یہ کہانی معاذ نامی ایک حساس اور جذباتی جوان کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے شدید بدگمانی اور احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے والد، ڈاکٹر سرفراز، شہر کے نامور معالج ہیں جنہوں نے بیوی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ معاذ اپنے والد کو ماں کی موت کا ذمہ دار اور سوتیلی ماں (رفیعہ بیگم) کو ایک ناپسندیدہ شخصیت سمجھتا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ایک دن معاذ والد اور سوتیلی ماں کے درمیان اپنے چھوٹے بھائی فراز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے متعلق گفتگو سن لیتا ہے۔ جب والد معاذ کے ماضی کے مواقع اور موجودہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے غصے میں "جہنم میں جائے" کا جملہ ادا کرتے ہیں، تو معاذ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ خاموشی سے سمارٹ کیس اٹھا کر اپنی مرحوم والدہ کے نام پر خریدی گئی پرانی کوٹھری (بنگلے) کی طرف نکل جاتا ہے۔
کوٹھی پہنچ کر اس کی ملاقات بوڑھے باغبان غلام قادر، اس کے بیٹے نادر اور بیٹی لاجو سے ہوتی ہے۔ ان غریب مگر مخلص لوگوں کی محبت، خلوص اور سادگی معاذ کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر لاجو کا معصومانہ احترام اور نادر کی باتیں اسے متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، گھر میں والد، سوتیلی ماں، اور بہن بھائی (فراز، ایاز، عذرا) اس کے ناگہاں غائب ہونے پر شدید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز معاذ کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر وہ وہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




