یہ کہانی زویا اور سعد درانی کی ہے جو فرسٹ کزن اور بچپن کے دوست ہیں۔ زویا کے واجبی سے حسن کے باوجود سعد نے اُس سے سچی محبت کی اور شادی کی۔ ان کے دو بیٹے، علی اور طلحہ ہیں، اور وہ دبئی میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔
زندگی میں تلخی اُس وقت گھلی جب زویا کی یونیورسٹی کی پرانی دوست تبسم (جس کی اپنے شوہر حمزہ سے طلاق ہو چکی تھی) پانچ سال بعد دبئی میں ملی۔ سعد کے منع کرنے کے باوجود زویا نے تبسم کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دی۔ تبسم درحقیقت ماضی میں سعد سے محبت کرتی تھی لیکن غلط فہمیوں کے باعث اُس نے حمزہ سے شادی کر لی تھی۔ زویا کو اپنے گھر لا کر تبسم نے اُس کے ذہن میں سعد کی پارسائی اور وفاداری کے خلاف زہر گھولنا شروع کر دیا اور سعد کی پرسنل سیکرٹری اُجالا کے نام سے شک پیدا کر دیا۔
تبسم کے بہکاوے میں آ کر زویا نے اپنا حلیہ، مزاج اور ترجیحات بدل لیں۔ وہ گھر، شوہر اور بچوں (علی اور طلحہ) کو ملازمہ کے سپرد کر کے ظہیر میوزیکل کمپنی کے ساتھ گلوکاری اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ کر آزاد خیال ہو گئی۔ جب سعد نے اُسے روکا تو زویا نے بدتمیزی کی اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔
زویا کی اس بے حسی اور خود سری کے بعد سعد نے اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیا۔ تبسم نے سعد کی بیماری میں دیکھ بھال کی اور اپنی پرانی محبت کا اعتراف کر کے معافی مانگی۔ سعد نے زویا کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر تبسم اور اپنے بچوں کو توجہ دینا شروع کر دی اور زویا کو اپنے گھر میں بالکل نظر انداز کر دیا۔ زویا کو میڈیا کی دنیا کی چکا چوند میں کامیابی تو ملی لیکن وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ گئی۔