Pages

Thursday, August 13, 2026

Kala Janam By M A Rahat

Download Link B
ناول "کالا جنم" تقسیمِ ہند سے پہلے کے پس منظر میں لکھی گئی ایک پرُاسرار، خوفناک اور انتقامی داستان ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار "علی نواز" موضع رتنا پلی کے ایک بااثر اور امیر جاگیردار چوہدری حیدر نواز کا بیٹا ہے۔ علی نواز بچپن ہی سے انتہائی مغرور، خودسر، نڈر اور زبردست شہسوار ہے۔ ایک دن شکار کے دوران علی نواز کی اپنے والد کے پرانے دشمن اور زمیندار "ٹھاکر چندر سنگھ" سے تلخ کلامی ہو جاتی ہے۔ بدتمیزی کے بدلے میں علی نواز ٹھاکر کے لہراتے ہوئے کھیتوں کو آگ لگا دیتا ہے۔  اس واقعے کے بعد دونوں خاندانوں میں دشمنی کی ایک خوفناک آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ ٹھاکر چندر سنگھ انتقام لینے کے لیے کالا جادو، شاطرانہ چالوں اور "مٹھ" (جادوئی ہنڈیا) کا سہارا لیتا ہے۔ اس جادوئی عمل اور حملوں کے نتیجے میں علی نواز کے والد، ماں اور بھائی ایک ایک کر کے پراسرار اور دردناک طریقے سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور پورا ہنستا بستا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔  تنہا رہ جانے کے بعد علی نواز کے دل میں ٹھاکر سے انتقام کی شدید آگ سلگنے لگتی ہے۔ ٹھاکر اسے دھوکے سے اغوا کر کے جائیداد کے کاغذات پر دستخط کروانا چاہتا ہے تاکہ اسے قتل کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tareekhi Shagufay By Amjad Ali Amjad

کتاب "تاریخی شگوفے" ممتاز مرتب میاں امجد علی امجد کی ایک دلچسپ اور بصیرت افروز تحریر ہے، جو ان کی سابقہ مقبول کتاب "بڑے لوگوں کی بڑی باتیں" کا دوسرا حصہ ہے۔ اس کتاب میں انبیاء کرام، صحابہ کرام، اولیائے عظام، نامور حکمرانوں، اور تاریخ ساز علمی و ادبی شخصیات کی زندگی کے متعدد دلچسپ، حکمت بھرے، ظریفانہ اور سبق آموز واقعات و لطائف کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہے۔
  کتاب کے اہم اور بنیادی موضوعات میں شامل ہیں:سیرت و واقعات: حضور اکرم ﷺ کی شفقت، حسنِ اخلاق، اور صحابہ کرام (مثلاً حضرت عمر، حضرت علی، حضرت بلال، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم) کی فہم و فراست، دانائی اور خوش طبعی کے ایمان افروز واقعات۔  حکمرانوں کی عدل و فیاضی: سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، طارق بن زیاد، اور عمر بن عبدالعزیز جیسے عظیم اسلامی حکمرانوں کے عدل، انکساری اور تاریخی فیصلوں کی داستانیں۔
  صوفیاء و علمائے کرام کی حکمت: حضرت داتا گنج بخش، خواجہ حسن بصری، مولانا روم، شیخ سعدی، اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی جیسے بزرگانِ دین کی حاضرجوابی، علمی نکتے اور فکر انگیز باتیں۔  ادبی و علمی طنز و مزاح: نامور ادبا اور فلاسفرز کے سنجیدہ و ظریفانہ جملے، جو تھکے ہوئے ذہنوں کو تازگی اور سکون بخشتے ہیں۔  مجموعی طور پر یہ کتاب سنجیدگی اور ظرافت کا ایک حسین امتزاج ہے جو قاری کو مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ فکر و بصیرت، حسنِ اخلاق اور تاریخی حقائق سے روشنی عطا کرتی ہے۔  

Naag Bhone By Aqleem Aleem

یہ داستان اقلیم علیم کے ناول "ناگ بھون" کا ابتدائی حصہ ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار، جو ایک غریب بڑھئی کا بیٹا تھا، ایک انگریز کے گود لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پرنس سلطان بن جاتا ہے۔ وہ اپنی محبت ستارہ سے شادی کر کے شملہ منتقل ہو جاتا ہے، جہاں وہ حشرات الارض اور سانپوں پر تحقیق کرتا ہے۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب تجربہ گاہ میں ایک سیاہ ناگ ان پر حملہ آور ہوتا ہے اور بعد میں ستارہ کو ڈس کر ہلاک کر دیتا ہے۔
ستارہ کی موت کے بعد سلطان انتقام کی آگ میں جلنے لگتا ہے اور سانپوں کو کھولتے پانی میں ڈال کر مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی دوران ایک پراسرار اور شاندار سفید ناگ ظاہر ہو کر اسے مفلوج کر دیتا ہے اور بقیہ سانپوں کو بچا کر لے جاتا ہے۔ بعد میں ستارہ کی قبر کھدی ہوئی ملتی ہے اور اس کی لاش غائب ہوتی ہے۔ درویش حیدر شاہ سلطان پر انکشاف کرتا ہے کہ ستارہ مری نہیں بلکہ زندہ ہے اور ناگوں کی دنیا "ناگ بھون" میں قید ہے۔ جو لڑکی اندراوتی کے روپ میں سلطان کے قریب آئی تھی، وہ دراصل ایک پراسرار سفید ناگن تھی۔ حیدر شاہ سلطان کو ایک منکا دیتا ہے جو ناگن کے زہر سے بچاتا ہے اور سلطان اپنی محبت ستارہ کو ناگ بھون سے آزاد کرانے کے لیے ایک ہولناک سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Muhammad Bin Qasim By Sadiq Hussain Siddiqui

یہ تاریخی ناول جزیرہ سراندیپ (موجودہ سری لنکا) سے عرب واپس لوٹنے والے مسلم خاندانوں اور تاجروں کے قافلے کی دلکش اور دردناک داستان سے شروع ہوتا ہے۔ اس قافلے میں اسلم اور طاہرہ نامی پاکباز اور باکردار نوجوان شامل ہیں جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر ازدواجی بندھن میں بندھنا چاہتے ہیں۔ راستے میں جنگلی ہاتھیوں کے خطرناک حملے کا بہادری سے مقابلہ کرنے کے بعد یہ لوگ سمندری جہازوں کے ذریعے ساحل کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔  سمندر میں شدید طوفان کا سامنا کرنے کے بعد جہاز مرمت کی غرض سے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیبل کے ساحل پر لگتے ہیں۔ وہاں سندھ کے راجہ داہر کے ظالم اور وحشی سپاہی غیر مسلح مسلمانوں پر اچانک حملہ کر کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں جکڑ کر قیدی بنا لیتے ہیں۔ راجہ داہر ان تمام بے گناہ مسلمانوں کو قید کر لیتا ہے اور طاہرہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا ہے، جس کے صدمے سے اسلم بے ہوش ہو جاتا ہے۔ قید خانے میں مسلمان عورتوں اور بچوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ایک مظلوم عورت پکار اٹھتی ہے: "اغثنی یا حجاج" (اے حجاج ہماری مدد کو پہنچو)۔کچھ مسلمان وہاں سے بچ نکل کر مکران اور شیراز کے راستے بصرہ پہنچتے ہیں اور بلادِ مشرق کے وائسرائے حجاج بن یوسف کو تمام ماجرا اور مظلوموں کی فریاد سناتے ہیں۔ حجاج بن یوسف غضبناک ہو کر مظلوموں کو آزاد کرانے کا عزم کرتا ہے۔ راجہ داہر کے پاس سفیر بھیج کر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، مگر مغرور راجہ داہر اس کی درخواست اور تاوان کی پیشکش کو تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے اور جنگ کا چیلنج دیتا ہے۔حجاج بن یوسف، خلیفہ ولید بن عبدالملک سے جنگ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اپنے 17 سالہ شجاع اور نڈر چچا زاد بھائی محمد بن قاسم کو چھ ہزار مجاہدین کے لشکر کا سپہ سالار منتخب کر کے سندھ روانہ کرتا ہے۔ دوسری طرف دیبل کے قید خانے میں ایک رحم دل بدھ پنڈت ابیہ مسلمانوں کی رسیاں کھول کر ان کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ کرتا ہے۔ کہانی کا یہ حصہ اسلامی غیرت، مظلوموں کی فریاد رسی اور محمد بن قاسم کی تاریخی فتحِ سندھ کی مہم کے آغاز پر محیط ہے۔

Aseer e Mohabbat By Fareeda Narejo

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی داؤد اور سندیہ کے پیچیدہ تعلقات، بچپن کی تکرار اور انا کی جنگ سے محبت کے سفر کے گرد گھومتی ہے۔ بچپن ہی سے دونوں ایک دوسرے کے متضاد مزاج کی وجہ سے آپس میں لڑتے رہتے تھے، جہاں داؤد ضدی اور غصیلا تھا اور سندیہ ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب دینے والی چلاک لڑکی تھی۔ بڑوں کی خواہش پر دونوں کا رشتہ طے ہوا اور شادی بھی ہو گئی، مگر ان کی آپسی ان بن، طنز اور زبانی جنگ ختم نہ ہوئی۔ اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد سندیہ کا ایک حادثہ پیش آتا ہے جس میں وہ شدید زخمی ہو جاتی ہے۔ اس وقت داؤد کو پہلی بار اسے کھونے کا شدید خوف محسوس ہوتا ہے اور اس کی انا ٹوٹ جاتی ہے۔ اریب کے سمجھانے پر داؤد اپنی محبت کا اعتراف کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ کراچی واپسی کے بعد ہی سے اس سے محبت کرنے لگا تھا لیکن اپنی انا کی وجہ سے اظہار نہ کر سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Al Quran Al Kareem Urdu Tarjuma Aur Tafseer By Shah Fahad Printing Press

Download Link B

Wednesday, August 12, 2026

Mangol By Muhammad Naeem Mirza

یہ کتاب منگول قوم کے آغاز، ان کی وشیانہ ہسٹری اور چنگیز خان (تموجین) کے عروج و زوال کی مکمل داستان بیان کرتی ہے۔ تموجین نے انتہائی سخت حالات، قبیلوں کی آپسی دشمنیوں اور قید و بند کی صعوبتوں سے نکل کر صحرائے گوبی کے صحرانہ قبائل کو متحد کیا۔ بعد ازاں اس نے چنگیز خان کا لقب اختیار کر کے ایشیا سے یورپ تک ایک عظیم اور خوفناک سلطنت کی بنیاد رکھی۔
منگولوں نے جہاں کا رخ کیا وہاں شہر کے شہر تباہ کر دیے اور انسانوں کے سروں کے مینار کھڑے کر دیے۔ کتاب میں خاص طور پر خوارزمی سلطنت، سلطان علاؤ الدین خوارزم شاہ اور ان کے بہادر بیٹے جلال الدین خوارزم شاہ کے ساتھ منگولوں کے خونریز معرکوں، بخارا، سمرقند، مرو اور ہرات کی تباہی اور بالآخر چنگیز خان کے انجام کو تفصیلی اور مؤثر انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔

Shikkari By Anjum Farooq Sahli

نواب یوسف علی خان کی ریاست رام پور، گوالیار اور نینی تال کے سنسنی خیز جنگلات پر مبنی اس شکار بیانی میں نامور شکاری سید مقصود علی اور مصنف (انجم فاروق ساحلی) کی دلیری اور شجاعت کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ داستان کی شروعات ریاست رام پور کے ایک خوفناک ایک دانت والے خونی ہاتھی "اکڑا" کے تعاقب اور نواب یوسف علی خان کی شاہی شکار گاہ سے ہوتی ہے، جہاں مقصود علی اپنی ماہرانہ تگ و دو اور بے خوفی سے ہاتھی کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔ بعد ازاں داستان نینی تال، کرتھانوالہ اور جمہاوت کے علاقوں میں دہشت پھیلا دینے والی آدم خور شیرنی کے گرد گھومتی ہے جس نے درجنوں دیہاتیوں، عورتوں اور بچوں کو اپنا نوالہ بنا رکھا تھا۔ مصنف جنگل کی دشوار گزار گھاٹیوں، طوفانی بارشوں اور خوفناک حالات میں نہ صرف اس آدم خور شیرنی اور شیر کا سراغ لگاتے ہیں بلکہ اپنی رائفل اور تدبر سے ان درندوں کو ہلاک کر کے خوفزدہ دیہاتیوں کو اس ہولناک عذاب سے نجات دلاتے ہیں۔

Tuesday, August 11, 2026

Barf Mein Aag By Mohan Charaghi

Download Link A
Download Link B
کتاب ”برف میں آگ“ معروف صحافی اور مصنف موہن چراغی کی تحریر کردہ ایک سیاسی آپ بیتی اور چشم دید احوال ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں 1953ء میں شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری سے لے کر بعد کے ادوار (بخشی غلام محمد، غلام محمد صادق، اور سید میر قاسم کا دور) تک کشمیر کی سیاسی تاریخ، بدعنوانی، اور سازشوں کا بے باک تجزیہ کیا ہے۔
انہوں نے کمیونسٹ تحریک، ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس (DNC) کے قیام اور اس کے خاتمے، موئے شریف کی چوری اور بحالی کے واقعات، اور کشمیری پنڈتوں کی صورت حال کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مصنف کے مطابق یہ کتاب کسی پر کیچڑ اچھالنے کے لیے نہیں بلکہ وادی کی سیاہ اور تلخ سیاسی حقیقتوں سے پردہ اٹھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔

Phool Magazine August 2024

Download Link A
Download Link B
"پھول میگزین اگست 2024" کا یہ شمارہ زیادہ تر فلسطین کے حالات، آزادی کی جدوجہد، اور پاکستان کے عوامی جذبات پر مبنی ہے۔ اس میں مختلف مضامین، شاعری، اور اداریے شامل ہیں جو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ میگزین میں آزادیٔ پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے بھی تحریریں موجود ہیں۔ قارئین کو مذہبی، ادبی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والے مضامین کے ساتھ ساتھ فلسطین کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تجزیے بھی پیش کیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zareen Panna Ki Yaadein By Farzana Chaudhary

Download Link A
Download Link B
"زریں پنا کی یادیں" فرزانہ چوہدری کا تحریر کردہ ایک تفصیلی انٹرویو و تحریری سلسلہ ہے جس میں پاکستان کی نامور کلاسیکل کتھک رقاصہ اور اداکارہ زریں پنا (اصل نام قمر پروین) کی زندگی، فن اور تجربات کو قلمبند کیا گیا ہے۔  فن اور ابتدائی سفر: زریں پنا نے 1950ء کی دہائی میں انتہائی کم عمری سے کلاسیکل رقص کی تربیت حاصل کی اور اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے سخت ریاضت اور محنت کے ذریعے کتھک رقص میں بین الاقوامی سطح پر نام بنایا۔  عالمی شخصیات کے سامنے مظاہرہ: انہوں نے دنیا بھر کے حکمرانوں، بادشاہوں اور اہم سیاسی شخصیات کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ جن میں ذوالفقار علی بھٹو، ملک فیروز خان نون، افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ، شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی، امریکی صدر آئزن ہاور، اور صدر ایوب خان شامل ہیں۔  فلمی کیریئر اور تعلقات: انہوں نے لالی ووڈ کی متعدد فلموں میں بھی کام کیا۔ انٹرویو میں انہوں نے اپنے دور کے فنکاروں اور شخصیات مثلاً آغا طالش، زیبا، زمرد، شاہد، فیض احمد فیض، اور سید سلیمان سے متعلق دلچسپ واقعات اور یادیں شیئر کیں۔  زندگی کی تلخیاں اور عزم: زریں پنا نے اپنی شخصی زندگی کے مشکل ادوار، حادثات اور بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے عزم، خودداری اور مذہب سے لگاؤ کا اظہار کیا ہے۔  

Pakistan Sunday Magazine 8 August 2024

Download Link A
Download Link B
یومِ آزادی پاکستان: میگزین میں 14 اگست کے حوالے سے خصوصی مضامین شامل ہیں، جن میں تحریکِ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔  ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی: پیرس اولمپکس 2024ء میں جیولن تھرو کے مقابلے میں 92.97 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ نیا اولمپک ریکارڈ قائم کرنے اور پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے پر خصوصی رپورٹ۔  بنگلہ دیش کے سیاسی حالات: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے، طلبہ تحریک اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت کا تفصیلی جائزہ۔  حضرت داتا گنج بخش (رح): حضرت شیخ علی ہجویری معروف بہ داتا گنج بخش کے عرس، ان کی حیات، روحانی تعلیمات اور تصنیف "کشف المحجوب" کی اہمیت پر مضمون۔  

Hazrat Abu Al Hassan Kharqani By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
محمود غزنوی کا امتحان اور عقیدت: محمود غزنوی سومنات کی مہم میں کامیابی کے لیے حضرت ابو الحسن خرقانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابتدا میں اس نے لباس بدل کر امتحان لینا چاہا، مگر حضرت خرقانی نے فراست سے اسے پہچان لیا اور اشرفیاں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
  فتح سومنات کے لیے دعا: سلطان کی عاجزی اور التجا پر حضرت نے فتح کی بشارت اور اپنا پیراہن مبارک عطا کیا۔ جنگ کے دوران اس پیراہن کے وسیلے سے سلطان کو عظیم فتح حاصل ہوئی۔ 
حضرت بایزید بسطامیؒ سے روحانی تعلق: حضرت بایزید بسطامیؒ نے اپنے وصال سے سالوں پہلے ہی حضرت خرقانی کی ولادت، نام اور بلند روحانی مقام کی پیشگوئی فرمائی تھی۔سائلین اور نامور شخصیات کی آمد: شیخ الرئیس بو علی سینا اور شیخ ابو سعید ابوالخیر جیسی عظیم شخصیات نے آپ کی بارگاہ میں حاضری دی۔ بو علی سینا آپ کی کرامات اور علمی و روحانی مرتبے کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔
علمِ لدنی اور قرآنی معارف: آپ بظاہر ان پڑھ اور کاشتکار تھے، مگر اللہ تعالی کے فضل سے آپ پر تمام علومِ شریعہ، قرآن و حدیث کے اسرار اور علمِ لدنی کے تمام معارف خود بخود ظاہر ہو گئے

Express Sunday Magazine 8 August 2024

Download Link A
Download Link B
روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین (8 اگست 2024ء) میں مختلف سیاسی، تاریخی، مذہبی اور ادبی مضامین شامل ہیں:  سیاسی و تاریخی حقائق: احتشام ارشد نظامی کا انٹرویو، جس میں 1971ء کے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور پاکستانیوں کے مسائل، غیر بنگالیوں کی اجتماعی قبروں اور ان کی زبوں حالی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔  بنگلہ دیشی سیاست و بھارتی پروپیگنڈا: حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور عوامی احتجاج کے بعد بھارتی میڈیا کی طرف سے پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف کیے جانے والے شرانگیز پروپیگنڈے کا تجزیہ۔  سیرت و اسلامی تاریخ: حضرت بلال بن رباحؓ کی حیاتِ طیبہ، رسول اللہ ﷺ سے ان کی بے مثال محبت، اذانِ بلال اور ان کی خدمات و قربانیوں کا تذکرہ۔  قرآنی علوم: دارالسلام کی شائع کردہ کتاب "اسٹڈی دی نوبل قرآن" کا تعارف، جو انگریزی تراجم میں کلر کوڈڈ اور لفظ بہ لفظ ترجمے کے ساتھ ایک شاہکار اضافہ ہے۔  

Monday, August 10, 2026

Gaon Wali By Aasia Razzaqi

یہ کہانی ایک شہری نوجوان اور دیہاتی لڑکی کی شادی اور ان کے درمیان کے مختلف ماحول کی کہانی ہے۔ شروع میں شوہر اپنی دیہاتی بیوی کے سادہ اور غیر ترقیافتہ انداز پر ناخوش ہوتا ہے اور دوسری شہری شادی کا سوچتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ اسے بیوی کی محنت، معصومیت، گھر کی دیکھ بھال اور خاندان کے لیے قربانیوں کا احساس ہوتا ہے۔ آخر کار وہ اپنی بیوی کی سچائی، صحت مندانہ صلاحیتوں اور محبت کو دل سے قبول کر لیتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Joker By Muhammad Shakir Labana

”جوکر“ (مصنف: محمد شاکر لبانہ) ایک سسپنس، انتقام اور المیہ پر مبنی سبق آموز کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار سرمد ہے، جو حالات کے جبر اور غربت کی وجہ سے جوکر کا روپ دھار کر لوگوں کو ہنساتا ہے۔ سرمد کی زندگی اس وقت تباہ ہوتی ہے جب وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کی گاڑی کی ٹکر سے اس کا معصوم بیٹا (اثر) جاں بحق ہو جاتا ہے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث دم توڑ دیتا ہے۔ اس صدمے سے سرمد کی بیوی (سویرا) اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے اور بعد میں برین ٹیومر کے آخری سٹیج پر پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ashk e Nadamat By Doctor Majid

کتاب ”اشکِ ندامت“ (مصنف: ڈاکٹر ماجد) انسانی نفسیات، ندامت، گناہوں کے اثرات اور مکافاتِ عمل پر مبنی ایک سبق آموز اور عبرت ناک کہانی ہے۔ داستان کا مرکزی کردار حاجی محمد سلیم ہے، جو بظاہر معاشرے میں ایک پارسا اور محترم شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم، اس کی ماضی کی ایک بھیانک غلطی اور حرام کاری اس کی اور اس سے جڑے افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔  حاجی صاحب کی اس غلطی کے نتیجے میں ایک معصوم اور ذہنی طور پر معذور لڑکی (پکی) کی زندگی برباد ہوتی ہے، اور بعد میں ایدز (AIDS) جیسی مہلک بیماری ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ سالوں بعد جب حاجی صاحب واپس لوٹتے ہیں، تو وہ شدید جسمانی و روح فرسا بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے کیے پر سخت پشیمان ہوتے ہیں۔ کہانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان چاہے اپنے گناہوں کو دنیا سے کتنا ہی چھپا لے، لیکن مکافاتِ عمل اور ضمیر کی ندامت سے کبھی نہیں بھاگ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, August 9, 2026

Sadhvi Novel By Zahoor us Sabah Siddiqui

یہ کہانی آنیا کے گرد گھومتی ہے جو بھارت کے شہر راجستھان کے ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ جے پور کے میڈیکل کالج میں داخلہ لیتی ہے جہاں اس کی دوستی سارہ، عبداللہ (جو مسلمان ہیں) اور اکشے سے ہو جاتی ہے۔  کالج کے دوران مذہبی نظریات پر بحث کے نتیجے میں اکشے اسلام قبول کر کے اپنا نام ابوبکر رکھ لیتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس کے گھر والے اس پر شدید تشدد کرتے ہیں۔ ابوبکر کی مدد کرنے پر سارہ کے دو معصوم بھائیوں (عمر اور محمد) کو ہندو انتہا پسند ظالمانہ طریقے سے شہید کر دیتے ہیں۔  دوسری طرف، آنیا کی سہیلی پریا کو اس کے گھر والے اور جین دھرم کے پیروکار مذہبی رسم کے تحت بال نوچ کر زبردستی سنیاسن (سادھوی) بنا دیتے ہیں، جس سے اس کے تمام خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Parastar By Faheem Zaidi

یہ کہانی الماس کی ہے، جو یونیورسٹی کی ایک آزاد خیال، خود سر اور حسن پرست طالبہ ہے۔ الماس غریب مگر خوبصورت ہے اور ایک امیر شہزادے کے خواب دیکھتی ہے۔ اس کا کلاس فیلو وقار بیگ اس سے سچی محبت کرتا ہے اور باعزت طریقے سے اپنی والدہ اور بہن کے ذریعے رشتے کا پیغام بھیجتا ہے، لیکن الماس اس کے متوسط طبقے اور سادگی کا شدید مذاق اڑاتی ہے اور اسے بار بار ذلیل کر کے ٹھکرا دیتی ہے۔  یونیورسٹی میں تعبیر نامی ایک امیر اور عیاش طبع نووارد لڑکے کی آمد ہوتی ہے۔ الماس اس کے دبدبے اور دولت سے متاثر ہو کر اس کے قریب ہو جاتی ہے۔ اسی دوران الماس کی خالہ اور واحد سہارا دل کے دورے سے انتقال کر جاتی ہیں۔ خالہ کی وفات کے بعد الماس پر خالو کا ۳۰ لاکھ روپے کا قرضہ ظاہر ہوتا ہے، اور قرض خواہ گھر بیچنے کی دھمکی دیتے ہیں۔  مالی پریشانیوں اور قرض کی ادائیگی کے لیے الماس، تعبیر کے مشورے پر شو بزنس میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ تعبیر اور اس کا ڈائریکٹر دوست سکندر، جو دراصل عیاش اور شاطر طبع انسان ہیں، الماس کے حسن اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ پچاس لاکھ روپے اور فلیٹ کے عوض اسے سمجھوتے پر آمادہ کر لیتے ہیں۔ الماس شوٹنگ کے لیے لاہور منتقل ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 8, 2026

Khushiyon Ke Dareechay Khulay Novel By Fakhira Jabeen

Download Link B
 مرکزی کردار اور قربانی: یہ کہانی "نکہت" (نگی) نامی لڑکی کی بے لوث قربانیوں کے گرد گھومتی ہے۔ والد کی مفلوج حالت میں ناگہانی وفات کے بعد وہ اپنے ڈاکٹر بننے کے خواب کو قربان کر کے خاندان (اماں اور بہن بھائیوں) کا سہارا بنتی ہے۔
مسلسل جدوجہد: نگی اپنی چھوٹی بہنوں (سعدیہ، نادیہ، صبیحہ) اور بھائی (کاشف) کی تعلیم و تربیت، رشتوں اور شادیوں کی ذمہ داری نبھاتی ہے اور اپنی خوشیوں کو وقت کی قربان گاہ پر نچھاور کر دیتی ہے۔
خاندان کی بے رخی: جب ماں (نزہت بیگم) پر فالج کا حملہ ہوتا ہے، تو بھائی کاشف اور اس کی بیوی زیبا، نگی پر بوجھ ڈال کر الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، جس سے نگی شدید تنہائی اور دکھ کا شکار ہو جاتی ہے۔

Chand Mere Aangan Mein Novel By Fakhira Jabeen

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی ظہیر نعمان کے گرد گھومتی ہے جو سی اے (Chartered Accountant) بننے کے بعد اپنی دادی اور والدہ کی ضداور خواہش پر اپنے ہی خاندان میں دلہن کی تلاش کے لیے آتا ہے۔ ظہیر کے تایا اور چچا کے مختلف گھرانے ہیں؛ بڑے اور چھوٹے تایا امیر اور مغرور ہیں جبکہ چچا فیضان کا گھرانہ غریب، بے ترتیب اور بظاہر بے سلیقہ ہے۔ ظہیر کو تایا کے گھر کی لڑکیاں پسند نہیں آتیں، لیکن چچا کی بیٹی "سعدیہ" اپنی سادگی اور معصومیت سے اس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔
سعدیہ محنتی ہونے کے باوجود گھریلو سلیقے اور تربیت کی کمی کی وجہ سے اکثر پریشان رہتی ہے۔ اس کی دادی خود چچا کے گھر رہنے آتی ہیں اور محبت، حکمت اور عملی تربیت کے ذریعے سعدیہ کو گھر سنبھالنے، سلیقہ مندی اور کم وسائل میں بہترین انتظام کرنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ دادی کی زیرِ نگرانی سعدیہ کی شخصیت اور گھر دونوں میں ایک خوبصورت تبدیلی آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Musafat By Afsheen Naseem

مسافت افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک سائنس فکشن اور مافوق الفطرت ناول ہے۔ اس کی کہانی ایک باپ (سرمد اعوان) کی اپنے بیٹے (سمیر) کی محبت، ماضی کے رازوں اور "وقت کا ارتعاش" (زمان و مکان کے سفر) کے گرد گھومتی ہے۔
ماضی کا راز اور خلش: سرمد اعوان کو اپنی والدہ کی وفات کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ یتیم خانے سے گود لیا گیا تھا۔ اس خلش اور اپنے حقیقی ماضی کی تلاش میں وہ ایک نجومی (بابا زمان) تک پہنچتا ہے۔ بابا زمان اس کے ماضی کا راز افشا کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا اکلوتا بیٹا سمیر غائب ہو جائے گا۔
  بیٹے کی پراسرار گمشدگی: راولپنڈی میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران سمیر اچانک غائب ہو جاتا ہے اور وہاں صرف خون کے دھبے ملتے ہیں۔  وقت کے قاتل سے رابطہ: بابا زمان کے علم اور ایک ماہر ہیکر کی مدد سے سرمد کو معلوم ہوتا ہے کہ 1820ء کی دہائی کا معروف اسکاٹ لینڈ کا قاتل اور "باڈی اسنیچر" ولیم برک (William Burke) جدید ٹیکنالوجی اور "زمانی لہروں" (زمان کے ارتعاش) کا فائدہ اٹھا کر وقت کا سفر کر کے سمیر کو لے گیا ہے۔ 

Friday, August 7, 2026

Host By Muhammad Shakir Labana

ناول ہوسٹ از محمد شاكر لبانه ایک زولوجسٹ "شیراذب" کی کہانی ہے جو ایک خطرناک تجربے کے نتیجے میں نہ صرف اپنی زندگی بلکہ انسانیت کے لیے بھی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ کہانی میں عدیل، حماد اور احمد جیسے کردار شامل ہیں جو عدالت، بیماری، موت اور ماورائی مخلوقات کے ساتھ جڑے واقعات میں الجھتے ہیں۔ "عفریت" اور "بوست" جیسے عناصر کہانی کو سسپنس اور خوفناک رنگ دیتے ہیں۔ یہ داستان سائنسی تجربات، روحانی کشمکش اور انسانی کمزوریوں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔

Tuesday, August 4, 2026

Saleeb e Waqt By Aasnath Kanwal

یہ کہانی ایک ایسے انسان کے گرد گھومتی ہے جو ماضی کے دکھوں اور تلخ یادوں میں الجھ کر اپنے حال سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہ وقت کی سخت آزمائشوں (صلیبِ وقت) کو برادشت کرتا ہے اور اپنے جذبات و تعلقات کو بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ یہ تحریر انسان کے اندرونی کرب، صبر اور وقت کے ساتھ حالات کے سامنے ڈھلنے کا ایک مؤثر تاثر پیش کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dhundlay Rastay By Rubab Waseem

یہ کہانی ماہا کی ہے، جو ایک باہمّت، خوددار، اور آزاد خیال لڑکی ہے۔ اپنے خاندانی ماحول، روایتی سوچ اور ماضی کے ایک تلخ تجربے کی وجہ سے وہ رشتوں اور لوگوں سے خاصی محتاط رہتی ہے۔ ماہا کا رشتہ اس کے پھپھو زاد عمر سے طے کر دیا جاتا ہے، جو ایک سادہ اور دوسروں کے اثر میں آنے والا شخص ہے۔  تقریب کے دوران ماہا کی ملاقات معید سے ہوتی ہے، جو عمر کا پھپھو زاد ہے۔ معید ایک پراثر اور مضبوط شخصیت کا مالک ہے جو ماہا کی سوچ، خودداری اور بے باکی سے متاثر ہو جاتا ہے۔ جہاں عمر، ماہا کی شخصیت کو سمجھنے اور سنبھالنے میں ناکام رہتا ہے، وہیں معید اس کے جذبات اور فیصلوں کی قدر کرتا ہے۔  شادی کے بعد عمر کے ساتھ ماہا کی زندگی میں تلخیاں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ عمر نہ صرف اس پر شک کرتا ہے بلکہ اس کی آزادی پر پابندیاں بھی عائد کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ماہا اور معید کو احساس ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے صحیح سفر کے ساتھی ہیں۔ یہ ناول زندگی کے دھندلے راستوں میں صحیح سمت، رشتوں کی حقیقت اور سچی محبت کی پہچان کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔