نواب یوسف علی خان کی ریاست رام پور، گوالیار اور نینی تال کے سنسنی خیز جنگلات پر مبنی اس شکار بیانی میں نامور شکاری سید مقصود علی اور مصنف (انجم فاروق ساحلی) کی دلیری اور شجاعت کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ داستان کی شروعات ریاست رام پور کے ایک خوفناک ایک دانت والے خونی ہاتھی "اکڑا" کے تعاقب اور نواب یوسف علی خان کی شاہی شکار گاہ سے ہوتی ہے، جہاں مقصود علی اپنی ماہرانہ تگ و دو اور بے خوفی سے ہاتھی کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔ بعد ازاں داستان نینی تال، کرتھانوالہ اور جمہاوت کے علاقوں میں دہشت پھیلا دینے والی آدم خور شیرنی کے گرد گھومتی ہے جس نے درجنوں دیہاتیوں، عورتوں اور بچوں کو اپنا نوالہ بنا رکھا تھا۔ مصنف جنگل کی دشوار گزار گھاٹیوں، طوفانی بارشوں اور خوفناک حالات میں نہ صرف اس آدم خور شیرنی اور شیر کا سراغ لگاتے ہیں بلکہ اپنی رائفل اور تدبر سے ان درندوں کو ہلاک کر کے خوفزدہ دیہاتیوں کو اس ہولناک عذاب سے نجات دلاتے ہیں۔
House of Urdu Book and Novels, Urdu Novels, Urdu Novel Download, Urdu Afsanay, Urdu Story, Noshad Adil Novels, New Urdu Novels,
Showing posts with label S. Show all posts
Showing posts with label S. Show all posts
Wednesday, August 12, 2026
Sunday, August 9, 2026
Sadhvi Novel By Zahoor us Sabah Siddiqui
یہ کہانی آنیا کے گرد گھومتی ہے جو بھارت کے شہر راجستھان کے ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ جے پور کے میڈیکل کالج میں داخلہ لیتی ہے جہاں اس کی دوستی سارہ، عبداللہ (جو مسلمان ہیں) اور اکشے سے ہو جاتی ہے۔ کالج کے دوران مذہبی نظریات پر بحث کے نتیجے میں اکشے اسلام قبول کر کے اپنا نام ابوبکر رکھ لیتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس کے گھر والے اس پر شدید تشدد کرتے ہیں۔ ابوبکر کی مدد کرنے پر سارہ کے دو معصوم بھائیوں (عمر اور محمد) کو ہندو انتہا پسند ظالمانہ طریقے سے شہید کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف، آنیا کی سہیلی پریا کو اس کے گھر والے اور جین دھرم کے پیروکار مذہبی رسم کے تحت بال نوچ کر زبردستی سنیاسن (سادھوی) بنا دیتے ہیں، جس سے اس کے تمام خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tuesday, August 4, 2026
Saleeb e Waqt By Aasnath Kanwal
یہ کہانی ایک ایسے انسان کے گرد گھومتی ہے جو ماضی کے دکھوں اور تلخ یادوں میں الجھ کر اپنے حال سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہ وقت کی سخت آزمائشوں (صلیبِ وقت) کو برادشت کرتا ہے اور اپنے جذبات و تعلقات کو بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ یہ تحریر انسان کے اندرونی کرب، صبر اور وقت کے ساتھ حالات کے سامنے ڈھلنے کا ایک مؤثر تاثر پیش کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Thursday, July 30, 2026
Shikast By Safdar Ali Haidri
ہادی اور مریم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ان کا نکاح ہو چکا تھا، لیکن ہادی کی کزن نائلہ بچپن سے ہادی کو پسند کرتی تھی اور ان کے رشتے سے شدید حسد کرتی تھی। نائلہ نے اپنی منگنی کی رات ہادی کو دھوکے سے اپنے کمرے میں بلا کر چیخ و پکار کی اور اس پر عزت پر ہاتھ ڈالنے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ اس ڈرامے کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں شدید بدگمانی پھیلی اور ہادی اور مریم کا نکاح ختم ہو گیا۔ بعد میں خاندان کے دباؤ میں آکر ہادی کی شادی نائلہ سے کر دی گئی، لیکن ہادی نے نائلہ کو کبھی دل سے قبول نہ کیا اور مریم کی یاد میں ہی تڑپتا رہا۔ ہادی کا چھوٹا بھائی حمزہ اس واقعے کو مشکوک سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Sunday, July 19, 2026
Shama Jalti Rahi By Noman Ishaq
یہ کہانی شمع نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور گھریلو کام کاج سے بیزار ہو کر ایک امیر اور پرآسائش زندگی کے خواب دیکھتی ہے۔ شمع کا پڑوسی سعد اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کا رشتہ بھیجتا ہے، لیکن شمع اپنی مادی خواہشات اور امیر ہونے کی چاہ میں اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔ کہانی میں ایک بڑا موڑ تب آتا ہے جب شمع کی بہن پاکیزہ اچانک واشنگ مشین سے کرنٹ لگنے کے باعث انتقال کر جاتی ہے، جس سے پورے گھر پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ والد عبد الرحمن کے سمجھانے پر شمع بالآخر سعد سے شادی کے لیے رضامند ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد سعد اپنی فیکٹری کی ملازمت میں شمع کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، لیکن جب شمع کو فیکٹری کی مالکن 'سونیا' کی سعد میں دلچسپی کا علم ہوتا ہے تو اس کے اندر حسد اور پچھتاوا جاگ اٹھتا ہے۔ دوسری طرف فیصل نامی نوجوان کی کالج لائف اور مسجد میں 'جی ایم' نامی شخص سے ملاقات کے احوال بھی کہانی کا حصہ ہیں۔ یہ ناول مادی خواہشات، خلوصِ محبت، تقدیر کے فیصلوں اور انسانی احساسات کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔
Sunday, July 5, 2026
Sultan Tipu By Maulana Muhammad Saeed ur Rehman Alvi
یہ تحریر سلطنتِ میسور کے عظیم حکمران سلطان ٹیپو شہید کی زندگی، ان کے بلند کردار، انگریزوں کے خلاف جدوجہد اور ان کی وسیع النظری پر روشنی ڈالتی ہے۔ مصنف کے مطابق، سلطان ٹیپو برصغیر کے واحد حکمران تھے جنہوں نے مستقبل کے خطرات کو بھانپ کر انگریزوں کے خلاف "سودیشی تحریک" اور غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کا نعرہ لگایا۔ وہ ایک انتہائی محنتی اور فرض شناس حکمران تھے جو اپنے ملک و ملت کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔ تحریر میں علامہ اقبال اور مہاتما گاندھی جیسے رہنماؤں کے اعترافات کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطان نے ہمیشہ غیر ملکی غلامی کے خلاف ایک شیر کی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی اور اپنوں کی غداری کے باعث میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
مزید برآں، یہ مضمون انگریزوں کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ سلطان غیر مسلموں یا جنگی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈز سے ثابت ہے کہ سلطان ٹیپو اور ان کے والد حیدر علی خان کے دور میں ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ریاست کے قدیم مندروں کو شاہی سرپرستی، جاگیریں اور مالی امداد حاصل تھی۔ مرہٹوں کے حملے میں جب سرینگری مندر کو نقصان پہنچا، تو سلطان نے خود نقد رقم اور اشرفیاں بھیج کر بت کو دوبارہ نصب کروایا اور مندر کی مرمت کرائی، جو ان کی مذہبی رواداری اور وسیع النظری کی ایک لازوال مثال ہے۔
Wednesday, June 24, 2026
Sayara Digest Haqooq ul Ibad Number December 2000
سیارہ ڈائجسٹ کا "حقوق العباد نمبر" (دسمبر 2000ء) انسانی حقوق کی تاریخ، اہمیت اور مختلف مذاہب و تہذیبوں میں ان کے تصور کا ایک جامع اور متوازن احاطہ ہے۔ ڈائجسٹ کے افتتاحیہ "دستک" میں نصرت علی اثیر نے عصرِ حاضر کی سائنسی ایجادات کے منفی پہلوؤں اور مروت کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نمبر انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی قوتوں کو ان کی اصل سے جوڑنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ اس شمارے کے تفصیلی تعارف میں انیسویں صدی کے ذہنی و سائنسی انقلاب کا سہرا عالمِ اسلام کے سر باندھا گیا ہے، جس نے یورپی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنسی تجرباتی اسلوب کی بنیاد رکھی۔ اس میں تاریخ کے مختلف ادوار، خصوصاً پانچویں سے دسویں صدی کے تاریک یورپی دور کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں بربریت، افلاس اور انسانی غلامی عروج پر تھی اور انسانی حرمت کا کوئی تصور نہ تھا۔ ایسے مخدوش حالات میں طلوعِ اسلام نے مساواتِ انسانی، رنگ و نسل کے امتیاز کے خاتمے اور امن و آشتی کا ابدی پیغام دیا۔ ڈائجسٹ میں "حق" کے لغوی و اصطلاحی مفاہیم پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، جس میں سچائی، استحقاق، ذمہ داری اور عدل و انصاف جیسے پہلو شامل ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی کے حوالے سے حقوق کی وسعت کو کائنات کی ہر چیز (جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان) تک محیط بتایا گیا ہے۔ مزید برآں، اس نمبر میں قدیم مصری، عراقی، فلسطینی، ایرانی، ہندوستانی (وادیِ سندھ)، چینی، یونانی اور رومی تہذیبوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جہاں شخصی بادشاہتوں، طبقاتی نظام (جیسے ہندومت کا ذات پات کا نظام) اور ہولناک جنگوں کے باعث عام انسان اور غلام حیوانوں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ شمارے میں یہودیت (تعلیماتِ حضرت موسیٰؑ) اور عیسائیت (تعلیماتِ حضرت عیسیٰؑ) میں انسانی حقوق، صلہ رحمی اور اخلاقی اصولوں کا ذکر قرآن مجید اور بائبل کے حوالوں سے کیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان مذاہب کی اصل روح کو بعد میں پیروکاروں نے مسخ کر دیا۔ بدھ مت کی اخلاقی تعلیمات، ہشت پہلو راستے اور نروان کے تصور کا بھی ذکر ہے، تاہم یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ عملی زندگی میں ان مذاہب کے پیروکار افراط و تفریط کا شکار رہے۔ آخر میں، اسلام کے آفاقی نظامِ عدل، خطبہ حجۃ الوداع اور قرآنی تعلیمات کو انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار اور ضامن قرار دیا گیا ہے، جہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان ایک کامل توازن موجود ہے۔
Tuesday, June 23, 2026
Suspense Digest December 1984
Download Link A
Download Link B
اداریہ (میرا خیال): مدیر اعلیٰ معراج رسول قارئین سے مخاطب ہیں اور وقت کی تیزی، کام کے دباؤ اور ڈائجسٹ کی تیاری کے مراحل کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ قارئین کی فرمائش پر آئندہ ماہ سے انگریزی ناولوں کی تلخیص شامل کرنے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔کہانیاں اور سلسلے:
قیامت (فرحاد علی تیمور): لبنان کے پس منظر اور فلسطینی سرفروشوں کی داستان، جو اس ماہ اپنے اختتام کو پہنچی۔
جرمِ وفا (محسن رضا / معراج رسول): سابقہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی آہیں اور آنسوؤں سے بھرپور کہانی کی آخری قسط۔
دل پھینک دادا (اشرف طارق): ایک بوڑھے دادا کی جاندار داستانِ عشق۔
زلزلہ یا فرشتہ (الوصل اقبال): ایک کم سخن نوجوان کی جرات کی داستان۔
اندر گاندھی (ضیا نسیم بلگرامی): بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی موت پر ایک پاکستانی کے تاثرات۔
تاریخی کہانی (الیاس سیتاپوری): سومنات کے فاتح سلطان محمود غزنوی کے والد "سبکتگین" کی پرکشش سوانح اور داستانِ وفاداری۔ کہانی میں جوق زادے (سبکتگین) کی غلامی سے وثاق باشی (سردار) کے منصب تک پہنچنے، الپ تگین کے دربار میں شمولیت، اور بخارا کے سفارتی مشن پر روانگی کے پُرتجسس واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
دیگر سلسلے: قارئین کے خطوط و اشعار پر مبنی "سپنس فیملی کی محفل" اور مقبول انعامی سلسلہ شامل ہیں۔
قیامت (فرحاد علی تیمور): لبنان کے پس منظر اور فلسطینی سرفروشوں کی داستان، جو اس ماہ اپنے اختتام کو پہنچی۔
جرمِ وفا (محسن رضا / معراج رسول): سابقہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی آہیں اور آنسوؤں سے بھرپور کہانی کی آخری قسط۔
دل پھینک دادا (اشرف طارق): ایک بوڑھے دادا کی جاندار داستانِ عشق۔
زلزلہ یا فرشتہ (الوصل اقبال): ایک کم سخن نوجوان کی جرات کی داستان۔
اندر گاندھی (ضیا نسیم بلگرامی): بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی موت پر ایک پاکستانی کے تاثرات۔
تاریخی کہانی (الیاس سیتاپوری): سومنات کے فاتح سلطان محمود غزنوی کے والد "سبکتگین" کی پرکشش سوانح اور داستانِ وفاداری۔ کہانی میں جوق زادے (سبکتگین) کی غلامی سے وثاق باشی (سردار) کے منصب تک پہنچنے، الپ تگین کے دربار میں شمولیت، اور بخارا کے سفارتی مشن پر روانگی کے پُرتجسس واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
دیگر سلسلے: قارئین کے خطوط و اشعار پر مبنی "سپنس فیملی کی محفل" اور مقبول انعامی سلسلہ شامل ہیں۔
Sunday, June 21, 2026
Churail (Shables Series) Part 8 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
اس حصے میں کہانی کا مرکزی کردار (عاقل رفیق) راجن راج اور دیگر شیطانی قوتوں سے بچنے کے لیے اپنے ایک جن دوست، رجب علی کے مشورے پر اپنا ماحول اور شہر تبدیل کر لیتا ہے۔ رجب علی اسے کچھ رقم فراہم کرتا ہے جس سے وہ ایک امیر اور باوقار شخص، حیات علی شاہ کے وسیع بنگلے میں ہاؤس کیپر (کیر ٹیکر) کی ملازمت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں اس کی ملاقات حیات علی کے بھتیجے فراز اور بیٹی صائمہ سے ہوتی ہے۔ فراز کے ساتھ ایک دن باہر جاتے ہوئے عاقل کا سامنا جبار اور خان نامی خطرناک غنڈوں سے ہوتا ہے جو ایک پراسرار عمارت کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ عاقل کا تجسس جاگتا ہے اور وہ خفیہ طور پر اس عمارت میں داخل ہو کر ایک زرد لباس والے بوڑھے تبتی یا جاپانی بھکشو کو قید دیکھتا ہے جس کے جسم پر تشدد کے نشانات ہوتے ہیں۔ اسی دوران وہاں فن لینڈ سے آئے مہمانوں کے ساتھ ایک پراسرار لڑکی "می شی کو" بھی آتی ہے، جس کے نقوش اس بوڑھے قیدی سے ملتے جلتے ہیں۔ عاقل کو نغمہ نیاز علی نامی لڑکی کی بے باکی اور صائمہ و لینا کی توجہ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کہانی کے آخر میں، عاقل رات کے وقت می شی کو کے کمرے میں دو نقاب پوش اغوا کاروں کو حملہ کرتے دیکھتا ہے اور اپنی فولادی طاقت سے ان کا مقابلہ کر کے می شی کو کو اغوا ہونے سے بچا لیتا ہے۔
Naag Mandar (Shables Series) Part 7 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
اس کہانی میں حسن پاشا (عاقل رفیق) راجہ کیداری اور رانی پورن ماشی کے محل میں پھیلی گہری اور پر اسرار سازشوں کا سراغ لگاتا ہے۔ علی فیضان پاشا کے حکم پر وہ رانی کے سوتیلے بھائی شیام راج اور اس کی معذور بہن سمن کماری سے ملاقات کرتا ہے، جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ رانی پورن ماشی ان دونوں بہن بھائیوں پر ظلم کرتی ہے اور انہیں قید کر رکھا ہے۔ کہانی میں اس وقت نیا موڑ آتا ہے جب حسن پاشا محل کی خفیہ نگرانی کرنے والے رسک لال اور پورن ماشی کو ڈرانے کے لیے شیام راج کے بھیجے گئے کرائے کے غنڈے کالی چرن کو قابو کرتا ہے۔
آخر میں راجہ کیداری اچانک واپس آکر انکشاف کرتا ہے کہ علی فیضان پاشا اصل میں "وکرم سنگھ" نامی ایک مکار شخص ہے جو دونوں طرف ڈبل گیم کھیل کر ریاست پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ حسن پاشا کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے، جہاں وہ اپنے لکیروں کے خفیہ علم کی بدولت پولیس کمشنر کو حیران کر دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف وکرم سنگھ پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
Saturday, June 20, 2026
Jino Ka Saya (Shables Series) Part 6 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
ناول "جنوں کا سایہ" (شبلیں سیریز، پارٹ 6) کے اس اقتباس میں عاقل رفیق اور اس کے وفادار ساتھی مدن کو پتا چلتا ہے کہ رمنا کو کالے جادو کے ذریعے نقصان پہنچانے میں گنگا اور تنوجا نامی لڑکی ملوث ہیں۔ عاقل، سورج کمار (جو رمنا سے محبت کرتا ہے) کو تنوجا کی حقیقت سامنے لانے کے لیے ایک فرضی خواب کا سہارا لینے کا مشورہ دیتا ہے۔ سورج کے محبت بھرے ڈرامے کے جال میں پھنس کر تنوجا اپنے جرم اور عاقل پر قاتلانہ حملہ کروانے کا اعتراف کر لیتی ہے۔ بعد ازاں، پولیس انسپکٹر راج دیو کی مدد سے تنوجا اور گنگا کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر تھانے منتقل کیا جاتا ہے۔ کہانی میں سب سے بڑا سنسنی خیز موڑ تب آتا ہے جب حویلی میں موجود پنڈت امبا پرشاد کی موجودگی میں عاقل رفیق کی بینائی تیز ہوتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ پنڈت کے بھیس میں اصل میں کالا جادوگر "کالو رام چورسیا" چھپا ہوا ہے۔ عاقل ڈرامائی انداز میں اس کا ماسک اور وگ اتار کر اسے بے نقاب کر دیتا ہے، جس پر انسپکٹر راج دیو اسے سخت سزا دے کر گرفتار کر لیتا ہے۔ حویلی کے مالک جگ سرن اور ملازم مدن، عاقل رفیق کی اس عظیم انسانی ہمدردی اور بہادری پر اس کے بے حد شکر گزار ہوتے ہیں اور اسے حویلی کا فرد بن کر رہنے کی درخواست کرتے ہیں۔
Devi Ka Mujasma (Shables Series) Part 5 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
یہ اقتباس ایم اے راحت کے مشہور پراسرار ناول "دیوی کا مجسمہ" (شبلیس سیریز، حصہ 5) سے لیا گیا ہے۔ کہانی کا آغاز مرکزی کردار اور اس کے تابع جن 'رجب علی' کے ٹرین کے سفر سے ہوتا ہے، جہاں رجب علی اپنی نادیدہ شکل میں ایک راجپوت نوجوان 'جھاپک رام' کو تنگ کرنے کے لیے اس کی مونچھیں اکھاڑ کر ٹھوڑی پر داڑھی کی جگہ لگا دیتا ہے۔ ٹرین میں موجود ایک معمر شخص 'کیتھا رام' اسے کوئی پہنچا ہوا سادھو سنت سمجھ کر پاؤں پکڑ لیتا ہے، جس پر رجب علی اشارے سے جھاپک رام کو ٹھیک کر دیتا ہے۔ ہردوار پہنچ کر کیتھا رام دوبارہ مرکزی کردار سے ملتا ہے اور اسے اپنے پرانے مالک 'امرت پال سانگا' کے اکلوتے بیٹے 'گنیش پال سانگا' کی حالتِ زار بتاتا ہے، جو پراسرار طور پر بولنے اور چلنے پھرنے سے قاصر ہو کر ایک "پتھر کا مجسمہ" بن چکا ہے۔ مرکزی کردار، رجب علی کو 'سنیل شرما' کا انسانی روپ دے کر امرت پال کے ہاں 'کالکا نواس' میں قیام کرتا ہے۔ وہاں امرت پال کی بڑی بیٹی 'سریتا' ان پر شک کرتی ہے، لیکن مرکزی کردار اپنے ذہنی اثر (ٹرانس) سے درخت کے پرندوں کو اس کے سر اور شانوں پر بٹھا کر اپنی شکتیوں کا قائل کر دیتا ہے۔ رات کے وقت مرکزی کردار تنہائی میں گنیش پال کے دماغ کا جائزہ لیتا ہے اور اپنے ذہنی اثر سے اس کے دماغ کے تاریک خلا میں ایک پراسرار خوبصورت عورت کا چہرہ اور ایک مندر نما عمارت کے خاکے دیکھتا ہے۔ وہ کاغذ پر اس عورت کا سکیچ بناتا ہے، جسے دیکھ کر گنیش پال کی ماں 'رانی امریتا' چونک اٹھتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ایک بار درگا پور سے واپسی پر کالی آندھی کے دوران انہوں نے 'چیتن نگر' کے جنگل میں ایک دھرم شالہ میں پناہ لی تھی، جہاں بھورے پتھر کا ایک حسین مجسمہ موجود تھا۔ گنیش اس مجسمے کو گھورتا رہا تھا، لیکن جب پجاری نے بتایا کہ وہ پتھر نہیں بلکہ 'رانی کیکاوتی' ہے جو جیتی جاگتی ہے، تو دوبارہ دیکھنے پر وہ مجسمہ وہاں سے غائب ہو چکا تھا۔
Naag Dev (Shables Series) Part 4 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
کہانی کا یہ حصہ عاقل شاہ (جو درحقیقت شبلیس ہے) کے گرد گھومتا ہے。 مرزا اختیار بیگ عاقل شاہ کو اپنی پوتی مہرالنساء کی مافوق الفطرت حالت اور سہارن پور کے کھنڈرات (مدد گڑھی کی حویلی) میں اس کے پراسرار طور پر غائب ہو جانے کے بارے میں بتاتے ہیں。 عاقل شاہ مہرالنساء سے ملتا ہے جو اسے ایک ڈھونگی عامل سمجھ کر وارننگ دیتی ہے。 رات کے وقت عاقل شاہ مہرالنساء کا تعاقب کرتے ہوئے کھنڈرات جاتا ہے، جہاں وہ غائب ہو جاتی ہے اور صبح پراسرار طریقے سے واپس گھر پہنچ جاتی ہے。 اگلی رات عاقل شاہ تنہا کھنڈرات جاتا ہے جہاں اس کا سامنا ایک خطرناک کالے ناگ اور پھر سرخ آنکھوں والے ایک پراسرار بھینسے سے ہوتا ہے، عاقل شاہ اپنی ذہنی قوت سے بھینسے کو دیوار سے ٹکرا کر زخمی کر دیتا ہے، جس کے بعد وہ دھوئیں میں غائب ہو جاتا ہے۔ بعد میں مہرالنساء پر ایک شدید اور خوفناک دورہ پڑتا ہے جس میں اس کی گردن کسی کھلونے کی طرح گھومنے لگتی ہے اور اس کے اندر موجود آتشی مخلوق (جنات) عاقل شاہ کو پچھلی رات اپنے بچے (بھینسے) کو زخمی کرنے پر دھمکاتی ہے۔ عاقل شاہ اپنی خداداد ذہنی قوت (شبلیسیت) کا بھرپور استعمال کر کے اس مخلوق کو مغلوب کر دیتا ہے اور اسے مہرالنساء کا وجود ہمیشہ کے لیے آزاد کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، جس سے مہرالنساء بالکل ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کہانی میں عاقل شاہ اور مرزا ظہیر بیگ کے پنچم شری میلے کے دورے اور وہاں جڑواں نجومی لڑکیوں سے ملاقات کا تذکرہ بھی شامل ہے جہاں اسے "پدم پورنا" کہا جاتا ہے۔
Thursday, June 18, 2026
Kala Mantar (Shables Series) Part 3 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
کہانی کا آغاز عاقل رفیق کے ذہنی رابطے سے ہوتا ہے، جب حماد یمنی رام پور کے ایک ہندو ہوٹل سے اس سے رابطہ کرتے ہیں۔ ملاقات کے دوران حماد یمنی عاقل کو بتاتے ہیں کہ دنیا شیطانیت اور تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور بلیکرز (کالے ذہن والی قوتوں کے مالک) کی کل تعداد 83 ہے۔ ان میں سے 39 بلیکرز برائی کے خلاف متحد ہو چکے ہیں جن کا سربراہ ایون کارلوس جاپان میں ہے، اور عاقل رفیق وہ 40واں بلیکر ہے جس کی انہیں تلاش ہے۔ عاقل جاپان جاتا ہے جہاں اسے پٹیالہ کی شبلیس 'رانی رچنا' ملتی ہے۔ جاپان کی مہم کے بعد عاقل اپنے وطن واپس آتا ہے اور سیٹھ جبار حسین کی کوٹھی پہنچتا ہے جو پہلے اسے پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے لیکن سچ معلوم ہونے پر رویہ بدل لیتا ہے۔ عاقل اپنے والدین کے نئے گھر جاتا ہے اور اپنی بھیجی ہوئی رقم بھائیوں کی طرف سے ہڑپ کیے جانے کے بعد، ریس کورس اور تاش کے کلبوں میں اپنی ذہنی قوتوں کے ذریعے بے پناہ دولت کما کر خاندان کی تمام ذمہ داریاں پوری کرتا ہے اور والد کو نئی کوٹھی منتقل کرتا ہے۔ اسی دوران حماد یمنی انتہائی خراب صحت کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ مسلم لڑکی 'شمشیرا' کو ہندوازم کے جال میں روپوش کر دیا گیا ہے۔ بعد میں ایک کلب میں عاقل کو 'بیلا' نامی ایک ماڈرن لڑکی ملتی ہے جس کے نقوش شمشیرا کی جڑواں بہن 'ذہیرا' سے ملتے ہیں۔ عاقل اس کا ذہن پڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ذہن سداشن نامی چاچا نے ناکارہ کر دیا ہے۔ بیلا کے گھر پہنچنے پر سداشن بیلا کے چہرے سے شمشیرا کا ماسک اتارتا ہے اور عاقل کو دھوکے سے ایک تیز خواب آور انجکشن لگا کر بے ہوش کر دیتا ہے۔ ہوش آنے پر عاقل کے سامنے اس کا پرانا دشمن 'اچاریہ گرو جگ راجن راج' نمودار ہوتا ہے، جسے عاقل نے لندن میں شکست دی تھی۔ گرو جگ راجن راج عاقل کو بتاتا ہے کہ اس نے کالے ذہنوں پر قابو پانے کا فارمولا تیار کر لیا ہے اور وہ عاقل (شبلیس) کے ذریعے دنیا کے بڑے ممالک کے سربراہوں سے بھاری معاوضہ لے کر سودے بازی کرے گا۔ عاقل کو چودہ دن تک بے ہوش رکھ کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک جزیرے پر قائم جدید ترین سائنسی لیبارٹری منتقل کیا جاتا ہے، جہاں نیشا اور ڈیلا اس کی نگرانی کرتی ہیں۔ عاقل وہاں اپنی ذہنی قوتوں سے شیشے کا خول توڑنے کی کوشش کرتا ہے تو مشینیں اس کے دماغ پر شدید دردناک جھٹکا دیتی ہیں۔ آخر میں، گرو جگ راجن راج عاقل پر اپنی دھاک بٹھانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے شیشے کے خول میں بند ایک خطرناک قیدی 'گولون اسپارٹا' کا جسم اپنی جڑی بوٹیوں کے اثر سے زندہ پگھلا کر اس کا انسانی تیل نکالنے کا ہیبت ناک منظر دکھاتا ہے۔
Purisrar Uloom (Shables Series) Part 2 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
Download Link B
یہ کہانی عاقل رفیق (جسے حویلی میں 'پرنس' کا عارضی نام دیا جاتا ہے) کے گرد گھومتی ہے جو اسپین کے ایک ہوٹل میں ہندو خاتون سروج دت اور ان کی بیٹی ریتا سے ملتا ہے- ریتا دورانِ سفر جہاز میں شدید اور ہولناک ماورائی دوروں کا شکار ہوئی تھی- سروج دت کا ماننا ہے کہ غازی آباد میں موجود ان کے سسرالی رشتہ داروں نے دولت کی ہوس میں ریتا پر کالا جادو کروایا ہے تا کہ وہ پاگل ہو جائے یا مر جائے- عاقل ان کی مدد کے لیے ان کے ساتھ ہندوستان کی عظیم الشان حویلی میں آ جاتا ہے。 حویلی میں رہتے ہوئے عاقل اپنی خفیہ ذہنی قوتوں کے ذریعے مشکوک رشتہ داروں (درگا پرشاد اور دھونی شنکر) کا ذہنی تجزیہ کرتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب دولت کے لالچی تو ہیں مگر جادو ٹونے میں ملوث نہیں ہیں- اسی دوران عاقل کو حویلی میں پراسرار چمکدار سرخ آنکھیں، متحرک مجسمہ اور ایک ہولناک خفیہ تہہ خانہ ملتا ہے جہاں کالی دیوی کی مورتی اور پراسرار روشن چراغ موجود ہوتا ہے。 ان خوفناک ماورائی واقعات کا سامنا کرنے کے بعد عاقل ذہنی طور پر الجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ اسے اس حویلی میں مزید رکنا چاہیے یا وہاں سے چلے جانا چاہیے۔
Khufiya Qwat (Shables Series) Part 1 By M A Rahat
Download Link A
Download Link B
یہ کہانی عاقل رفیق نامی ایک ایسے پر اسرار نو جوان کی ہے جو پیدائشی طور پر غیر معمولی اور مافوق الفطرت ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ اسے اپنی پیدائش کا پہلا دن بھی یاد ہے اور وہ بچپن ہی سے دوسروں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے اور انہیں اپنے اشاروں پر چلانے کی حیرت انگیز طاقت رکھتا ہے۔ عاقل کا خاندان بہت بڑا ہے اور زمینیں چھن جانے کے بعد اس کے والد انہیں لے کر شہر آ جاتے ہیں جہاں عاقل اپنی خفیہ قوت کے ذریعے ایک نہایت کنجوس سیٹھ، جبار حسین، کا ذہن بدل کر اپنے خاندان کے لیے پناہ گاہ اور والد کے لیے نوکری کا بندوبست کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ عاقل اسکول میں اپنی غیر معمولی ذہانت سے سب کو حیران کر دیتا ہے۔ بعد میں سیٹھ کے بھائی الیاس حسین کے ذریعے عاقل کا تعارف شطرنج کے کھیل سے ہوتا ہے، جہاں وہ اپنی ذہنی گرفت کی بدولت شطرنج کے بڑے بڑے ماہرین بشمول لندن کے مشہور شعبدہ باز پروفیسر حماد یمنی کو شکست دے دیتا ہے۔ الیاس حسین عاقل کی اس صلاحیت سے متاثر ہو کر اسے یورپ لے جانے کی تیاری کرتے ہیں۔ لیکن کہانی میں سنسنی خیز موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک رات عاقل کو اس کے بستر سے بے ہوش کر کے اغوا کر لیا جاتا ہے۔ ہوش آنے پر وہ خود کو ایک عجیب و غریب لیبارٹری نما کمرے میں کچھ نقاب پوشوں اور ایک ہیلمٹ والے خوفناک شخص کے سامنے پاتا ہے جو عاقل پر نیلی شعاعیں ڈال کر اس کی اصل حقیقت اور خفیہ عملیات کے بارے میں بازپرس کر رہا ہے، جس پر عاقل غصے میں آ کر مزاحمت شروع کر دیتا ہے۔
Sunday, June 14, 2026
Sukh Chain Novel By Sameer Yaseen
"سکھ چین" شادی شدہ زندگی میں میاں بیوی کے رویوں، خاندانی ذمہ داریوں اور باہمی سمجھ بوجھ کی اہمیت پر لکھی گئی ایک اصلاحی اور سبق آموز کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار عمر ایک سلجھا ہوا اور فرماں بردار انسان ہے، جس نے اپنے والد عزیز صاحب کی مرضی کے خلاف ایک طلاق یافتہ عورت نادیہ سے پسند کی شادی کی تھی۔ نادیہ خوبصورت اور عمر کی محبت کے جنون سے واقف ہے، لیکن وہ شدید حد تک غیر ذمہ دار، لاپروا اور سسرال کے مقابلے میں اپنے میکے کو ترجیح دینے والی لڑکی ہے۔ اس کی غفلت پسندی کی وجہ سے پورا گھر بکھر رہا ہوتا ہے اور عزیز صاحب اپنے بیٹے کی زندگی کو تباہ ہوتے دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب نادیہ کے رویے سے تنگ آکر عمر کا پیمانۂ صبر لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اسے صاف کہہ دیتا ہے کہ اگر وہ خود کو بدل نہیں سکتی تو ان کا الگ ہو جانا ہی بہتر ہے۔ نادیہ غصے میں گھر چھوڑ کر نکل جاتی ہے، لیکن جب اسے اپنے میکے اور بہن بھائیوں کے ہاں پناہ اور عزت نہیں ملتی، تو وہ اپنی سب سے بہترین دوست مہوش کے گھر چلی جاتی ہے۔ مہوش، جو خود ماضی میں سسرال کے شدید ظلم و ستم کا شکار رہ چکی ہوتی ہے، نادیہ کو سچی محبت کی قدر کرنے اور عمر جیسے مخلص شوہر کا ساتھ دینے کا مخلصانہ مشورہ دیتی ہے۔ مہوش اور اس کے شوہر ابرار کے بدلتے ہوئے پرسکون حالات اور سچی محبت کو دیکھ کر نادیہ کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ اسی رات اپنے گھر واپس لوٹ آتی ہے۔ اگلے ہی دن وہ صبح سویرے اٹھ کر پورے گھر کی ذمہ داری سنبھالتی ہے اور وقت پر شاندار ناشتا تیار کر کے سسرال والوں کے دل جیت لیتی ہے، جس سے ان کے گھر میں کھویا ہوا "سکھ چین" واپس آ جاتا ہے۔
Thursday, June 11, 2026
Shan e Wafa By Mehboob Elahi Makhmoor
یہ کہانی پنجاب کے ایک گاؤں کے پس منظر میں لکھی گئی ہے، جہاں جاوید نامی کسان کا بیٹا چودھری حاکم کی بیٹی "اسماء" کی پہلی ہی نظر میں محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ چودھری کے چھ ظالم اور بااثر بیٹے ہیں جن کا پورے گاؤں میں خوف ہے۔ جاوید کی بہن شاداں، جو اسماء کی دوست ہے، جاوید کو بتاتی ہے کہ اسماء بھی اس سے سچی محبت کرتی ہے لیکن چودھری اس کی شادی اپنے بھتیجے ارشد سے کرنا چاہتا ہے۔
جاوید اور اسماء چھپ کر ایک رات قبرستان کے پاس ملتے ہیں، جہاں وہ محبت کا اقرار کرتے ہیں اور گاؤں سے فرار ہونے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ لیکن اسماء کے بھائیوں کو شک ہو جاتا ہے اور وہ اسماء پر سخت پہرا بٹھا دیتے ہیں۔ شادی والے دن اسماء، جاوید کو ایک خفیہ پرچے کے ذریعے الوداعی پیغام بھیجتی ہے۔ اسی رات گاؤں فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھتا ہے۔ چودھری کے بیٹے اسماء کو غیرت کے نام پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور اس سے اس کے محبوب کا نام اگلوانا چاہتے ہیں، لیکن اسماء اپنی محبت اور جاوید کی زندگی کی خاطر شدید تشدد سہنے کے باوجود زبان نہیں کھولتی اور جان دے دیتی ہے۔ حویلی والے اعلان کرتے ہیں کہ اسماء دل کا دورہ پڑنے سے مری ہے، لیکن جاوید جان جاتا ہے کہ اسماء نے اپنی جان دے کر "شانِ وفا" قائم رکھی، جبکہ وہ خود کو اپنی بزدلی پر کبھی معاف نہیں کر پاتا۔
Saturday, June 6, 2026
Shehr e Wafa Ke Aaine By Najma Jabeen
Download Link B
یہ کہانی تابندہ نامی ایک صابر اور مخلص عورت کے گرد گھومتی ہے جس کی شادی اپنے ماموں زاد عثمان نیازی سے ہوتی ہے۔ عثمان کو شوبز اور اداکاری کا بے حد جنون ہوتا ہے، اور وہ تابندہ کی کوششوں اور قربانیوں کی بدولت فلم انڈسٹری کا ایک بہت بڑا سپر اسٹار بن جاتا ہے۔ شہرت اور دولت کی چکا چوند میں عثمان اپنی بیوی اور بیٹی فینی کو نظر انداز کر کے اپنی ساتھی اداکارہ "امرتا دیوی" کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور لندن میں اس سے خفیہ شادی کر لیتا ہے۔ تابندہ انتہائی دکھ اور خاموشی سے اس بے وفائی کو برداشت کرتی ہے اور اپنی بیٹی فینی کی تنہا پرورش کرتی ہے۔
برسوں بعد، عثمان نیازی ایک نئی ابھرتی ہوئی اداکارہ عدیلہ خان کے افیئر میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس سے امرتا دیوی اور اس کے درمیان شدید گھریلو کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ امرتا، تابندہ کے پاس آ کر اپنے گھر کو بچانے کی بھیک مانگتی ہے لیکن تابندہ ماضی کے زخموں کی وجہ سے کوئی مدد کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، امرتا اپنے ساتھ ہونے والی بے وفائی کا بدلہ لینے کے لیے عثمان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتی ہے اور خود جیل چلی جاتی ہے۔ ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے اور بدصورت ہو جانے والے عثمان کو شوبز کی دنیا تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے مشکل وقت میں، روایتی مشرقی عورت کی طرح تابندہ اپنے دل میں نفرت کو مٹا کر، اپنی بیٹی کے ہمراہ عثمان کو اپنا لیتی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عورت مرد کی تمام تر زیادتیاں بھلا کر بھی وفا کی دیوی بنی رہتی ہے۔
Monday, May 25, 2026
Supreme Fighter Imran Series By Mazhar Kaleem
یہ جاسوسی ناول "سپریم فائٹر" مظہر کلیم ایم اے کا تحریر کردہ عمران سیریز کا ایک انتہائی سنسنی خیز اور ایکشن سے بھرپور شاہکار ہے۔ کہانی کا تانا بانا پاکیشیا سیکرٹ سروس اور دشمن ملک کے ایسے چار خطرناک ایجنٹوں کے گرد بنا گیا ہے جنہیں دنیا کے مانے ہوئے "سپر فائٹرز" تسلیم کیا جاتا ہے۔ جب یہ سپر فائٹرز پاکیشیا کو نقصان پہنچانے کے لیے میدان میں اترتے ہیں، تو علی عمران ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پُراسرار "سپریم فائٹر" کو سامنے لاتا ہے۔ ناول میں مارشل آرٹ کے ایسے حیرت انگیز، اعصاب شکن اور ناقابلِ فراموش مقابلے دکھائے گئے ہیں جنہیں دیکھ کر خود عمران بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور جوزف جیسا فائٹر بھی اس سپریم فائٹر کو سلام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)


%20Part%207%20By%20M%20A%20Rahat.jpg)
%20Part%201%20By%20M%20A%20Rahat.jpg)



