Pages

Sunday, September 20, 2026

Had e Ana Se Had e Ishq Tak By Syeda Hafsa

Download Link A
Download Link B
 کہانی کا آغاز در شفا سلمان کے پررونق اور پرآسائش ماحول سے ہوتا ہے جہاں وہ اپنے بابا سلمان حیدرزادہ، گھر کے ملازمین (فری بوا اور رحمت چچا) اور اپنے شوخ و چنچل کزنز کی لاڈلی اور توجہ کا مرکز ہے۔ وہ ایک زندہ دل، پراعتماد اور کتابوں کی شوقین لڑکی ہے جو زندگی کے ہر لمحے کو کھل کر جیتی ہے۔ ایک دن سلمان حیدرزادہ اپنی بیٹی شفا کو اپنے پرانے اور قریبی دوست ارتضیٰ خان کے گاؤں (درہ آدم خیل کے پاس شینوارئی کلی) لے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ شفا کچھ نیا اور مختلف تجربہ کر سکے۔ گاؤں روانگی سے قبل سلمان حیدرزادہ کے گھر کزنز کی محفل سجتی ہے اور سب شفا کو گاؤں جانے پر چھیڑتے ہیں۔گاؤں پہنچنے پر شفا کا پرجوش اور پرخلوص استقبال کیا جاتا ہے۔ ارتضیٰ خان، ان کی اہلیہ زرمینہ بیگم، بی بی جان، میمونہ، ازمیر اور دیگر گھر والے اپنی روایتی پٹھانی مہمان نوازی اور سادگی سے شفا کا دل جیت لیتے ہیں۔ شفا کی شخصیت، اس کے نفاست بھرے انداز اور بالخصوص اس کے انتہائی لمبے، گھنے اور ریشمی بالوں کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی دوران حویلی میں میر اسفندیار خان کی آمد ہوتی ہے—سیاہ شلوار قمیص اور خاکی واسکٹ میں ملبوس، رعب دار، خاموش طبع اور بارعب شخصیت کا مالک نوجوان، جس کے چہرے پر پڑنے والا ڈمپل اور سنجیدہ نگاہیں اسے دوسروں سے منفرد بناتی ہیں۔ میمونہ شفا کو بتاتی ہے کہ اسفند یار کے والدین کو سالوں پہلے خاندانی دشمنی میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ انتہائی خاموش، سنجیدہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان بن چکا ہے۔ رات کے وقت جب شفا اور میمونہ سیڑھیوں پر بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں تو اسفند یار کی بھاری اور رعب دار آواز میں ڈانٹ شفا کو چونکا دیتی ہے اور دونوں کے درمیان پہلا خاموش تعارف قائم ہوتا ہے۔دوسری طرف، شہر میں سلمان حیدرزادہ کی فیکٹری میں اچانک ایک ناخوشگوار حادثہ پیش آتا ہے جس کے باعث انہیں شفا کو گاؤں چھوڑ کر فوراً واپس جانا پڑتا ہے، مگر شفا گاؤں میں ہی رکنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ دریں اثناء شہر میں شفا کے چاچاؤں (فہیم اور حمزہ حیدرزادہ) کے گھر ناگہانی طور پر حارث اور جویریہ کی منگنی کا فیصلہ سنایا جاتا ہے، جس پر حارث شدید غصے میں آ کر انکار کر دیتا ہے اور جویریہ سکتے میں آ جاتی ہے۔ اگلی صبح گاؤں میں میمونہ شفا کو کھیت اور گاؤں گھمانے نکلتی ہے جہاں باتوں باتوں میں میمونہ اپنی طے شدہ شادی کا بتاتی ہے، اور پھر اچانک شفا کی نظر کھیتوں میں کام کا جائزہ لیتے ہوئے میر اسفندیار خان پر پڑتی ہے، جسے دیکھ کر میمونہ اسے شرارت سے چھیڑتی ہے۔

Yaariyan By Kiran Mushtaq

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی رابیل، ماہین اور انیلا نامی تین سہیلیوں اور ان کے تین دوستوں (احمر، مراد اور وجی) کے گرد گھومتی ہے۔ رابیل ایک غریب لیکن خوددار لڑکی ہے جو سکالرشپ پر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ کلاس کے پہلے ہی دن احمر احمقانہ مذاق اور ریگنگ کے دوران رابیل کو کاکروچوں سے ڈراتا ہے، جس سے رابیل کو فوبیا ہوتا ہے۔ اس پر رابیل سب کے سامنے احمر کی بے عزتی کر دیتی ہے۔ احمر اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور بدلہ لینے کے لیے رابیل کو بار بار نوکریوں سے نکلوا دیتا ہے۔   دوسری طرف احمر، مراد اور وجی خطرناک بائیک ریسنگ کا شوق رکھتے ہیں۔ ایک ریس کے دوران احمر حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب رابیل اور احمر کا سامنا ہوتا ہے تو رابیل روتے ہوئے اپنی مشکلات کا ذکر کرتی ہے، جس پر احمر کو شدید شرمندگی اور اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس سے معافی مانگ لیتا ہے۔   اسی اثنا میں رابیل کے گاؤں کا ایک شاطر اور بااثر شخص چوہدری ابرار، جو اس سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے، رابیل کا پیچھا کرتے ہوئے شہر پہنچ جاتا ہے۔ ایک ہوٹل میں وہ رابیل کو دیکھ کر تماشہ کھڑا کرتا ہے اور اس پر غلط الزامات لگاتا ہے۔ احمر، وجی اور مراد رابیل کی حمایت میں آگے آتے ہیں اور چوہدری ابرار کی دھونس کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ احمر اپنی خاندانی اور سیاسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پولیس اور سیکورٹی کے ذریعے چوہدری ابرار کو قابو کرتا ہے اور رابیل کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کہانی دوستی، انا کی قربانی، اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔   

Yas Yagana Changezi By Rahi Masoom Raza

Download Link A
Download Link B
پروفیسر راہی معصوم رضا کی کتاب "یاس یگانہ چنگیزی" اردو زبان و ادب کے معروف اور بحث طلب شاعر یاس یگانہ چنگیزی کی شخصیت، حیات اور ان کے ادبی مقام کا ایک غیر جانب دارانہ اور تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔ مصنف نے یگانہ کی زندگی کے مختلف ادوار، خاص طور پر لکھنؤ کے ادبی ماحول میں ان کی جدوجہد، معاصرین کی مخالفت اور تنہائی کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ کتاب میں یگانہ کی خود داری، بیباکی اور حق گوئی کو اجاگر کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ غالب پرستی کے دور میں یگانہ نے اپنی منفرد شناخت اور انفرادیت کو قائم رکھا۔ یہ تصنیف جدید اردو غزل میں یگانہ کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور ان کے کلام کو منصفانہ نظر سے دیکھنے کی ایک اہم کاوش ہے۔ 

Friday, September 18, 2026

Majalis e Turabi By Allama Rasheed Turabi

Download Link A
Download Link B
مجالسِ ترابی (مصنف: علامہ رشید ترابی) مختلف دینی و علمی موضوعات، اخلاقی اقدار اور فلسفۂ شہادت پر مبنی خطبات کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں توکل، رضائے الٰہی، دعا کی اہمیت، سجدے کی حقیقت اور یقین و ایمان کے مراتب کی وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، واقعہ کربلا، فلسفۂ ایثار، اہل بیتؑ کی قربانیوں، خصوصاً امام حسینؑ کی آخری مناجات اور شب عاشور و شامِ غریباں کے مصائب کو رقت انگیز اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔   

Naqoosh Rasool SAWW Number Complete

"نقوش رسول نمبر" مشہور معروف ادبی مجلے "نقوش" (ادارہ فروغِ اردو، لاہور) کی تاریخ ساز اور ضخیم ترین پیشکش ہے، جس کے مدیر محمد طفیل مرحوم تھے۔ ۱۳ جلدوں پر مشتمل یہ مجموعہ سیرتِ طیبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مختلف علمی، تاریخی، روحانی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں کا سب سے جامع علمی انسائیکلوپیڈیا تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کے نامور اسلامی سکالرز، مورخین اور ادیبوں کے تحقیقی مقالات، سیرت نگاری کے اصول، تاریخی دستاویزات، اور رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے تمام اہم گوشوں پر مستند مواد یکجا کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں سیرتِ النبی ﷺ پر لکھی جانے والی کتب میں اس علمی کام کو ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔

Thursday, September 17, 2026

Dil Gazeeda Novel By Bilal Aslam

Download Link A
Download Link B

کہانی "دل گزیدہ" ایک ۴۸ سالہ غیر شادی شدہ سرکاری سکول کے استاد ارشد نصیر کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، جو اندرون لاہور کے ایک پرانے گھر میں اکیلا اور تنہا رہتا ہے۔ ارشد شروع ہی سے کاملیت پسند ہے اور اپنی جوانی میں ایک خیالی "آئیڈیل" عورت کی تلاش میں شادی کے وقت کو گنوا بیٹھتا ہے۔ ایک دن سکول میں ایک نئی ٹیچر، "سکینہ"، کا تقرر ہوتا ہے جو بیوہ ہے اور اپنے آٹھ نو سالہ بیٹے احمد کے ساتھ رہتی ہے۔ سکینہ کے باوقار اخلاق، سادگی اور سمجھداری ارشد کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں، اور وہ پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ سکینہ ہی اس کے تمام عمر کے خوابوں کا آئیڈیل ہے۔
جب ارشد بیمار پڑتا ہے تو سکینہ اس کے گھر آ کر اس کی عیادت کرتی ہے، ناشتہ اور کھانا بناتی ہے اور اس کا خیال رکھتی ہے۔ اس قربت اور دیکھ بھال سے ارشد کا ویران گھر اور دل زندگی کے نئے رنگوں اور امیدوں سے بھر جاتے ہیں۔ بعد میں، جب ارشد کی بچپن کی جاننے والی "اماں سعیداں" اچانک اس کے گھر آتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ اس کی بیمار پھوپھی خورشیداں اسے یاد کر رہی ہیں، تو ارشد بادل نخواستہ ان کے ساتھ اوچ شریف اپنے آبائی گاؤں جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر سالوں پرانے گلے شکوے مٹ جاتے ہیں اور اس کی ملاقات اپنی بچپن کی کزن زینت سے ہوتی ہے، جو اب ایک بردبار اور باوقار خاتون بن چکی ہے۔

Sikandar e Azam By Harold Lamb Tranlated Ghulam Rasool Mehar

Download Link A
Download Link B
سکندر اعظم، ہیرلڈ لیم کی لکھی ہوئی اک شاندار سوانحی تاریخ ہے جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر نے نہایت خوبصورت اور رواں اسلوب میں کیا ہے۔ اس کتاب میں سکندر کے بچپن سے لے کر اس کے دنیا کا عظیم ترین فاتح بننے اور بابل میں اس کی وفات تک کے تمام احوال کو مفصل اور دلکش انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔  خلاصہابتدائی زندگی اور تربیت: سکندر کی پیدائش اور اس کے ابتدائی ایام کی سخت تربیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی ماں اولمپیاس اور باپ فیلقوس کی آپسی کشمکش، سکندر کی ہومر کی "ایلیڈ" اور دیوتاؤں کے افسانوں سے محبت، اس کا سرکش گھوڑے 'بیوسی فالس' کو رام کرنا، اور پھر عظیم فلسفی ارسطو کی زیرِ نگرانی سائنس، حکمت، اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنا اس کے کردار کو نکھارتا ہے۔  عظیم فتوحات کا آغاز: فیلقوس کے قتل کے بعد کم سن سکندر کی تخت نشینی، مقدونیہ میں بغاوتوں کا خاتمہ، تھیبز کی تباہی اور ٹرائے کے راستے ایشیا (ایران/فارس) پر حملے کے مناظر کا احوال شامل ہے۔  ایرانی سلطنت کی تسخیر: جنگِ اسوس، صور اور دمشق پر قبضہ، مصر کی فتح، اور بالآخر پرسی پولس (تختِ جمشید) میں شاہِ ایران دارا کو شکست دے کر عظیم الشان ایرانی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی داستان رقم کی گئی ہے۔  مشرق اور ہندوستان کی مہم: سکندر کا وسطی ایشیا، روشنگ اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ آور ہونا، راجہ پورس کے ساتھ ہاتھیوں کی خوفناک جنگ، اور اپنی فوج کی تھکن کی وجہ سے بابل کی طرف واپسی کا سنسنی خیز احوال درج ہے۔  انجام: فتحِ عالم کی عیش و عشرت، فوج کی تباہی، دولت کے اثرات اور بابل میں سکندر کی پراسرار بیماری اور کم عمری میں وفات کے ساتھ ساتھ اس کے بعد سلطنت کے انتشار کا ذکر کیا گیا ہے۔  

Aatish Ruba The Foundation By Amjad Raees

Download Link A
Download Link B
کہانی ایک نازک بدن اور ذہین دوشیزہ کوئین کلیری (Queen Cleary) کے ارد گرد گھومتی ہے، جو غریب اور نیم متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کے سب سے بہترین اور مہنگے میڈیکل کالج "انگر اہم کالج آف میڈیسن" (Ingraham College of Medicine) میں داخلہ حاصل کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ انگر اہم کالج میں تمام سہولیات، رہائش اور تعلیم بالکل مفت ہوتی ہے لیکن وہاں کے داخلے کی شرائط اور معیار نہایت سخت ہیں۔  انٹرویو اور دورے کے دوران کوئین کو ڈاکٹر کلیرسن ایمرسن اور سیکیورٹی چیف لوئیس ویرن کے ساتھ کیمپس، جدید ریسرچ لیبز اور وارڈز دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ سائنس سینٹر کے برن وارڈ (Ward C) میں کوئین روئی اور پٹیوں میں لپٹے ہوئے آتش زدہ مریضوں ("سبجیکٹس") کو دیکھتی ہے، جہاں ایک بے بس مریض کی التجا بھری نیلی آنکھیں اور پراسرار ماحول اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔  ٹیسٹ کے دوران کوئین کا دوست ٹم براؤن (Tim Brown)، جس کی یادداشت نا قابلِ یقین ہے، پراسرار "کلیڈرمین ایکویشن" (Klederman Equation) سے متعلق سوالات کے جوابات کوئین کی انسر شیٹ پر خود سے نشان زد کر دیتا ہے۔ کوئین کا نام پہلے ویٹنگ لسٹ میں آتا ہے، لیکن اس کے دوستوں (میٹ اور ٹم) کی حکمت عملی اور ڈاکٹر کلیرسن کی حمایت کی بدولت بالآخر اسے انگر اہم میں داخلہ مل جاتا ہے۔  تعلیم کے آغاز کے ساتھ ہی کہانی میں سنسنی اور پراسرار راز کھلنے لگتے ہیں۔ ٹم تحقیقات سے یہ اندازہ لگاتا ہے کہ ٹیسٹ سے پہلی رات تمام امیدواروں کو خواب آور دوا دی گئی تھی اور ہپناٹزم یا کسی خاص تکنیک سے ان کے ذہنوں میں جوابات جذب کیے گئے تھے۔ دوسری طرف کوئین بھی ایک لاوارث لاش "ڈوروتھی" کی حقیقت تلاش کرتے ہوئے ایک نرسنگ ہوم اور کلیڈرمین فاؤنڈیشن کے پراسرار نیٹ ورک تک پہنچتی ہے۔ بعد ازاں، ڈاکٹر کلیرسن کوئین کو اپنی جدید نیورو فارماکولوجیکل تحقیق (کمپاؤنڈ 9574) میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ شامل کر لیتا ہے۔ یوں اُمید و ناامیدی، رومانس، سنسنی اور وائٹ کالر میڈیکل کرائمز کے خوفناک سایوں کے درمیان کوئین کا علمی و جدوجہد سے بھرپور سفر آگے بڑھتا ہے۔  

Azab Rishte By Akhtar Hussain Sheikh

Download Link B
عذاب رشتے اختر حسین شیخ کی تحریر کردہ ایک سبق آموز اور دردناک کہانی ہے، جو معاشی بدحالی، نشے کی لعنت، اور گھریلو اخلاقی زوال کے نتیجے میں برباد ہونے والے ایک خاندان اور بے گناہ لڑکی "روبی" کے المناک انجام کا احاطہ کرتی ہے۔  روبی اور اس کا پس منظر: کہانی کا راوی (ایک صحافی) اپنی عزیزہ روبی کو اس کی بلا کی ذہانت اور معصومیت کی وجہ سے "گڑیا" کہتا ہے۔ روبی کا تعلق اندرونِ لاہور کے ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں کا ماحول جوئے اور نا جائز ذرائع آمدن کی وجہ سے بگڑ چکا تھا، لیکن روبی نے تعلیم اور کتب بینی کے شوق کی وجہ سے خود کو اس ماحول سے الگ رکھا۔  ازدواجی زندگی اور ظلم و ستم: روبی کی شادی "بابو" نامی شخص سے کی جاتی ہے جو شدید نشئی تھا اور مردانہ صلاحیتوں سے محروم تھا۔ روبی اپنی شادی اور خاندان کی عزت بچانے کے لیے ہر ظلم برداشت کرتی ہے۔ بابو کا دوست "اینڈی بٹ" اور روبی کی نند "رانی" غلط تعلقات میں ملوث ہو جاتے ہیں۔  سازش اور بہتان: جب روبی کی ساس "زینب" اپنی بیٹی رانی اور اینڈی بٹ کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیتی ہے، تو وہ اپنی بیٹی کی رسوائی اور گناہ کو چھپانے کے لیے اینڈی بٹ کا روبی کے ساتھ پرانا تعلق ہونے کا جھوٹا ڈرامہ رچاتی ہے اور روبی پر بہتان لگا دیتی ہے۔  حاملہ نند اور خوفناک انجام: رانی کے غیر اخلاقی تعلقات کی وجہ سے جب وہ حاملہ ہو جاتی ہے، تو ساس زینب اس راز کے افشا ہونے کے خوف اور سچائی کی واحد گواہ روبی کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بناتی ہے۔ وہ بابو کے نشئی دوست عرفی کے ذریعے کچن کے مٹی کے تیل والے چولہے کے سوراخوں سے سوت کی ڈوریاں نکال کر اسے تکنیکی طور پر بم بنا دیتی ہے۔  

Wood King Imran Series By Mazhar Kaleem

Download Link B
وڈ کنگ مظہر کلیم ایم اے کا تحریر کردہ عمران سیریز کا ایک منفرد اور جاسوسی ناول ہے۔ کہانی کا بنیادی موضوع ایک ایسے غیر معمولی جرم کے گرد گھومتا ہے جس کا تعلق روایتی بم دھماکوں یا ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ملک کی معیشت کو تباہ کرنے سے ہے۔
شروعاتی صورتحال: علی عمران اور اس کے ساتھی (جوانا) کے دلچسپ واقعات اور ٹریفک جام کے لاک توڑنے کے انوکھے انداز سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ عمران کی ملاقات یورپ کے مبینہ ارب پتی ڈان فلاچر سے ایک کیسینو میں ہوتی ہے، جو خود کو جنگلات کا مالک ظاہر کرتا ہے اور پاکیشیا کے جنگلات کے دورے پر آیا ہوا ہے۔
روشن جنگل کی پراسرار بیماری: پاکیشیا کا انتہائی قیمتی اور جدید منصوبہ "روشن جنگل" (جس کے سربراہ سر نعمت علی ہیں) ایک پراسرار بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہزاروں قیمتی درخت اندر سے قوم یا ربڑ کی طرح نرم ہو کر ٹیڑھے میڑھے اور ناکارہ ہو جاتے ہیں، جبکہ بظاہر ان پر کوئی کیڑا یا آفت نظر نہیں آتی۔
معاشی سازش اور تفتیش: اس تباہی کے باعث ملک کو عمارتی لکڑی اور کاغذ کی شدید قلیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اربوں روپے کا زرِ مبادلہ غیر ملکی لکڑی کی درآمد پر ضائع ہونے لگتا ہے۔ عمران کو جب ایک ہوٹل میں اس تباہی اور معاشی نقصان کا علم ہوتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ پاکیشیا کی معیشت کو صدیوں پیچھے دھکیلنے کی ایک گہری بین الاقوامی سازش ہے۔

Badrooh Imran Series By Zaheer Ahmed

Download Link A
Download Link B
کہانی ایک پراسرار اور خوفناک جادوئی سفر کے گرد گھومتی ہے। کہانی کا آغاز کافرستان کے دشوار گزار اور زہریلے ناگوں سے بھرے پہاڑی علاقے "مارچنگ" سے ہوتا ہے، جہاں مہا پجاری (مہا یوگی) ہری چند کالی دیوی کے چھ یوگ پورے کر کے ساتویں اور آخری یوگ کی تیاری کر رہا ہے تاکہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور "جوشکا جادو" کو حاصل کر سکے۔ تاہم، اسے معلوم ہوتا ہے کہ جوشکا جادو کی تمام طاقتیں ایک سیاہ ہڈی میں بند تھیں جو ایک معبد کی تباہی کے بعد پراسرار طور پر غائب ہو چکی ہے۔ اس جادو اور سیاہ ہڈی کو دوبارہ حاصل کرنے کی واحد چابی ایک قدائی اور پراسرار "سیاہ کتاب" ہے، جس میں پنڈت دیال کے خون سے لکھے گئے منتر درج ہیں۔  یہ کتاب ساگا لینڈ کے ایک میوزیم میں محفوظ ہوتی ہے۔ شکر (نائٹ کلب کا مینیجر) اور ایک بدروح "مادام مارشیا" (جو کاکشی کا روپ ہے) ایک ماہر چور مرلی داس کو بیس لاکھ روپے دے کر میوزیم سے وہ سیاہ کتاب چوری کرنے کا کام سونپتے ہیں۔ دوسری طرف، علی عمران کو اپنے فلیٹ پر ڈاکٹر فراسکی (ساگا لینڈ) کی طرف سے ایک خصوصی کوریئر کے ذریعے وہی سیاہ، لوہے کی جلد والی پراسرار کتاب موصول ہوتی ہے۔ جیسے ہی عمران اس کتاب کا پہلا صفحہ پڑھتا ہے، ایک شیطانی اور بھیانک بدروح اس پر مکمل تسلط جما لیتی ہے۔  اس شیطانی طاقت کے اثر میں آکر عمران شدید ذہنی التباس (Hallucinations) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے دینو کاکا کی جعلی کال آتی ہے اور وہ ہسپتال پہنچ کر سر عبدالرحمان اور ثریا کو دیکھتا ہے، جبکہ حقیقت میں سر عبدالرحمان بیرون ملک گئے ہوئے ہوتے ہیں اور اماں بی بالکل ٹھیک ہوتی ہیں۔ عمران کا ذہن اس قدر مفلوج ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی سیکرٹ سروس کی ٹیم کے لیے ایک ہلاک خیز خطرہ بن جاتا ہے۔ وہ ہسپتال سے صفدر کو زخمی حالت میں اٹھا کر کچرے کے ڈرم میں پھینک دیتا ہے اور بعد میں اسے گولیوں سے چھلنی کر کے ہلاک کر دیتا ہے۔  

Wednesday, September 16, 2026

Hum Ke Thehre Ajnabi Novel By Nazia Kanwal Nazi

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی زویا اور سعد درانی کی ہے جو فرسٹ کزن اور بچپن کے دوست ہیں۔ زویا کے واجبی سے حسن کے باوجود سعد نے اُس سے سچی محبت کی اور شادی کی۔ ان کے دو بیٹے، علی اور طلحہ ہیں، اور وہ دبئی میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔
زندگی میں تلخی اُس وقت گھلی جب زویا کی یونیورسٹی کی پرانی دوست تبسم (جس کی اپنے شوہر حمزہ سے طلاق ہو چکی تھی) پانچ سال بعد دبئی میں ملی۔ سعد کے منع کرنے کے باوجود زویا نے تبسم کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دی۔ تبسم درحقیقت ماضی میں سعد سے محبت کرتی تھی لیکن غلط فہمیوں کے باعث اُس نے حمزہ سے شادی کر لی تھی۔ زویا کو اپنے گھر لا کر تبسم نے اُس کے ذہن میں سعد کی پارسائی اور وفاداری کے خلاف زہر گھولنا شروع کر دیا اور سعد کی پرسنل سیکرٹری اُجالا کے نام سے شک پیدا کر دیا۔
تبسم کے بہکاوے میں آ کر زویا نے اپنا حلیہ، مزاج اور ترجیحات بدل لیں۔ وہ گھر، شوہر اور بچوں (علی اور طلحہ) کو ملازمہ کے سپرد کر کے ظہیر میوزیکل کمپنی کے ساتھ گلوکاری اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ کر آزاد خیال ہو گئی۔ جب سعد نے اُسے روکا تو زویا نے بدتمیزی کی اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔
زویا کی اس بے حسی اور خود سری کے بعد سعد نے اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیا۔ تبسم نے سعد کی بیماری میں دیکھ بھال کی اور اپنی پرانی محبت کا اعتراف کر کے معافی مانگی۔ سعد نے زویا کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر تبسم اور اپنے بچوں کو توجہ دینا شروع کر دی اور زویا کو اپنے گھر میں بالکل نظر انداز کر دیا۔ زویا کو میڈیا کی دنیا کی چکا چوند میں کامیابی تو ملی لیکن وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ گئی۔

Monday, September 14, 2026

Nagin Novel Complete By Ijaz Ahmed Nawab

یہ داستان ایک پراسرار اور انتقامی ناگن (شکنتلا) اور ناگ (ارجن) کی ہے جو سو سال کی انسانی قربانیوں کی رسم کے بعد انسانی روپ دھارتے ہیں۔ ایک جوگی اور اس کے لالچی چیلے صابو کے ہاتھوں ناگ دیوتا کے مندر میں آخری قربانی کے بعد یہ جوڑا انسان بن جاتا ہے۔ صابو، جو جوگی کو قتل کر کے ان ناگوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا تھا، خود ناگ اور ناگن کا پہلا شکار بن جاتا ہے اور دونوں اس کا خون پی کر اپنی انسانی جوانی قائم رکھتے ہیں۔
اس کے بعد ارجن اور شکنتلا مختلف روپ بدلتے ہوئے انسانی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ ایک گاؤں میں رندھیر نامی شخص سے ان کا سامنا ہوتا ہے۔ رندھیر شکنتلا کی خوبصورتی پر نیت خراب کر لیتا ہے، جس پر شکنتلا ناگن کا روپ دھار کر وہاں سے نکلتی ہے۔ اس دوران گاؤں والے ارجن (ناگ) کو گھیر کر تیل ڈال کر زندہ جلا دیتے ہیں۔
اپنے محبوب ارجن کے اس دردناک انجام کو دیکھ کر شکنتلا انتقام کی آگ میں جل اٹھتی ہے۔ وہ گاؤں والوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے کر بھاگتی ہے، جہاں راستے میں اسے ریاست تابانہ کے مہاراجہ رام ناتھ کا شاہی قافلہ ملتا ہے۔ شکنتلا مکر و فریب اور اپنے بے پناہ حسن کے سحر سے مہاراجہ کو اپنے جال میں پھنسا لیتی ہے اور خود کو مظلوم ثابت کر کے شاہی محل تک پہنچ جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ مہاراجہ رام ناتھ سے شادی کر کے ریاست تابانہ کی نئی ملکہ اور مہارانی بن جاتی ہے اور محل کے اندر اپنے اقتدار اور اختیارات کی دھاک بٹھا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Khushbuon Ke Shehar Mein By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا ناولٹ "خوشبوؤں کے شہر میں" میزاب کی کہانی ہے، جو اپنے والد نظیر الحسن کے انتقال کے بعد شدید تنہائی اور خاندانی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ میزاب کی سوتیلی ماں بلقیس اور ان کا بھانجا ولید اس کا خیال رکھتے ہیں، لیکن رشتہ داروں کی لالچ اور سائیڈ پر کیے جانے والے مطالبات کے باعث گھر میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ماضی کی کچھ غلط فہمیوں اور شمع کی وجہ سے میزاب اور ولید کے درمیان دوریاں آ جاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ اور حالات کی تلخیوں کے بعد ولید اور میزاب کے درمیان تمام غلط فہمیاں ختم ہو جاتی ہیں، وہ ایک دوسرے پر اعتماد بحال کرتے ہیں اور بالآخر محبت اور خوشگوار رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Hazaron Saal Pehlay By Ibn e Haneef

Download Link A
Download Link B
ابن حنیف کی کتاب "ہزاروں سال پہلے" قدیم تاریخی، مذہبی اور تہذیبی ارتقا کا ایک تفصیلی اور محققانہ جائزہ ہے۔ کتاب کی شروعات عشتار (محبت، جنگ اور روئیدگی کی دیوی) کے تصور سے ہوتی ہے، جس کا آغاز سات ہزار سال قبل عراق میں مادری تہذیب سے ہوا اور بعد میں یہ مختلف اقوام و مذاہب، بشمول ہندومت، یہودیت اور عیسائیت میں مختلف ناموں سے شامل ہوئی۔ اس کے بعد طوفانِ نوح کی باہلی اور دیگر عالمی روایتوں (مثلاً گلگامش کی داستان) کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور آثارِ قدیمہ کی روشنی میں اس کے تاریخی شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، کتاب میں حضرت ابراہیم اور اسلافِ یہود کی تاریخ، حضرت یوسف اور ہائیکسوس قوم کا دور، مصر کی پہلی ملکہ حتشپسٹ، فاتح تھتمس، توحید پرست فرعون اخناتون، اور حضرت موسیٰ و فراعنہ کے تاریخی ادوار کا مفصل احاطہ کیا گیا ہے۔

Daffodils Novel By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا تحریر کردہ ناول "ڈیفوڈلز" (Daffodils) تاشفین اور ریحان کی محبت، ایثار اور تقدیر کی خوبصورت داستان ہے:  حافاتی واقعہ اور نجات: کوریا سے واپسی پر ریحان اغوا کاروں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ایک گہری کھائی میں گر کر شدید زخمی ہو جاتا ہے۔ وہاں سے گزرتی ہوئی تاشفین اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کھائی میں اترتی ہے، ریحان کی پیاس بجھاتی ہے اور اپنے بھائی اور گھر والوں کی مدد سے اس کی جان بچاتی ہے۔  احسان اور غلط فہمی: ہسپتال سے صحتیابی کے بعد ریحان اپنی نجات دہندہ سے ملنے کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن تاشفین اپنے چہرے اور ہاتھوں پر جلد کے نشانات کی جھجھک اور خود داری کے باعث اپنی جڑواں بہن تہنیت کو اپنے نام سے بھیج دیتی ہے۔ تاہم، ریحان تاشفین کے لمس اور ہاتھوں کو پہچان کر اس چال کو فوراً پکڑ لیتا ہے۔  محبت کا اعتراف: جب ریحان اور تاشفین کی دوبارہ ملاقات ہوتی ہے تو ریحان بتاتا ہے کہ اس کے لیے ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ تاشفین کا خلوص اور سیرت اہم ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ریحان اپنی والدہ کی دی ہوئی قیمتی زنجیر تاشفین کو تحفے میں دے کر اس سے اپنے جذبات کا سچا اعتراف کرتا ہے---------

Hazrat Mansoor Bin Ammar By Professor Khalid Pervaiz

Download Link B
پروفیسر خالد پرویز کا تحریر کردہ سوانحی و اصلاحی مضمون "حضرت منصور بن عمار" (منارہ نور) ان کی بااثر شخصیت، بصیرت اور حکمت پر مبنی واقعات کا احاطہ کرتا ہے:  چار درہم اور قبولیتِ دعا: حضرت منصور بن عمار کے وعظ کے دوران ایک غلام نے چار درہم پیش کیے۔ آپ نے درویش کو رقم دے کر غلام کی چاروں خواہشات (آزادی، رقم کی تلافی، توبہ اور حاضرین کی بخشش) کے لیے دعا کی، جو اللہ تعالی نے فوراً قبول فرما دیں۔  اخلاق اور صداقت کا اثر: آپ کے مواعظ اور نصائح سے لوگوں کے دل نرم ہوتے، چغل خوری اور جھوٹ کے خاتمے کی ترغیب ملتی اور گناہگار آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتے۔  اسمِ الٰہی کی تعظیم و مقامِ معرفت: ایک بار راستے میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کا کاغذ ملنے پر آپ نے اسے احتراماً نگل لیا۔ خواب میں آپ کو حکمت و معرفت کی راہیں کھولے جانے اور دائمی مقبولیت کی بشارت دی گئی۔  

Anhoni By Aatir Shaheen

عاطر شاہین کا تحریر کردہ سسپنس اور ڈرامائی سچی تبدیلیوں پر مبنی ناول "آنہونی"، تین گہری سہیلیوں—نادیہ، حمنہ اور عائشہ—کی کہانی پر محیط ہے۔ نادیہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اپنے والد و بھائی کے ساتھ ہوٹل کا بزنس سنبھالتی ہے، جبکہ حمنہ اور عائشہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کہانی میں اچانک موڑ اس وقت آتا ہے جب عائشہ بغیر کسی کو بتائے پراسرار طور پر یونیورسٹی سے غائب ہو جاتی ہے اور اس کا پورا گھرانہ شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جس پر نادیہ اور حمنہ شدید پریشان اور دکھ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔  پراسرار نئی تقرری: تعلیم مکمل ہونے کے بعد نادیہ اپنے والد کے ہوٹل کی دیکھ بھال شروع کرتی ہے، جہاں لندن سے ہسٹری اور مینجمنٹ پاس ایک انتہائی قابل، ذہین اور جاذبِ نظر نوجوان "حسیب اشرف" بطور جنرل منیجر تعینات ہوتا ہے۔  حقیقت کا انکشاف: حسیب کی کچھ عادات، ہاتھوں پر کٹ کا نشان اور گفتگو کا انداز نادیہ کو عائشہ کی یاد دلاتا ہے۔ بعد میں حمنہ اور حسیب کی گفتگو سے نادیہ پر یہ حیران کن اور انوکھا سچ کھلتا ہے کہ حسیب اصل میں وہی عائشہ ہے۔  قدرتی تبدیلی اور آپریشن: عائشہ میں قدرتی جسمانی و ہارمونل تبدیلیوں کے باعث اسے ہنگامی بنیادوں پر لندن جا کر آپریشن کروانا پڑا، جس سے وہ لڑکی سے مکمل مرد میں تبدیل ہو گئی اور اس نے اپنا نیا نام "حسیب اشرف" رکھا۔ شرمندگی اور سرپرائز دینے کی وجہ سے اس نے اپنا ماضی عارضی طور پر چھپایا تھا۔  

Hum Wehshi Hain By Krishan Chander

کرشن چندر کا شاہکار مجموعہ "ہم وحشی ہیں"  1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والے خونریز فرقہ وارانہ فسادات، انسان سوز مظالم اور تہذیبی زوال کا انتہائی دردناک اور اثر انگیز تاریخی دستاویز ہے۔ یہ کتاب صرف تقسیم کے جغرافیائی حادثے کا بیان نہیں، بلکہ ان انسانی قدروں اور اخلاقیات کے جنازے کی دردناک داستان ہے جو صدیاں پرانی سانجھی تہذیب کا حصہ تھیں۔
انسانیت کا زوال اور وحشت: اس مجموعے کی کہانیاں (جیسے پشاور ایکسپریس، اندھے، لال باغ، امرتسر آزادی سے پہلے اور امرتسر آزادی کے بعد) یہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح مذہبی جنون اور نفرت نے عام انسانوں کو درندوں میں بدل دیا۔ جو لوگ کل تک ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے شریک اور ہمسائے تھے، وہ آزادی کی پہلی ہی رات ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔
تہذیب، عورت اور بچوں کا استحصال: کرشن چندر نے فسادات کے دوران عورتوں پر ہونے والے مظالم، ان کی عصمت دری، بچوں کے قتل اور بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کو بے باکی سے قلمبند کیا۔ انہوں نے دکھایا کہ پنجاب اور ہندوستان کا سانجھا کلچر، محبت اور رواداری کس طرح سیاست دانوں، سامراجی سازشوں اور مذہبی رجعت پسندی کی نذر ہو گئے۔
سیاسی اور سامراجی تنقید: کہانیوں اور دیباچوں میں برطانوی سامراج کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی، سرمایہ دارانہ طبقے کی منافع خوری اور سیاسی رہنماؤں کی بے حسی پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے کر رہے تھے، وہ عوام کے اس دکھ کو سمجھنے سے قاصر تھے جو اپنی جڑوں سے اکھڑ چکے تھے۔
یہ مجموعہ ایک المیہ اور گہرے دکھ کا ماتم ہے، جو پڑھنے والے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگ اور نفرت میں کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، صرف انسانیت ہارتی ہے۔

Friday, September 11, 2026

Waqt Ka Beta Translate By Abu Zia Iqbal

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی ایک ایرانی نوجوان کی آپ بیتی ہے جس کے والد اصفہان میں حجام تھے۔ وہ مختلف علوم اور فنون سیکھنے کے بعد اپنے شہر سے بغداد اور خراسان کے سفر پر نکلتا ہے۔ راستے میں اسے اور اس کے تاجر آقا عثمان آغا کو ترکمان قزاق (ڈاکو) اغوا کر لیتے ہیں۔ اپنی حاضر دماغی، چالاکی اور حکمت عملی کی بدولت وہ نہ صرف ڈاکوؤں کے سردار اور اس کی بیوی کا اعتماد حاصل کرتا ہے، بلکہ اپنے آقا کی چوری شدہ اشرفیاں بھی حکمت سے واپس نکال لیتا ہے۔  بعد میں، وہ ترکمانوں کی فوج کے ساتھ اصفہان کی ایک کاروان سرائے پر ڈاکہ ڈالنے کی مہم میں رہبر کے طور پر شامل ہوتا ہے۔ وہاں سے بھاگ نکلنے کے بعد وہ مختلف کرداروں جیسے ایک شاعر (فتح علی)، ایک مکار درویش، اور شاہی دربار کے افراد سے ملتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں حجام، سقہ (پانی پلانے والا)، غلیان (حقہ) فروش اور تعویذ نویس درویش کے معاون جیسے متعدد پیشے اپناتا ہے۔ تمام تر مشکلات، قید و بند اور سفر کے مصائب کے باوجود وہ اپنی چرب زبانی، چالاکی اور زمانے کی گرم و سرد کو سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہر مصیبت سے نکلنے میں کامیاب رہتا ہے۔  

Wo Raat By Rizwan Ali Soomro

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی مرزا اکبر علی خان نامی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی محبوبة نوشابہ (کوہ نور) کو حاصل کرنے کی جنونی دھن میں مبتلا ہے۔ جب نوشابہ کی منگنی اس کے امیر رقیب ذاکر سے ہو جاتی ہے، تو اکبر ذاکر کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایک جعلی عامل شنکر لال کے پاس جاتا ہے۔ شنکر اسے ایک پرانے آسیبی قبرستان سے دو سو سال پرانی کھوپڑی اور دل لانے کے بہانے بھیجتا ہے۔ قبرستان میں اکبر کی ملاقات نادر شاہ نامی ایک پرسرار بدروح سے ہوتی ہے، جسے اس کی بے وفا بیوی زویا اور اس کے آشنا کامران نے قتل کر دیا تھا۔ نادر شاہ اکبر کے جسم میں داخل ہو کر اپنے قاتلوں سے اپنا دردناک انتقام لیتا ہے۔ اس ہولناک تجربے کے بعد، نادر شاہ کی روح اکبر کو یہ احساس دلاتی ہے کہ کسی کا پیار زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا، جس پر اکبر اپنی ناکام محبت کا ماتم چھوڑ کر اپنی ہار تسلیم کر لیتا ہے۔  

Thursday, September 10, 2026

Mohsin By Afsheen Naseem

"محسن" افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک پراسرار اور سسپنس سے بھرپور اردو افسانہ ہے۔ کہانی علشبہ، اس کے امیر والد سرفراز احمد اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت مصور افراسیاب کے گرد گھومتی ہے۔ علشبہ افراسیاب کی سحر انگیز شخصیت اور طلسمی آنکھوں کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ تاہم افراسیاب کا دوست رؤف، جو کہ ایک موقع پرست اور جادو ٹونے کا دلدادہ شخص ہوتا ہے، کٹاس راج مندر کے نیچے دفن ناگ رانی کے خزانے کو حاصل کرنے کے لیے سرفراز احمد کی اکلوتی اولاد (علشبہ) کو قربانی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ علشبہ اور اس کے والد افراسیاب کو رؤف کے خطرے سے بچانے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی لاگت سے افراسیاب کا ہم شکل ایک جدید روبوٹ (شیری) حاصل کرتے ہیں۔ جب کٹاس راج کے مندر میں خزانہ نہیں ملتا تو رؤف مایوس ہو جاتا ہے اور بعد میں فارم ہاؤس میں پراسرار طور پر قتل ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ رؤف کا قتل انسان نما روبوٹ شیری کی آنکھوں میں لگی لیزر گن کی شعاعوں سے ہوا تھا۔ علشبہ کا یہ قدم افراسیاب کی جان بچا لیتا ہے اور افراسیاب اس کی اس قربانی پر اسے اپنا "محسن" مان لیتا ہے۔

Tuesday, September 8, 2026

Qismat Ka Waar By Sumair Yaseen

سمیر یسین کا ناول "قسمت کا وار" اسماء اور خالد کی زبردستی کی شادی اور ان کی کشیدہ ازدواجی زندگی کی کہانی ہے۔ خالد، جو کہ بلدیہ میں 17 گریڈ کا افسر ہے، اسماء کو جاہل اور کم عقل سمجھ کر ہر وقت اس کی تحقیر کرتا ہے۔ اسماء، اپنے شوہر کی ناپسندیدگی اور روکھے رویے کے باوجود، صبر و تحمل اور خاموشی سے اپنے گھر اور شوہر کا خیال رکھتی ہے۔  کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب خالد کی بچپن کی محبت اور پھوپھی زاد، گڑیا، اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ بیوہ ہو کر ان کے گھر رہنے آتی ہے۔ خالد گڑیا اور اس کے بیٹے پر بے پناہ محبت اور دولت نچھاور کرتا ہے اور اسماء کو مزید نظر انداز کرنے لگتا ہے، حتیٰ کہ گڑیا کے سامنے اسماء کو بانجھ ہونے کا طعنہ بھی دیتا ہے۔ اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر اسماء خالد کو حقیقت بتاتی ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹس کے مطابق مسئلہ اسماء میں نہیں بلکہ خالد میں ہے۔ اس سچائی سے خالد کا غرور خاک میں مل جاتا ہے اور وہ گڑیا کے ساتھ دوسری شادی اور وراثت کی منصوبہ بندی کرنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Hazrat Badar ud Din Ishaq By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
 یہ تحریر حضرت بدر الدین اسحاقؒ کے علمی و روحانی سفر، ان کی علمی تشفی کی تلاش اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے ان کی ارادت و وابستگی کی داستان ہے۔ دہلی کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہونے والے بدر الدین اسحاق کو بچپن ہی سے فن سپاہ گری اور علوم و معارف میں مہارت حاصل تھی۔ اپنے گہرے علمی و روحانی سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر وہ کافی بے چین رہتے تھے۔ بالاخر اپنے دوست کے مشورے پر وہ اجودھن (پاکپتن) پہنچے جہاں حضرت بابا فریدؒ نے ان کے تمام سوالات کے انتہائی جامع اور علمی جوابات دے کر ان کی تشفی فرمائی۔حضرت بدر الدین اسحاقؒ نے بابا فریدؒ کی خانقاہ میں زہد، عبادت اور سخت ریاضت اختیار کی۔ ان کی علمی صلاحیت، عاجزی اور انکساری کو دیکھتے ہوئے بابا فریدؒ نے انہیں نہ صرف اپنا خلیفہ، مریدین کی امامت اور خط وکتابت کا ذمہ دار بنایا بلکہ اپنی صاحبزادی کا نکاح بھی ان سے کر کے انہیں دامادی کا شرف بخشا۔ تحریر میں ان کے علمی مقام، عاجزی، حاسدین کے شر سے حفاظت اور اولیاء کرام کی حقیقی کرامت (شریعت و سنت پر استقامت) کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ اجودھن کی جامع مسجد میں گوشہ نشین ہو گئے اور حالتِ سجدہ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

Monday, September 7, 2026

Tabeer By Aqeela Hashmi

یہ کہانی شہیر نامی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو پڑھائی میں سخت نالائق ہے اور ایف اے کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد اپنے باپ تصدق صاحب کی سخت باتوں اور طنز کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ گھر میں صرف اس کی ماں طیبہ اس کی حمایت کرتی ہے، جبکہ اس کا بھائی احمد اور بہن عینی بھی اس کی عدم توجہی پر نالاں رہتے ہیں۔ شہیر کا دل پڑھائی کے بجائے اسپورٹس اور ایتھلیٹکس میں لگتا ہے اور وہ ایک کامیاب ایتھلیٹ بننے کے خواب دیکھتا ہے۔  کھیلوں کے کلب میں اس کی ملاقات نتاشا سے ہوتی ہے جو نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ ہر مشکل موڑ پر اس کا سہارا بنتی ہے۔ جب بین الصوبائی اسپورٹس فیسٹیول میں شہیر بہترین کارکردگی دکھاتا ہے تو گھر والوں، بالخصوص اس کے بھائی اور بہن کا رویہ بھی اس کے لیے بدلنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایشین گیمز کے لیے شہیر اور نتاشا دونوں کا انتخاب ہو جاتا ہے۔  ملک سے باہر جا کر شہیر اپنی محنت اور ماں کی دعاؤں کے بل بوتے پر لونگ جمپ (Long Jump) میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیتا ہے۔ اس عظیم کامیابی کے بعد اس کے والد کا غرور بھی ختم ہو جاتا ہے اور وہ فخر سے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیتے ہیں۔ آخر میں، دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شہیر اور نتاشا کا رشتہ طے پا جاتا ہے اور شہیر کے خواب ایک خوبصورت تعبیر میں ڈھل جاتے ہیں۔