نواب یوسف علی خان کی ریاست رام پور، گوالیار اور نینی تال کے سنسنی خیز جنگلات پر مبنی اس شکار بیانی میں نامور شکاری سید مقصود علی اور مصنف (انجم فاروق ساحلی) کی دلیری اور شجاعت کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ داستان کی شروعات ریاست رام پور کے ایک خوفناک ایک دانت والے خونی ہاتھی "اکڑا" کے تعاقب اور نواب یوسف علی خان کی شاہی شکار گاہ سے ہوتی ہے، جہاں مقصود علی اپنی ماہرانہ تگ و دو اور بے خوفی سے ہاتھی کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔ بعد ازاں داستان نینی تال، کرتھانوالہ اور جمہاوت کے علاقوں میں دہشت پھیلا دینے والی آدم خور شیرنی کے گرد گھومتی ہے جس نے درجنوں دیہاتیوں، عورتوں اور بچوں کو اپنا نوالہ بنا رکھا تھا۔ مصنف جنگل کی دشوار گزار گھاٹیوں، طوفانی بارشوں اور خوفناک حالات میں نہ صرف اس آدم خور شیرنی اور شیر کا سراغ لگاتے ہیں بلکہ اپنی رائفل اور تدبر سے ان درندوں کو ہلاک کر کے خوفزدہ دیہاتیوں کو اس ہولناک عذاب سے نجات دلاتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.