یہ ایک روحانی اور سماجی ناول ہے جو "عالمِ ارواح" سے شروع ہوتا ہے۔ وہاں وقت پیدا نہیں ہوا تھا اور روحیں اپنے خالق کے فیصلوں کی منتظر تھیں۔ اسی عالم میں چند مؤنث روحیں مذکر روحوں کے خوف میں ایک عہد باندھتی ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ دنیا میں بھیجے جانے پر ان کا اختیار چھین لیا جائے گا اور ان کی مرضی کے بغیر ان کی قسمت کے فیصلے کر دیے جائیں گے۔ اس لیے وہ دعا کرتی ہیں کہ دنیا میں وہ صرف ایک دوسرے کی رہیں اور کسی مذکر روح سے تعلق نہ جوڑیں۔ ان کی یہ دعا قبول یا رد ہونے کا کوئی واضح جواب نہیں آتا۔ اسی عالم میں دو روحیں ایسی بھی ہیں جو ایک ہی وجود کے دو ٹکڑوں کی طرح ہیں اور وہ دعا کرتی ہیں کہ اگر انہیں دنیا بھیجا جائے تو ایک ساتھ بھیجا جائے اور لوٹاتے وقت بھی ساتھ بلایا جائے۔
کہانی دنیا میں آ کر مختلف ملکوں اور مذہبی و سماجی پس منظر رکھنے والی کئی لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان میں پاکستان کی عنایہ، زویا اور آمنہ، ہندوستان کی آروشی، ریٹا کور اور آریا، اور لندن اور دوسرے ملکوں میں رہنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ سب مختلف حالات میں پلتی بڑھتی ہیں، مگر ایک روحانی کشش انہیں ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے۔ ایک نامعلوم خوشبو، دل کی دھڑکن اور باطنی اشارے انہیں احساس دلاتے ہیں کہ ان کا رشتہ زمینی نہیں بلکہ ازل کا ہے۔ ان کی ملاقات کے لیے وہ لندن کے علاقے گرین وچ کی یتیم خانہ نما عمارت "سینٹ مارگریٹ ہاؤس" تک بھی پہنچتی ہیں، جہاں "تیسرے ازلی مسافر" کی تلاش کا سفر آگے بڑھتا ہے۔
ناول میں سرحدوں اور نفرتوں کی دیواریں بھی دکھائی گئی ہیں۔ آروشی کا خاندان پاکستان سے رابطے کے سخت خلاف ہے۔ اس کا باپ اور بھائی غرور، ذات پات اور جھوٹی انا میں جکڑے ہوئے ہیں اور ماں چاہ کر بھی بیٹی کا ساتھ نہیں دے پاتی۔ آروشی اور ریٹا کور کو ظلم، توہین اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ان کے اندر ایک نوری روشنی انہیں سہارا دیتی ہے۔ آخرکار یہ سب لڑکیاں ایک ایک کر کے آپس میں اکٹھی ہوتی ہیں۔ آریا بھارت سے پاکستان کی سرحد کے قریب پہنچتی ہے، جہاں انہیں ایک درویش صفت نوجوان "شہریار" سے ملنا ہوتا ہے۔ شہریار روحانی رہنمائی اور حفاظت کا مرکز بنتا ہے اور اس کی حویلی ان سب کے لیے ٹھکانہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
























