Pages

Tuesday, August 4, 2026

Saleeb e Waqt By Aasnath Kanwal

یہ کہانی ایک ایسے انسان کے گرد گھومتی ہے جو ماضی کے دکھوں اور تلخ یادوں میں الجھ کر اپنے حال سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہ وقت کی سخت آزمائشوں (صلیبِ وقت) کو برادشت کرتا ہے اور اپنے جذبات و تعلقات کو بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ یہ تحریر انسان کے اندرونی کرب، صبر اور وقت کے ساتھ حالات کے سامنے ڈھلنے کا ایک مؤثر تاثر پیش کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dhundlay Rastay By Rubab Waseem

یہ کہانی ماہا کی ہے، جو ایک باہمّت، خوددار، اور آزاد خیال لڑکی ہے۔ اپنے خاندانی ماحول، روایتی سوچ اور ماضی کے ایک تلخ تجربے کی وجہ سے وہ رشتوں اور لوگوں سے خاصی محتاط رہتی ہے۔ ماہا کا رشتہ اس کے پھپھو زاد عمر سے طے کر دیا جاتا ہے، جو ایک سادہ اور دوسروں کے اثر میں آنے والا شخص ہے۔  تقریب کے دوران ماہا کی ملاقات معید سے ہوتی ہے، جو عمر کا پھپھو زاد ہے۔ معید ایک پراثر اور مضبوط شخصیت کا مالک ہے جو ماہا کی سوچ، خودداری اور بے باکی سے متاثر ہو جاتا ہے۔ جہاں عمر، ماہا کی شخصیت کو سمجھنے اور سنبھالنے میں ناکام رہتا ہے، وہیں معید اس کے جذبات اور فیصلوں کی قدر کرتا ہے۔  شادی کے بعد عمر کے ساتھ ماہا کی زندگی میں تلخیاں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ عمر نہ صرف اس پر شک کرتا ہے بلکہ اس کی آزادی پر پابندیاں بھی عائد کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ماہا اور معید کو احساس ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے صحیح سفر کے ساتھی ہیں۔ یہ ناول زندگی کے دھندلے راستوں میں صحیح سمت، رشتوں کی حقیقت اور سچی محبت کی پہچان کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aik Thi Bela By Aliya Bukhari

Download Link A
Download Link B
ایک تھی بیلا (عالیہ بخاری): بیلا ایک سادہ اور قانع لڑکی ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ان کے پڑوس میں سیمیں باجی رہتی ہیں، جو انتہائی صفائی پسند، بدگمان اور طنز کرنے کی عادی ہیں۔ سیمیں کا رشتہ زوار سے طے شدہ ہوتا ہے، لیکن سیمیں کی تنگ دلی اور ناخوشگوار رویے سے تنگ آ کر زوار اس رشتے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی والدہ بیلا کا ہاتھ مانگتی ہیں۔ لیکن بیلا اپنی والدہ کے دباؤ کے باوجود زوار سے شادی کے بجائے کمال کے ساتھ ایک سادہ اور خوشگوار زندگی کا انتخاب کرتی ہے۔  زرو زمانوں کا سویرا (نبيلہ ابر راجہ): زلزلے کی تباہ کاریوں اور المیہ کے بعد کے حالات پر مبنی کہانی۔ خضر جو زلزلے میں اپنے خاندان کے متعدد افراد کو کھو چکا ہے، اپنی بھابھی آسیہ اور چھوٹی بچی صفی کا سہارا بنتا ہے۔ خضر کی منگیتر فاریہ چاہتی ہے کہ وہ ان سب کو چھوڑ کر اس کے ساتھ سیٹل ہو جائے، لیکن خضر فاریہ کی خود غرضی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور خاندان کا ساتھ دینے کا پختہ فیصلہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dasht e Imkaan By Aliya Bukhari

Download Link A
Download Link B
ناول "دشتِ امکان" میں عالیہ بخاری نے ایک روایتی اور وسیع برادری کا پس منظر پیش کیا ہے جہاں خاندانی رسومات، سالانہ نیاز، اور رشتوں کے طے پانے کی دھوم دھام دکھائی دیتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار ثانیہ ایک باشعور، حساس اور پڑھی لکھی لڑکی ہے جو اپنے مفاد پرست، دکھاوے کے شائق اور روایتی گھرانے کے بیچ بالکل مختلف مزاج رکھتی ہے۔  گھر میں ایک طرف نانی اور بڑے ماموں (جلال) کا رعب، دبدبہ اور خاندانی غرور قائم ہے، جبکہ دوسری طرف معذور نہال ماموں اور ان کی اہلیہ بیہ مامی کو شدید بے حسی، تنہائی اور تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ثانیہ اپنے معذور نہال ماموں اور ان کے بیٹے ہادی کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے اور ان کا سہارا بنتی ہے۔ خاندانی نفرتوں، مصلحتوں، تضادات، اور سماجی تفریق کے درمیان ثانیہ سچائی، ہمدردی اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہنے کی جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔

Kahin Jugnuon Ki Qatar Mein By Fakhira Jabeen

Download Link B
"کہیں جگنوؤں کی قطار میں" فاخرہ جبیں کا تحریر کردہ ایک دلکش، مزاحیہ اور خاندانی رومانوی اردو ناول ہے۔
کہانی کا بنیادی محور سناور اور اس کا چُست و چالاک خاندان ہے، جہاں نواب حسان کی رشتے کے لیے ممکنہ آمد کے باعث گھر بھر میں گہما گہمی اور ہلچل مچ جاتی ہے۔ سناور اس روایتی ملاپ اور بہن بھائیوں کی مستقل چھیڑ چھاڑ سے سخت چڑی ہوئی ہے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد نواب حسان کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ نواب حسان کی آمد پر پیدا ہونے والی دلچسپ غلط فہمیاں، صبی اور راکی کی شرارتیں، اور خاندانی نوک جھونک کہانی کو انتہا درجے کا تفریحی اور خوبصورت بناتی ہیں۔

Mere Gumshuda By Fakhira Jabeen

Download Link B
نول "میرے گمشدہ" فخرہ جبین کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور احساسات سے بھرپور ناول ہے۔ کہانی ماورا، اس کے بیمار اور معذور والد (ابا) اور کاکا جان کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ کاکا جان ماورا کی پڑھائی اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے خواب اور ناولز اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں۔  ماورا کی زندگی میں اس وقت شدید بحران آتا ہے جب کاکا جان اچانک کہیں غائب (گمشدہ) ہو جاتے ہیں اور والد کا بھی انتقال ہو جاتا ہے۔ اس مشکل اور تنہائی کے وقت میں سلیم اور اس کا ساتھی ہارون اسرار اس کی زندگی میں آتے ہیں۔ جہاں سلیم کے رویے اور خود غرضی سے ماورا کو دکھ پہنچتا ہے، وہیں ہارون اسرار اس کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور اس کی بے لوث محبت و حمایت ماورا کی بکھری ہوئی زندگی کو سنبھالا دیتی ہے۔ یہ کہانی رشتوں کی قربانی، اپنوں کی جدائی کے درد اور سچی محبت کے احساس کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔

Aalmi Digest August 1985

Download Link A
Download Link B
عالمي ڈائجسٹ (اگست 1985ء) کا یہ شمارہ زاہدہ حنا کی اہتمام کاری اور ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت کے ساتھ شائع ہوا۔
  مدیرانہ و خطوط: زاہدہ حنا اور علی ندیم نے قارئین کے خطوط کے جوابات دیے، جبکہ ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت اور ان کی تحریروں کا خیرمقدم کیا گیا۔ 
 تاریخی و ادبی تحاریر: نسیم حجازی کا تاریخی ناول "ہمیشہ ہمیشہ" شائع ہوا، جس میں وادیِ کشمیر کے ایک رئیس زادے بلال، اس کے اتالیق کلوکا، اور احمد شاہ کی آگرہ کی طرف سفر، شہنشاہ اکبر کے دربار، اور ابوالفضل سے ملاقات کے احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔
  دیگر مضامین: اس شمارے میں مختلف اشتہارات، جیسے کہ روح افزا، مصفی خاص، اور بلا سود بینکاری کے تعارف سمیت قارئین کی دلچسپی کی متنوع تخلیقات شامل ہیں۔  

Monday, August 3, 2026

Dil Jahan Dharakta Hai Novel By Bilal Aslam

Download Link B
بلال اسلم کا ناول "دل جہاں دھڑکتا ہے" انس اور زاریہ کی الگ الگ زندگیوں اور ان کے جذبات کے گرد گھومتا ہے۔ انس ایف اے کے بعد آوارہ گردی سے نکل کر اپنے والد کی مدد سے جنرل اسٹور کھولتا ہے۔ پڑوس میں رہنے والی تحریم انس کو دل ہی دل میں چاہتی ہے۔ دوسری طرف زاریہ افراہیم اپنے والد کا کروڑوں کا آئی ٹی بزنس سنبھال رہی ہے اور ارحم کے ساتھ ایک ناکام اور بےروح ازدواجی رشتے کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا شکار ہے۔ انس کو دوست کے ذریعے زاریہ کا غلط نمبر ملتا ہے اور میسجز سے ان کے درمیان بات چیت شروع ہو جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں لیکن زاریہ کو اس وقت شدید دکھ اور دھچکا لگتا ہے جب انس اپنے والدین کی مرضی سے تحریم سے شادی کرنے کا فیصلہ سناتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Baraf Zaron Ki Titli Novel By Fakhira Jabeen

Download Link B
یہ کہانی ماہین وجدان نامی ایک نہایت حساس، معصوم اور خوبصورت کردار کے گرد گھومتی ہے، جسے فطرت، پہاڑوں، اور خزان کی اداس خوبصورتی سے گہرا لگاؤ ہوتا ہے। ماہین کا دل ایک نازک تتلی یا سیپ میں بند موتی کی مانند پاکیزہ ہوتا ہے جو دنیاوی چالاکیوں سے بالکل ناواقف ہے। وہ اپنی بہترین دوست بخت آور کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ رکھتی ہے۔ کہانی میں محبت، خاموش جذبات، ایثار اور اداسی کے رنگ نمایاں ہیں۔ ماہین اپنی پاکیزہ محبت کی خاطر ہر قربانی دینے کا جذبہ رکھتی ہے، مگر اس کی حساس طبع اور اداس مزاجی کہانی میں ایک انوکھا اور تاثراتی موڑ لاتی ہے। فاخرہ جبیں نے انسانی تعلقات، خلوص اور دلی جذبات کو انتہائی خوبصورت اور رقت انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔

Sunday, August 2, 2026

Maria By Iffat Mohani

یہ کہانی معاذ نامی ایک حساس اور جذباتی جوان کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے شدید بدگمانی اور احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے والد، ڈاکٹر سرفراز، شہر کے نامور معالج ہیں جنہوں نے بیوی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ معاذ اپنے والد کو ماں کی موت کا ذمہ دار اور سوتیلی ماں (رفیعہ بیگم) کو ایک ناپسندیدہ شخصیت سمجھتا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ایک دن معاذ والد اور سوتیلی ماں کے درمیان اپنے چھوٹے بھائی فراز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے متعلق گفتگو سن لیتا ہے۔ جب والد معاذ کے ماضی کے مواقع اور موجودہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے غصے میں "جہنم میں جائے" کا جملہ ادا کرتے ہیں، تو معاذ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ خاموشی سے سمارٹ کیس اٹھا کر اپنی مرحوم والدہ کے نام پر خریدی گئی پرانی کوٹھری (بنگلے) کی طرف نکل جاتا ہے۔
کوٹھی پہنچ کر اس کی ملاقات بوڑھے باغبان غلام قادر، اس کے بیٹے نادر اور بیٹی لاجو سے ہوتی ہے۔ ان غریب مگر مخلص لوگوں کی محبت، خلوص اور سادگی معاذ کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر لاجو کا معصومانہ احترام اور نادر کی باتیں اسے متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، گھر میں والد، سوتیلی ماں، اور بہن بھائی (فراز، ایاز، عذرا) اس کے ناگہاں غائب ہونے پر شدید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز معاذ کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر وہ وہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mehal Sara Ka Tamasha By Ilyas Sitapuri

یہ داستان عباسی خلیفہ جعفر مقتدر باللہ کے تیرہ سال کی کم عمری میں تخت نشین ہونے، اور اس کے نتیجے میں محل کی باطنی سیاست، سازشوں اور عیش و عشرت کا احاطہ کرتی ہے۔ خلیفہ مقتدر کے خلاف عبد اللہ بن معتز کی بغاوت کو مونس خادم اور خلیفہ کی والدہ (شغب) کی تدبیروں کے ذریعے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن معتز کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔  حکومت کے اصل اختیارات خلیفہ کی والدہ شغب اور قہرمانہ ام موسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، جس سے امیر الامراء مونس خادم اور دیگر امرا شدید نالان رہتے ہیں۔ مونس اقتدار کو مردوں (وزراء و امرا) کے ہاتھ میں واپس لانے اور محل کی خبریں رکھنے کے لیے بشری نامی لڑکی کا سہارا لیتا ہے۔ تاہم، بشری قصرِ خلافت میں جا کر مقتدر کی قربت حاصل کر لیتی ہے اور مونس کے پاس واپس جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ مقتدر مونس کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اسے قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور بشری کی موت کا جھوٹا بہانہ بناتا ہے۔ مونس اس سچائی سے واقف ہو کر اپنی فوج اور دیگر اہم امرا کو مقتدر کے خلاف متحد کر لیتا ہے اور عباسی خلافت کو نااہل و عیش پرست خلیفہ سے نجات دلانے کے لیے ایک نئی بغاوت کا علم بلند کرتا ہے۔

Wo Ishq Saraab Sa By Huria Malik

ناول "وہ عشق سراب سا" حوریہ ملک کا تحریر کردہ ایک سنسنی خیز اور جذباتی اردو ناول ہے۔ کہانی کی اہم جھلکیاں درج ذیل ہیں:  مرکزی کردار اور تعلقات: کہانی مرکزی کرداروں ایس کے (سلطان خان)، روشانے خان، زوار خان، اور کیپٹن کے گرد گھومتی ہے۔ سلطان خان ایک بااثر اور خوفناک گینگسٹر (انڈر ورلڈ کی شخصیت) ہے جس سے روشانے کی شادی ہوئی ہے۔  کرداروں کی الجھن: روشانے اپنے شوہر کے تشدد اور جنون سے خوفزدہ بھی ہے اور زوار خان کی طرف مائل محسوس ہوتی ہے، جبکہ زوار خان اور سلطان خان کی شخصیت میں اسے گہری مماثلت نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Kiran Digest July 2026

یہ شمارہ ادبی اور گھریلو تحریروں کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
 صالحہ عزیز نے اپنے کالم "بہو سے ساس تک کا سفر" میں زندگی کے تجربات اور گھریلو رشتوں کی بدلتی ڈائنامکس کو بیان کیا ہے۔ اداکاروں کے انٹرویو "میری بھی سنیے" میں علی جوش نے اپنی زندگی اور شوبز کے تجربات شیئر کیے ہیں۔
  مختلف اقساط اور کہانیوں کا خلاصہ:کوئے جاناں سے پرے (نکہت سیما): تاجور کے گھر پر پرانے تعلقات اور ماضی کے دکھوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف آفرین، حسان اور عالی کی زندگی میں اتفاقات اور جذبات کے رنگ نمایاں ہیں۔ 
 طائر آشیاں (منعم ملک): سالک اپنی تعلیم مکمل کر کے راولپنڈی میں ہاؤس جاب کی تیاری کر رہا ہے۔ گاؤں میں ہاجراں اور قمرن کے ماضی اور ڈر کی کہانی دکھائی گئی ہے۔
شاہ ولی کا خاندان (ایمن اور ام البنین): ایمن شاہ بیرونی ملک سے واپسی اور خاندانی اصولوں پر گفتگو کرتی ہے۔ ام البنین کے دل میں ایک غیر متوقع ملاقات کے بعد زندگی کی نئی امید اور چراغ روشن ہوتے ہیں۔  

Hisar e Doran By Kashif Zubair

حصارِ دوراں کاشف زبیر کا تحریر کردہ ایک پُرتجسس اور سنسنی خیز جاسوسی و تاریخی ناول ہے۔ کہانی کا بنیادی محور دوسری جنگِ عظیم کے دوران پیش آنے والا ایک انتہائی خفیہ مشن اور ایٹمی بم (مین ہٹن پروجیکٹ) کے لیے استعمال ہونے والی خام یورینیم (یلو کیک) سے جڑا ایک سنگین تاریخی اور بین الاقوامی راز ہے۔
کہانی کے اہم تانے بانے اور کردار درج ذیل ہیں:
تاریخی پس منظر: ۱۹۴۳ء میں جاپان، امریکہ اور جرمنی کی بحری افواج اور آبدوزوں کا انڈونیشیا کے سمندر (بحیرہ مولوکا) میں ایک پرسرار مشن کے لیے تصادم ہوتا ہے۔ جاپانی بحری جہاز "یوکی آئیوا" پر ایک انتہائی خفیہ اور وزنی کھیپ (یورینیم) لادی جاتی ہے، جس کے بعد اس جہاز کو تارپیڈو کر کے سمندر کی گہرائیوں میں غرق کر دیا جاتا ہے اور تمام گواہوں کو ختم کر دیا جاتا ہے۔
موجودہ دور کی تحقیقات: ۲۰۰۴ء میں جاپانی صحافی آشی ہیروکی (جو اس مشن کے جاپانی انچارج رین ہیروکی کی نواسی ہے) اور جنوبی افریقہ کا صحافی سمیر احمد شاہ (ایس اے شاہ) اس حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سمیر کے والد (عمیر احمد) ۱۹۴۶ء میں کانگو کی اس کان کا حصہ تھے جس کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ یورینیم وہاں سے حاصل کی گئی تھی، حالانکہ وہ کان اس وقت شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aakhiri Tohfa By Iffat Mohani

یہ کہانی عفت موہانی کے ناول "آخری تحفہ" کا ایک حصہ ہے جو سیمیں اور اس کی چھوٹی بہن رومی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی والدہ رفیعہ بیگم کے انتقال کے بعد ان کے ذہنی طور پر بیمار والد، علی محمد صاحب، کو اسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور دونوں بے سہارا بہنیں اپنی مغرور اور دولت مند خالہ صفیہ بیگم کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔ صفیہ بیگم اور ان کے بڑے بیٹے گھر میں ان دونوں کو کمتر سمجھتے ہیں جبکہ خالہ کی بیٹی عامرہ اور بیٹا آفتاب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Gul e Umeed By Quratul Ain Farooq

قرة العين فاروق کی تحریر کردہ مکمل کہانی "گلِ امید" ثمرین نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے والدین کی اکلوتی اور ہنرمند بیٹی ہے۔ ثمرین نے ڈوہ کرافٹ (Dooh Craft) کے ذریعے چیزیں بنانے اور سجانے میں خاص مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ یونیورسٹی کے زمانے میں شہزاد نامی ایک امیر لڑکا اس کی خوبصورتی پر فریفتہ ہو کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی سے قبل ثمرین کا ایک خاص طور پر سجایا ہوا موبائل فون ڈکیتی میں چھن جاتا ہے۔ شادی کے بعد شہزاد وہی موبائل فون ثمرین کو گفٹ کے طور پر دیتا ہے اور یہ جھوٹ بولتا ہے کہ یہ اس کے دوست کی بہن نے سجا کر دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Asool Pasand By Aatir Shaheen

عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی کہانی "اصول پسند" ایک ایمان دار ڈی ایس پی رفاقت احمد اور ان کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار نبیلہ، جو ایک طالبہ ہے، اپنے ماموں رفاقت احمد کے گھر ٹھہرنے آتی ہے۔ وہاں اس کا ماموں زاد بھائی ماجد، جو ایک آوارہ اور بے روزگار نوجوان ہے، نبیلہ کو پسند کرنے لگتا ہے اور اس سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ تاہم، نبیلہ ماجد کے برے کردار اور رویے کی وجہ سے اس رشتے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔  انکار سے طیش میں آکر ماجد اپنے دوستوں کی مدد سے نبیلہ کو اغوا کروا لیتا ہے اور زبردستی نکاح کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ جب ڈی ایس پی رفاقت احمد کو سچائی کا علم ہوتا ہے کہ اس کی بھانجی کے اغوا کے پیچھے خود ان کا اپنا بیٹا ماجد شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 1, 2026

Bhanwar Novel By Iffat Mohani

یہ کہانی ایک جذباتی اور نفسیاتی ڈرامے پر مبنی ہے، جس کا مرکزی کردار عبیر ایک انتہائی تعلیم یافتہ (آکسفورڈ کا گریجویٹ) اور خوش حال کرنل کا بیٹا ہے۔ ایک پراسرار ماضی، محبت کی ناکامی اور شدید جذباتی صدمے (محبوبہ سحابی کی کسی اور سے شادی) کی وجہ سے عبیر اپنی یادداشت اور ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ وہ اکثر یہ سوچ کر پریشان رہتا ہے کہ اس کا دل پھٹ جائے گا اور اسے غشی یا دورے پڑنے لگتے ہیں۔ اس کے والد کرنل اختر، بیمار ماں ثمینہ بیگم، دوست شباہت اور منگیتر توقیر اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں اور اسے صحت مند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  کہانی میں مدحت نامی ایک حساس لڑکی کا کردار آتا ہے، جو عبیر کی بہن سریر کی سہیلی ہے۔ مدحت خاموشی سے عبیر کی معصومیت اور اس کے غم کو محسوس کرتے ہوئے اس کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ کرنل اختر اپنے بیٹے عبیر کی ذہنی صحت کی بحالی کے لیے اس کی شادی مدحت سے کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Hijar Ke Aansu By Huria Malik

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی پریزے (زری) کی زندگی، اس کی محبت اور اس کی تذلیل و شکست کے گرد گھومتی ہے۔ پریزے بچپن سے ہی اپنے کزن اسفند یار سے محبت کرتی تھی اور اسے اپنی زندگی کا سب کچھ مان بیٹھی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس خام خیال اور وہم کا شکار ہو گئی کہ اسفند یار بھی اس سے محبت کرتا ہے اور ان کا نکاح جلد ہو جائے گا۔
تاہم، کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب زری کی شادی کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہوتی ہیں اور وہ دلہن کے روپ میں سج دھج کر بارات کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ بالکل آخری وقت پر اسفند یار کی طرف سے طلاق (یا شادی سے مکمل انکار) کا خط ملتا ہے۔ اس اچانک اور ہولناک خبر سے زری پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے، اس کا دل پاش پاش ہو جاتا ہے اور وہ ہوش و حواس کھو کر منہ کے بل گر پڑتی ہے، جس سے اس کا گھر خوشیوں کے بجائے ماتم کدہ بن جاتا ہے۔
اسفند یار زری پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے خود اس رشتے کی شروعات کی تھی اور ان کے درمیان محبت جیسا کچھ نہیں تھا۔ اپنی عزتِ نفس کو لٹتا دیکھ کر اور اسفند یار کے بے حس رویے سے ٹوٹ کر زری کی ذات میں شدید تلخی اور خالی پن آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, July 30, 2026

Shikast By Safdar Ali Haidri

ہادی اور مریم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ان کا نکاح ہو چکا تھا، لیکن ہادی کی کزن نائلہ بچپن سے ہادی کو پسند کرتی تھی اور ان کے رشتے سے شدید حسد کرتی تھی। نائلہ نے اپنی منگنی کی رات ہادی کو دھوکے سے اپنے کمرے میں بلا کر چیخ و پکار کی اور اس پر عزت پر ہاتھ ڈالنے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ اس ڈرامے کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں شدید بدگمانی پھیلی اور ہادی اور مریم کا نکاح ختم ہو گیا۔ بعد میں خاندان کے دباؤ میں آکر ہادی کی شادی نائلہ سے کر دی گئی، لیکن ہادی نے نائلہ کو کبھی دل سے قبول نہ کیا اور مریم کی یاد میں ہی تڑپتا رہا۔  ہادی کا چھوٹا بھائی حمزہ اس واقعے کو مشکوک سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Harnat Imran Series By Zaheer Ahmed

پاکستان کا ایک ترقی یافتہ گاؤں سردار پور ناگہانی طور پر مکمل تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ دن کے بارہ بجنے کے باوجود وہاں سورج طلوع نہیں ہوتا اور ایسا لگتا ہے جیسے آسمان پر کوئی سیاہ چادر تان دی گئی ہو۔ علی عمران، جو ان دنوں سلیمان کے ساتھ اسی گاؤں میں چھٹیاں گزار رہا تھا، اس پراسرار واقعے سے شدید چونک اٹھتا ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر کا میڈیا اور ماہرینِ فلکیات اسے قدرتی آفت سمجھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔  ریڈ لیبارٹری کے سر داور سے رابطے پر عمران کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریکی قدرتی نہیں بلکہ ایک سائنسی سازش ہے۔ روسیاہ کے مسلمان سائنس دان سر شہاب نے خلا میں اوزون کی سطح پر گیس پھیلانے کے لیے ریز گن کی ٹیکنالوجی تیار کی تھی، لیکن ان کی اس ایجاد کو کافرستان اور روسیاہ کی خفیہ ایجنسیوں (کے جی بی) نے حاصل کر کے ایک خطرناک پاور مشین اور ریز کے ذریعے ایلمک سانگر (بلیک پائرس گیس) اور کاربن کو اوزون پر پھیلا دیا ہے تاکہ پاکستان کو آہستہ آہستہ تاریکی اور تباہی میں دھکیلا جا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Galga Mission By Aslam Rahi

روايت کے مطابق ۲۸ویں صدی قبل مسیح میں، بعلبک کے حکمران لوگل باندہ کے سابق وزیر اشلات، کیش کے جابر حکمران اتانا کے مظالم کی شکایت لے کر عراق کے شہر اریک میں بادشاہ گلگامش کے پاس پہنچتے ہیں۔ اتانا نے بعلبک پر حملہ کرکے لوگل باندہ کو قید کر دیا تھا اور اس کی حسین بیٹی اسلیم، بیٹے اریش اور اس کی منگیتر اراتا کو لبنانی ساحر انو کے حوالے کر دیا تھا، جس نے اپنے سحر سے ان کی زندگیوں کو انسانی اور حیوانی روپ (صبح و شام کی شفق سے منسلک) میں تقسیم کر دیا تھا۔ اریک کے سفر کے دوران اشلات کی ملاقات فرات کے کنارے ملاحوں کے سردار تموز سے ہوتی ہے جو اسے گلگامش کے ساتھ ساتھ اس کے طاقتور اور روحانی صفات کے حامل دوست سموقان سے مدد لینے کا مشورہ دیتا ہے۔
دوسری طرف، سردار تموز اور اس کے چرواہے جنگل کے ایک بے حد طاقتور اور وحشی انسان "ان کدو" کو اپنے ساتھ ملا کر گلگامش کو تخت سے ہٹانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان لیل مندر کی خوبصورت دیوداسی "زوستا" کو بھیجا جاتا ہے جو اپنی محبت اور حسن کے جال میں ان کدو کو رام کرکے آبادی میں لے آتی ہے۔ اریک پہنچ کر ان کدو کا مقابلہ پہلے گلگامش سے اور پھر سموقان سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Malal By Ahmed Rao

”ملال“ احمد راؤ کا لکھا ہوا ایک سسپنس، تھرل اور جذبات سے بھرپور ناول ہے، جس کی کہانی چار اہم کرداروں—براق ہشام، انسپکٹر منہا، لائلہ سلطان اور ازلان خان— کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کی شروعات براق ہشام کی جیل سے رہائی اور ایک خطرناک حادثے سے ہوتی ہے، جس کے بعد وہ مہتشم کے خفیہ گینگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ مہتشم کا مقصد براق کو جعلی پولیس کنسلٹنٹ بنا کر انسپکٹر منہا کی جاسوسی پر لگانا ہے۔ منہا ایک باہمت، نڈر اور ذہین افسر ہے جو پیچیدہ قتل کے کیسز حل کرنے میں ماہر ہے۔ براق جب پولیس کنسلٹنٹ بن کر منہا کے ساتھ کام کرتا ہے تو ان کے درمیان ایک دلچسپ اور جذباتی تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔

Farq By Kashi Chohan

یہ کہانی دو مختلف سوچ رکھنے والی دوستوں، نمرہ اور سمیرا کے گرد گھومتی ہے۔ نمرہ ایک خوددار، پریکٹیکل اور عملی سوچ کی لڑکی ہے جو زندگی میں بزنس وومن بننا چاہتی ہے اور محبت یا شادی کو اپنی آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ یونیورسٹی میں اسامہ نامی ایک معصوم اور سچا لڑکا اس سے محبت کرتا ہے، مگر نمرہ اس کی محبت اور خط کو بنا پڑھے ٹھکرا دیتی ہے۔ دوسری طرف سمیرا، اسامہ کی سچائی اور درد کو محسوس کرتی ہے اور اس کی دوست بن جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سمیرا کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ ایک خوشگوار زندگی گزارتی ہے، جبکہ اسامہ خاموشی سے غائب ہو جاتا ہے۔  نمرہ کا بزنس میں نقصان ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس کی شادی ایک امیر مگر بے پروا شخص "امتیاز" سے کر دیتے ہیں۔ امتیاز کے رویے اور بے اعتنائی کے باعث نمرہ کو شدید تنہائی اور احساسِ کمتری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, July 29, 2026

Rajpoot Mehbooba By Humayun Bilgrami

راجپوت محبوبہ، ہمایوں بلگرامی کا ایک تاریخی و رومانوی ناول ہے، جو سلطنتِ دہلی کے تغلق دور اور فیروز شاہ تغلق کے آخری ایام کے سیاسی انتشار کے پس منظر پر مبنی ہے۔ داستان کی بنیادی کردار "رجنی" ایک راجپوت دوشیزہ ہے، جس کے والد اور چچا کو تغلق فوج کے قتلِ عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کا سرپرست گو بند (حاجی برہان) انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے رجنی کو شمشیر زنی اور فنونِ حرب کی سخت تربیت دیتا ہے اور اسے مسلمانوں جیسا لب و لہجہ اپنانے کی مشق کرواتا ہے تاکہ وہ تغلق خاندان میں انتشار پھیلا کر سلطنت کو تباہ کر سکے۔اس منصوبے کے تحت رجنی، شاہی خاندان کے شہزادے ہمایوں خاں کو اپنے حسن اور بہادری سے رام کر لیتی ہے۔ بعد میں وہ ہمایوں خاں کی قاصد بن کر سلطان غیاث الدین تغلق کے محل تک رسائی حاصل کرتی ہے، جہاں محلاتی سازشوں اور ملک رکن الدین جندہ کی بغاوت کے نتیجے میں غیاث الدین کو فرار ہونا پڑتا ہے اور بعد میں چودھری کھر کو اسے قتل کر دیتا ہے۔ نئی تخت نشینی کے دوران شہزادہ ابو بکر سلطان بنتا ہے اور اس کی ملکہ صنوبر (جو دراصل رجنی کی گمشدہ چاچی اور انتقام کی پیاسی راجپوت عورت ہوتی ہے) رجنی کو اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ رجنی جو شہزادہ ہمایوں خاں کی سچی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہے، راجپوت گو بند کی سازشوں اور صنوبر کے ذاتی انتقامی منصوبوں کے درمیان اپنی محبت اور آئندہ لائحہ عمل کے تذبذب میں گھری نظر آتی ہے۔