Pages

Wednesday, September 30, 2026

Qalbi Qatalni Complete By Reem Farooq

Download Link A
Download Link B
"قلبی قتلنی" ریم فاروق کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور سسپنس سے بھرپور ناولٹ/ناول ہے۔ اس کا انتساب ان لوگوں کے نام کیا گیا ہے جن کے دلوں نے بے جا خواہشات اور جذباتی فیصلوں کی وجہ سے انہیں جیتے جی مار ڈالا۔   داستان کی اہم خصوصیات اور مرکزی نکات:انتقام، جیوپلیٹکس اور گریم ریپر (بلا ج سکندر):
قصے کا آغاز ایک پراسرار اور خوفناک منظر سے ہوتا ہے جہاں "گریم ریپر" کے نام سے جانا جانے والا ہیرو/اینٹی ہیرو بلاج سکندر (جس کی سبز آنکھیں اور گوری رنگت ہے) اپنے ساتھی حازق کے ساتھ مل کر اپنے دشمن حمدانی کے وکیل سے زبردستی غیر قانونی پراپرٹی کاغذات پر دستخط کرواتا ہے اور اپنی بات کاٹنے کی سزا کے طور پر خونریز کارروائی کرتا ہے۔ بلاج اپنے باپ کی طرح شریر انداز اور اپنے قوانین سے دنیا کو چلاتا ہے۔   مرحا، انسانیت اور ایماندارانہ ذہنیت:
دوسری طرف داستان میں مرحا کا کردار ہے، جو ایک باپ کی لاڈلی، باپردہ اور انتہائی دین دار، حساس اور سلجھی ہوئی ہیڈ گرل ہے۔ مرحا سائیکالوجی (نفسیات) کی طالبہ ہے اور وہ یونیورسٹی کی سطح پر ناانصافی اور رینگنگ کے خلاف بلا خوف آواز اٹھاتی ہے۔   نفسیاتی ہسپتال (فونٹین ہاؤس) کے مناظر:
اپنی ہاسپٹل اسائنمنٹ کی غرض سے مرحا اپنی غیر مسلم دوست ڈیزی کے ساتھ "آمنہ بلاک" جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات گل نامی ایک ممبر (مریضہ) سے ہوتی ہے۔ گل ذہنی صدمے کے باعث اپنے مرحوم شوہر کو اپنے خیالات میں زندہ سمجھتی ہے۔ مرحا اسے محبت، ذہنی صحت اور انسان کے اپنے وجود کی اہمیت کے فلسفے پر شفقت سے سمجھاتی ہے۔   محبت اور بد گمانی کی ڈرامائی پرتیں:
کہانی میں ایک طرف شہریار ہے جو مرحا کے پردے کا احترام کرتا ہے اور اس کی نیلی آنکھوں کی پاکیزگی پر فدا ہے، جبکہ دوسری طرف منتہا ہے جو بلاج سکندر سے والہانہ لیکن یکطرفہ محبت کرتی ہے اور کینوس پر اس کی سبز آنکھوں کے پورٹریٹ بناتی ہے۔ بلاج عورتوں کی محفل سے دور بھاگنے والا شخص ہے۔   ناولٹ میں معاشرتی مسائل، فلسطین کے حق میں مظاہرے، دینی و اخلاقی اقدار اور انسان کی ذہنی و قلبی جنگوں کو بڑی خوبصورتی اور روانی کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔   

Aalmi Digest December 1977

Download Link A
Download Link B
عالمی ڈائجسٹ (دسمبر 1977ء) کا یہ شمارہ زاہدہ حنا کی ادارت میں شائع ہوا جس میں مختلف سنسنی خیز اور دلچسپ تحریریں شامل ہیں۔ اہم ترین مواد درج ذیل ہے:   خزانہ عقاب (خالدہ شاد): حسن بن صباح کے قلعہ الموت اور فدائین کے پردۂ راز میں چھپے تاریخی اور پراسرار خزانے کی تلاش پر مبنی ایک ہنگامہ خیز اور سنسنی خیز ناول کا پہلا باب۔   ناول اور اہم کہانیاں:نیلی کار (عبدالقیوم شاد): سگنیچر کردار سراغ رساں کامران شامی کا سنسنی سے بھرپور نیا کارنامہ۔   شناخت (احمد اقبال): شوہر کی شناخت پر مبنی پراسرار کہانی۔   غنڈہ ٹیکس (حبیب احمد خان): انشورنس ایجنٹ کے گرد گھومتا ایک دلچسپ قصہ۔   ایک لڑکی بگھارتی ہے دال (کرشن چندر): اردو کے عظیم افسانہ نگار کی تحریر۔   سایہ (صفدر صدیقی)، اہرمن (ابو المنصور)، ورطہ (ڈاکٹر فخری جواد)، مغرب سے درآمد (شمیم گیلانی): دیگر متنوع، جاسوسی اور تاریخی سلسلے۔   اداریہ (زاہدہ حنا): سال 1977ء کے ملکی و سیاسی حالات پر تبصرہ اور آنے والے نئے سال کی مبارکباد کے ساتھ قارئین کے خطوط کے جوابات۔ 

Taroot Imran Series By Mazhar Kaleem

Download Link A
Download Link B
مصنف مظہر کلیم ایم اے کا یہ ناول "تاروت" (عمران سیریز) خیر و شر کی آویزش اور مصر کی ایک قدیم و خطرناک شیطانی و دہشت گرد تنظیم "راہول" کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کی شروعات میں مصر سے ڈاکٹر جمال کی بیٹی اساطیری پاکیشیا اے۔ آئی ڈی کے چیف علی عمران سے ملنے آتی ہے تاکہ ایک قدیم مصری معبد (راہول معبد) کی تلاش میں اس کی مدد حاصل کر سکے۔ ڈاکٹر جمال اور اساطیری کو راہول نامی شیطانی قوت اور اس کے پجاریوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں، جس کے باعث ڈاکٹر جمال خوفزدہ ہو کر اساطیری کو فوراً واپس مصر بلا لیتے ہیں۔   اسی دوران حکومت مصر سے پاکیشیا حکومت کو ایک انتہائی خفیہ فائل موصول ہوتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہی سے راہول نامی ایک خطرناک دہشت گرد تنظیم پاکیشیا میں بڑی تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ سر سلطان اس فائل پر عمران کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ دوسری طرف مصر میں راہول کے پجاری ڈاکٹر جمال کو انتہائی دردناک انداز میں قتل کر کے اساطیری کو اغوا کر لیتے ہیں تاکہ وادیِ حلفہ کا وہ قدیم نقشہ حاصل کر سکیں جو معبد کی نشاندہی کرتا تھا۔   کچھ ہی عرصے بعد پاکیشیا سیکرٹ سروس کی ممبر صالحہ کو بھی مصر کے ایک ہوٹل سے راہولی نقاب پوشوں کے ذریعے اغوا کر کے وادیِ حلفہ کے صحرا میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ عمران مصر کے پولیس چیف اعظم کمال اور ماہرِ مصریات ڈاکٹر ناصر سے رابطہ قائم کر کے کارروائی کرواتا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس ہیلی کاپٹر کے ذریعے صالحہ کو وادیِ حلفہ سے صحیح سلامت برآمد کر لیتی ہے۔ عمران اور بلیک زیرو اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ راہول گروپ دراصل پاکیشیا سیکرٹ سروس اور عمران کو وادیِ حلفہ کے صحرا میں کھینچنے یا اپنے شیطانی عزائم کی راہ سے ہٹانے کے لیے یہ چالیں چل رہا ہے، جبکہ راہول کا سربراہ (آقا) عمران کی پراسرار و نیکی پر مبنی صلاحیتوں سے خوفزدہ ہو کر اپنے کارندے تارم کو براہِ راست عمران سے الجھنے سے منع کرتا ہے۔ 

Tuesday, September 29, 2026

Mazi Ke Jharokon Se By Shaukat Afzal

Download Link A
Download Link B
یہ تاریخی ناول اسپین (اندلس) میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتا ہے، جو ایک چچا اپنے بھتیجے اور بھتیجی کو سناتا ہے۔ فٹبال میچ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چچا بتاتا ہے کہ ہسپانوی اور پرتگالی باشندوں کی کشش میں صدیوں پر محیط عرب مسلم حکمرانی کی جھلک آج بھی موجود ہے۔ وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ جب گوتھ بادشاہ راڈرک نے کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا کی عزت پامال کی، تو کاؤنٹ نے مسلمان گورنر موسیٰ بن نصیر سے مدد مانگی۔ جس کے بعد طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے کشتیاں جلا کر راڈرک کو شکست دی اور اندلس میں علم، سائنس اور تہذیب کا سنہری دور قائم کیا۔ آخر میں مصنف مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور عیش پرستی کے سبب زوال، سقوطِ غرناطہ، اور انکوائزیژن (Inquisition) کے
مظالم کا ذکر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو اپنے شاندار ماضی اور علم سے دوبارہ جڑنے کا سبق دیتا ہے۔

Bas Ek Rang e Mohabbat By Naila Tariq

Download Link A
Download Link B
نائلہ طارق کا افسانہ "بس ایک رنگِ محبت" جمیعہ اور محتشم کی داستان ہے، جن کی شادی غلط فہمیوں اور عدم مواصلت کی وجہ سے تلخی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جمیعہ کلر بلائنڈ (رنگوں کی پہچان سے قاصر) ہوتی ہے اور اس خامی کی وجہ سے محتشم کے سخت رویے، تحقیر اور غصے کو خاموشی سے برداشت کرتی ہے۔ جمیعہ یہ سمجھتی ہے کہ محتشم نے صرف اپنی بہن ملیحہ کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے اس سے مجبوری میں شادی کی ہے، جبکہ محتشم شادی سے قبل ملنے والے ایک خط اور غلط فہمی کی بنا پر جمیعہ کو بدگمان اور ناپسندیدہ سمجھتا ہے۔   بالآخر، جمیعہ کے گھر چھوڑنے اور طلاق کے مطالبے پر دونوں کے درمیان تمام باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں اور غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔ محتشم کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ جمیعہ کو عزت، محبت اور قبولیت کا احساس دلاتا ہے، جس سے جمیعہ کی بے رنگ زندگی میں محبت کے تمام رنگ لوٹ آتے ہیں۔   

Monday, September 28, 2026

Kiran Digest August 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ کرن اگست 2026ء میں مختلف معاشرتی و نفسیاتی موضوعات، گھریلو تعلقات، محبت اور کشمکش پر مبنی تحریریں، انٹرویوز اور مستقل سلسلے شامل ہیں:   میری بھی سنیے (انٹرویو - خدیجہ سلیم): اداکارہ خدیجہ سلیم (ڈراما 'ماہِ نور') نے اپنے کیریئر، تعلیمی سفر، خاندانی تعاون اور شوبز انڈسٹری کے تجربات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔   تم انمول ہو (مکمل ناول - عندلیب زہرا): دو بہنوں صبا اور سویرا کی کہانی، جہاں صبا کی حسد اور سویرا کی قربانی اور اخلاق کا موازنہ دکھایا گیا ہے۔ صبا اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے دکھ جھیلتی ہے جبکہ سویرا اپنی بے ریا محبت اور اعلیٰ ظرفی سے سب کا دل جیت لیتی ہے۔   کھوئے جاناں سے پرے (قسطوار ناول - نگہت سیما): یونیورسٹی اور خاندانی روایات کے پس منظر میں گیلانی سید خاندان کے اصولوں، محبت کی حدود اور رشتوں کے جذبات و مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔   دیگر تحریریں: شمارے میں انمول ہوا (مریم)، مکانِ نور، بارود اور پکوڑے، دو ملک ایک آسمان، بات تخلیہ کی ہے، اور تختِ سلیمان جیسے دلچسپ افسانے اور ناولز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیوٹی باکس، دسترخوان، اور خط و کتابت کے مستقل سلسلے بھی موجود ہیں۔ 

Aqabla By Jabir Bin Yusuf Al Baqar

Download Link A
Download Link B
"اقابلا" جابر بن یوسف الباقر کا ایک پُراسرار اور سنسنی خیز ایڈونچر ناول ہے۔ یہ دہلی کے "کتاب والا" نے سن 2000ء میں شائع کیا۔ اس کا راوی جابر ہے، جو ایک ریٹائرڈ اعلیٰ خفیہ پولیس افسر یوسف الباقر کا بیٹا ہے۔
کہانی کا آغاز ایک بحری سفر سے ہوتا ہے، جس میں جابر کے ساتھ میڈم فلورا ہے۔ وہ بندرگاہ پر پولیس کی نظروں سے بچ کر جہاز میں سوار ہونا چاہتا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اس کے والد کو خبر مل گئی تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ آگے چل کر واقعات اسے اجنبی اور خطرناک علاقوں تک لے جاتے ہیں۔ وہاں غار، طلسمی آلات، ایک ساحر اور "دیوی" جیسی پراسرار طاقتیں ہیں، جن کے سامنے اس کی جان بار بار خطرے میں پڑتی ہے۔
اس سفر میں سرنگا، ڈاکٹر جواد، شراڈ اور جارا کاکا جیسے کردار ملتے ہیں، اور ان کی وفاداری اور بے اعتمادی کہانی کو آگے بڑھاتی ہے۔ "آقابلا" اس داستان کی مرکزی پراسرار قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ آخری صفحات میں سب بچ جانے والے ساتھی جدائی اور ماضی کے صدمے کے بعد ایک خاندان کی طرح مل کر رہنے کا عہد کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tiger By Mushtaq Ahmed Qureshi

Download Link A
Download Link B
"ٹائیگر" مشتاق احمد قریشی کی جاسوسی اور ایکشن پر مبنی مقبول سلسلہ وار کہانی ہے۔ اس کا مرکزی کردار ٹائیگر ایک نڈر، ذہین اور بے خوف خفیہ ایجنٹ ہے۔ وہ مجرموں کے منظم گروہوں، بین الاقوامی سازشوں اور خطرناک دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
کہانی کے آغاز میں پولیس، عدالت، وکیلِ صفائی اور سزائے موت جیسے ماحول کے ساتھ سنسنی خیز فضا بنتی ہے۔ آگے چل کر ہر جلد میں نیا مشن، نئے کردار اور نئی چالیں سامنے آتی ہیں۔ آخری حصوں میں ڈاکٹر بہرام، ساحل بہاماس اور لوشان جیسے کردار ٹائیگر کے ساتھ مختلف خفیہ منصوبوں اور جوابی کارروائیوں میں نظر آتے ہیں۔پوری کہانی میں دوستی اور غداری، خطرے اور چالاکی، اور انسانیت و انصاف کی کشمکش نمایاں رہتی ہے۔ رفتار تیز ہے اور ہر موڑ پر سسپنس برقرار رہتا ہے، اس لیے یہ جاسوسی ادب کے شائقین کے لیے دل چسپ مطالعہ ہے۔

Shuaa Digest August 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ 'شعاع' اگست 2026 کا یہ خاص شمارہ ادارے کی 42 ویں سالگرہ (41 سال کی تکمیل) اور یومِ آزادیِ پاکستان (14 اگست) کی دُہری خوشیوں پر مبنی ایک یادگار اور ضخیم 'سالگرہ نمبر' ہے۔   اہم تحریریں، ناولز اور سلسلوں کی تفصیل:اداریہ اور دینی مضامین: اداریے میں مجلے کے 41 سالہ کامیاب سفر، لکھاریوں اور قارئین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ حمد (کوثر خالد)، نعت (اختر شیرانی)، اور 'پیارے نبی کی پیاری باتیں' میں فخر، ظلم و زیادتی، مسلمانوں کے باہمی تعلقات اور اخلاقی آداب پر احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی شامل ہے۔   ایک کردار (ماں جی): سلمیٰ مسرت نے اپنی والدہ کی باہمت زندگی، قربانیوں، سلیقہ مندی اور خوبصورت تربیت کی یادوں کو قلمبند کیا ہے۔   روشنیوں کا سفر (خصوصی سروے): شاہین رشید کے مرتب کردہ اس سروے میں شعاع کی معروف لکھاریوں (ثمین صداقت، فصیحہ آصف خان، کرن صدیقی، مریم عزیز، ریما نور رضوان، آمنے ریاض، فرح بھٹو، مصباح نوشین، صوفیہ بٹ، امۃ العزیز وغیرہ) نے ڈائجسٹ سے اپنے علمی و جذباتی تعلق، پہلی تحریر اور سالگرہ کی یادوں کے حوالے سے دلچسپ گفتگو کی ہے۔   مکمل ناولز:تیرے میرے درمیان — راشدہ رفعت   ایک دفعہ کا ذکر ہے — فرح بخاری   آہ نیم کش — آسیہ رئیس خان   سلسلے وار ناولز:نصیب — نظیر فاطمہ   کرشمہ — نائلہ نواز   دھوپ دریچہ — مریم عزیز (21 ویں قسط میں حارب اور ہالہ کے رشتے کی باتیں، خاندان کے ردِعمل اور کوئل کے ماڈلنگ و شوبز کے غلط راستے پر نکلنے کے ڈرامائی موڑ شامل ہیں)۔   گنگا کنارے — نعیمہ ناز   افسانے اور دیگر مستقل سلسلے: شازیہ تمکین ناصر، ریحانہ چوہدری، ریما نور رضوان، حمیرا شیخ وغیرہ کے خوبصورت افسانے؛ اس کے علاوہ 'خط آپ کے' (جس میں قارئین نے سال بھر کے شماروں پر تفصیلی تبصرے کیے ہیں)، تاریخی معلومات، بیوٹی ٹپس اور موسم کے پکوان کے متنوع مضامین شامل ہیں۔   

Sunday, September 27, 2026

Zang By Noman Ishaq

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی 'نوح' نامی ایک شخص کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن سے ہی خود کو گھر میں نظر انداز اور احساسِ کمتری کا شکار سمجھتا تھا۔ اس کی ماں کو اس کے بھائی حمزہ سے شدید محبت تھی اور والد بے حد کنجوس اور جائیدادیں بنانے کے دھن میں مگن تھے۔ ماں کی عدم توجہی کی وجہ سے نوح کے دل میں اپنے بھائی حمزہ کے لیے شدید حسد اور نفرت کا پودا پروان چڑھتا گیا۔ نوح پڑھائی میں ہوشیار تھا اور جب اسے سکول سے پہلی پوزیشن کی ٹرافی ملی تو وہ حمزہ کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی، جس سے نوح کے دل میں نفرت مزید گہری ہو گئی۔   نوح محلے کی لڑکی کرن کو پسند کرتا تھا، مگر حمزہ نے کرن سے شادی کر لی، جس کے بعد نوح گھر چھوڑ کر ہاسٹل شفٹ ہو گیا اور دوسرے شہر کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بن گیا۔ اس دوران نوح کی غفلت سے اس کا بھانجہ گٹر میں گر کر فوت ہو گیا، جس کی وجہ سے اس کی بہن انعم کی طلاق ہو گئی۔ ان تمام تلخیوں اور صدمات کی وجہ سے نوح کی شخصیت منفی اور قنوطی بن چکی تھی۔   ہاؤس جاب کے دوران اس کے دوست تحسین نے اسے زندگی کا مثبت رخ دکھایا اور اس کے دل پر جمے نفرت کے زنگ کو دور کرنے کی ہدایت کی۔ نوح کی کزن زمر اس سے سالہا سال سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ جب نوح اور زمر کی شادی سے قبل نوح کے دونوں گردے فیل ہو گئے اور اس کی زندگی خطرے میں پڑ گئی، تو زمر نے اپنا گردہ عطیہ کر کے اسے نئی زندگی دی۔ گردہ ملنے کے بعد دونوں کی شادی ہو گئی۔ بیماری کے باعث نوح جسمانی طور پر معذور اور محتاج ہو گیا، لیکن زمر نے سالہا سال بغیر کسی بیزاری کے اس کی خدمت کی اور محبت لٹائی۔ حمزہ نے بھی نوح کی بیماری میں ایک سچے بھائی کا کردار ادا کیا، جس سے نوح کے دل کی تمام کدورتیں اور نفرت ختم ہو گئیں۔   

Azadi Ka Safar By Komal Sadiq

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی 'اسلم' نامی ایک بچے کے گرد گھومتی ہے، جس کا تعلق ۱۹۴۷ء کی تقسیم ہند کے وقت ضلع گورداسپور کے گاؤں حسن پور سے تھا۔ تقسیم کے بعد ریڈکلف ایوارڈ کی ناانصافی کے باعث گورداسپور بھارت میں شامل کر دیا گیا، جس کے بعد سکھوں کے مظالم اور ہنگاموں میں اسلم کا پورا خاندان (والد، والدہ اور بہنیں) شہید ہو گئے۔ اسلم اپنے بھائی اکرم کے ساتھ کھیتوں کے راستے راوی کی طرف بھاگا، لیکن راوی پار کرتے ہوئے بھائی بھی گولیوں کا شکار ہو کر شہید ہو گیا۔ اسلم اکیلا، ننگے پاؤں اور ہاتھ میں پاکستانی پرچم لیے پاک سرزمین پر اترا، جہاں اس کے تایا زاد اور سکول ماسٹر عبد الشکور نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا اور تعلیم دلائی۔   اسلم نے محنت اور تعلیم کو اپنا مقصد بنایا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں اس کے بھائی میجر عامر نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ ۱۹۷۱ء کے سانحہ مشرقی پاکستان میں اس کی اہلیہ شاہدہ کے گھر والے ڈھاکہ میں شہید ہو گئے۔ ان تمام ذاتی و قومی صدمات کے باوجود اسلم نے ہمت نہ ہاری اور 'آغوش' نامی فلاحی تنظیم کے ذریعے لاوارث بچوں، خواتین اور محتاجوں کی خدمت کی اور معاشرے کے لیے ایک فعال شہری بنا۔ کہانی کا اختتام اسلم کے اس تاریخی اور جذباتی پیغام پر ہوتا ہے کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دی گئی ہے، اور نئی نسل کو اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔  

Saturday, September 26, 2026

Kiran Digest May 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ کرن (مئی 2026ء) کا یہ شمارہ مختلف جذباتی، معاشرتی اور اصلاحی تحریروں سے مزین ہے۔   اداریہ اور کراچی کے مسائل: اداریے میں کراچی میں گرمی کی شدت، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، گرد و غبار اور عید الضحیٰ پر قربانی کی آلائشوں سے پھیلنے والی بیماریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب کی طرز پر مخصوص قربان گاہیں بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔   بیادِ محمود ریاض (مرحوم): ادارے کے بانی محمود ریاض کی 25ویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے اور فائزه افتخار نے اپنے مضمون "کاش کہ..." میں ان کی ادب پرور اور شفیق شخصیت کو یاد کیا ہے۔   خصوصی سروے (سایہ کرم میں مہکتی ہے زندگی): شاہین رشید کے اس سروے میں معروف مصنفات اور شخصیات (فرحت اشتیاق، ثناء عدنان، غزالہ رشید، پروفیسرہ شاداب احمد، قیصرہ حیات، سر عباس، فہیمہ اعوان وغیرہ) نے والدین اور بچوں کے رشتے، جنریشن گیپ اور پرورش کے بدلتے انداز پر روشنی ڈالی ہے۔   انٹرویو (بہو سے ساس تک کا سفر): معروف مصنفہ الماس خالد کا انٹرویو شامل ہے، جس میں انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر، تعلیمی سفر، ڈراما نگاری، سسرال کے ساتھ تعلقات اور اپنی تینوں بیٹیوں کی امریکہ میں شادی اور ساس بننے کے تجربات شیئر کیے ہیں۔   افسانہ "لو مین" (نظیر فاطمہ): ایک ڈرامائی اور مزاحیہ کہانی جس میں ابصار اپنی ناراض پھوپھی کو منانے جاتا ہے اور اپنے یادگار دن کی قربانی دے کر بالاخر انہیں اپنی بارات میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔   ناول "کرتے جاناں سے پرے" (نگہت سیما - 9ویں قسط): آفرین، اس کی نانو اور سعدیہ کی نانی کے درمیان پرانی یادوں کا تبادلہ ہوتا ہے جس سے ماضی کے راز کھلتے ہیں۔ دوسری طرف قمرن کی یکطرفہ محبت، جادو ٹونے کے چکر اور نذیر کی مار پیٹ کے بعد اس کی زبردستی شادی اور بارات کی آمد کی دردناک صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔   

Shor Hai Gali Gali Novel By Aasha Rani

Download Link A
Download Link B
یہ ناول ایک غریب نواب زادی نازش کی دکھ بھری کہانی ہے، جس کی شادی اس کے والد نواب صفدر جنگ نے محض پیسے کی خاطر ایک عمر رسیدہ اور عیاش سیٹھ ناصر علی سے کر دی۔ نازش کے کنوارے اور خوبصورت خواب سیٹھ ناصر کے بوڑھے اور وحشیانہ رویے کی وجہ سے چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ سیٹھ ناصر نہ صرف نازش کی زندگی برباد کرتا ہے بلکہ اسے بلیک میل کرتا ہے۔   وقت کے ساتھ نازش اپنے حالات سے بددل ہو کر انتقام کی راہ اختیار کر لیتی ہے۔ اس دردناک حقیقت کے سامنے آنے پر نازش ناصر کو گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہے اور اسلم کو بھی قتل کر دیتی ہے۔   اس واقعے کے بعد نازش کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ چودہ سال بعد جیل سے رہائی کے وقت نازش کو اپنی کی ہوئی غلطیوں اور ثروت کی برباد شدہ زندگی کا سخت پچھتاوا ہوتا ہے۔ آخر کار وہ اپنے بچی ہوئی زندگی پچھتاوے، ندامت اور اداسی کے سایہ میں گزار دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

Kiran Digest March 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ کرن (مارچ 2026ء، سالگرہ نمبر) ایک خصوصی اشاعت ہے جو روحانی، تحریری اور معاشرتی موضوعات پر مشتمل ہے:   اداریہ و خصوصی سروے۔ اداریے میں عید اور ڈائجسٹ کی سالگرہ کی خوشیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سالگرہ نمبر کے حوالے سے قارئین اور تحریر نگاروں سے زندگی، عمر، خوابوں، رشتوں اور سوشل میڈیا کے اثرات پر دلچسپ سوالات کیے گئے ہیں۔   عید اور عالمی یومِ خواتین سروے۔ شاہین رشید کے خصوصی سروے میں معروف شخصیات اور قلمکاروں (مثلاً عندلیب زہرہ، شگفتہ فرحت، ریحانہ اعجاز، پروفیسر نسیم اختر وغیرہ) نے اپنی پہلی روزہ کشائی کی یادوں، افطار اور عید کی روایات میں کمی کی وجہ (مہنگائی، فاصلے، موبائل) اور 'عورت مارچ' پر اپنی آرائ کا اظہار کیا ہے۔   خصوصی انٹرویو (بہو سے ساس تک کا سفر)۔ ماضی کی معروف نیوز کاسٹر اور براڈ کاسٹر راحیلہ فردوس سے شاہین رشید کی گفتگو، جس میں انہوں نے امریکہ ہجرت، پیشہ ورانہ مصروفیات اور دیارِ غیر میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بیان کیا ہے۔   سلسلہ وار ناولز و کہانیاں۔کوئے جاناں سے پرے (نگہت سیما): ساتویں قسط میں آفرین، اس کی دوست شارقہ، عالی اور ہاشم کے درمیان تعلیمی و سماجی تفریق، ذاتی جذبات اور خاندانی ماضی کی گفتگو کے گرد کہانی گھومتی ہے۔   دیگر کہانیاں: شمارے میں سلسلہ وار ناول طائرِ آشیاں (منعم ملک)، مکمل ناول الجھا سا ہوا کچھ (آسیہ رئیس خان)، کاستہ دل میں کوئی کھنک (حمیرا علی)، گنوا کر دل و جاں ہم (ام طیفور)، ناولٹ صرف تمہاری بلقیس (منشا محسن علی) کے علاوہ ساجدہ رمضان، نظیر فاطمہ اور شازیہ ستار کے افسانے شامل ہیں۔   مستقل سلسلے۔ حمد و نعت، کرن کرن خوشبو، بیوٹی باکس، کرن کا دسترخوان، اور دیگر تفریحی و تحریری گوشے شمارے کا حصہ ہیں۔   

Mukhbar Kon Tha By Anwar Siddiqui

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی لندن میں ہونے والی پراسرار ڈکیتیوں اور پولیس کے کیپٹن پاول کی تحقیقات کے گرد گھومتی ہے:   ڈکیتی اور پر اسرار مخبر: پوسٹ آفس میں ڈکیتی کے بعد ایک گمنام مخبر کیپٹن پاول کو فون کر کے مسروقہ گاڑی سے پروفیسر تھامس کا پرس اور فنگر پرنٹس برآمد کرواتا ہے، جس کی بنیاد پر پروفیسر کو دو سال کی سزا ہو جاتی ہے۔   حیرت انگیز موڑ: پروفیسر کے جیل میں ہونے کے باوجود انہی کے فنگر پرنٹس کے ساتھ سٹی بینک میں ڈکیتی ہو جاتی ہے، جس پر عدالت پروفیسر کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیتی ہے۔   اصل حقیقت کا انکشاف: کیپٹن پاول نوکری سے استعفیٰ کا ڈراما کر کے بھیس بدلتا ہے اور راز فاش کرتا ہے کہ اصل مخبر اور مجرم خود پروفیسر تھامس ہی تھا۔ اس نے جعلی فنگر پرنٹس

Thursday, September 24, 2026

Suspense Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
یہ شمارہ (ستمبر 2026) مختلف معلوماتی، تاریخی اور سنسنی خیز تحریروں پر مشتمل ہے:انشائیہ (جون ایلیا): انسان کی ضروریات، محنت اور پیٹ کی بھوک کا فلسفیانہ تجزیہ، جس میں سقراط/ارسطو کی انسان سے متعلق تعریف اور دیو جانس کلبی کے مشہور واقعے کا ذکر کیا گیا ہے کہ انسان اپنی احتیاج کے ہاتھوں مجبور ہے۔   آپ کے خط (اطہر حسین): قارئین کے خطوط، تبصرے اور 6 ستمبر (یومِ دفاع) و 11 ستمبر (قائد اعظم کی رحلت) کے حوالے سے وطن سے محبت اور ایثار کا پیغام۔   کالا طوفان (اے آر راجپوت): پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے واقعات، امریکی صدر کی سیکیورٹی، ایف بی آئی کی کارروائیوں اور جنگِ برما میں جاپانیوں کے خلاف شہباز اور اس کے ساتھیوں کی بقا کی خوفناک جدوجہد کی داستان۔   سرگرداں (صائمہ دانش): 9/11 کے المناک واقعے کے پس منظر میں ایمبر نامی لڑکی کی کہانی، جس کی ماں کا قتل ہو جاتا ہے اور باپ پراسرار طور پر لاپتا ہو جاتا ہے، جس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔   

Shuaa Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ شعاع ستمبر 2026 کے شمارے کا آغاز ربیع الاول کی مبارکباد، حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر مبنی مضامین، حمد و نعت اور دینی و اخلاقی احادیثِ مبارکہ کے باب سے ہوتا ہے۔ شمارے میں معروف اداکاروں جیسے مرینہ خان اور نوال پرویز ملک کے انٹرویوز (دستک)، رضوانہ فاروقی کا جذباتی مضمون "ہماری امی جان"، اور قارئین کا نمائندہ سروے شامل ہیں۔ ادبی حصے میں مریم عزیز کا مشتاقانہ ناول "دھوپ دریچہ" (بائیسویں قسط)، آسیہ رئیس خان کا ناول " آہ نیم کش" اور امت العزیز شہزاد کا ناول "کوئی اُترے دل آنگن" جاری سلسلوں کے طور پر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حنا بشری، ساجدہ رمضان، عمارہ صفدر اور دیگر لکھاریوں کے بہترین افسانے، گنگا کنارے، اور دلچسپ مستقل سلسلے شمارے کو پرکشش بناتے ہیں۔

Sarguzasht Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ سرگزشت (ستمبر 2026ء) کا یہ شمارہ انسانی آپ بیتیوں، تاریخی واقعات، سماجی تلخیوں اور متنوع کہانیوں کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ ابتدائیہ (اداریہ) میں اینتھروپ AI، پانامہ پروجیکٹ اور دنیا بھر سے مقبول کتابوں کو اسکین کر کے تلف کرنے کے متنازع عمل کے قانونی و سماجی اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ”شہر خیال“ میں قارئین کے تبصرے اور تجاویز شامل ہیں۔ شخصیت اور آپ بیتی کے باب میں ردا بتول کی تحریر ”با ہمت“ نمایاں ہے، جو کہ معروف ادیب، صحافی اور فلم ساز حمید اختر کی جدوجہد، ادبی زندگی، جیل کے ایام اور یادگار داستانِ زیست پر مبنی ہے۔   شمارے میں دیگر اہم تحریریں اور سچ بیانیاں بھی شامل ہیں:با ہمت (ردا بتول): حمید اختر کی زندگی اور ادبی و فلمی جدوجہد کی داستان۔   پکار (مظہر سلیم ہاشمی): ایک عجیب و غریب اور حیران کن واقعہ۔   رحمان کے مہمان (محمود شام): حج و ارضِ مقدس کے حوالے سے دلچسپ و یادگار تحریر۔   موہٹہ پیلس (نسرین خان): اینٹ اور گارے میں داستانِ محبت ملا کر تعمیر کردہ تاریخی عمارت کی سیر۔   جان بچا (زین مہدی): یو کے میں مقیم خطرات میں گھری پاکستانی ڈاکٹر کی خود نوشت۔   سچ بیانیاں: سنبل کی ”بدبو دار معاشرہ“، عشرت جہاں کی ”جعل سازی“، ایڈووکیٹ ربیعہ اکرام کی ”عزت کا نقصان“، دانیال حسن چغتائی کی ”اندھا عشق“، اور دیگر عبرت انگیز حقیقی کہانیاں۔   مزید برآں، یہ شمارہ تاریخی ورثے، سیرِ پاکستان، معاشرتی برائیوں اور انکشافاتی معلومات کے رنگارنگ موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔   

Pakeeza Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ "پاکیزہ" ستمبر 2026ء کا یہ شمارہ ادبی تحریروں، سلسلہ وار ناولوں، خصوصی مضامین اور مستقل عنوانات کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ ادارے میں مدیرہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم وفات اور یومِ دفاعِ پاکستان کی مناسبت سے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک و ملت سے تجدیدِ عہد کا پیغام دیا ہے۔ مجلے کا آغاز قرآن مجید کی آیات (سورۃ الانبیا) کے مفاہیم اور مساجد کی فضیلت و بچوں کی نماز سے متعلق احادیث سے ہوتا ہے۔   شمارے میں نگہت سیما کا مقبول سلسلہ وار ناول "اک دیا ہے ہاتھوں پر" (قسط 18) شامل ہے، جو انسانی رویوں، بے تعبیر خوابوں، اور خلوص پر مبنی سچی محبت کے گرد گھومتا ہے۔ داستان کے مرکزی کردار خورشید حیدر کی ایک حادثے اور عدالتی کیس میں گرفتاری کے بعد ان کی بیوی عطیہ، بیٹا سلمان، معتمد ملازمہ زرمینہ، اور دوست ایرک اور حیات حسن درپیش مشکلات سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف، اپنے فائدے اور سلمان کو قبضے میں رکھنے کی خاطر مانوش نامی عورت شاطرانہ چالیں چلتی ہے اور جادو ٹونے کا سہارا لیتی ہے۔ کہانی کے دوسرے حصے میں رضوان احمد، اس کی بہن صبو بی بی، منہ بولی بہن رانی اور خاندان کی اندرونی خوشیوں، شادی کی تیاریوں اور ملک شکیل احمد و حیات حسن کی ملاقات کا احوال مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔   اس کے علاوہ نزہت جبیں ضیا کی تحریر "چھوٹی سی بات" میں گھریلو رشتوں اور روزمرہ کی ذمہ داریوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ شمارے میں دیگر قلم کاروں جیسے افشاں آفریدی، قرۃ العین سکندر، سعدی آرائیں، اسما اشرف اور اختر شجاعت کی حسین تحریریں، تعزیتی و دینی مضامین اور روحانی و ہومیو کلینک کے مستقل سلسلے بھی شامل ہیں۔   

Khawateen Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ خواتین ڈائجسٹ (ستمبر 2026) کا یہ شمارہ مذہبی، اصلاحی اور ادبی تحریروں کا بہترین امتزاج پیش کرتا ہے۔   اداریہ و احادیث: اداریے میں ربیع الاول کی مناسبت سے آپ ﷺ کی آمد، سیرتِ طیبہ اور مسلم امہ کی یکجہتی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سلسلہ "کرن کرن روشنی" میں صحاح ستہ سے مستند احادیث کی روشنی میں مسئلہ تقدیر اور اعمالِ انسانی کی اصلاحی وضاحت پیش کی گئی ہے۔   ناول و افسانے: شمارے میں صدف ریحان گیلانی کا مکمل ناول "راہِ الفت" اور فرح بخاری کا "ایک دفعہ کا ذکر ہے" شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حسنیٰ حسین کا ناول "آپ سے کیا پردہ" اور راحت جبیں کے قسط وار ناول "شام سے پہلے آنا" کی چوتھی قسط (جس میں تیمور، نیلوفر اور ملیحہ کی جذباتی الجھنوں کو دکھایا گیا ہے) شائقین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ قانتہ رابعہ، ساجدہ رمضان، صدف عمر اور سارہ اعجاز کے اصلاحی و معاشرتی افسانے بھی شامل ہیں۔   انٹرویوز و طنز و مزاح: ڈرامہ نگار میمونہ عزیز سے ان کے تحریری سفر اور ڈرامہ سیریلز کے حوالے سے ملاقات اور معروف اداکار گوہر رشید کے ساتھ تفصیلی گفتگو/انٹرویو شامل ہے۔ اس کے علاوہ ابنِ انشاء کا کالم "خطبہ صدارت انشاء جی" قارئین کے لیے ظرافت کا بہترین سامان فراہم کرتا ہے۔   دیگر سلسلوں: قارئین کے خطوط (کہنی سنی)، ڈائری، شعری نشست، بیوٹی بکس اور باورچی خانے کے لیے ڈشز و ٹوٹکے بھی رسالے کی زینت ہیں۔ 

Jasoosi Digest September 2026

ماہنامہ جاسوسی ڈائجسٹ ستمبر 2026 کا یہ شمارہ سنسنی خیز کہانیوں، تحریر اور قارئین کے خطوط و تبصروں سے سجا ہے۔   اداریہ اور قارئین کی آرا:اداریے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت (11 ستمبر)، 1965ء کی جنگ کے دفاعی جذبے اور اسلام آباد کے پمز (PIMS) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش سانحے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔   "قارئین کی کرم فرمائیاں" کے سلسلے میں چکوال سے جاوید ملک، ملتان سے محمد حسنین، سینٹرل جیل پشاور سے قیدی مبشر امیر، کہروڑ پکا سے دانیال حسن چغتائی، کراچی سے محمد اقبال اور شاہدہ مختار، سیالکوٹ سے رفعت مقصود اور کوئٹہ سے غوث بخش مہیسر کے طویل اور دلچسپ تبصرے شائع کیے گئے ہیں۔   قسط وار ناولز اور ناولیٹ:خاردار (از عائشہ نصیر - دوسرا اور آخری حصہ): ایکشن اور تھرل سے بھرپور کہانی، جس میں مرکزی کردار ڈیوڈ برووز جیل سے فرار کے بعد اپنے بیٹے کی تلاش، ہلڈے ونسلو کی جھوٹی گواہی کا سچ جاننے اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔   سر بکف (از طاہر جاوید مغل): عمران، تابش اور انسپکٹر گوندل کا ایکشن اور جوناتھن کی گرفتاری، نیز قسطینا کی صحت اور تاجور و شاہ زیب کے معاملات پر سنسنی خیز پیش رفت۔   دہر (از حسام بٹ): جاسم، عیار ذہنوں کی حیلہ سازیوں، اور سنسنی خیز حالات کی پیش رفت پر مبنی جاری قسط وار سلسلہ۔   مختصر کہانیاں:آخری محافظ (از مظہر سلیم ہاشمی): وطن پر قربان ہونے والے ایک نڈر محافظ (کیپٹن سعد) کی جذباتی اور تلخ حقیقت پر مبنی کہانی۔   جنونِ سحر (از جاوید بسام): عداوت اور انسانی نفسیات پر مبنی کہانی۔   وراثت (از صائمہ دانش): سسپنس اور سراغ رسانی پر مبنی تحریر۔   وفا کا خراج (از نسرین خان): وطن کے دفاع اور قربانی کی داستان۔   کامل جرم (از لبنیٰ خان): شاطرانہ جرم کی دنیا کو بے نقاب کرتی ایک کہانی۔   ریزہ بار (از زویا صفوان) اور انتشار (از محمد فاروق انجم): سسپنس، معاشرتی و ذاتی کشمکش اور بحران کے گرد گھومتی تحاریر۔   

Tuesday, September 22, 2026

Chashm e Nam By Adil Rasheed

"چشم نم" عادل رشید کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور اصلاحی ناول ہے۔ اس کی کہانی ایک ایسی لڑکی "ودیا" کے گرد گھومتی ہے جو انتہائی نیک سیرت، بااخلاق، اور اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے) ہے۔ ودیا کے والد ہیم چندر لکھنؤ کے ایک کامیاب اور دیانت دار وکیل ہیں۔ ودیا ہر لحاظ سے ایک بہترین اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے، لیکن اس کی ظاہری رنگت سانولی اور روپ خوبصورت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی میں مسلسل رکاوٹیں آتی ہیں۔   ودیا کے والدین اس کی شادی کے لیے بہت پریشان رہتے ہیں اور کئی جگہ بات چیت کرتے ہیں۔ تاہم، ہر بار لوگ صرف ظاہری صورت و صورت یا دولت دیکھتے ہیں۔ ایک موقع پر ایک لالچی شخص "کامتا پرشاد" اپنے جالی بیٹے اور ایک بدنام چور کو شریف لڑکا بنا کر وکیل صاحب سے شادی اور دولت ہتھیا نے کا ڈرامہ رچاتا ہے، جسے ودیا اپنی دانشمندی سے بے نقاب کر دیتی ہے اور پولیس کے حوالے کروا دیتی ہے۔ ان تمام رسوائیوں اور تلخ تجربات سے تنگ آ کر ودیا شادی سے انکار کر دیتی ہے اور تنہا رہنے کا فیصلہ کرتی ہے۔اسی دوران ودیا کے والدین ایک حادثے (ٹرین حادثے) میں وفات پا جاتے ہیں، جس سے ودیا بالکل تنہا اور ٹوٹ جاتی ہے۔ خود کو مصروف رکھنے کے لیے وہ اپنی تعلیم اور ریسرچ (ڈاکٹریٹ) کا سلسلہ آگے بڑھاتی ہے۔ لائبریری میں اس کی ملاقات "نرمل کمار" نامی ایک ادیب/شاعر سے ہوتی ہے۔ نرمل اپنے آپ کو مظلوم اور بااخلاق ظاہر کر کے ودیا کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کر لیتا ہے۔ ودیا اس کی مالی مدد کرتی ہے اور اسے سچی محبت اور اپنا جیون ساتھی سمجھنے لگتی ہے۔

Monday, September 21, 2026

Barf Ki Deewar By Mael Malihabadi

یہ ناول آزاد ہندوستان کے بعد کے سماجی، اخلاقی اور مذہبی مسائل، بالخصوص ذات پات کی تفریق، چھوت چھات اور فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی ایک اصلاحی کہانی ہے۔   کہانی کا مرکزی کردار کمل شرما ایک برہمن نوجوان ہے، جس نے عربی زبان میں ایم اے کیا ہے اور آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کرتا ہے۔ لکھنؤ میں اس کے تعلقات مالتی نامی ایک لڑکی سے ہوتے ہیں، لیکن جب کمل کو معلوم ہوتا ہے کہ مالتی کی ماں اچھوت (دھوبن) تھی، تو وہ اپنے تعصب اور ذات پات کے گھمنڈ میں مالتی کو تحقیر کے ساتھ ٹھکرا دیتا ہے۔ مالتی اس ذلت سے شدید رنجیدہ ہوتی ہے اور اونچی ذات کے برہمنوں کے اس مصنوعی نظام اور نفرت کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔   دہلی جا کر کمل کی ملاقات عربی شعبے کی مصری نگراں فریدہ اور شعبے کے سربراہ مولانا سے ہوتی ہے۔ وہاں فریدہ اور دیگر لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور مولانا کی شرافت و اخلاق کو دیکھ کر کمل کی سوچ بدلنے لگتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ انسانیت اور اخلاق کسی ذات یا مذہب کے مرہونِ منت نہیں ہیں۔ آخرکار ایک دن فریدہ کے ساتھ چائے پی کر کمل اپنی صدیوں پرانی چھوت چھات کی روایت اور تعصب کی "برف کی دیوار" کو توڑ دیتا ہے اور اسے اپنے ماضی کے رویے پر ندامت ہوتی ہے۔   دوسری طرف مالتی کی زندگی میں راجہ رام نامی ایک دولت مند کاروباری شخص آتا ہے جو اس کی ذات کی پروا کیے بغیر اس سے رشتہ قائم کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ ناول بنیادی طور پر یہ درس دیتا ہے کہ جو سماج ذات پات اور مذہبی نفرت میں بٹا رہے گا وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا اور عوامی انقلاب ایسے فرسودہ نظام کو مٹا کر رکھ دے گا۔

Aalmi Digest August 1979

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ "عالمی ڈائجسٹ" (اگست 1979ء) کا یہ شمارہ متنوع، سنسنی خیز اور اصلاحی تحریروں کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ اس شمارے میں شامل اہم تحاریر درج ذیل ہیں:
زنده مرده (کامران شامی کا شاہکار): برفانی طوفان میں 20 سال تک منجمد رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے والے ایک نوجوان فرمان گل کی سنسنی خیز اور پرپیچ داستان۔ اس کے چچا زاد بھائی تیمور گل نے جائیداد کی ہوس اور فرمان کی منگیتر ریشم جان کو حاصل کرنے کے لیے اسے برفانی غار میں سُلا کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ کہانی میں کامران شامی اور یوسف ثانی کی عقلمندی سے فرمان گل کی کھوئی ہوئی یادداشت واپس لائی جاتی ہے اور تیمور گل کے مکر و فریب کو بے نقاب کر کے 21 سالہ بیٹی مہرن اور بیوی ریشم جان سے اس کا ملن کرایا جاتا ہے۔
شرع الواقع (نیر ندیم): انگریزی مصنف ایمپلی ہرٹ کام کے قلم سے ایک سبق آموز تحریر، جس میں افریقہ میں تبلیغی خدمات انجام دینے والے پادری ڈاکٹر میک، ان کی زوجہ اور لارڈ ڈیوڈ کے بحری سفر کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ کہانی میں ایک بے راہ رو اور بے لباس خاتون "مس تھامسن" کی اخلاقی اصلاح کے لیے کی جانے والی کوششوں اور انسان کو برائی سے روکنے کے دینی و اخلاقی طریقوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔
دیگر اشاعتی مواد: شمارے میں ادارے کی جانب سے کہانیوں کے مقابلے کے انعامات، قارئین کے خطوط (اظہارِ خیال)، اور اس دور کے مشہور تجارتی اشتہارات (مثلاً این آئی ٹی، اوریگا کامپلیکس، میجک اپوکسی اسٹیل، پولکا آئس کریم اور ڈینٹونک) بھی شامل ہیں۔

Nikamma By Behzad Sheikh

Download Link B
حارث کی خاندانی زندگی اور "نکمے" کا تاثر:
حارث 26 سالہ نوجوان ہے جو اپنے والدین (شاہد آفندی اور تہمینہ بیگم) اور جڑواں بہن سارا کے ساتھ لاہور میں رہتا ہے۔ شاہد صاحب ایک ذمہ دار اور سخت مزاج والد ہیں، جو حارث کے کوئی کام نہ کرنے، دن بھر آوارہ گردی کرنے اور لائف میں سنجیدہ نہ ہونے پر اکثر ڈانٹتے رہتے ہیں اور اسے "نکما" سمجھتے ہیں۔ بہن سارا کے ساتھ اس کی نوک جھونک اور شرارتیں چلتی رہتی ہیں، جبکہ ماں تہمینہ بیگم ہمیشہ اسے پیار سے سنبھالتی ہیں۔
   حارث کی اصل حقیقت:
گھر والوں اور محلے داروں کی نظر میں لاپرواہ اور آوارہ نظر آنے والا حارث اصل میں پاکستان کے ایک سیکیورٹی ادارے کا ایک انتہائی تربیت یافتہ اور انڈر کور ایجنٹ (میجر حارث آفندی - کوڈ نیم: ایگل) ہے۔ وہ جان بوجھ کر بے فکری کا نقاب اوڑھے رکھتا ہے تاکہ کسی کو اس کی حساس سرگرمیوں کا شک نہ ہو۔ رات کی تاریکی میں وہ اپنے مشنز پر نکلتا ہے۔
   لالہ زار پل پر خطرناک مشن:
کرنل شہیر اپنے ایجنٹوں کو اہم قومی بریفنگ دیتے ہیں کہ "لالہ زار پل" پر بارڈر پار دشمن کے ساتھ ایک بڑی اسلحہ ڈیل اور حساس دستاویزات/فہرست کا سودا ہونے والا ہے۔ میجر حارث اس مشن کی قیادت کرتا ہے۔ بارش اور اندھیرے میں لالہ زار پل پر دشمن سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ حارث اپنی جان پر کھیل کر دشمن کا ریموٹ بم دریا میں گراتا ہے، دشمن کے باس کو ہلاک اور گرفتار کرتا ہے اور اہم ثبوت و فائلز محفوظ کر لیتا ہے۔
   دھماکا اور آخری جدوجہد:
مشن کی کامیابی کے بعد واپسی کے راستے میں حارث کی بائیک پر پہلے سے نصب ٹائم بم کا دھماکا ہو جاتا ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں سڑک کے کنارے گر جاتا ہے۔ دشمن کے مزید اہلکار اسے ختم کرنے آتے ہیں، لیکن زخمی حارث ہمت نہیں ہارتا، ان پر حملہ کر کے انہیں ڈھیر کرتا ہے اور اپنی ذہانت سے بم کا نیلا تار کاٹ کر وقت ختم ہونے سے چند سیکنڈ پہلے بم ڈفیوز کر دیتا ہے۔
   ہسپتال میں صحتیابی اور قومی ہیرو:
حارث کا دوست اور ایجنٹ سہیل ٹیم کے ساتھ پہنچ کر حارث کو ہسپتال (CMH) منتقل کرتا ہے۔ شدید سرجری کے بعد ڈاکٹر حارث کی جان بچا لیتے ہیں۔ کرنل شہیر اور سہیل اس کی بہادری کو سراہتے ہیں، اور ٹی وی پر خبریں چلتی ہیں کہ ایک گمنام ہیرو نے ملک کو بڑے حادثے سے بچا لیا۔ حارث دل ہی دل میں اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ جس بیٹے کو دنیا "نکما" کہتی تھی، اس نے خاموشی سے اپنے وطن کی دفاعی جنگ جیت لی۔