Download Link A
Download Link B
Download Link B
کہانی کا آغاز در شفا سلمان کے پررونق اور پرآسائش ماحول سے ہوتا ہے جہاں وہ اپنے بابا سلمان حیدرزادہ، گھر کے ملازمین (فری بوا اور رحمت چچا) اور اپنے شوخ و چنچل کزنز کی لاڈلی اور توجہ کا مرکز ہے۔ وہ ایک زندہ دل، پراعتماد اور کتابوں کی شوقین لڑکی ہے جو زندگی کے ہر لمحے کو کھل کر جیتی ہے۔ ایک دن سلمان حیدرزادہ اپنی بیٹی شفا کو اپنے پرانے اور قریبی دوست ارتضیٰ خان کے گاؤں (درہ آدم خیل کے پاس شینوارئی کلی) لے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ شفا کچھ نیا اور مختلف تجربہ کر سکے۔ گاؤں روانگی سے قبل سلمان حیدرزادہ کے گھر کزنز کی محفل سجتی ہے اور سب شفا کو گاؤں جانے پر چھیڑتے ہیں۔گاؤں پہنچنے پر شفا کا پرجوش اور پرخلوص استقبال کیا جاتا ہے۔ ارتضیٰ خان، ان کی اہلیہ زرمینہ بیگم، بی بی جان، میمونہ، ازمیر اور دیگر گھر والے اپنی روایتی پٹھانی مہمان نوازی اور سادگی سے شفا کا دل جیت لیتے ہیں۔ شفا کی شخصیت، اس کے نفاست بھرے انداز اور بالخصوص اس کے انتہائی لمبے، گھنے اور ریشمی بالوں کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔ اسی دوران حویلی میں میر اسفندیار خان کی آمد ہوتی ہے—سیاہ شلوار قمیص اور خاکی واسکٹ میں ملبوس، رعب دار، خاموش طبع اور بارعب شخصیت کا مالک نوجوان، جس کے چہرے پر پڑنے والا ڈمپل اور سنجیدہ نگاہیں اسے دوسروں سے منفرد بناتی ہیں۔ میمونہ شفا کو بتاتی ہے کہ اسفند یار کے والدین کو سالوں پہلے خاندانی دشمنی میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ انتہائی خاموش، سنجیدہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان بن چکا ہے۔ رات کے وقت جب شفا اور میمونہ سیڑھیوں پر بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں تو اسفند یار کی بھاری اور رعب دار آواز میں ڈانٹ شفا کو چونکا دیتی ہے اور دونوں کے درمیان پہلا خاموش تعارف قائم ہوتا ہے۔دوسری طرف، شہر میں سلمان حیدرزادہ کی فیکٹری میں اچانک ایک ناخوشگوار حادثہ پیش آتا ہے جس کے باعث انہیں شفا کو گاؤں چھوڑ کر فوراً واپس جانا پڑتا ہے، مگر شفا گاؤں میں ہی رکنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ دریں اثناء شہر میں شفا کے چاچاؤں (فہیم اور حمزہ حیدرزادہ) کے گھر ناگہانی طور پر حارث اور جویریہ کی منگنی کا فیصلہ سنایا جاتا ہے، جس پر حارث شدید غصے میں آ کر انکار کر دیتا ہے اور جویریہ سکتے میں آ جاتی ہے۔ اگلی صبح گاؤں میں میمونہ شفا کو کھیت اور گاؤں گھمانے نکلتی ہے جہاں باتوں باتوں میں میمونہ اپنی طے شدہ شادی کا بتاتی ہے، اور پھر اچانک شفا کی نظر کھیتوں میں کام کا جائزہ لیتے ہوئے میر اسفندیار خان پر پڑتی ہے، جسے دیکھ کر میمونہ اسے شرارت سے چھیڑتی ہے۔