Pages

Tuesday, August 11, 2026

Barf Mein Aag By Mohan Charaghi

Download Link A
Download Link B
کتاب ”برف میں آگ“ معروف صحافی اور مصنف موہن چراغی کی تحریر کردہ ایک سیاسی آپ بیتی اور چشم دید احوال ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں 1953ء میں شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری سے لے کر بعد کے ادوار (بخشی غلام محمد، غلام محمد صادق، اور سید میر قاسم کا دور) تک کشمیر کی سیاسی تاریخ، بدعنوانی، اور سازشوں کا بے باک تجزیہ کیا ہے۔
انہوں نے کمیونسٹ تحریک، ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس (DNC) کے قیام اور اس کے خاتمے، موئے شریف کی چوری اور بحالی کے واقعات، اور کشمیری پنڈتوں کی صورت حال کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مصنف کے مطابق یہ کتاب کسی پر کیچڑ اچھالنے کے لیے نہیں بلکہ وادی کی سیاہ اور تلخ سیاسی حقیقتوں سے پردہ اٹھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔

Phool Magazine August 2024

Download Link A
Download Link B
"پھول میگزین اگست 2024" کا یہ شمارہ زیادہ تر فلسطین کے حالات، آزادی کی جدوجہد، اور پاکستان کے عوامی جذبات پر مبنی ہے۔ اس میں مختلف مضامین، شاعری، اور اداریے شامل ہیں جو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ میگزین میں آزادیٔ پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے بھی تحریریں موجود ہیں۔ قارئین کو مذہبی، ادبی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والے مضامین کے ساتھ ساتھ فلسطین کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تجزیے بھی پیش کیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zareen Panna Ki Yaadein By Farzana Chaudhary

Download Link A
Download Link B
"زریں پنا کی یادیں" فرزانہ چوہدری کا تحریر کردہ ایک تفصیلی انٹرویو و تحریری سلسلہ ہے جس میں پاکستان کی نامور کلاسیکل کتھک رقاصہ اور اداکارہ زریں پنا (اصل نام قمر پروین) کی زندگی، فن اور تجربات کو قلمبند کیا گیا ہے۔  فن اور ابتدائی سفر: زریں پنا نے 1950ء کی دہائی میں انتہائی کم عمری سے کلاسیکل رقص کی تربیت حاصل کی اور اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے سخت ریاضت اور محنت کے ذریعے کتھک رقص میں بین الاقوامی سطح پر نام بنایا۔  عالمی شخصیات کے سامنے مظاہرہ: انہوں نے دنیا بھر کے حکمرانوں، بادشاہوں اور اہم سیاسی شخصیات کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ جن میں ذوالفقار علی بھٹو، ملک فیروز خان نون، افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ، شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی، امریکی صدر آئزن ہاور، اور صدر ایوب خان شامل ہیں۔  فلمی کیریئر اور تعلقات: انہوں نے لالی ووڈ کی متعدد فلموں میں بھی کام کیا۔ انٹرویو میں انہوں نے اپنے دور کے فنکاروں اور شخصیات مثلاً آغا طالش، زیبا، زمرد، شاہد، فیض احمد فیض، اور سید سلیمان سے متعلق دلچسپ واقعات اور یادیں شیئر کیں۔  زندگی کی تلخیاں اور عزم: زریں پنا نے اپنی شخصی زندگی کے مشکل ادوار، حادثات اور بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے عزم، خودداری اور مذہب سے لگاؤ کا اظہار کیا ہے۔  

Pakistan Sunday Magazine 8 August 2024

Download Link A
Download Link B
یومِ آزادی پاکستان: میگزین میں 14 اگست کے حوالے سے خصوصی مضامین شامل ہیں، جن میں تحریکِ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔  ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی: پیرس اولمپکس 2024ء میں جیولن تھرو کے مقابلے میں 92.97 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ نیا اولمپک ریکارڈ قائم کرنے اور پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے پر خصوصی رپورٹ۔  بنگلہ دیش کے سیاسی حالات: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے، طلبہ تحریک اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت کا تفصیلی جائزہ۔  حضرت داتا گنج بخش (رح): حضرت شیخ علی ہجویری معروف بہ داتا گنج بخش کے عرس، ان کی حیات، روحانی تعلیمات اور تصنیف "کشف المحجوب" کی اہمیت پر مضمون۔  

Hazrat Abu Al Hassan Kharqani By Professor Khalid Pervaiz

Download Link A
Download Link B
محمود غزنوی کا امتحان اور عقیدت: محمود غزنوی سومنات کی مہم میں کامیابی کے لیے حضرت ابو الحسن خرقانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابتدا میں اس نے لباس بدل کر امتحان لینا چاہا، مگر حضرت خرقانی نے فراست سے اسے پہچان لیا اور اشرفیاں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
  فتح سومنات کے لیے دعا: سلطان کی عاجزی اور التجا پر حضرت نے فتح کی بشارت اور اپنا پیراہن مبارک عطا کیا۔ جنگ کے دوران اس پیراہن کے وسیلے سے سلطان کو عظیم فتح حاصل ہوئی۔ 
حضرت بایزید بسطامیؒ سے روحانی تعلق: حضرت بایزید بسطامیؒ نے اپنے وصال سے سالوں پہلے ہی حضرت خرقانی کی ولادت، نام اور بلند روحانی مقام کی پیشگوئی فرمائی تھی۔سائلین اور نامور شخصیات کی آمد: شیخ الرئیس بو علی سینا اور شیخ ابو سعید ابوالخیر جیسی عظیم شخصیات نے آپ کی بارگاہ میں حاضری دی۔ بو علی سینا آپ کی کرامات اور علمی و روحانی مرتبے کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔
علمِ لدنی اور قرآنی معارف: آپ بظاہر ان پڑھ اور کاشتکار تھے، مگر اللہ تعالی کے فضل سے آپ پر تمام علومِ شریعہ، قرآن و حدیث کے اسرار اور علمِ لدنی کے تمام معارف خود بخود ظاہر ہو گئے

Express Sunday Magazine 8 August 2024

Download Link A
Download Link B
روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین (8 اگست 2024ء) میں مختلف سیاسی، تاریخی، مذہبی اور ادبی مضامین شامل ہیں:  سیاسی و تاریخی حقائق: احتشام ارشد نظامی کا انٹرویو، جس میں 1971ء کے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصور پاکستانیوں کے مسائل، غیر بنگالیوں کی اجتماعی قبروں اور ان کی زبوں حالی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔  بنگلہ دیشی سیاست و بھارتی پروپیگنڈا: حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور عوامی احتجاج کے بعد بھارتی میڈیا کی طرف سے پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف کیے جانے والے شرانگیز پروپیگنڈے کا تجزیہ۔  سیرت و اسلامی تاریخ: حضرت بلال بن رباحؓ کی حیاتِ طیبہ، رسول اللہ ﷺ سے ان کی بے مثال محبت، اذانِ بلال اور ان کی خدمات و قربانیوں کا تذکرہ۔  قرآنی علوم: دارالسلام کی شائع کردہ کتاب "اسٹڈی دی نوبل قرآن" کا تعارف، جو انگریزی تراجم میں کلر کوڈڈ اور لفظ بہ لفظ ترجمے کے ساتھ ایک شاہکار اضافہ ہے۔  

Monday, August 10, 2026

Gaon Wali By Aasia Razzaqi

یہ کہانی ایک شہری نوجوان اور دیہاتی لڑکی کی شادی اور ان کے درمیان کے مختلف ماحول کی کہانی ہے۔ شروع میں شوہر اپنی دیہاتی بیوی کے سادہ اور غیر ترقیافتہ انداز پر ناخوش ہوتا ہے اور دوسری شہری شادی کا سوچتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ اسے بیوی کی محنت، معصومیت، گھر کی دیکھ بھال اور خاندان کے لیے قربانیوں کا احساس ہوتا ہے۔ آخر کار وہ اپنی بیوی کی سچائی، صحت مندانہ صلاحیتوں اور محبت کو دل سے قبول کر لیتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Joker By Muhammad Shakir Labana

”جوکر“ (مصنف: محمد شاکر لبانہ) ایک سسپنس، انتقام اور المیہ پر مبنی سبق آموز کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار سرمد ہے، جو حالات کے جبر اور غربت کی وجہ سے جوکر کا روپ دھار کر لوگوں کو ہنساتا ہے۔ سرمد کی زندگی اس وقت تباہ ہوتی ہے جب وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کی گاڑی کی ٹکر سے اس کا معصوم بیٹا (اثر) جاں بحق ہو جاتا ہے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث دم توڑ دیتا ہے۔ اس صدمے سے سرمد کی بیوی (سویرا) اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے اور بعد میں برین ٹیومر کے آخری سٹیج پر پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ashk e Nadamat By Doctor Majid

کتاب ”اشکِ ندامت“ (مصنف: ڈاکٹر ماجد) انسانی نفسیات، ندامت، گناہوں کے اثرات اور مکافاتِ عمل پر مبنی ایک سبق آموز اور عبرت ناک کہانی ہے۔ داستان کا مرکزی کردار حاجی محمد سلیم ہے، جو بظاہر معاشرے میں ایک پارسا اور محترم شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم، اس کی ماضی کی ایک بھیانک غلطی اور حرام کاری اس کی اور اس سے جڑے افراد کی زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔  حاجی صاحب کی اس غلطی کے نتیجے میں ایک معصوم اور ذہنی طور پر معذور لڑکی (پکی) کی زندگی برباد ہوتی ہے، اور بعد میں ایدز (AIDS) جیسی مہلک بیماری ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ سالوں بعد جب حاجی صاحب واپس لوٹتے ہیں، تو وہ شدید جسمانی و روح فرسا بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے کیے پر سخت پشیمان ہوتے ہیں۔ کہانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان چاہے اپنے گناہوں کو دنیا سے کتنا ہی چھپا لے، لیکن مکافاتِ عمل اور ضمیر کی ندامت سے کبھی نہیں بھاگ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, August 9, 2026

Sadhvi Novel By Zahoor us Sabah Siddiqui

یہ کہانی آنیا کے گرد گھومتی ہے جو بھارت کے شہر راجستھان کے ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ جے پور کے میڈیکل کالج میں داخلہ لیتی ہے جہاں اس کی دوستی سارہ، عبداللہ (جو مسلمان ہیں) اور اکشے سے ہو جاتی ہے۔  کالج کے دوران مذہبی نظریات پر بحث کے نتیجے میں اکشے اسلام قبول کر کے اپنا نام ابوبکر رکھ لیتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس کے گھر والے اس پر شدید تشدد کرتے ہیں۔ ابوبکر کی مدد کرنے پر سارہ کے دو معصوم بھائیوں (عمر اور محمد) کو ہندو انتہا پسند ظالمانہ طریقے سے شہید کر دیتے ہیں۔  دوسری طرف، آنیا کی سہیلی پریا کو اس کے گھر والے اور جین دھرم کے پیروکار مذہبی رسم کے تحت بال نوچ کر زبردستی سنیاسن (سادھوی) بنا دیتے ہیں، جس سے اس کے تمام خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Parastar By Faheem Zaidi

یہ کہانی الماس کی ہے، جو یونیورسٹی کی ایک آزاد خیال، خود سر اور حسن پرست طالبہ ہے۔ الماس غریب مگر خوبصورت ہے اور ایک امیر شہزادے کے خواب دیکھتی ہے۔ اس کا کلاس فیلو وقار بیگ اس سے سچی محبت کرتا ہے اور باعزت طریقے سے اپنی والدہ اور بہن کے ذریعے رشتے کا پیغام بھیجتا ہے، لیکن الماس اس کے متوسط طبقے اور سادگی کا شدید مذاق اڑاتی ہے اور اسے بار بار ذلیل کر کے ٹھکرا دیتی ہے۔  یونیورسٹی میں تعبیر نامی ایک امیر اور عیاش طبع نووارد لڑکے کی آمد ہوتی ہے۔ الماس اس کے دبدبے اور دولت سے متاثر ہو کر اس کے قریب ہو جاتی ہے۔ اسی دوران الماس کی خالہ اور واحد سہارا دل کے دورے سے انتقال کر جاتی ہیں۔ خالہ کی وفات کے بعد الماس پر خالو کا ۳۰ لاکھ روپے کا قرضہ ظاہر ہوتا ہے، اور قرض خواہ گھر بیچنے کی دھمکی دیتے ہیں۔  مالی پریشانیوں اور قرض کی ادائیگی کے لیے الماس، تعبیر کے مشورے پر شو بزنس میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ تعبیر اور اس کا ڈائریکٹر دوست سکندر، جو دراصل عیاش اور شاطر طبع انسان ہیں، الماس کے حسن اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ پچاس لاکھ روپے اور فلیٹ کے عوض اسے سمجھوتے پر آمادہ کر لیتے ہیں۔ الماس شوٹنگ کے لیے لاہور منتقل ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 8, 2026

Khushiyon Ke Dareechay Khulay Novel By Fakhira Jabeen

Download Link B
 مرکزی کردار اور قربانی: یہ کہانی "نکہت" (نگی) نامی لڑکی کی بے لوث قربانیوں کے گرد گھومتی ہے۔ والد کی مفلوج حالت میں ناگہانی وفات کے بعد وہ اپنے ڈاکٹر بننے کے خواب کو قربان کر کے خاندان (اماں اور بہن بھائیوں) کا سہارا بنتی ہے۔
مسلسل جدوجہد: نگی اپنی چھوٹی بہنوں (سعدیہ، نادیہ، صبیحہ) اور بھائی (کاشف) کی تعلیم و تربیت، رشتوں اور شادیوں کی ذمہ داری نبھاتی ہے اور اپنی خوشیوں کو وقت کی قربان گاہ پر نچھاور کر دیتی ہے۔
خاندان کی بے رخی: جب ماں (نزہت بیگم) پر فالج کا حملہ ہوتا ہے، تو بھائی کاشف اور اس کی بیوی زیبا، نگی پر بوجھ ڈال کر الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، جس سے نگی شدید تنہائی اور دکھ کا شکار ہو جاتی ہے۔

Chand Mere Aangan Mein Novel By Fakhira Jabeen

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی ظہیر نعمان کے گرد گھومتی ہے جو سی اے (Chartered Accountant) بننے کے بعد اپنی دادی اور والدہ کی ضداور خواہش پر اپنے ہی خاندان میں دلہن کی تلاش کے لیے آتا ہے۔ ظہیر کے تایا اور چچا کے مختلف گھرانے ہیں؛ بڑے اور چھوٹے تایا امیر اور مغرور ہیں جبکہ چچا فیضان کا گھرانہ غریب، بے ترتیب اور بظاہر بے سلیقہ ہے۔ ظہیر کو تایا کے گھر کی لڑکیاں پسند نہیں آتیں، لیکن چچا کی بیٹی "سعدیہ" اپنی سادگی اور معصومیت سے اس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔
سعدیہ محنتی ہونے کے باوجود گھریلو سلیقے اور تربیت کی کمی کی وجہ سے اکثر پریشان رہتی ہے۔ اس کی دادی خود چچا کے گھر رہنے آتی ہیں اور محبت، حکمت اور عملی تربیت کے ذریعے سعدیہ کو گھر سنبھالنے، سلیقہ مندی اور کم وسائل میں بہترین انتظام کرنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ دادی کی زیرِ نگرانی سعدیہ کی شخصیت اور گھر دونوں میں ایک خوبصورت تبدیلی آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Musafat By Afsheen Naseem

مسافت افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک سائنس فکشن اور مافوق الفطرت ناول ہے۔ اس کی کہانی ایک باپ (سرمد اعوان) کی اپنے بیٹے (سمیر) کی محبت، ماضی کے رازوں اور "وقت کا ارتعاش" (زمان و مکان کے سفر) کے گرد گھومتی ہے۔
ماضی کا راز اور خلش: سرمد اعوان کو اپنی والدہ کی وفات کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ یتیم خانے سے گود لیا گیا تھا۔ اس خلش اور اپنے حقیقی ماضی کی تلاش میں وہ ایک نجومی (بابا زمان) تک پہنچتا ہے۔ بابا زمان اس کے ماضی کا راز افشا کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا اکلوتا بیٹا سمیر غائب ہو جائے گا۔
  بیٹے کی پراسرار گمشدگی: راولپنڈی میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران سمیر اچانک غائب ہو جاتا ہے اور وہاں صرف خون کے دھبے ملتے ہیں۔  وقت کے قاتل سے رابطہ: بابا زمان کے علم اور ایک ماہر ہیکر کی مدد سے سرمد کو معلوم ہوتا ہے کہ 1820ء کی دہائی کا معروف اسکاٹ لینڈ کا قاتل اور "باڈی اسنیچر" ولیم برک (William Burke) جدید ٹیکنالوجی اور "زمانی لہروں" (زمان کے ارتعاش) کا فائدہ اٹھا کر وقت کا سفر کر کے سمیر کو لے گیا ہے۔ 

Friday, August 7, 2026

Host By Muhammad Shakir Labana

ناول ہوسٹ از محمد شاكر لبانه ایک زولوجسٹ "شیراذب" کی کہانی ہے جو ایک خطرناک تجربے کے نتیجے میں نہ صرف اپنی زندگی بلکہ انسانیت کے لیے بھی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ کہانی میں عدیل، حماد اور احمد جیسے کردار شامل ہیں جو عدالت، بیماری، موت اور ماورائی مخلوقات کے ساتھ جڑے واقعات میں الجھتے ہیں۔ "عفریت" اور "بوست" جیسے عناصر کہانی کو سسپنس اور خوفناک رنگ دیتے ہیں۔ یہ داستان سائنسی تجربات، روحانی کشمکش اور انسانی کمزوریوں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔

Tuesday, August 4, 2026

Saleeb e Waqt By Aasnath Kanwal

یہ کہانی ایک ایسے انسان کے گرد گھومتی ہے جو ماضی کے دکھوں اور تلخ یادوں میں الجھ کر اپنے حال سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہ وقت کی سخت آزمائشوں (صلیبِ وقت) کو برادشت کرتا ہے اور اپنے جذبات و تعلقات کو بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ یہ تحریر انسان کے اندرونی کرب، صبر اور وقت کے ساتھ حالات کے سامنے ڈھلنے کا ایک مؤثر تاثر پیش کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dhundlay Rastay By Rubab Waseem

یہ کہانی ماہا کی ہے، جو ایک باہمّت، خوددار، اور آزاد خیال لڑکی ہے۔ اپنے خاندانی ماحول، روایتی سوچ اور ماضی کے ایک تلخ تجربے کی وجہ سے وہ رشتوں اور لوگوں سے خاصی محتاط رہتی ہے۔ ماہا کا رشتہ اس کے پھپھو زاد عمر سے طے کر دیا جاتا ہے، جو ایک سادہ اور دوسروں کے اثر میں آنے والا شخص ہے۔  تقریب کے دوران ماہا کی ملاقات معید سے ہوتی ہے، جو عمر کا پھپھو زاد ہے۔ معید ایک پراثر اور مضبوط شخصیت کا مالک ہے جو ماہا کی سوچ، خودداری اور بے باکی سے متاثر ہو جاتا ہے۔ جہاں عمر، ماہا کی شخصیت کو سمجھنے اور سنبھالنے میں ناکام رہتا ہے، وہیں معید اس کے جذبات اور فیصلوں کی قدر کرتا ہے۔  شادی کے بعد عمر کے ساتھ ماہا کی زندگی میں تلخیاں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ عمر نہ صرف اس پر شک کرتا ہے بلکہ اس کی آزادی پر پابندیاں بھی عائد کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ماہا اور معید کو احساس ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے صحیح سفر کے ساتھی ہیں۔ یہ ناول زندگی کے دھندلے راستوں میں صحیح سمت، رشتوں کی حقیقت اور سچی محبت کی پہچان کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aik Thi Bela By Aliya Bukhari

Download Link A
Download Link B
ایک تھی بیلا (عالیہ بخاری): بیلا ایک سادہ اور قانع لڑکی ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ان کے پڑوس میں سیمیں باجی رہتی ہیں، جو انتہائی صفائی پسند، بدگمان اور طنز کرنے کی عادی ہیں۔ سیمیں کا رشتہ زوار سے طے شدہ ہوتا ہے، لیکن سیمیں کی تنگ دلی اور ناخوشگوار رویے سے تنگ آ کر زوار اس رشتے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی والدہ بیلا کا ہاتھ مانگتی ہیں۔ لیکن بیلا اپنی والدہ کے دباؤ کے باوجود زوار سے شادی کے بجائے کمال کے ساتھ ایک سادہ اور خوشگوار زندگی کا انتخاب کرتی ہے۔  زرو زمانوں کا سویرا (نبيلہ ابر راجہ): زلزلے کی تباہ کاریوں اور المیہ کے بعد کے حالات پر مبنی کہانی۔ خضر جو زلزلے میں اپنے خاندان کے متعدد افراد کو کھو چکا ہے، اپنی بھابھی آسیہ اور چھوٹی بچی صفی کا سہارا بنتا ہے۔ خضر کی منگیتر فاریہ چاہتی ہے کہ وہ ان سب کو چھوڑ کر اس کے ساتھ سیٹل ہو جائے، لیکن خضر فاریہ کی خود غرضی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور خاندان کا ساتھ دینے کا پختہ فیصلہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dasht e Imkaan By Aliya Bukhari

Download Link A
Download Link B
ناول "دشتِ امکان" میں عالیہ بخاری نے ایک روایتی اور وسیع برادری کا پس منظر پیش کیا ہے جہاں خاندانی رسومات، سالانہ نیاز، اور رشتوں کے طے پانے کی دھوم دھام دکھائی دیتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار ثانیہ ایک باشعور، حساس اور پڑھی لکھی لڑکی ہے جو اپنے مفاد پرست، دکھاوے کے شائق اور روایتی گھرانے کے بیچ بالکل مختلف مزاج رکھتی ہے۔  گھر میں ایک طرف نانی اور بڑے ماموں (جلال) کا رعب، دبدبہ اور خاندانی غرور قائم ہے، جبکہ دوسری طرف معذور نہال ماموں اور ان کی اہلیہ بیہ مامی کو شدید بے حسی، تنہائی اور تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ثانیہ اپنے معذور نہال ماموں اور ان کے بیٹے ہادی کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے اور ان کا سہارا بنتی ہے۔ خاندانی نفرتوں، مصلحتوں، تضادات، اور سماجی تفریق کے درمیان ثانیہ سچائی، ہمدردی اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہنے کی جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔

Kahin Jugnuon Ki Qatar Mein By Fakhira Jabeen

Download Link B
"کہیں جگنوؤں کی قطار میں" فاخرہ جبیں کا تحریر کردہ ایک دلکش، مزاحیہ اور خاندانی رومانوی اردو ناول ہے۔
کہانی کا بنیادی محور سناور اور اس کا چُست و چالاک خاندان ہے، جہاں نواب حسان کی رشتے کے لیے ممکنہ آمد کے باعث گھر بھر میں گہما گہمی اور ہلچل مچ جاتی ہے۔ سناور اس روایتی ملاپ اور بہن بھائیوں کی مستقل چھیڑ چھاڑ سے سخت چڑی ہوئی ہے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد نواب حسان کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ نواب حسان کی آمد پر پیدا ہونے والی دلچسپ غلط فہمیاں، صبی اور راکی کی شرارتیں، اور خاندانی نوک جھونک کہانی کو انتہا درجے کا تفریحی اور خوبصورت بناتی ہیں۔

Mere Gumshuda By Fakhira Jabeen

Download Link B
نول "میرے گمشدہ" فخرہ جبین کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور احساسات سے بھرپور ناول ہے۔ کہانی ماورا، اس کے بیمار اور معذور والد (ابا) اور کاکا جان کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ کاکا جان ماورا کی پڑھائی اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے خواب اور ناولز اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں۔  ماورا کی زندگی میں اس وقت شدید بحران آتا ہے جب کاکا جان اچانک کہیں غائب (گمشدہ) ہو جاتے ہیں اور والد کا بھی انتقال ہو جاتا ہے۔ اس مشکل اور تنہائی کے وقت میں سلیم اور اس کا ساتھی ہارون اسرار اس کی زندگی میں آتے ہیں۔ جہاں سلیم کے رویے اور خود غرضی سے ماورا کو دکھ پہنچتا ہے، وہیں ہارون اسرار اس کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور اس کی بے لوث محبت و حمایت ماورا کی بکھری ہوئی زندگی کو سنبھالا دیتی ہے۔ یہ کہانی رشتوں کی قربانی، اپنوں کی جدائی کے درد اور سچی محبت کے احساس کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔

Aalmi Digest August 1985

Download Link A
Download Link B
عالمي ڈائجسٹ (اگست 1985ء) کا یہ شمارہ زاہدہ حنا کی اہتمام کاری اور ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت کے ساتھ شائع ہوا۔
  مدیرانہ و خطوط: زاہدہ حنا اور علی ندیم نے قارئین کے خطوط کے جوابات دیے، جبکہ ایم اے راحت کی بطور مدیرِ اعلیٰ شمولیت اور ان کی تحریروں کا خیرمقدم کیا گیا۔ 
 تاریخی و ادبی تحاریر: نسیم حجازی کا تاریخی ناول "ہمیشہ ہمیشہ" شائع ہوا، جس میں وادیِ کشمیر کے ایک رئیس زادے بلال، اس کے اتالیق کلوکا، اور احمد شاہ کی آگرہ کی طرف سفر، شہنشاہ اکبر کے دربار، اور ابوالفضل سے ملاقات کے احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔
  دیگر مضامین: اس شمارے میں مختلف اشتہارات، جیسے کہ روح افزا، مصفی خاص، اور بلا سود بینکاری کے تعارف سمیت قارئین کی دلچسپی کی متنوع تخلیقات شامل ہیں۔  

Monday, August 3, 2026

Dil Jahan Dharakta Hai Novel By Bilal Aslam

Download Link B
بلال اسلم کا ناول "دل جہاں دھڑکتا ہے" انس اور زاریہ کی الگ الگ زندگیوں اور ان کے جذبات کے گرد گھومتا ہے۔ انس ایف اے کے بعد آوارہ گردی سے نکل کر اپنے والد کی مدد سے جنرل اسٹور کھولتا ہے۔ پڑوس میں رہنے والی تحریم انس کو دل ہی دل میں چاہتی ہے۔ دوسری طرف زاریہ افراہیم اپنے والد کا کروڑوں کا آئی ٹی بزنس سنبھال رہی ہے اور ارحم کے ساتھ ایک ناکام اور بےروح ازدواجی رشتے کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا شکار ہے۔ انس کو دوست کے ذریعے زاریہ کا غلط نمبر ملتا ہے اور میسجز سے ان کے درمیان بات چیت شروع ہو جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں لیکن زاریہ کو اس وقت شدید دکھ اور دھچکا لگتا ہے جب انس اپنے والدین کی مرضی سے تحریم سے شادی کرنے کا فیصلہ سناتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Baraf Zaron Ki Titli Novel By Fakhira Jabeen

Download Link B
یہ کہانی ماہین وجدان نامی ایک نہایت حساس، معصوم اور خوبصورت کردار کے گرد گھومتی ہے، جسے فطرت، پہاڑوں، اور خزان کی اداس خوبصورتی سے گہرا لگاؤ ہوتا ہے। ماہین کا دل ایک نازک تتلی یا سیپ میں بند موتی کی مانند پاکیزہ ہوتا ہے جو دنیاوی چالاکیوں سے بالکل ناواقف ہے। وہ اپنی بہترین دوست بخت آور کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ رکھتی ہے۔ کہانی میں محبت، خاموش جذبات، ایثار اور اداسی کے رنگ نمایاں ہیں۔ ماہین اپنی پاکیزہ محبت کی خاطر ہر قربانی دینے کا جذبہ رکھتی ہے، مگر اس کی حساس طبع اور اداس مزاجی کہانی میں ایک انوکھا اور تاثراتی موڑ لاتی ہے। فاخرہ جبیں نے انسانی تعلقات، خلوص اور دلی جذبات کو انتہائی خوبصورت اور رقت انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔

Sunday, August 2, 2026

Maria By Iffat Mohani

یہ کہانی معاذ نامی ایک حساس اور جذباتی جوان کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے شدید بدگمانی اور احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے والد، ڈاکٹر سرفراز، شہر کے نامور معالج ہیں جنہوں نے بیوی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ معاذ اپنے والد کو ماں کی موت کا ذمہ دار اور سوتیلی ماں (رفیعہ بیگم) کو ایک ناپسندیدہ شخصیت سمجھتا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ایک دن معاذ والد اور سوتیلی ماں کے درمیان اپنے چھوٹے بھائی فراز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے متعلق گفتگو سن لیتا ہے۔ جب والد معاذ کے ماضی کے مواقع اور موجودہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے غصے میں "جہنم میں جائے" کا جملہ ادا کرتے ہیں، تو معاذ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ خاموشی سے سمارٹ کیس اٹھا کر اپنی مرحوم والدہ کے نام پر خریدی گئی پرانی کوٹھری (بنگلے) کی طرف نکل جاتا ہے۔
کوٹھی پہنچ کر اس کی ملاقات بوڑھے باغبان غلام قادر، اس کے بیٹے نادر اور بیٹی لاجو سے ہوتی ہے۔ ان غریب مگر مخلص لوگوں کی محبت، خلوص اور سادگی معاذ کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر لاجو کا معصومانہ احترام اور نادر کی باتیں اسے متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، گھر میں والد، سوتیلی ماں، اور بہن بھائی (فراز، ایاز، عذرا) اس کے ناگہاں غائب ہونے پر شدید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز معاذ کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر وہ وہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔