یہ کہانی ایک مشہور شاطر بہروپیے "جگن میاں" (جو داستان گو کاظم علی کے روپ میں بھی سامنے آتا ہے) اور برٹش کاؤنٹر انٹیلی جنس کے چالاک اہلکار "نواب خان" کے گرد گھومتی ہے۔ کاظم علی داستان گوئی کے بہانے لوگوں میں تجسس پیدا کرتا ہے اور درپردہ انگریزوں، نوابوں اور ظالم مہاجنوں کو لوٹتا ہے۔ نواب خان، جو پہلے کاظم علی کا مداح تھا، بعد میں اس کی اصل حقیقت جان جاتا ہے۔
کہانی میں پیش آنے والے اہم موڑ:
ہوشیارانہ ڈکیتی: جگن میاں سادھو، وکیل اور سپاہی کے بھیس بدل کر گاؤں والوں اور لالہ کرپارام جیسے ظالم مہاجنوں سے سونا اور ہیرے لوٹتا ہے۔
جنگل اور ڈاکوؤں کی قید: نواب خان اور جگن میاں ڈاکو کالے خان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ کالے خان کی پراسرار موت کے بعد جگن میاں اپنی شاطرانہ چالوں سے نئے سردار "لالی" اور ڈاکوؤں کے گروہ کو ایک جعلی نقشے اور خزانے کے لالچ میں الجھا کر ان میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔
خطرناک فرار: نواب خان اور جگن میاں مل کر لالی اور ڈاکوؤں کو بیوقوف بناتے ہیں اور ایک خونریز معرکے کے بعد جنگل سے فرار ہو جاتے ہیں۔
کہانی میں پیش آنے والے اہم موڑ:
ہوشیارانہ ڈکیتی: جگن میاں سادھو، وکیل اور سپاہی کے بھیس بدل کر گاؤں والوں اور لالہ کرپارام جیسے ظالم مہاجنوں سے سونا اور ہیرے لوٹتا ہے۔
جنگل اور ڈاکوؤں کی قید: نواب خان اور جگن میاں ڈاکو کالے خان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ کالے خان کی پراسرار موت کے بعد جگن میاں اپنی شاطرانہ چالوں سے نئے سردار "لالی" اور ڈاکوؤں کے گروہ کو ایک جعلی نقشے اور خزانے کے لالچ میں الجھا کر ان میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔
خطرناک فرار: نواب خان اور جگن میاں مل کر لالی اور ڈاکوؤں کو بیوقوف بناتے ہیں اور ایک خونریز معرکے کے بعد جنگل سے فرار ہو جاتے ہیں۔






