Pages

Saturday, September 5, 2026

Gul e Nain By Umm e Aqsa

اردو ناول "گلِ نین" مصنفہ ام اقصی کی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار گلِ نین ایک سادہ اور کند ذہن سمجھی جانے والی لڑکی ہے، جس کی شادی طیب سے ہوتی ہے۔ طیب پہلے سے کسی اور لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے اور شادی کے بعد بھی گلِ نین کو دل سے قبول نہیں کرتا۔ ساس کی نصیحتوں اور صابرانہ سوچ کے ساتھ گلِ نین اپنے رشتے کو بچانے اور شوہر کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، حتیٰ کہ اپنے زیورات اور میکے کا حصہ بیچ کر طیب کی مالی مشکلات بھی دور کرتی ہے۔ تاہم، دو بچوں کی پیدائش کے بعد بھی طیب اس کو گھر سے نکال کر دوسری شادی کر لیتا ہے۔
غربت اور بچوں کی پرورش کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے، گلِ نین اپنے دونوں بیٹوں (صفی اللہ اور ذکی اللہ) کی محنت سے پرورش کرتی ہے۔ مگر بڑے ہو کر دونوں بیٹے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں؛ صفی اللہ بیرونِ ملک جا کر ماں کو بھول جاتا ہے اور ذکی اللہ شادی کی خاطر ماں کی محنت اور قربانیوں کو ٹھکرا کر اسے بے سہارا چھوڑ دیتا ہے۔
کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ذکوان (جس کا تعلق ایک الگ خاندانی پس منظر سے ہے اور جو اپنی مرحومہ ماں کی یادوں اور باپ کی رویوں سے متاثر ہوتا ہے) گلِ نین کی بے بستی اور بیماری کا حال جان کر اسے اپنی دادی کے درجے پر اپنے ساتھ لے آتا ہے۔

Friday, September 4, 2026

Shuaa Digest May 2026

ماہنامہ شعاع مئی 2026 کے اس شمارے کا آغاز ادارے کے اہم اور اصلاحی تحریری پیغام سے ہوتا ہے، جس میں انسان کے تکبر، دنیاوی اقتدار کی فانی حیثیت اور معاشی بحران پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادارے کے بانی محمود ریاض مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دینی اور اصلاحی گوشے (نبی کی باتیں) میں یتیموں، مسکینوں کی کفالت، نیک لوگوں کی صحبت اور لڑکیوں کی پرورش کی دینی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔  دیگر باقاعدہ سلسلوں اور کہانیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:جب تجھ سے ناتا جوڑا: ایک شاد شدہ خاتون کا تفصیلی اور دلچسپ انٹرویو، جس میں انہوں نے اپنی شادی کے احوال، سسرالی ماحول، جوائنٹ فیملی سسٹم کے مسائل اور باہمی رویوں پر گفتگو کی ہے۔  دستک: ڈرامہ نگار اور مصنفہ شبانہ شوکت سے خاص بات چیت، جس میں انہوں نے اپنے ڈرامہ "مسافت"، تحریری سفر اور ڈرامہ رائٹنگ کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔  ایک کردار (ماں جی): منشا یاد کی تحریر، جس میں ایک سچی اور جذباتی کہانی کے ذریعے ماں کی محبت، ان کے ایثار، بچپن کی یادوں اور تعلیمی جدوجہد کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔  خطوط کا سلسلہ (خط آپ کے): قارئین کے بھیجے گئے پیغامات، آراء اور ناولوں/افسانوں پر ان کے تعمیری تبصرے شامل ہیں۔  سلسلۂ وار ناول (دھوپ دریچہ - مریم عزیز): کہانی میں خاندانی پیچیدگیاں، ماضی کے انتقام، حارث اور کوئل کے رشتوں کی کشمکش، اور ہالہ و زیمل سے جڑے واقعات کو دلچسپ موڑ دیا گیا ہے۔  

Andar Ka Admi By Ilyas Sitapuri

Download Link B
یہ داستان سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر تاریخی حملے، جاسوسی اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ علی مردان (ست پال) اور اسماعیل، محمود غزنوی کے بھیجے گئے مسلمان جاسوس ہیں جو ہندو یاتریوں کے روپ میں سومنات کے قلعے اور مندر کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ مندر میں علی مردان کی ملاقات چندراوتی نامی ایک پراسرار اور سوگوار دوشیزہ سے ہوتی ہے۔ بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ چندراوتی ایک "وش کنیا" (زہریلی عورت) ہے، جسے بچپن سے سنکھیا دے کر دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ وہ علی مردان کی حقیقت جاننے کے باوجود اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور اسے بچاتی ہے۔  دوسری طرف اسماعیل کو مندر کے لوگ مسلمان ہونے کے شک میں قتل کر کے سومنات کے قدموں میں اس کی قربانی دے دیتے ہیں۔ سلطان محمود غزنوی حملہ کر کے سومنات کا قلعہ اور مندر فتح کر لیتا ہے اور بت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ فتح کے بعد علی مردان اور چندراوتی غزنی چلے جاتے ہیں۔ چندراوتی، علی مردان کو اپنے عقیدے اور زہریلے وجود کی وجہ سے شادی سے روکتی ہے اور اس سے قسم لیتی ہے کہ وہ اس کی زندگی میں کسی اور سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Neeli Aankhon Wali Larki By Sarim Awan

Download Link A
Download Link B
ناول "نیلی آنکھوں والی لڑکی" (مصنف: صارم اعوان) ایک جذباتی اور سبق آموز محبت کی داستان ہے جو دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے کرداروں، آدم میر اور عائزل نور کے گرد گھومتی ہے۔
  کردار اور آغاز: آدم میر ایک انتہائی ذہین، خاموش طبع اور باکردار غریب طالب علم ہے، جو اپنی مرحومہ ماں کی دعاؤں اور باپ (میر سلیم) کی تربیت کے ساتھ یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر پڑھ رہا ہے۔ عائزل نور ایک امیر ایئر لائن کے مالک کی بیٹی ہے، جس کی نیلی آنکھیں اور دلکش شخصیت سب کو متوجہ کرتی ہیں۔ لائبریری اور کلاس سے شروع ہونے والی یہ معمولی جان پہچان جلد ہی ایک گہری دوستی اور خاموش محبت میں بدل جاتی ہے۔
  سازشیں اور آزمائشیں: ان کی قربت یونیورسٹی کے مغرور اور بااثر طالب علم زریان شاہ سے برداشت نہیں ہوتی۔ وہ آدم کو بدنام کرنے کے لیے امتحانی پرچہ چوری کرنے کا جھوٹا الزام لگواتا ہے اور عائزل کے والد (حاجی عمان نور) تک ان کی تصاویر پہنچا کر دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 
 مرکزی پیغام: مشکلات، حسد، رقابت اور خاندانی فاصلوں کے باوجود، یہ ناول دکھاتا ہے کہ سچی محبت کا مقصد صرف کسی کو حاصل کرنا نہیں، بلکہ عزت، قربانی، باپ کی تربیت اور پاکیزہ یادوں کو تمام عمر نبھانا ہے۔  

Thursday, September 3, 2026

Mor To Saare Man Ke Hain By Humera Ali

Download Link A
Download Link B
ناول "مور تو سارے من کے ہیں" (تحریر: حمیرا علی) ایک خاندانی ڈراما اور نفسیاتی کشمکش پر مبنی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکز شارعین ہے، جو سالوں بعد ہندوستان سے اپنے والد صاحبزادہ بہروز کے خاندانی گھر پاکستان آتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اپنے والد کی جائیداد میں اپنا جائز حق حاصل کرنا اور اپنے کزن/شوہر صاحبزادہ فراسین شمروز سے طلاق/خلع کے کاغذات پر دستخط کروانا ہوتا ہے۔  شارعین کی ماں تاجور نے ماضی کی تلخیوں، غلط فہمیوں اور اپنی خود غرضی کی وجہ سے شارعین کے دل میں اپنے والد اور ان کے خاندان کے خلاف سخت نفرت اور بدگمانی بھر دی ہوتی ہے۔ لیکن جب شارعین اس گھر میں قیام کرتی ہے، تو اسے دادی تحسین بانو، تایا، ندرت آنٹی، اور اپنے بھائیوں ظافر اور عاشر کی طرف سے شدید محبت اور اپنائیت ملتی ہے۔ رفتہ رفتہ ندرت آنٹی کے ذریعے ماضی کی سچائی شارعین پر کھلی کہ اس کی ماں کا رویہ اور خود غرضی ہی تمام تباہی کی جڑ تھی--------------------------

Europe Ki Alif Laila By Ali Sufyan Afaqi

یہ سفرنامہ علی سفیان آفاقی کے 1970ء کی دہائی کے آغاز میں بیروت اور یورپ کے سفر کے دلچسپ اور مزاحیہ احوال پر مبنی ہے۔ مصنف اپنے دو منفرد ساتھیوں—خان صاحب اور شوکت بٹ—کے ہمراہ کراچی سے روم، یورپ اور بالخصوص بیروت کا سفر کرتے ہیں۔ کہانی میں ہوائی جہاز کے مختلف تجربات، زبان کی رکاوٹوں، حرام و حلال کھانے کی پریشانیوں اور نائٹ کلب و سوئمنگ پول کے دلچسپ واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ واپسی پر وہ بیروت کے ساحلوں، ہوٹلوں اور حسین مناظر کی رنگینیوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ساتھ ہی وہاں کے مسلمانوں، عیسائیوں اور فلسطینی کیمپوں کے زمینی حقائق کا مشاہدہ بھی پیش کرتے ہیں۔  

Eakva Ki Choori Translated By Iqbal Kazmi

یہ کہانی نِک ویلویٹ کی ہے جسے سنگاپور میں "ایکوا" (پانی) کی ایک پراسرار اور نایاب بوتل چرانے کے لیے بھاری رقم دی جاتی ہے۔ سنگاپور پہنچتے ہی وہ ایک پراسرار مجرمانہ نیٹ ورک کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بوتل "ڈینی" نامی ایک سفاک شخص کے پاس ہے، جسے وہ ایک پلازہ کے لاکر میں چھپا دیتا ہے۔ نک ویلویٹ گیسٹ ہاؤس کی مالکن مسز منگ اور ہیمو کازی کی مدد سے بڑی ہوشیاری سے وہ بوتل حاصل کر لیتا ہے۔ بعد میں کیمیائی تجزیے سے یہ خوفناک انکشاف ہوتا ہے کہ اس پانی میں انسان کش اور ہلاکت خیز جراثیم موجود تھے جو انسانی خون کے رابطے میں آتے ہی دنیا میں طاعون سے بھی زیادہ خطرناک تباہی پھیلا سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jan e Jana By Iqra Sagheer Ahmed

یہ کہانی ایک مغرور اور ضدی لڑکی، مہکار کی ہے جو اپنے حسن اور باپ کی دولت پر بے حد گھمنڈ کرتی ہے۔ اپنے رشتیداروں بالخصوص شموئیل کو کم تر سمجھ کر وہ اکثر ان کا مذاق اڑاتی ہے اور بدتمیزی سے پیش آتی ہے۔ شموئیل ایک کامیاب ڈاکٹر ہے جو تمام باتوں کے باوجود مہکار سے محبت کرتا ہے۔ حالات اس وقت بدتر ہوتے ہیں جب مہکار کے والد اشفاق صاحب کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے اور ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔  اس دکھ کی گھڑی میں شموئیل آگے بڑھ کر مہکار کی ذمہ داری اٹھاتا ہے اور اس سے شادی کر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, August 31, 2026

Ganga Aur Toofan By Yaqoob Jameel

Download Link B
’گنگا اور طوفان‘ یعقوب جمیل کا لکھا ہوا ایک سچا اور تہلکہ خیز تاریخی واقعہ ہے جس کی کہانی انگریزوں کے دورِ حکومت کے راجستھان کے پس منظر میں رقم کی گئی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار گنگا، راجستھان کے ایک گاؤں درگا پور میں پنڈت سیتا رام کے گھر پیدا ہونے والی ایک غیر معمولی، انتہائی ذہین اور بہادر لڑکی ہے۔ پرانے مذہبی اور سماجی تعصبات کے باوجود اس کے والد اسے لڑکوں کے اسکول میں داخل کرواتے ہیں اور وہ پورے راجستھان میں میٹرک پاس کرنے والی پہلی لڑکی بن کر ابھرتی ہے۔ والد کے انتقال کے بعد گنگا اپنے چھوٹے بھائی شیو اور والدہ کی تمام ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر اٹھا لیتی ہے اور گاؤں کی لڑکیوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ لاٹھی، تیر کمان اور دفاعی علوم سکھانے میں مصروف ہو جاتی ہے۔  گنگا کی منگنی ڈاکٹر بننے کی کوششوں میں مصروف نوجوان درگیش سے طے شدہ ہے۔ تاہم، درگا پور کے تھا کر خاندان کا ہوس پرست اور اوباش نوجوان وارث، ٹھا کر شمشیر سنگھ، گنگا کے حسن پر بدنیتی رکھ کر اسے حاصل کرنے کی سازشیں شروع کر دیتا ہے۔ شمشیر سنگھ گنگا کے لالچی، شرابی اور جواری چچا دتا رام کو رقم اور عیش و عشرت کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔ دتا رام درگیش کی طرف سے گنگا کے نام آئے ہوئے محبت بھرے خطوط کو چرانے اور گنگا کی زندگی میں زہر گھولنے کا آلہ کار بنتا ہے۔ مظلومیت کے خلاف اٹھی ہوئی یہ کہانی یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ظلم کی حدیں پار ہونے پر ایک سادہ لوح لڑکی ظالموں اور حالات کے خلاف طوفان بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔  

Sunday, August 30, 2026

Dulari By Aitbar Sajid

اکتوبر 1947ء کے پس منظر میں لکھی گئی یہ کہانی تقسیمِ ہند کے انسانی المیے اور درپیش بحران کو اجاگر کرتی ہے۔ مرکزی کردار دلاری، جو ایک دکھی اور بے سہارا ہندو لڑکی ہے، والدین کے انتقال کے بعد آشرم میں پناہ لیتی ہے۔ وہاں کے ناظم کے برے رویے سے تنگ آ کر وہ ہسپتال میں نوکری اور پھر سیٹھ رام داس کے ہاں ملازم ہو جاتی ہے۔ سیٹھ کے ہاں اس کی ملاقات راجندر سے ہوتی ہے جو اس کی تصویر بناتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک برطانوی فوجی سارجنٹ ولسن دلاری کی عزّت لوٹنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کشمکش میں سارجنٹ کا قتل ہو جاتا ہے۔ اس قتل کے الزام میں دلاری کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ مقدمے کی پیچیدگیوں کے دوران قانون دان ایاز الدین اور دیگر لوگ اس کے دفاع اور انصاف کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، جبکہ کہانی اس دور کے سیاسی تناؤ اور انسانی رشتوں کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے-

Tarke Ana Tajdeede Mohabbat Novel By Umar Jadoon

ناول "ترکِ انا تجدیدِ محبت" از عمر جدون انا، ضداور ذاتی رنجشوں کی وجہ سے برباد ہونے والے رشتوں اور پھر انہی رشتوں کے درمیان محبت، تلافی اور وفا کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ کہانی کا محور پاشا خاندان کی اندرونی کشمکش، زوریز پاشا کی زندگی کی قید و بند کا واقعہ، زرحیات پاشا کی سنجیدہ شخصیت، اور قید خانے کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی میں زوریز کی جیل کے اندر اور باہر اپنے دوستوں (صالح، وہاج، عاقب، بادشاہ) کے ساتھ تعلقات، دانین کے ساتھ محبت میں آنے والی رکاوٹیں، اور خاندان کے بڑوں حاکم پاشا اور حلیمہ بیگم کے فیصلوں کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ داستان قارئین کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اپنی خودداری کو قائم رکھتے ہوئے کیسے انا کے بت کو توڑ کر رشتوں کو دوبارہ محبت کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔  

Mashal e Raah Urdu Novel By Umar Jadoon

یہ ناول انسان کی داخلی جنگ، خود آگہی، ذہنی صحت اور حقیقی محبت کی تلاش کا ایک با معنی سفر ہے۔ کہانی کے اہم کردار فارس، حیدر اور قیس اپنی اپنی زندگی کی محرومیوں، جذباتی الجھنوں اور اذیتوں سے نبرد آزما ہیں۔ فارس ماضی کے صدمات اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کے باعث ایک سپاٹ اور سخت گیر شخصیت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری طرف، حیدر بچپن کے اکیلے پن اور سوتیلی ماں کی بے رخی کا شکار رہا ہے؛ وہ محبت کی تلاش میں اپنے دوستوں (بہرام اور فارس) کے ساتھ کراچی کا رخ کرتا ہے تاکہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکے۔  ناول کا دوسرا رخ قیس کی زندگی کو ظاہر کرتا ہے جو خاندانی نفرتوں، طعنوں اور منفی ماحول کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت، خوف اور اینگزائٹی میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی ذات کی تلاش اور اس گھٹن سے نکلنے کے لیے ایک ماہر نفسیات (ڈاکٹر وقار) سے مدد لیتا ہے۔ ڈاکٹر وقار کی رہنمائی میں قیس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل جنگ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پانے اور حاصل و لاحاصل کے فرق کو سمجھنے میں ہے۔ یہ کہانی یہ پیام دیتی ہے کہ جب انسان اپنے اندر کی تاریکیوں کو چھوڈ کر خود آگہی اور صبر کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے زندگی کی حقیقی "مشعل راہ" اور سکون حاصل ہو جاتا ہے۔  

Saturday, August 29, 2026

Aaghosh By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا ناولٹ "آغوش" شہاب، صفورہ اور معصوم بچے گوشی (علی) کے گرد گھومتی ایک جذباتی اور اصلاحی کہانی ہے। شہاب، جو کاروبار کی دنیا کا ایک کامیاب اور مصروف ترین شخص ہے، ذہنی سکون اور ڈوپریشن سے فرار کی خاطر شہر سے دور ایک پرسکون اور سادہ علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لیتا ہے। اس کے ساتھ والے پورشن میں صفورہ اپنے چھوٹے سے بچے گوشی کے ساتھ رہائش پذیر ہوتی ہے۔  شروع میں شہاب اور صفورہ کے درمیان سخت ناگواری اور بدگمانی کی فضا قائم رہتی ہے۔ صفورہ حالات کے جبر اور تنہائی کے باعث سخت مزاج نظر آتی ہے، جبکہ شہاب کو بچے گوشی کی بے پروائی اور دیکھ بھال میں غفلت پر غصہ آتا ہے۔ تاہم، معصوم گوشی کے ساتھ شہاب کا ایک ان دیکھا اور گہرا جذباتی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ آگے چل کر شہاب پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ صفورہ گوشی کی حقیقی ماں نہیں بلکہ ایک لاوارث بچے کو گود لے کر اس کی پرورش کر رہی ہے-------------

Friday, August 28, 2026

Hazrat Miran Hussain Zanjani By Professor Khalid Pervaiz

پروفیسر خالد پرویز کا یہ مضمون لاہور کی قدیم ترین صوفی شخصیت حضرت سید میراں حسین زنجانیؒ کے حالاتِ زندگی، ان کے روحانی مقام اور تبلیغی خدمات پر روشنی ڈالتا ہے۔ حضرت میراں حسین زنجانیؒ، جن کا تعلق ایران کے شہر زنجان سے تھا، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی لاہور آمد سے پہلے خطہٴ پنجاب میں اسلام کے نور کو پھیلانے کے لیے تشریف لائے۔اس مضمون میں آپ کی تقویٰ و طہارت، مجاہدہ و ریاضت اور مقامی لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آپ نے لاہور کے علاقے چاہِ میران (چاہِ زنجانی) میں قیام فرما کر ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔ مضمون کا اختتام اس اہم تاریخی واقعے پر ہوتا ہے کہ حضرت داتا گنج بخشؒ جب لاہور پہنچے تو اسی دن حضرت میراں حسین زنجانیؒ کا وصال ہوا اور حضرت داتا گنج بخشؒ نے خود آپ کا جنازہ پڑھایا۔

Hazrat Baba Shah Jamal By Professor Khalid Pervaiz

 پروفیسر خالد پرویز کی تحریر کردہ یہ داستان حضرت بابا شاہ جمال (اصل نام حسن شاہ) کے روحانی سفر، زہد و تقویٰ اور کرامات کو بیان کرتی ہے۔ آپ نے اپنے مرشد سید عبدالواحد شداد اور بعد ازاں حضرت عمرا ایوب سے معرفت و سلوک کی منازل طے کیں۔ مرشد کے حکم پر آپ نے لاہور کے علاقے اچھرہ کی نواحی بستی میں قیام فرمایا اور خلقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کی۔  اس تحریر میں آپ کے ایک مرید خاص (حسن شاہ عرف شوتیلی) کی دیانتداری کے امتحان اور برکت، ایک بے اولاد کھتری کو پالک بیٹا (فخر الدین) ملنے، اور شاہی معماروں کے ذریعے ایک عالی شان سات منزلہ حجرہ/مقبول عمارت کی تعمیر کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب شہزادی سلطان بیگم نے عمارت کی بلندی پر اعتراض کیا، تو آپ نے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔ سکھ دور میں عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، مگر آپ کا آستانہ آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1049ھ کو ہوا۔  

Andhery Se Ujaley Tak By Asma Taqi

Download Link B
یہ کہانی ایک بیوہ طاہرہ بیگم اور ان کے شوہر علی رضا کے گھرانے کے گرد گھومتی ہے، جن کی پانچ بیٹیاں—امینہ، یمنی، رمنا، مومنہ، اور آمنہ ہیں۔ ہر بہن کا مزاج ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ طاہرہ بیگم پانچ بیٹیوں کے مستقبل اور ان کی شادیوں کی فکر میں ہر وقت پریشان اور بد مزاج رہتی ہیں، جبکہ علی رضا ہر حالت میں صابر اور پرسکون رہتے ہیں۔  اسی دوران علی رضا کے مرحوم دوست کے بیٹے ندیم اور ان کی خالہ شاکرہ بیگم کا ذکر آتا ہے، جن کی کفالت ندیم کے چچا متین صاحب نے کی تھی۔ متین صاحب ندیم کی بہن سامیہ کی شادی ریحان سے کروا دیتے ہیں۔ بعد میں ندیم اور رمنا کی منگنی طے ہو جاتی ہے۔  زندگی پرسکون گزر رہی ہوتی ہے کہ ایک حادثے میں لڑکیوں کے والدین (علی رضا اور طاہرہ بیگم) کی ناگہانی موت ہو جاتی ہے، جس سے پانچوں بہنیں بالکل بے سہارا اور تنہا ہو جاتی ہیں۔ اس مشکل وقت میں امینہ بڑی بہن ہونے کے ناطے سنبھالا لیتی ہے اور تمام بہنیں مل کر اپنی تعلیم، ٹیوشنز اور سلائی کڑھائی کے ذریعہ خود کفیل ہونے کا فیصلہ کرتی ہیں-------------------

Thursday, August 27, 2026

Dargah e Ishq By S Marwa Mirza

یہ کہانی دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے کرداروں کی ہے: عبداللہ وجدان، جو ایک نیک، بااصول، شیریں زبان موذن اور ایک دلیر انسپکٹر ہے، اور دوسری طرف زالے مراد، جو ایک مغرور، امیر اور سرکش لڑکی ہے۔ کہانی میں جرم، سمگلنگ، ڈرگز اور ذاتی بدلے کے درپردہ حق، باطل اور ہدایت کی جنگ دکھائی گئی ہے۔ عبداللہ وجدان اپنے فرض کے دوران ایک سمگلنگ گینگ کا پردہ چاک کرتے ہوئے شدید زخمی ہو جاتا ہے، جبکہ زالے مراد کا خاندان اور اس کے دوست جرم اور دکھاوے کی دنیا میں ملوث ہیں۔ واقعاتی موڑ زالے کی زندگی کو بے سکونی میں مبتلا کرتے ہیں اور وہ ایک مسجد کے قریب پہنچ کر ایک گہرے روحانی و اخلاقی موڑ کا سامنا کرتی ہے----------------------------

Aarsh By Komal Zeeshan

ناول "آرش" (مصنفہ: کومل ذیشان) ایک منفرد، تخیلاتی اور سائنسی فینٹسی کہانی ہے۔ اس کا مرکزی کردار "آرش" ڈھائی ہزار سال کی عمر کا ایک جن ہے جو شاہ بلوط کے درخت پر رہتا ہے۔ اس کی اکلوتی اور گہری دوست "سارا" اکیس سالہ بیمار لڑکی ہے، جو طلاق یافتہ اور کینسر جیسے موذی مرض کا شکار رہ چکی ہے۔ سارا کی آنکھیں عجیب ہیں اور وہ زندگی اور کائنات کا حقیقت پسندانہ نظارہ کرنا چاہتی ہے۔ آرش اپنے قدیمی نقشے اور وقت کے ابعاد (Dimensions) کی مدد سے سارا کو کائنات، خلا، ستاروں کی دنیا، سائنس اور انسانی تاریخ کی سیر کرواتا ہے۔ اس سفر کے دوران وہ سارا کو نظامِ شمسی، گلیلیو اور کوپرنیکس کی ایجادات، ڈائنوسار کے دور، جنگلات کی مخلوقات، کیمیا گری (Periodic Table)، فزکس اور برقی ایجادات اور مسلمان سائنسدانوں کے تاریخی کارناموں کا مشاہدہ کرواتا ہے----------------------------------

Darecha e Dil By Noor Bano Mahjoob

یہ کہانی محبت، ایثار اور خلوصِ دل کے گرد گھومتی ہے۔ شجیہ، ثانیہ اور مسعود ایک دوسرے کے قریبی رشتے دار اور بہترین دوست ہیں۔ مسعود اور شجیہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن مسعود کی والدہ کینسر کی آخری اسٹیج پر ہیں اور ان کی آخری خواہش اپنے بیٹے کو دولہا دیکھنا ہوتی ہے۔ شجیہ اپنی تعلیم (ایم ایس سی) جاری رکھنا چاہتی ہے اور لیکچرار بننے کا خواب دیکھتی ہے، اس لیے وہ اپنی محبت کی قربانی دیتے ہوئے مسعود کو اپنی بہترین سہیلی اور کزن ثانیہ سے شادی کرنے پر راضی کر لیتی ہے-------------------------  

Shimana Novel By Rizwan Ali Soomro


یہ کہانی ایک رازدارانہ اور پراسرار ماحول میں گھومتی ہے۔ محلے کی ایک ستر سالہ تجسس پسند اور باخبر خاتون، جنہیں سب "بی بی سی خالہ" کہتے ہیں، محلے میں آنے والے نئے ہمسایوں—قاروت اور اس کی بیوی نیما—کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع کر دیتی ہیں۔ قاروت اور نیما سانولی اور سانولی مائل رنگت کے حامل ہیں، جبکہ ان کی سات سالہ بیٹی "شیمانہ" چودھویں کے چاند کی طرح سفید رنگت اور بنفشی آنکھوں والی ایک انتہائی خوبصورت اور مختلف بچی ہے۔ بی بی سی خالہ اور محلے کے دیگر لوگ یہ شک کرنے لگتے ہیں کہ شیمانہ ان کی اپنی بیٹی نہیں ہے۔
قاروت پیشے کے اعتبار سے ایک نہایت ماہر اور جادوئی صلاحیتوں کا حامل سنگ تراش ہے۔ وہ تنویر بھٹی نامی ایک سیٹھ کے ساتھ کام شروع کرتا ہے، جو اس کے فن کی قدر کرتے ہوئے اسے بھاری معاوضہ اور نئی گاڑی فراہم کرتا ہے۔ قاروت ایک آزاد ریاست 'دھام نگر' کے راجہ کے لیے اس کی مرحومہ رانی کا پتھریلا مجسمہ تراش کر بڑی کامیابی اور انعام حاصل کرتا ہے۔ دوسری طرف، بچی شیمانہ کے گرد پراسرار واقعات پیش آتے ہیں-----------------------------

Tuesday, August 25, 2026

Alif Laila o Laila Complete By Dr Abul Hasan Mansoor

الف لیلا و لیلہ ایک ہزار ایک راتوں کی مشہور داستانوں سے منتخب کی گئی سنسنی خیز اور طلسماتی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں، تاجروں، مسافروں، فقیرزادوں، جادوگروں اور پراسرار مخلوقات سے متعلق بے شمار دلچسپ واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ کہانیوں میں محبت، وفاداری، بہادری، عقل مندی، دھوکے، قسمت کے اتار چڑھاؤ اور انسانی جذبات کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
داستانوں کا بنیادی انداز ایسا ہے کہ ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دیتا ہے اور قاری مسلسل نئی مہم، راز اور حیرت انگیز موڑ سے گزرتا رہتا ہے۔ کہیں کردار مشکل حالات میں اپنی دانائی سے راستہ نکالتے ہیں، کہیں محبت اور وفاداری آزمائش میں پڑتی ہے اور کہیں جادوئی طاقتیں اور پراسرار واقعات کہانی کو نئی سمت دے دیتے ہیں۔
ڈاکٹر ابوالحسن منصور کی پیش کردہ یہ کتاب روایتی مشرقی داستان گوئی، مہم جوئی، تخیل اور انسانی زندگی کے مختلف رنگوں کو یکجا کرتی ہے۔ مجموعی طور پر الف لیلا و لیلہ ایسی داستانوں کا سلسلہ ہے جو تجسس، حیرت اور دلچسپی کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔

Monday, August 24, 2026

Ubqari Magazine August 2026

Download Link B
عبقری میگزین اگست 2026 ایک جامع دینی، روحانی اور اصلاحی رسالہ ہے جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل کا حل، روحانی وظائف، دعائیں، اور عملی زندگی کے لیے رہنمائی شامل ہے۔ اس شمارے میں صحت، گھریلو سکون، روحانی تربیت، اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مضامین پیش کیے گئے ہیں۔ قارئین کو نہ صرف دینی علم بلکہ عملی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جو عبقری کی پہچان ہے۔

Purisrar Zindagi By Dr Imran Anjum

پُر اسرار زندگی از ڈاکٹر عمران انجم ایک فکری اور تجزیاتی کتاب ہے جو انسانی وجود، زندگی کے راز، اور کائنات کے پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ مصنف نے فلسفیانہ انداز میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے، جن میں انسان کی داخلی کشمکش، روحانی تلاش اور معاشرتی تضادات شامل ہیں۔ یہ کتاب قاری کو سوچنے، سوال کرنے اور زندگی کے اسرار کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

Sunday, August 23, 2026

Safed Phoolon Ka Taj By Tahniyat Afreen Malik

"سفید پھولوں کا تاج" تہنیت آفرین ملک کا نثری نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اس کتاب میں شاعرہ نے نہایت پاکیزگی، حیاء اور سادگی کے ساتھ انسان کے باطنی جذبات، جیسے محبت، ہجر، اداسی، اور امید کو الفاظ کا روپ دیا ہے۔ شاعری میں روایتی اور غیر روایتی موضوعات کے علاوہ تاریخی استعاروں، جیسے کہ قدیم مصر، یونانی اساطیر، محمود درویش، رومی، شمس تبریز، اور حالیہ مظالم جیسے طفلِ غزہ و القدس کا گہرا اور حساس ذکر ملتا ہے۔ یہ کلام انسان کو خود سے محبت کرنے اور روح کے ادھورے پن کو محسوس کرنے کا درس دیتا ہے۔  

Hazrat Abu Saeed Abu Al Khair By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
 یہ تحریر معروف صوفی باصفا حضرت ابو سعید ابو الخیر کی حیاتِ مبارکہ، روحانی مدارج اور تعلیمات پر مشتمل ہے۔ اس میں ان کی انکساری، عاجزی اور حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، نیز بتایا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے گناہ گاروں اور گمراہوں کو اصلاح کی راہ دکھائی۔ تحریر میں حضرت ابو الحسن خرقانی اور دیگر ہم عصر صوفیاء کے ساتھ ان کے پرخلوص تعلقات، باہمی احترام اور علمی و روحانی محافل کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بالآخر 4 شعبان المعظم 440 ہجری کو حضرت ابو سعید ابو الخیر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔