Pages

Thursday, July 30, 2026

Shikast By Safdar Ali Haidri

ہادی اور مریم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ان کا نکاح ہو چکا تھا، لیکن ہادی کی کزن نائلہ بچپن سے ہادی کو پسند کرتی تھی اور ان کے رشتے سے شدید حسد کرتی تھی। نائلہ نے اپنی منگنی کی رات ہادی کو دھوکے سے اپنے کمرے میں بلا کر چیخ و پکار کی اور اس پر عزت پر ہاتھ ڈالنے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ اس ڈرامے کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں شدید بدگمانی پھیلی اور ہادی اور مریم کا نکاح ختم ہو گیا۔ بعد میں خاندان کے دباؤ میں آکر ہادی کی شادی نائلہ سے کر دی گئی، لیکن ہادی نے نائلہ کو کبھی دل سے قبول نہ کیا اور مریم کی یاد میں ہی تڑپتا رہا۔  ہادی کا چھوٹا بھائی حمزہ اس واقعے کو مشکوک سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Harnat Imran Series By Zaheer Ahmed

پاکستان کا ایک ترقی یافتہ گاؤں سردار پور ناگہانی طور پر مکمل تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ دن کے بارہ بجنے کے باوجود وہاں سورج طلوع نہیں ہوتا اور ایسا لگتا ہے جیسے آسمان پر کوئی سیاہ چادر تان دی گئی ہو۔ علی عمران، جو ان دنوں سلیمان کے ساتھ اسی گاؤں میں چھٹیاں گزار رہا تھا، اس پراسرار واقعے سے شدید چونک اٹھتا ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر کا میڈیا اور ماہرینِ فلکیات اسے قدرتی آفت سمجھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔  ریڈ لیبارٹری کے سر داور سے رابطے پر عمران کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریکی قدرتی نہیں بلکہ ایک سائنسی سازش ہے۔ روسیاہ کے مسلمان سائنس دان سر شہاب نے خلا میں اوزون کی سطح پر گیس پھیلانے کے لیے ریز گن کی ٹیکنالوجی تیار کی تھی، لیکن ان کی اس ایجاد کو کافرستان اور روسیاہ کی خفیہ ایجنسیوں (کے جی بی) نے حاصل کر کے ایک خطرناک پاور مشین اور ریز کے ذریعے ایلمک سانگر (بلیک پائرس گیس) اور کاربن کو اوزون پر پھیلا دیا ہے تاکہ پاکستان کو آہستہ آہستہ تاریکی اور تباہی میں دھکیلا جا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Galga Mission By Aslam Rahi

روايت کے مطابق ۲۸ویں صدی قبل مسیح میں، بعلبک کے حکمران لوگل باندہ کے سابق وزیر اشلات، کیش کے جابر حکمران اتانا کے مظالم کی شکایت لے کر عراق کے شہر اریک میں بادشاہ گلگامش کے پاس پہنچتے ہیں۔ اتانا نے بعلبک پر حملہ کرکے لوگل باندہ کو قید کر دیا تھا اور اس کی حسین بیٹی اسلیم، بیٹے اریش اور اس کی منگیتر اراتا کو لبنانی ساحر انو کے حوالے کر دیا تھا، جس نے اپنے سحر سے ان کی زندگیوں کو انسانی اور حیوانی روپ (صبح و شام کی شفق سے منسلک) میں تقسیم کر دیا تھا۔ اریک کے سفر کے دوران اشلات کی ملاقات فرات کے کنارے ملاحوں کے سردار تموز سے ہوتی ہے جو اسے گلگامش کے ساتھ ساتھ اس کے طاقتور اور روحانی صفات کے حامل دوست سموقان سے مدد لینے کا مشورہ دیتا ہے۔
دوسری طرف، سردار تموز اور اس کے چرواہے جنگل کے ایک بے حد طاقتور اور وحشی انسان "ان کدو" کو اپنے ساتھ ملا کر گلگامش کو تخت سے ہٹانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان لیل مندر کی خوبصورت دیوداسی "زوستا" کو بھیجا جاتا ہے جو اپنی محبت اور حسن کے جال میں ان کدو کو رام کرکے آبادی میں لے آتی ہے۔ اریک پہنچ کر ان کدو کا مقابلہ پہلے گلگامش سے اور پھر سموقان سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Malal By Ahmed Rao

”ملال“ احمد راؤ کا لکھا ہوا ایک سسپنس، تھرل اور جذبات سے بھرپور ناول ہے، جس کی کہانی چار اہم کرداروں—براق ہشام، انسپکٹر منہا، لائلہ سلطان اور ازلان خان— کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کی شروعات براق ہشام کی جیل سے رہائی اور ایک خطرناک حادثے سے ہوتی ہے، جس کے بعد وہ مہتشم کے خفیہ گینگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ مہتشم کا مقصد براق کو جعلی پولیس کنسلٹنٹ بنا کر انسپکٹر منہا کی جاسوسی پر لگانا ہے۔ منہا ایک باہمت، نڈر اور ذہین افسر ہے جو پیچیدہ قتل کے کیسز حل کرنے میں ماہر ہے۔ براق جب پولیس کنسلٹنٹ بن کر منہا کے ساتھ کام کرتا ہے تو ان کے درمیان ایک دلچسپ اور جذباتی تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔

Farq By Kashi Chohan

یہ کہانی دو مختلف سوچ رکھنے والی دوستوں، نمرہ اور سمیرا کے گرد گھومتی ہے۔ نمرہ ایک خوددار، پریکٹیکل اور عملی سوچ کی لڑکی ہے جو زندگی میں بزنس وومن بننا چاہتی ہے اور محبت یا شادی کو اپنی آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ یونیورسٹی میں اسامہ نامی ایک معصوم اور سچا لڑکا اس سے محبت کرتا ہے، مگر نمرہ اس کی محبت اور خط کو بنا پڑھے ٹھکرا دیتی ہے۔ دوسری طرف سمیرا، اسامہ کی سچائی اور درد کو محسوس کرتی ہے اور اس کی دوست بن جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سمیرا کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ ایک خوشگوار زندگی گزارتی ہے، جبکہ اسامہ خاموشی سے غائب ہو جاتا ہے۔  نمرہ کا بزنس میں نقصان ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس کی شادی ایک امیر مگر بے پروا شخص "امتیاز" سے کر دیتے ہیں۔ امتیاز کے رویے اور بے اعتنائی کے باعث نمرہ کو شدید تنہائی اور احساسِ کمتری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, July 29, 2026

Rajpoot Mehbooba By Humayun Bilgrami

راجپوت محبوبہ، ہمایوں بلگرامی کا ایک تاریخی و رومانوی ناول ہے، جو سلطنتِ دہلی کے تغلق دور اور فیروز شاہ تغلق کے آخری ایام کے سیاسی انتشار کے پس منظر پر مبنی ہے۔ داستان کی بنیادی کردار "رجنی" ایک راجپوت دوشیزہ ہے، جس کے والد اور چچا کو تغلق فوج کے قتلِ عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کا سرپرست گو بند (حاجی برہان) انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے رجنی کو شمشیر زنی اور فنونِ حرب کی سخت تربیت دیتا ہے اور اسے مسلمانوں جیسا لب و لہجہ اپنانے کی مشق کرواتا ہے تاکہ وہ تغلق خاندان میں انتشار پھیلا کر سلطنت کو تباہ کر سکے۔اس منصوبے کے تحت رجنی، شاہی خاندان کے شہزادے ہمایوں خاں کو اپنے حسن اور بہادری سے رام کر لیتی ہے۔ بعد میں وہ ہمایوں خاں کی قاصد بن کر سلطان غیاث الدین تغلق کے محل تک رسائی حاصل کرتی ہے، جہاں محلاتی سازشوں اور ملک رکن الدین جندہ کی بغاوت کے نتیجے میں غیاث الدین کو فرار ہونا پڑتا ہے اور بعد میں چودھری کھر کو اسے قتل کر دیتا ہے۔ نئی تخت نشینی کے دوران شہزادہ ابو بکر سلطان بنتا ہے اور اس کی ملکہ صنوبر (جو دراصل رجنی کی گمشدہ چاچی اور انتقام کی پیاسی راجپوت عورت ہوتی ہے) رجنی کو اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ رجنی جو شہزادہ ہمایوں خاں کی سچی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہے، راجپوت گو بند کی سازشوں اور صنوبر کے ذاتی انتقامی منصوبوں کے درمیان اپنی محبت اور آئندہ لائحہ عمل کے تذبذب میں گھری نظر آتی ہے۔

Tere Sang e Dar Ki Talash Thi Novel By Bushra Rehman

Download Link A
Download Link B
”تیرے سنگ در کی تلاش تھی“ بشریٰ رحمن کا ایک بہترین اور روحانی پہلوؤں سے آراستہ ناول ہے۔ یہ کہانی مرکزی کردار تسبیحہ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے والد کی لاڈلی اور ذہین بیٹی ہے۔ والد کے حادثے اور وفات کے بعد وہ اپنی خواہشات کو قربان کر کے بہنوں کی ذمہ داریاں اور شادیاں مکمل کرتی ہے۔  بعد ازاں تعلیم اور جاب کے سلسلے میں لندن قیام کے دوران اس کی ملاقات عبدالکریم مدہوش نامی شخص سے ہوتی ہے جو فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی کے جال میں تسبیحہ کو پھنسا کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی کے بعد مدہوش کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے؛ وہ ایک دھوکے باز، بدمعاش اور بد طینت انسان نکلتا ہے جو تسبیحہ سے لاکھوں روپے بٹورتا ہے اور اسے ذہنی و جسمانی اذیتیں دیتا ہے۔ تین بچوں (تسمیہ، تابش اور درمان) کی پیدائش کے باوجود مدہوش کے مظالم کم نہیں ہوتے اور بالآخر وہ ایک مالی فراڈ کے بعد لندن فرار ہو جاتا ہے اور بعد میں کینسر سے دم توڑ دیتا ہے۔تسبیحہ اپنے بچوں کو محنت سے پالتی اور اعلیٰ تعلیم دلواتی ہے۔ بچوں کی شادیاں اور سیٹلمنٹ کے بعد، 60 سال کی عمر میں اس کی ملاقات عطار قادری سے ہوتی ہے۔ عطار اور تسبیحہ دونوں بچپن سے ایک ہی خواب دیکھتے آ رہے تھے اور ایک دوسرے کے خوابوں کی تعبیر ثابت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Be Dagh Novel By Nabeela Aziz

نبیلہ عزیز کا ناول "بے داغ" عزت، انا، خاندانی دباؤ اور ایک معصوم لڑکی کی بے گناہی کی کہانی ہے۔ کہانی کا آغاز زرقون نامی لڑکی کے گرد گھومتا ہے، جس پر اس کے اپنے بھائی فیاض احمد کی طرف سے بے بنیاد الزام تراشی کی جاتی ہے۔ فیاض احمد اپنے محلے میں عزت بچانے کی خاطراور اپنی سنگدلانہ انا کے تحت عزیر ہمدانی (جو ایک باشعور اور خوددار مرد ہے) کو مجبور کرتا ہے کہ وہ یا تو زرقون سے نکاح کرے یا پھر گولی کھائے۔ عزیر، زرقون کی جان بچانے اور اپنی مردانگی و انا کی خاطر اس سے نکاح کر کے اسے اپنے گھر لے آتا ہے۔  عزیر کے گھر والے (خصوصاً اس کی ماں روحانہ بیگم اور منگیتر ماریہ) اس ناگہانی شادی کو قبول نہیں کرتے اور زرقون کے ساتھ انتہائی سرد اور تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ عزیر گھر والوں کی سخت مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود زرقون کا ڈھال بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ زرقون، جو اپنی قسمت اور حالات سے ٹوٹ چکی ہے، عزیر کو پریشانی سے بچانے کے لیے طلاق کی پیشکش بھی کرتی ہے، لیکن عزیر ایک بااصول مرد کی طرح اس کی بے گناہی اور پاک دامنی پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, July 28, 2026

Buzdil By Iffat Mohani

"بزدل" عفت موہانی کا تحریر کردہ ایک معاشرتی و جذباتی اردو ناول ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار تاجدار ایک یونیورسٹی پروفیسر ہے، جو اپنے سخت گیر باپ عباد الرحمن کی پابندیوں اور سخت طبیعت کی وجہ سے احساسِ کمتری اور تنہائی کا شکار ہے۔ ایک تقریب میں اس کی ملاقات جج الطاف حسین کی بیٹی جیسمین سے ہوتی ہے۔ جج صاحب کی ذہنی حالت اور خاندانی حالات کی وجہ سے جیسمین بھی تنہائی اور غم کا شکار ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور یونیورسٹی کے ڈرامے "پروانہ" میں شہزادہ سلیم اور انارکلی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک دوسرے کے اور قریب آ جاتے ہیں۔ تاہم، داستان میں شہناز تقی کی یکطرفہ محبت، خاندانی الجھنوں اور تاجدار کی اندرونی بزدلی و جذبات کی شدت کے باعث پیچیدگیاں اور جذباتی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔  

Sunday, July 26, 2026

Rumi Ke Des Mein By Kokab Khwaja

یہ سفرنامہ کوکب خواجہ کا ترکی (استنبول) کا ایک دلکش احوال ہے۔ وہ ایک نفسیاتی کونسلنگ ورکشاپ کے سلسلے میں لاہور سے استنبول جاتی ہیں اور ترکی کے خوبصورت مناظر، تاریخی مقامات جیسے احیاء صوفیہ، توپ کاپی محل، اور باسفورس کی سیر کا احوال بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے ترکش ثقافت، لذیذ کھانوں، ڈرائیونگ و صفائی کے اعلیٰ معیار، اور صوفیانہ رقص (سماع) کی روحانی کیفتیوں کا بہت خوبصورت اور اثر انگیز نقشہ کھینچا ہے۔  

Friday, July 24, 2026

Dastango Novel By Muhammad Zulqarnain Khan

یہ کہانی ایک مشہور شاطر بہروپیے "جگن میاں" (جو داستان گو کاظم علی کے روپ میں بھی سامنے آتا ہے) اور برٹش کاؤنٹر انٹیلی جنس کے چالاک اہلکار "نواب خان" کے گرد گھومتی ہے۔ کاظم علی داستان گوئی کے بہانے لوگوں میں تجسس پیدا کرتا ہے اور درپردہ انگریزوں، نوابوں اور ظالم مہاجنوں کو لوٹتا ہے۔ نواب خان، جو پہلے کاظم علی کا مداح تھا، بعد میں اس کی اصل حقیقت جان جاتا ہے۔
کہانی میں پیش آنے والے اہم موڑ:
ہوشیارانہ ڈکیتی: جگن میاں سادھو، وکیل اور سپاہی کے بھیس بدل کر گاؤں والوں اور لالہ کرپارام جیسے ظالم مہاجنوں سے سونا اور ہیرے لوٹتا ہے۔
جنگل اور ڈاکوؤں کی قید: نواب خان اور جگن میاں ڈاکو کالے خان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ کالے خان کی پراسرار موت کے بعد جگن میاں اپنی شاطرانہ چالوں سے نئے سردار "لالی" اور ڈاکوؤں کے گروہ کو ایک جعلی نقشے اور خزانے کے لالچ میں الجھا کر ان میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔
خطرناک فرار: نواب خان اور جگن میاں مل کر لالی اور ڈاکوؤں کو بیوقوف بناتے ہیں اور ایک خونریز معرکے کے بعد جنگل سے فرار ہو جاتے ہیں۔

Tawaan By Iffat Mohani

"تاوان" اردو کی معروف مصنفہ عفت موہانی کا تحریر کردہ ایک بیدار کن معاشرتی اور جذباتی ناول ہے۔ اس ناول کا مرکزی موضوع خاندانی اقدار، انسانی رشتوں کی نزاکت اور معاشرتی ناانصافیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کی جدوجہد ہے۔ کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے جسے اپنوں کی غلطیوں، تلخ رویوں اور خاندانی فیصلوں کی قیمت یعنی "تاوان" ادا کرنا پڑتا ہے。 عفت موہانی نے اپنے رواں اور سادہ اسلوبِ تحریر کے ذریعے عورت کی عزتِ نفس، صابرانہ جدوجہد اور جذباتی کشمکش کو انتہائی عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ناول یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کے نازک موڑ پر صبر، حوصلے اور وقار کو برقرار رکھ کر ہی مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

Sunday, July 19, 2026

Emergency By Siddique Salik

Download Link A
Download Link B
ہ کہانی شانتی نگر کے جابر، مغرور اور خود پسند جاگیردار ملک جابر علی خان کے گرد گھومتی ہے، جس کا خاندان پشتوں سے اس علاقے پر حاکم ہے۔ ملک صاحب کا اصول ہے کہ جو ان کی غیر مشروط اطاعت کرے گا، اس پر دولت کی برسات ہوگی، اور جو سر اٹھائے گا، وہ کچل دیا جائے گا۔ وہ اپنے پاؤ بھر کے پالتو کتے کو صرف اس لیے نیزہ مار کر قتل کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کا "گیٹ آؤٹ" کا حکم نہیں سمجھ پاتا۔ اسی طرح وہ ایک وفادار بوڑھی بلی کو اپنے ظلم پر چیخنے کی وجہ سے مروا دیتے ہیں اور معمولی بات پر اپنی پہلی بیوی ذکیہ کے سارے زیورات آگ میں پھینک دیتے ہیں۔ گاؤں کے قبرستان پر ٹریکٹر چلا کر وہ اسے امرودوں کے باغ میں بدل دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انسانی ہڈیاں بہترین کھاد ہیں۔  ان کا بڑا بیٹا پرویز انگریزی ادب کا دلدادہ تھا مگر ملک صاحب اسے زبردستی زراعت میں لے آتے ہیں۔ پرویز اور دوسرا بیٹا قدیر (جو انڈسٹریل اسٹیٹ سنبھالتا ہے) حویلی کے پرتعیش ماحول میں رہنے کے باوجود اپنے باپ کے سامنے بالکل بے بس اور "یس ڈیڈی" کہنے پر مجبور ہیں۔  

Aina Ka Raaz By Muhammad Saleem

Download Link B
"آئینہ کا راز" محمد سلیم (گجرانوالہ) کا تحریر کردہ ایک انتہائی سسپنس، پراسرار اور مافوق الفطرت (Supernatural) کہانی پر مبنی شاہکار ہے۔  کہانی کا آغاز ایک رپورٹر سے ہوتا ہے جو سڑک پر ایک عجیب الخلقت کبڑے شخص (جمیل) کو ٹریفک حادثے کا شکار ہوتے دیکھتا ہے اور اسے مینٹل اسپتال پہنچاتا ہے۔ وہاں ڈاکٹر مظفر اس انوکھے کیس کا راز فاش کرتے ہیں۔ جمیل ایک بدصورت نوجوان تھا جسے فاخرہ نامی ایک انتہائی مغرور، خوبصورت اور سنگدل امیر لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ فاخرہ اور اس کے دوست جمیل کا شدید مذاق اڑاتے ہیں، اسے ذلیل کرتے ہیں اور پولیس (اپنے شوہر ڈی ایس پی اکبر خان) کے ذریعے اس پر بدترین تشدد کرواتے ہیں تاکہ وہ اس کا پیچھا چھوڑ دے۔  

Shama Jalti Rahi By Noman Ishaq

یہ کہانی شمع نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور گھریلو کام کاج سے بیزار ہو کر ایک امیر اور پرآسائش زندگی کے خواب دیکھتی ہے۔ شمع کا پڑوسی سعد اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کا رشتہ بھیجتا ہے، لیکن شمع اپنی مادی خواہشات اور امیر ہونے کی چاہ میں اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔ کہانی میں ایک بڑا موڑ تب آتا ہے جب شمع کی بہن پاکیزہ اچانک واشنگ مشین سے کرنٹ لگنے کے باعث انتقال کر جاتی ہے، جس سے پورے گھر پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ والد عبد الرحمن کے سمجھانے پر شمع بالآخر سعد سے شادی کے لیے رضامند ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد سعد اپنی فیکٹری کی ملازمت میں شمع کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، لیکن جب شمع کو فیکٹری کی مالکن 'سونیا' کی سعد میں دلچسپی کا علم ہوتا ہے تو اس کے اندر حسد اور پچھتاوا جاگ اٹھتا ہے۔ دوسری طرف فیصل نامی نوجوان کی کالج لائف اور مسجد میں 'جی ایم' نامی شخص سے ملاقات کے احوال بھی کہانی کا حصہ ہیں۔ یہ ناول مادی خواہشات، خلوصِ محبت، تقدیر کے فیصلوں اور انسانی احساسات کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔

Aur Aik Nishani Raat Hai By Professor Khurshid Ahmed

پروفیسر خورشید احمد اپنے اس مضمون میں کائنات کے نظام اور گردشِ لیل و نہار (دن اور رات کے بدلنے) کو انسانی زندگی کے اخلاقی اور عملی پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق، جس طرح دن ایک سچائی ہے، اسی طرح رات بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ کائنات کی ہر تبدیلی انسان کے لیے ایک چیلنج اور آزمائش کا نیا باب کھولتی ہے، جس سے انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا چلتا ہے۔  قرآنِ کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دن رات کے الٹ پھیر کو محض ایک روزمرہ کا معمول سمجھ کر غفلت سے نہ گزر جائے، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما دستِ قدرت اور بصیرت کو تلاش کرے۔ رات صرف اندھیرا نہیں، بلکہ ایک لباس ہے جو انسان کو آرام و سکون فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اگلی صبح کے نئے چیلنجز کے لیے نئی توانائی حاصل کر سکے۔  مصنف کے مطابق، رات معاشرے میں دو قسم کے کرداروں کو نمایاں کرتی ہے: ایک وہ جو اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر جرائم اور فسادِ فی الارض میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور دوسرے وہ خدا پرست لوگ جو رات کو روح کے محاسبے، عبادت، تہجد اور دعا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کے لیے حالات کی تبدیلیاں (خوشی یا غم، بلندی یا پستی) عارضی ہوتی ہیں؛ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی حالات کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔ یہ مضمون انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness) پیدا کرنے اور ہر لمحہ اپنے مقصدِ حیات پر نظر رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔  

Friday, July 17, 2026

Adhoora Pan Urdu Novel By Basit Bin Mazhar

ناول کا آغاز ۲۱ جولائی ۲۰۱۶ء کی ایک خوشگوار اور بارانی شام سے ہوتا ہے، جہاں عائشہ اپنے گھر کے لان میں چائے پی رہی ہے。 عائشہ، جو شادی کے بعد لندن منتقل ہو چکی ہے، حال ہی میں سوات سے لاہور اپنے مائیکے آئی ہے۔ وہ اپنی والدہ کو تسلی دیتی ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی موسیٰ (عمر ۱۸ برس) اور اس کا قریبی دوست اسماعیل کالج کے بعد کرکٹ میچ کی وجہ سے دیر سے لوٹیں گے۔ موسیٰ اور اسماعیل گہرے دوست ہیں اور اسماعیل موسیٰ کی ضد پر حال ہی میں ان کے گھر شفٹ ہوا ہے۔ میچ ہارنے کی وجہ سے دونوں دوستوں میں ناراضی ہو جاتی ہے، لیکن موسیٰ کی بڑی بہن آیت (عمر ۲۱ برس)، جو سوات سے آئی ہے، پیار اور حکمتِ عملی سے موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا کر دیتی ہے اور سب ہنسی خوشی کھانا کھاتے ہیں。 رات کو آیت کی دادی اس سے سوات کے حالات، اس کے والد شاہد (جو پاک آرمی میں اپنے فرائض کی وجہ سے گھر کو کم وقت دے پاتے ہیں) اور حامد انکل کے ساتھ پرانی یادوں کا ذکر کرتی ہیں。 اگلے دن اسماعیل کے مشورے پر آیت دونوں کو کافی شاپ لے جانے کا وعدہ کرتی ہے۔  اس کے بعد کہانی ماضی اور لندن کے پس منظر میں منتقل ہوتی ہے جہاں آیت (عمر ۲۴ برس) اور منان عرف مانی (عمر ۲۲ برس) کی ملاقات ہوتی ہے。 منان، جس کے نانا کا کاروبار لندن میں ہے اور والدہ برطانوی نژاد ہیں، مانی ریسٹورنٹ چلاتا ہے۔ وہ سڑک پر اداس بیٹھی آیت کو دیکھ کر اس کی مدد کرنا چاہتا ہے، لیکن آیت شروع میں اس کی ظاہری شکل کا مذاق اڑاتی ہے اور اسے سخت سست سناتی ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ منان کی مخلصانہ کوششوں سے دونوں میں گہری دوستی ہو جاتی ہے。 منان دراصل اپنے دوست سانول کے کہنے پر آیت کی ادھوری کہانی جاننے کی کوشش کر رہا ہے。

Wednesday, July 15, 2026

Aaj Ka Mughal e Azam Novel By Rana Zahid Hussain

"آج کا مغل اعظم" رانا زاہد حسین کا تحریر کردہ ایک انتہائی دلچسپ، طنز و مزاح سے بھرپور اور پیروڈی ناول ہے۔ اس کہانی میں مغل دور کے مشہور تاریخی کرداروں (اکبر، جودھا بائی، شہزادہ سلیم، بیربل، ملا دو پیازہ اور انار کلی) کو اکیسویں صدی کے جدید ماحول میں پیش کیا گیا ہے۔  کہانی کا آغاز مغل دربار سے ہوتا ہے جہاں شہنشاہ اکبر روایتی امور چلانے کے بجائے کیبل پر فلمیں دیکھنے، لوڈ شیڈنگ سے تنگ آنے، اور موبائل فون پر بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے مس کالیں دینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انار کلی موبائل فون پر اکبر کو چھیڑتی ہے جبکہ ملکہ جودھا بائی ایک گھریلو اور سیاسی بیوی کی طرح اکبر کے نخرے اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے کان کھینچتی رہتی ہیں۔ دوسری طرف، شہزادہ سلیم اپنے پیارے ہرن "ہنس راج" کی موت پر نوحہ کناں ہے اور اس کی یاد میں ہرن مینار بنا کر وہاں جدید دور کے مطابق فش فارمنگ جیسے مشورے سنتا ہے۔دربار کے چالاک مشیر بیربل اور ملا دو پیازہ جدید دور کے ٹیکسوں، عدالتی نظام، میڈیا اسکینڈلز اور کرپشن پر طنز کرتے ہیں۔ دلارام، جو انار کلی اور سلیم کے افیئر سے جلتی ہے، ان کی ایک خفیہ ویڈیو بنا کر ٹی وی چینل کو پندرہ لاکھ روپے میں بیچ دیتی ہے، مگر سلیم چالاکی سے اس نمائندے کو پچیس لاکھ دے کر وہ ویڈیو ڈیلیٹ کروا دیتا ہے۔ آخر میں، سلیم میدانِ جنگ (پانی پت) جانے کے بجائے اپنے دوست کے گھر ایل ای ڈی پر فلم مغل اعظم کے جنگی سین چلا کر اکبر کو فون پر ہاتھیوں گھوڑوں کی آوازیں سناتا ہے اور فتح کا جھوٹا دعویٰ کر دیتا ہے۔ یہ ناول مغل مریم و عذرا کے کلاسک تانے بانے کو جدید دور کے مسائل، سوشل میڈیا، واٹس ایپ، اور کورونا لاک ڈاؤن کے طنزیہ تناظر میں نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔

Tuesday, July 14, 2026

Kaffara By Iqbal Kazmi

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی معاشرے کے ایسے تلخ رویوں اور حالات کی عکاسی کرتی ہے جو ایک عام انسان کو جرائم کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار (رونی) پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی سعید کو ایک بڑی خفیہ اطلاع دیتا ہے کہ ہیروئن کا ایک بہت بڑا سمگلر، ملک شہاب، پشاور سے لاہور کے راستے ایک ٹرک کے ذریعے بھاری مقدار میں ہیروئن سمگل کر رہا ہے۔ ملک شہاب نے ماضی میں رونی کو ذلیل کیا تھا اور اب وہ اسے ایک سازش کے تحت سندھ کی حدود میں دو کلو ہیروئن کے ساتھ پولیس سے گرفتار کروانا چاہتا تھا، جس کا علم رونی کو اپنے دوست پھجے کے ذریعے ہوتا ہے۔ رونی اس سازش کا بدلہ لینے اور ہیروئن کی اس بڑی کھیپ کو ضائع کرانے کے لیے ایس پی سعید اور اپنے وکیل عابد رحمان کی مدد لیتا ہے۔
اسی دوران، رونی اپنے تعاقب کاروں (موت کے فرشتوں) سے بچتے ہوئے گلبرگ کے ایک بڑے بنگلے میں پناہ لیتا ہے۔ وہاں اسے ایک سنسان رات میں ایک عورت کی خوفناک چیخیں سنائی دیتی ہیں اور وہ ایک مرد اور عورت کو کار میں وہاں سے فرار ہوتے دیکھتا ہے۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب وہ بنگلے کے اندر داخل ہوتا ہے تو اسے وہاں چوکیدار کی لاش ملتی ہے اور بیڈ روم کی الماری سے ایک حسین چالیس سالہ عورت کی لاش برآمد ہوتی ہے جسے گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ رونی اس لاش کے گلے سے سونے کا ایک پراسرار لاکٹ اتار لیتا ہے جس کے اندر تصویر کے بجائے ہندسوں پر مشتمل ایک خفیہ کاغذ تہہ کیا ہوا تھا۔ رونی اس لاش کے پاس موجود ڈریسنگ ٹیبل سے کروڑوں روپے کے زیورات، نقد رقم اور جرمن لوگر پستول اپنے بیگ میں بھر لیتا ہے اور وہاں کھڑی ہونڈا کار چرا کر فرار ہو جاتا ہے اور آخر کار اپنے ایک خفیہ اڈے پر پہنچتا ہے جہاں چاچا خیر دین مقیم ہے۔ یہ ناول تجسس، جرم، انتقام اور معاشرتی بے حسی کے گرد گھومتا ہے۔

Dehshat Gard By Iqbal Kazmi

یہ کہانی کراچی شہر میں پھیلی بدامنی، دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کے گرد گھومتی ہے. کہانی کا مرکزی کردار سب انسپکٹر شجاعت علی ہے، جو ایک اصول پسند اور ایماندار پولیس افسر ہے. وہ اور اس کا جگری دوست اے ایس آئی حامد حسن شہر کو جرائم سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں.  ایک خفیہ اطلاع پر حامد حسن بلوچستان سے آنے والے اسلحہ سے لادے ٹرک کی نگرانی کے لیے حب کے ویرانے میں جاتا ہے تاکہ اس مکروہ دھندے کے سرغنہ "نوری خالد" کے خفیہ ٹھکانے کا پتہ لگا سکے. تاہم، حامد حسن نوری خالد کے آدمیوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اس پر بدترین تشدد کر کے اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں. شجاعت علی کو ایک جھوٹی کال کے ذریعے وہاں بلایا جاتا ہے. وہ جب وہاں پہنچتا ہے تو حامد دم توڑ دیتا ہے.  وہاں شجاعت کا سامنا تین مشکوک افراد (شہباز عامر، گل فراز اور شبینہ) سے ہوتا ہے جو نوری خالد کے کارندے نکلتے ہیں. وہ شجاعت کو بھی قابو کر لیتے ہیں. تاہم، شبینہ خفیہ طور پر شجاعت کو ایک چاقو دے کر اس کی مدد کرتی ہے. شجاعت بہادری سے لڑتے ہوئے گل فراز کو ہلاک اور شہباز عامر کو گرفتار کر لیتا ہے، جبکہ شبینہ گاڑی لے کر فرار ہو جاتی ہے.تھانے لانے کے بعد، شبینہ بھیس بدل کر حوالات میں بند شہباز عامر سے ملتی ہے اور اسے زہریلا کیپسول دے دیتی ہے جس سے وہ خودکشی کر لیتا ہے تاکہ راز فاش نہ ہوں. اگلی صبح شجاعت پر قاتلانہ حملہ بھی ہوتا ہے جس میں وہ بال بال بچتا ہے. حامد حسن کی دردناک موت اور مجرم کی خودکشی کے باوجود شجاعت علی کا عزم کمزور نہیں ہوتا اور وہ نوری خالد جیسے موت کے سوداگروں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے.

Sunday, July 12, 2026

Azm By Abdul Ahad

مہر اور حسام کی کشمکش: مہر ایک امیر بزنس مین عبد اللہ سلطان کی بیٹی ہے، جس کی ازدواجی زندگی اس کے سابقہ شوہر حسام کی منشیات کی لت اور اسمگلنگ کی وجہ سے تباہ ہو گئی. حسام لندن کے بحالی مرکز (ریہیب) سے صحت یاب ہو کر واپس لوٹا ہے اور اپنی چار سالہ بیٹی عنایہ سے ملنے کے لیے تڑپ رہا ہے، مگر مہر ماضی کی تلخیوں کی وجہ سے اسے عنایہ سے دور رکھتی ہے.  مناج طارق (وکیل): حسام اپنی بیٹی کو پانے کے لیے مناج طارق نامی ایک انتہائی ذہین، مگر جذبات سے عاری اور مشینی انداز رکھنے والی وکیل کی خدمات حاصل کرتا ہے. مناج کیس جیتنے کے لیے عدالت میں مہر کی کردار کشی اور اسے ذہنی مریض ثابت کرنے جیسے کٹھور حربے تجویز کرتی ہے. مہر اس کے مقابلے کے لیے ولید سومرو کو وکیل مقرر کرتی ہے.........

Aankh Ka Taara By Tahir Javed Mughal

طاہر جاوید مغل کی تحریر کردہ کہانی "آنکھ کا تارا" ایک جذباتی اور نفسیاتی کہانی ہے جو 75 سالہ گھریلو ملازم امیر علی کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ کہانی کے مطابق، میاں عادل کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ زینت بیگم عادل منزل چھوڑ کر اپنے بیٹے حمزہ کے ساتھ ڈیفنس شفٹ نہیں ہونا چاہتی تھیں کیونکہ اس عمارت سے ان کی 50 سالہ یادیں وابستہ تھیں۔ ایک خود پسند انجینئر اشفاق چودھری نے نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے عادل منزل کی آہستہ آہستہ اس طرح مرمت و آرائش (Renovation) کی کہ اس کا پرانا خاکہ اور یادگار خدوخال بالکل بدل گئے۔ جب عمارت کی کایا پلٹ گئی تو زینت بیگم کا ماضی کا سحر ٹوٹ گیا اور وہ وہاں سے جانے پر راضی ہو گئیں۔ اشفاق چودھری اسے اپنی ذہانت کی کامیابی سمجھ رہا تھا، لیکن حقیقت سے بے خبر تھا۔ اصل سچائی صرف بوڑھا نوکر امیر علی جانتا تھا کہ زینت بیگم کی آنکھ کا تارا عادل منزل نہیں بلکہ پڑوس میں واقع "ترابی ہاؤس" تھا................

Aanchal Digest May 2005

 

ڈائجسٹ کا یہ مئی 2005 کا شمارہ ادبی، سماجی اور جذباتی تحریروں کا ایک خوب صورت مجموعہ ہے。 ابتدائیہ میں مدیرہ نے معروف ادیبہ سلمیٰ کنول کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور قارئین سے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی درخواست کی ہے。 مستقل سلسلوں میں "دانش کدہ" کے تحت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی کا ایک فکر انگیز اور اصلاحی مضمون "تسکینِ قلوب" شامل ہے، جو انسان کی روحانی و ایمانی پرورش، ضعیفی کے لمحات اور اعمالِ باطنی (صبر، شکر، استغفار) کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے。 "ہمارا آنچل" میں قارئین کے تفصیلی تعارف اور خطوط شامل ہیں。 خط و کتابت کے سلسلے "سرگوشیاں" میں مدیرہ نے قارئین کے سوالات اور ادبی آراء کے جوابات دیے ہیں。 اس کے علاوہ شمارے میں خوب صورت حمد، نعت، غزلیں اور سلسلہ وار ناول بھی شامل ہیں。 فصیحہ آصف خان کا ناول "گلاب راہوں میں قدم" ایک جذباتی کہانی ہے جس میں خاندانی رویوں، محبت کی مشکلات اور اپنوں کی بے رخی کو موضوع بنایا گیا ہے。 مجموعی طور پر یہ شمارہ تفریح، اصلاح اور بہترین اردو ادب کا عکاس ہے。  

Aakhir e Shab Novel By Aqeela Hashmi

یہ کہانی سرد موسم اور بارش کے بعد کے ایک خوشگوار مگر خنک دن سے شروع ہوتی ہے، جہاں سروری بیگم (اماں بی) اپنے بڑے سے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے شوہر مظفر صاحب اور بیٹے اپنے کاموں پر جا چکے ہیں، اور گھر میں بہوئیں (زینت اور فردوس) اور پرانی ملازمہ وفاتن موجود ہیں۔ وفاتن کام چور ہے لیکن اپنی باتوں سے سب کا دل جیت لیتی ہے۔ گھر میں ان کے پوتے سجاد اور پوتی ماہ جبیں بھی ہیں۔ ماہ جبیں اور سجاد کے درمیان ایک خاموش محبت کا رشتہ پروان چڑھ رہا ہے، جس پر اس کی سہیلیوں کی طرف سے جملے بھی کسے جاتے ہیں۔  دوسری طرف، سروری بیگم کے بھائی مظہر میاں اور ان کی اہلیہ ظہورن بیگم کی بیٹی گلشن کا رشتہ مظفر صاحب کے چھوٹے بیٹے سالار سے بچپن میں طے ہوا تھا۔ سالار فوج میں بھرتی ہو کر عالمی جنگ کا حصہ بننے کے لیے برٹش آرمی کے ساتھ سمندر پار محاذ (برما) پر چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی شادی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ دو سال تک سالار کا کوئی خط نہ آنے پر ظہورن بیگم بدگمانی کا شکار رہتی ہیں اور اپنی بیٹی کے نصیب کو روتی ہیں، جبکہ گلشن سالار کی یاد میں خط لکھتی رہتی ہے۔ بعد میں کرنل ڈیوڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ سالار خیریت سے ہے، جس پر شادی کی تیاریاں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں۔ ظہورن بیگم کا اکلوتا بیٹا بابر علی کوئی کام نہیں کرتا اور سارا دن کبوتر اڑاتا رہتا ہے، جس کی شادی خورشید سے ہوئی ہے۔  

Sunday, July 5, 2026

Hazrat Mian Sher Muhammad Sharaqpuri By Professor Khalid Pervaiz

یہ مضمون برصغیر پاک و ہند کے عظیم ولیِ کامل حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کی حیاتِ مبارکہ، اخلاقی تعلیمات اور ان کی زندگی سے وابستہ سچے ایمان افروز واقعات پر روشنی ڈالتا ہے۔  ولادت اور بچپن کی خصوصیت: آپ کی ولادت 1866ء میں شرقپور (ضلع شیخوپورہ) کے ایک پرہیزگار گھرانے میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کی ذات میں ولایت کے آثار نمایاں تھے، یہاں تک کہ شیر خواری کے زمانے میں بھی آپ عام بچوں کی طرح روتے نہیں تھے۔ آپ کے استادِ مکرم مولانا غلام رسول نے مکتب ہی کے زمانے میں آپ کے چہرے پر خوفِ خدا، عشقِ الٰہی اور استغراقی کیفیت کو بھانپ لیا تھا اور پیشگوئی کی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر دہر کا ولیِ کامل بنے گا۔  شرم و حیا کا پیکر: میاں صاحبؒ بے پناہ شرم و حیا کے مالک تھے اور محلے کی خواتین کے بے پردہ بیٹھنے کی عادت کی وجہ سے خود چادر اوڑھ کر یا منہ چھپا کر باہر نکلتے تھے، تاکہ کسی غیر محرم پر نگاہ نہ پڑے۔ بعد میں آپ کی اس پاکیزہ روش نے پورے محلے میں پردے کی خوبصورت روایت قائم کر دی۔  کرامات اور عاجزی: آپ مستجاب الدعوات (جن کی دعا فوراً قبول ہو) کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ مضمون میں آپ کے کئی واقعات کا ذکر ہے؛ جیسے ایک سکھ نوجوان کو کلمہ پڑھا کر دائرۂ اسلام میں داخل کرنا، اپنے ایک مرید کے گھر غائبانہ جا کر کوڑا کرکٹ خود صاف کرنا، اور ایک مغرور سکھ تھانیدار کو اس کی بدتمیزی پر تنبیہ کرنا (جس کے بعد تھانیدار کا گھر چوری ہو گیا اور اس نے معافی مانگی)۔