Download Link A
Download Link B
Download Link B
ہ کہانی شانتی نگر کے جابر، مغرور اور خود پسند جاگیردار ملک جابر علی خان کے گرد گھومتی ہے، جس کا خاندان پشتوں سے اس علاقے پر حاکم ہے۔ ملک صاحب کا اصول ہے کہ جو ان کی غیر مشروط اطاعت کرے گا، اس پر دولت کی برسات ہوگی، اور جو سر اٹھائے گا، وہ کچل دیا جائے گا۔ وہ اپنے پاؤ بھر کے پالتو کتے کو صرف اس لیے نیزہ مار کر قتل کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کا "گیٹ آؤٹ" کا حکم نہیں سمجھ پاتا۔ اسی طرح وہ ایک وفادار بوڑھی بلی کو اپنے ظلم پر چیخنے کی وجہ سے مروا دیتے ہیں اور معمولی بات پر اپنی پہلی بیوی ذکیہ کے سارے زیورات آگ میں پھینک دیتے ہیں۔ گاؤں کے قبرستان پر ٹریکٹر چلا کر وہ اسے امرودوں کے باغ میں بدل دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انسانی ہڈیاں بہترین کھاد ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا پرویز انگریزی ادب کا دلدادہ تھا مگر ملک صاحب اسے زبردستی زراعت میں لے آتے ہیں۔ پرویز اور دوسرا بیٹا قدیر (جو انڈسٹریل اسٹیٹ سنبھالتا ہے) حویلی کے پرتعیش ماحول میں رہنے کے باوجود اپنے باپ کے سامنے بالکل بے بس اور "یس ڈیڈی" کہنے پر مجبور ہیں۔






