپنے کزن اسفند یار سے محبت کرتی تھی اور اسے اپنی زندگی کا سب کچھ مان بیٹھی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس خام خیال اور وہم کا شکار ہو گئی کہ اسفند یار بھی اس سے محبت کرتا ہے اور ان کا نکاح جلد ہو جائے گا۔
تاہم، کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب زری کی شادی کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہوتی ہیں اور وہ دلہن کے روپ میں سج دھج کر بارات کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ بالکل آخری وقت پر اسفند یار کی طرف سے طلاق (یا شادی سے مکمل انکار) کا خط ملتا ہے۔ اس اچانک اور ہولناک خبر سے زری پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے، اس کا دل پاش پاش ہو جاتا ہے اور وہ ہوش و حواس کھو کر منہ کے بل گر پڑتی ہے، جس سے اس کا گھر خوشیوں کے بجائے ماتم کدہ بن جاتا ہے۔
اسفند یار زری پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے خود اس رشتے کی شروعات کی تھی اور ان کے درمیان محبت جیسا کچھ نہیں تھا۔ اپنی عزتِ نفس کو لٹتا دیکھ کر اور اسفند یار کے بے حس رویے سے ٹوٹ کر زری کی ذات میں شدید تلخی اور خالی پن آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, July 30, 2026

Shikast By Safdar Ali Haidri

ہادی اور مریم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ان کا نکاح ہو چکا تھا، لیکن ہادی کی کزن نائلہ بچپن سے ہادی کو پسند کرتی تھی اور ان کے رشتے سے شدید حسد کرتی تھی। نائلہ نے اپنی منگنی کی رات ہادی کو دھوکے سے اپنے کمرے میں بلا کر چیخ و پکار کی اور اس پر عزت پر ہاتھ ڈالنے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ اس ڈرامے کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں شدید بدگمانی پھیلی اور ہادی اور مریم کا نکاح ختم ہو گیا۔ بعد میں خاندان کے دباؤ میں آکر ہادی کی شادی نائلہ سے کر دی گئی، لیکن ہادی نے نائلہ کو کبھی دل سے قبول نہ کیا اور مریم کی یاد میں ہی تڑپتا رہا۔  ہادی کا چھوٹا بھائی حمزہ اس واقعے کو مشکوک سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Harnat Imran Series By Zaheer Ahmed

پاکستان کا ایک ترقی یافتہ گاؤں سردار پور ناگہانی طور پر مکمل تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ دن کے بارہ بجنے کے باوجود وہاں سورج طلوع نہیں ہوتا اور ایسا لگتا ہے جیسے آسمان پر کوئی سیاہ چادر تان دی گئی ہو۔ علی عمران، جو ان دنوں سلیمان کے ساتھ اسی گاؤں میں چھٹیاں گزار رہا تھا، اس پراسرار واقعے سے شدید چونک اٹھتا ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر کا میڈیا اور ماہرینِ فلکیات اسے قدرتی آفت سمجھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔  ریڈ لیبارٹری کے سر داور سے رابطے پر عمران کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریکی قدرتی نہیں بلکہ ایک سائنسی سازش ہے۔ روسیاہ کے مسلمان سائنس دان سر شہاب نے خلا میں اوزون کی سطح پر گیس پھیلانے کے لیے ریز گن کی ٹیکنالوجی تیار کی تھی، لیکن ان کی اس ایجاد کو کافرستان اور روسیاہ کی خفیہ ایجنسیوں (کے جی بی) نے حاصل کر کے ایک خطرناک پاور مشین اور ریز کے ذریعے ایلمک سانگر (بلیک پائرس گیس) اور کاربن کو اوزون پر پھیلا دیا ہے تاکہ پاکستان کو آہستہ آہستہ تاریکی اور تباہی میں دھکیلا جا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Galga Mission By Aslam Rahi

روايت کے مطابق ۲۸ویں صدی قبل مسیح میں، بعلبک کے حکمران لوگل باندہ کے سابق وزیر اشلات، کیش کے جابر حکمران اتانا کے مظالم کی شکایت لے کر عراق کے شہر اریک میں بادشاہ گلگامش کے پاس پہنچتے ہیں۔ اتانا نے بعلبک پر حملہ کرکے لوگل باندہ کو قید کر دیا تھا اور اس کی حسین بیٹی اسلیم، بیٹے اریش اور اس کی منگیتر اراتا کو لبنانی ساحر انو کے حوالے کر دیا تھا، جس نے اپنے سحر سے ان کی زندگیوں کو انسانی اور حیوانی روپ (صبح و شام کی شفق سے منسلک) میں تقسیم کر دیا تھا۔ اریک کے سفر کے دوران اشلات کی ملاقات فرات کے کنارے ملاحوں کے سردار تموز سے ہوتی ہے جو اسے گلگامش کے ساتھ ساتھ اس کے طاقتور اور روحانی صفات کے حامل دوست سموقان سے مدد لینے کا مشورہ دیتا ہے۔
دوسری طرف، سردار تموز اور اس کے چرواہے جنگل کے ایک بے حد طاقتور اور وحشی انسان "ان کدو" کو اپنے ساتھ ملا کر گلگامش کو تخت سے ہٹانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان لیل مندر کی خوبصورت دیوداسی "زوستا" کو بھیجا جاتا ہے جو اپنی محبت اور حسن کے جال میں ان کدو کو رام کرکے آبادی میں لے آتی ہے۔ اریک پہنچ کر ان کدو کا مقابلہ پہلے گلگامش سے اور پھر سموقان سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Malal By Ahmed Rao

”ملال“ احمد راؤ کا لکھا ہوا ایک سسپنس، تھرل اور جذبات سے بھرپور ناول ہے، جس کی کہانی چار اہم کرداروں—براق ہشام، انسپکٹر منہا، لائلہ سلطان اور ازلان خان— کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کی شروعات براق ہشام کی جیل سے رہائی اور ایک خطرناک حادثے سے ہوتی ہے، جس کے بعد وہ مہتشم کے خفیہ گینگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ مہتشم کا مقصد براق کو جعلی پولیس کنسلٹنٹ بنا کر انسپکٹر منہا کی جاسوسی پر لگانا ہے۔ منہا ایک باہمت، نڈر اور ذہین افسر ہے جو پیچیدہ قتل کے کیسز حل کرنے میں ماہر ہے۔ براق جب پولیس کنسلٹنٹ بن کر منہا کے ساتھ کام کرتا ہے تو ان کے درمیان ایک دلچسپ اور جذباتی تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔

Farq By Kashi Chohan

یہ کہانی دو مختلف سوچ رکھنے والی دوستوں، نمرہ اور سمیرا کے گرد گھومتی ہے۔ نمرہ ایک خوددار، پریکٹیکل اور عملی سوچ کی لڑکی ہے جو زندگی میں بزنس وومن بننا چاہتی ہے اور محبت یا شادی کو اپنی آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ یونیورسٹی میں اسامہ نامی ایک معصوم اور سچا لڑکا اس سے محبت کرتا ہے، مگر نمرہ اس کی محبت اور خط کو بنا پڑھے ٹھکرا دیتی ہے۔ دوسری طرف سمیرا، اسامہ کی سچائی اور درد کو محسوس کرتی ہے اور اس کی دوست بن جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سمیرا کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ ایک خوشگوار زندگی گزارتی ہے، جبکہ اسامہ خاموشی سے غائب ہو جاتا ہے۔  نمرہ کا بزنس میں نقصان ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس کی شادی ایک امیر مگر بے پروا شخص "امتیاز" سے کر دیتے ہیں۔ امتیاز کے رویے اور بے اعتنائی کے باعث نمرہ کو شدید تنہائی اور احساسِ کمتری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, July 29, 2026

Rajpoot Mehbooba By Humayun Bilgrami

راجپوت محبوبہ، ہمایوں بلگرامی کا ایک تاریخی و رومانوی ناول ہے، جو سلطنتِ دہلی کے تغلق دور اور فیروز شاہ تغلق کے آخری ایام کے سیاسی انتشار کے پس منظر پر مبنی ہے۔ داستان کی بنیادی کردار "رجنی" ایک راجپوت دوشیزہ ہے، جس کے والد اور چچا کو تغلق فوج کے قتلِ عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کا سرپرست گو بند (حاجی برہان) انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے رجنی کو شمشیر زنی اور فنونِ حرب کی سخت تربیت دیتا ہے اور اسے مسلمانوں جیسا لب و لہجہ اپنانے کی مشق کرواتا ہے تاکہ وہ تغلق خاندان میں انتشار پھیلا کر سلطنت کو تباہ کر سکے۔اس منصوبے کے تحت رجنی، شاہی خاندان کے شہزادے ہمایوں خاں کو اپنے حسن اور بہادری سے رام کر لیتی ہے۔ بعد میں وہ ہمایوں خاں کی قاصد بن کر سلطان غیاث الدین تغلق کے محل تک رسائی حاصل کرتی ہے، جہاں محلاتی سازشوں اور ملک رکن الدین جندہ کی بغاوت کے نتیجے میں غیاث الدین کو فرار ہونا پڑتا ہے اور بعد میں چودھری کھر کو اسے قتل کر دیتا ہے۔ نئی تخت نشینی کے دوران شہزادہ ابو بکر سلطان بنتا ہے اور اس کی ملکہ صنوبر (جو دراصل رجنی کی گمشدہ چاچی اور انتقام کی پیاسی راجپوت عورت ہوتی ہے) رجنی کو اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ رجنی جو شہزادہ ہمایوں خاں کی سچی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہے، راجپوت گو بند کی سازشوں اور صنوبر کے ذاتی انتقامی منصوبوں کے درمیان اپنی محبت اور آئندہ لائحہ عمل کے تذبذب میں گھری نظر آتی ہے۔

Tere Sang e Dar Ki Talash Thi Novel By Bushra Rehman

Download Link A
Download Link B
”تیرے سنگ در کی تلاش تھی“ بشریٰ رحمن کا ایک بہترین اور روحانی پہلوؤں سے آراستہ ناول ہے۔ یہ کہانی مرکزی کردار تسبیحہ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے والد کی لاڈلی اور ذہین بیٹی ہے۔ والد کے حادثے اور وفات کے بعد وہ اپنی خواہشات کو قربان کر کے بہنوں کی ذمہ داریاں اور شادیاں مکمل کرتی ہے۔  بعد ازاں تعلیم اور جاب کے سلسلے میں لندن قیام کے دوران اس کی ملاقات عبدالکریم مدہوش نامی شخص سے ہوتی ہے جو فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی کے جال میں تسبیحہ کو پھنسا کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی کے بعد مدہوش کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے؛ وہ ایک دھوکے باز، بدمعاش اور بد طینت انسان نکلتا ہے جو تسبیحہ سے لاکھوں روپے بٹورتا ہے اور اسے ذہنی و جسمانی اذیتیں دیتا ہے۔ تین بچوں (تسمیہ، تابش اور درمان) کی پیدائش کے باوجود مدہوش کے مظالم کم نہیں ہوتے اور بالآخر وہ ایک مالی فراڈ کے بعد لندن فرار ہو جاتا ہے اور بعد میں کینسر سے دم توڑ دیتا ہے۔تسبیحہ اپنے بچوں کو محنت سے پالتی اور اعلیٰ تعلیم دلواتی ہے۔ بچوں کی شادیاں اور سیٹلمنٹ کے بعد، 60 سال کی عمر میں اس کی ملاقات عطار قادری سے ہوتی ہے۔ عطار اور تسبیحہ دونوں بچپن سے ایک ہی خواب دیکھتے آ رہے تھے اور ایک دوسرے کے خوابوں کی تعبیر ثابت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Be Dagh Novel By Nabeela Aziz

نبیلہ عزیز کا ناول "بے داغ" عزت، انا، خاندانی دباؤ اور ایک معصوم لڑکی کی بے گناہی کی کہانی ہے۔ کہانی کا آغاز زرقون نامی لڑکی کے گرد گھومتا ہے، جس پر اس کے اپنے بھائی فیاض احمد کی طرف سے بے بنیاد الزام تراشی کی جاتی ہے۔ فیاض احمد اپنے محلے میں عزت بچانے کی خاطراور اپنی سنگدلانہ انا کے تحت عزیر ہمدانی (جو ایک باشعور اور خوددار مرد ہے) کو مجبور کرتا ہے کہ وہ یا تو زرقون سے نکاح کرے یا پھر گولی کھائے۔ عزیر، زرقون کی جان بچانے اور اپنی مردانگی و انا کی خاطر اس سے نکاح کر کے اسے اپنے گھر لے آتا ہے۔  عزیر کے گھر والے (خصوصاً اس کی ماں روحانہ بیگم اور منگیتر ماریہ) اس ناگہانی شادی کو قبول نہیں کرتے اور زرقون کے ساتھ انتہائی سرد اور تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ عزیر گھر والوں کی سخت مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود زرقون کا ڈھال بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ زرقون، جو اپنی قسمت اور حالات سے ٹوٹ چکی ہے، عزیر کو پریشانی سے بچانے کے لیے طلاق کی پیشکش بھی کرتی ہے، لیکن عزیر ایک بااصول مرد کی طرح اس کی بے گناہی اور پاک دامنی پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, July 28, 2026

Buzdil By Iffat Mohani

"بزدل" عفت موہانی کا تحریر کردہ ایک معاشرتی و جذباتی اردو ناول ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار تاجدار ایک یونیورسٹی پروفیسر ہے، جو اپنے سخت گیر باپ عباد الرحمن کی پابندیوں اور سخت طبیعت کی وجہ سے احساسِ کمتری اور تنہائی کا شکار ہے۔ ایک تقریب میں اس کی ملاقات جج الطاف حسین کی بیٹی جیسمین سے ہوتی ہے۔ جج صاحب کی ذہنی حالت اور خاندانی حالات کی وجہ سے جیسمین بھی تنہائی اور غم کا شکار ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور یونیورسٹی کے ڈرامے "پروانہ" میں شہزادہ سلیم اور انارکلی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک دوسرے کے اور قریب آ جاتے ہیں۔ تاہم، داستان میں شہناز تقی کی یکطرفہ محبت، خاندانی الجھنوں اور تاجدار کی اندرونی بزدلی و جذبات کی شدت کے باعث پیچیدگیاں اور جذباتی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔  

Sunday, July 26, 2026

Rumi Ke Des Mein By Kokab Khwaja

یہ سفرنامہ کوکب خواجہ کا ترکی (استنبول) کا ایک دلکش احوال ہے۔ وہ ایک نفسیاتی کونسلنگ ورکشاپ کے سلسلے میں لاہور سے استنبول جاتی ہیں اور ترکی کے خوبصورت مناظر، تاریخی مقامات جیسے احیاء صوفیہ، توپ کاپی محل، اور باسفورس کی سیر کا احوال بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے ترکش ثقافت، لذیذ کھانوں، ڈرائیونگ و صفائی کے اعلیٰ معیار، اور صوفیانہ رقص (سماع) کی روحانی کیفتیوں کا بہت خوبصورت اور اثر انگیز نقشہ کھینچا ہے۔  

Friday, July 24, 2026

Dastango Novel By Muhammad Zulqarnain Khan

یہ کہانی ایک مشہور شاطر بہروپیے "جگن میاں" (جو داستان گو کاظم علی کے روپ میں بھی سامنے آتا ہے) اور برٹش کاؤنٹر انٹیلی جنس کے چالاک اہلکار "نواب خان" کے گرد گھومتی ہے۔ کاظم علی داستان گوئی کے بہانے لوگوں میں تجسس پیدا کرتا ہے اور درپردہ انگریزوں، نوابوں اور ظالم مہاجنوں کو لوٹتا ہے۔ نواب خان، جو پہلے کاظم علی کا مداح تھا، بعد میں اس کی اصل حقیقت جان جاتا ہے۔
کہانی میں پیش آنے والے اہم موڑ:
ہوشیارانہ ڈکیتی: جگن میاں سادھو، وکیل اور سپاہی کے بھیس بدل کر گاؤں والوں اور لالہ کرپارام جیسے ظالم مہاجنوں سے سونا اور ہیرے لوٹتا ہے۔
جنگل اور ڈاکوؤں کی قید: نواب خان اور جگن میاں ڈاکو کالے خان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ کالے خان کی پراسرار موت کے بعد جگن میاں اپنی شاطرانہ چالوں سے نئے سردار "لالی" اور ڈاکوؤں کے گروہ کو ایک جعلی نقشے اور خزانے کے لالچ میں الجھا کر ان میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔
خطرناک فرار: نواب خان اور جگن میاں مل کر لالی اور ڈاکوؤں کو بیوقوف بناتے ہیں اور ایک خونریز معرکے کے بعد جنگل سے فرار ہو جاتے ہیں۔

Tawaan By Iffat Mohani

"تاوان" اردو کی معروف مصنفہ عفت موہانی کا تحریر کردہ ایک بیدار کن معاشرتی اور جذباتی ناول ہے۔ اس ناول کا مرکزی موضوع خاندانی اقدار، انسانی رشتوں کی نزاکت اور معاشرتی ناانصافیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کی جدوجہد ہے۔ کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے جسے اپنوں کی غلطیوں، تلخ رویوں اور خاندانی فیصلوں کی قیمت یعنی "تاوان" ادا کرنا پڑتا ہے。 عفت موہانی نے اپنے رواں اور سادہ اسلوبِ تحریر کے ذریعے عورت کی عزتِ نفس، صابرانہ جدوجہد اور جذباتی کشمکش کو انتہائی عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ناول یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کے نازک موڑ پر صبر، حوصلے اور وقار کو برقرار رکھ کر ہی مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

Sunday, July 19, 2026

Emergency By Siddique Salik

Download Link A
Download Link B
ہ کہانی شانتی نگر کے جابر، مغرور اور خود پسند جاگیردار ملک جابر علی خان کے گرد گھومتی ہے، جس کا خاندان پشتوں سے اس علاقے پر حاکم ہے۔ ملک صاحب کا اصول ہے کہ جو ان کی غیر مشروط اطاعت کرے گا، اس پر دولت کی برسات ہوگی، اور جو سر اٹھائے گا، وہ کچل دیا جائے گا۔ وہ اپنے پاؤ بھر کے پالتو کتے کو صرف اس لیے نیزہ مار کر قتل کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کا "گیٹ آؤٹ" کا حکم نہیں سمجھ پاتا۔ اسی طرح وہ ایک وفادار بوڑھی بلی کو اپنے ظلم پر چیخنے کی وجہ سے مروا دیتے ہیں اور معمولی بات پر اپنی پہلی بیوی ذکیہ کے سارے زیورات آگ میں پھینک دیتے ہیں۔ گاؤں کے قبرستان پر ٹریکٹر چلا کر وہ اسے امرودوں کے باغ میں بدل دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انسانی ہڈیاں بہترین کھاد ہیں۔  ان کا بڑا بیٹا پرویز انگریزی ادب کا دلدادہ تھا مگر ملک صاحب اسے زبردستی زراعت میں لے آتے ہیں۔ پرویز اور دوسرا بیٹا قدیر (جو انڈسٹریل اسٹیٹ سنبھالتا ہے) حویلی کے پرتعیش ماحول میں رہنے کے باوجود اپنے باپ کے سامنے بالکل بے بس اور "یس ڈیڈی" کہنے پر مجبور ہیں۔  

Aina Ka Raaz By Muhammad Saleem

Download Link B
"آئینہ کا راز" محمد سلیم (گجرانوالہ) کا تحریر کردہ ایک انتہائی سسپنس، پراسرار اور مافوق الفطرت (Supernatural) کہانی پر مبنی شاہکار ہے۔  کہانی کا آغاز ایک رپورٹر سے ہوتا ہے جو سڑک پر ایک عجیب الخلقت کبڑے شخص (جمیل) کو ٹریفک حادثے کا شکار ہوتے دیکھتا ہے اور اسے مینٹل اسپتال پہنچاتا ہے۔ وہاں ڈاکٹر مظفر اس انوکھے کیس کا راز فاش کرتے ہیں۔ جمیل ایک بدصورت نوجوان تھا جسے فاخرہ نامی ایک انتہائی مغرور، خوبصورت اور سنگدل امیر لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ فاخرہ اور اس کے دوست جمیل کا شدید مذاق اڑاتے ہیں، اسے ذلیل کرتے ہیں اور پولیس (اپنے شوہر ڈی ایس پی اکبر خان) کے ذریعے اس پر بدترین تشدد کرواتے ہیں تاکہ وہ اس کا پیچھا چھوڑ دے۔  

Shama Jalti Rahi By Noman Ishaq

یہ کہانی شمع نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور گھریلو کام کاج سے بیزار ہو کر ایک امیر اور پرآسائش زندگی کے خواب دیکھتی ہے۔ شمع کا پڑوسی سعد اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کا رشتہ بھیجتا ہے، لیکن شمع اپنی مادی خواہشات اور امیر ہونے کی چاہ میں اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔ کہانی میں ایک بڑا موڑ تب آتا ہے جب شمع کی بہن پاکیزہ اچانک واشنگ مشین سے کرنٹ لگنے کے باعث انتقال کر جاتی ہے، جس سے پورے گھر پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ والد عبد الرحمن کے سمجھانے پر شمع بالآخر سعد سے شادی کے لیے رضامند ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد سعد اپنی فیکٹری کی ملازمت میں شمع کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، لیکن جب شمع کو فیکٹری کی مالکن 'سونیا' کی سعد میں دلچسپی کا علم ہوتا ہے تو اس کے اندر حسد اور پچھتاوا جاگ اٹھتا ہے۔ دوسری طرف فیصل نامی نوجوان کی کالج لائف اور مسجد میں 'جی ایم' نامی شخص سے ملاقات کے احوال بھی کہانی کا حصہ ہیں۔ یہ ناول مادی خواہشات، خلوصِ محبت، تقدیر کے فیصلوں اور انسانی احساسات کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔