Pages

Showing posts with label S. Show all posts
Showing posts with label S. Show all posts

Thursday, September 24, 2026

Suspense Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
یہ شمارہ (ستمبر 2026) مختلف معلوماتی، تاریخی اور سنسنی خیز تحریروں پر مشتمل ہے:انشائیہ (جون ایلیا): انسان کی ضروریات، محنت اور پیٹ کی بھوک کا فلسفیانہ تجزیہ، جس میں سقراط/ارسطو کی انسان سے متعلق تعریف اور دیو جانس کلبی کے مشہور واقعے کا ذکر کیا گیا ہے کہ انسان اپنی احتیاج کے ہاتھوں مجبور ہے۔   آپ کے خط (اطہر حسین): قارئین کے خطوط، تبصرے اور 6 ستمبر (یومِ دفاع) و 11 ستمبر (قائد اعظم کی رحلت) کے حوالے سے وطن سے محبت اور ایثار کا پیغام۔   کالا طوفان (اے آر راجپوت): پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے واقعات، امریکی صدر کی سیکیورٹی، ایف بی آئی کی کارروائیوں اور جنگِ برما میں جاپانیوں کے خلاف شہباز اور اس کے ساتھیوں کی بقا کی خوفناک جدوجہد کی داستان۔   سرگرداں (صائمہ دانش): 9/11 کے المناک واقعے کے پس منظر میں ایمبر نامی لڑکی کی کہانی، جس کی ماں کا قتل ہو جاتا ہے اور باپ پراسرار طور پر لاپتا ہو جاتا ہے، جس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔   

Shuaa Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ شعاع ستمبر 2026 کے شمارے کا آغاز ربیع الاول کی مبارکباد، حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر مبنی مضامین، حمد و نعت اور دینی و اخلاقی احادیثِ مبارکہ کے باب سے ہوتا ہے۔ شمارے میں معروف اداکاروں جیسے مرینہ خان اور نوال پرویز ملک کے انٹرویوز (دستک)، رضوانہ فاروقی کا جذباتی مضمون "ہماری امی جان"، اور قارئین کا نمائندہ سروے شامل ہیں۔ ادبی حصے میں مریم عزیز کا مشتاقانہ ناول "دھوپ دریچہ" (بائیسویں قسط)، آسیہ رئیس خان کا ناول " آہ نیم کش" اور امت العزیز شہزاد کا ناول "کوئی اُترے دل آنگن" جاری سلسلوں کے طور پر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حنا بشری، ساجدہ رمضان، عمارہ صفدر اور دیگر لکھاریوں کے بہترین افسانے، گنگا کنارے، اور دلچسپ مستقل سلسلے شمارے کو پرکشش بناتے ہیں۔

Sarguzasht Digest September 2026

Download Link A
Download Link B
ماہنامہ سرگزشت (ستمبر 2026ء) کا یہ شمارہ انسانی آپ بیتیوں، تاریخی واقعات، سماجی تلخیوں اور متنوع کہانیوں کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ ابتدائیہ (اداریہ) میں اینتھروپ AI، پانامہ پروجیکٹ اور دنیا بھر سے مقبول کتابوں کو اسکین کر کے تلف کرنے کے متنازع عمل کے قانونی و سماجی اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ”شہر خیال“ میں قارئین کے تبصرے اور تجاویز شامل ہیں۔ شخصیت اور آپ بیتی کے باب میں ردا بتول کی تحریر ”با ہمت“ نمایاں ہے، جو کہ معروف ادیب، صحافی اور فلم ساز حمید اختر کی جدوجہد، ادبی زندگی، جیل کے ایام اور یادگار داستانِ زیست پر مبنی ہے۔   شمارے میں دیگر اہم تحریریں اور سچ بیانیاں بھی شامل ہیں:با ہمت (ردا بتول): حمید اختر کی زندگی اور ادبی و فلمی جدوجہد کی داستان۔   پکار (مظہر سلیم ہاشمی): ایک عجیب و غریب اور حیران کن واقعہ۔   رحمان کے مہمان (محمود شام): حج و ارضِ مقدس کے حوالے سے دلچسپ و یادگار تحریر۔   موہٹہ پیلس (نسرین خان): اینٹ اور گارے میں داستانِ محبت ملا کر تعمیر کردہ تاریخی عمارت کی سیر۔   جان بچا (زین مہدی): یو کے میں مقیم خطرات میں گھری پاکستانی ڈاکٹر کی خود نوشت۔   سچ بیانیاں: سنبل کی ”بدبو دار معاشرہ“، عشرت جہاں کی ”جعل سازی“، ایڈووکیٹ ربیعہ اکرام کی ”عزت کا نقصان“، دانیال حسن چغتائی کی ”اندھا عشق“، اور دیگر عبرت انگیز حقیقی کہانیاں۔   مزید برآں، یہ شمارہ تاریخی ورثے، سیرِ پاکستان، معاشرتی برائیوں اور انکشافاتی معلومات کے رنگارنگ موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔   

Thursday, September 17, 2026

Sikandar e Azam By Harold Lamb Tranlated Ghulam Rasool Mehar

Download Link A
Download Link B
سکندر اعظم، ہیرلڈ لیم کی لکھی ہوئی اک شاندار سوانحی تاریخ ہے جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر نے نہایت خوبصورت اور رواں اسلوب میں کیا ہے۔ اس کتاب میں سکندر کے بچپن سے لے کر اس کے دنیا کا عظیم ترین فاتح بننے اور بابل میں اس کی وفات تک کے تمام احوال کو مفصل اور دلکش انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔  خلاصہابتدائی زندگی اور تربیت: سکندر کی پیدائش اور اس کے ابتدائی ایام کی سخت تربیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی ماں اولمپیاس اور باپ فیلقوس کی آپسی کشمکش، سکندر کی ہومر کی "ایلیڈ" اور دیوتاؤں کے افسانوں سے محبت، اس کا سرکش گھوڑے 'بیوسی فالس' کو رام کرنا، اور پھر عظیم فلسفی ارسطو کی زیرِ نگرانی سائنس، حکمت، اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنا اس کے کردار کو نکھارتا ہے۔  عظیم فتوحات کا آغاز: فیلقوس کے قتل کے بعد کم سن سکندر کی تخت نشینی، مقدونیہ میں بغاوتوں کا خاتمہ، تھیبز کی تباہی اور ٹرائے کے راستے ایشیا (ایران/فارس) پر حملے کے مناظر کا احوال شامل ہے۔  ایرانی سلطنت کی تسخیر: جنگِ اسوس، صور اور دمشق پر قبضہ، مصر کی فتح، اور بالآخر پرسی پولس (تختِ جمشید) میں شاہِ ایران دارا کو شکست دے کر عظیم الشان ایرانی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی داستان رقم کی گئی ہے۔  مشرق اور ہندوستان کی مہم: سکندر کا وسطی ایشیا، روشنگ اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ آور ہونا، راجہ پورس کے ساتھ ہاتھیوں کی خوفناک جنگ، اور اپنی فوج کی تھکن کی وجہ سے بابل کی طرف واپسی کا سنسنی خیز احوال درج ہے۔  انجام: فتحِ عالم کی عیش و عشرت، فوج کی تباہی، دولت کے اثرات اور بابل میں سکندر کی پراسرار بیماری اور کم عمری میں وفات کے ساتھ ساتھ اس کے بعد سلطنت کے انتشار کا ذکر کیا گیا ہے۔  

Monday, September 7, 2026

Shikast e Aarzo By Ahmed Saleem Saleemi

یہ کہانی عالیہ اور بلال احمد کی زندگی کی کشمکش اور ازدواجی تعلقات کی شکست و ریخت کے گرد گھومتی ہے۔ بلال ایک پرعزم اور محنتی نوجوان ہے جس نے اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد محنت اور جدوجہد سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ وہ اور اس کے دو بوڑھے ملازمین، قادر خان اور ان کی بیوی زلیخا، بلال کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جن کا اپنا اکلوتا بے گناہ بیٹا اکرم پولیس تشدد اور مقابلے میں مارا گیا تھا۔  بلال کو اپنے دوست جمال کے ذریعے ایک امیر اور ضدی لڑکی عالیہ سے محبت ہو جاتی ہے اور دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد بلال کی دفتری مصروفیات کی وجہ سے عالیہ کے رویے میں سرد مہری اور تلخی آنے لگتی ہے۔ عالیہ کی ضدی اور خود غرضانہ طبیعت اس وقت کھل کر سامنے آتی ہے جب وہ اپنی خوبصورتی اور سوشل سٹیٹس متاثر ہونے کے ڈر سے ماں نہیں بننا چاہتی اور بلال کی خواہش کے خلاف ابارشن کروانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ بلال کو جب یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے تو ان کے درمیان سخت جھگڑا ہوتا ہے اور غصے میں بلال عالیہ کو تھپڑ مار دیتا ہے، جس پر عالیہ ناراض ہو کر اپنے میکے چلی جاتی ہے۔  بعد میں عالیہ کے والد ملک شرافت علی کا ایک سڑک حادثے میں انتقال ہو جاتا ہے اور اسی حادثے کے نتیجے میں عالیہ کا بچہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار وہ بلال کو ٹھہراتی ہے اور میکے میں ہی رہنے پر اصرار کرتی ہے۔ دونوں کے درمیان فاصلے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ بلال کا دل عالیہ کی بے مروتی سے کھٹا ہو جاتا ہے۔ اسی دوران بلال کی ترقی ہوتی ہے اور اسے نیا بنگلہ ملتا ہے-------------------

Friday, September 4, 2026

Shuaa Digest May 2026

ماہنامہ شعاع مئی 2026 کے اس شمارے کا آغاز ادارے کے اہم اور اصلاحی تحریری پیغام سے ہوتا ہے، جس میں انسان کے تکبر، دنیاوی اقتدار کی فانی حیثیت اور معاشی بحران پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادارے کے بانی محمود ریاض مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دینی اور اصلاحی گوشے (نبی کی باتیں) میں یتیموں، مسکینوں کی کفالت، نیک لوگوں کی صحبت اور لڑکیوں کی پرورش کی دینی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔  دیگر باقاعدہ سلسلوں اور کہانیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:جب تجھ سے ناتا جوڑا: ایک شاد شدہ خاتون کا تفصیلی اور دلچسپ انٹرویو، جس میں انہوں نے اپنی شادی کے احوال، سسرالی ماحول، جوائنٹ فیملی سسٹم کے مسائل اور باہمی رویوں پر گفتگو کی ہے۔  دستک: ڈرامہ نگار اور مصنفہ شبانہ شوکت سے خاص بات چیت، جس میں انہوں نے اپنے ڈرامہ "مسافت"، تحریری سفر اور ڈرامہ رائٹنگ کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔  ایک کردار (ماں جی): منشا یاد کی تحریر، جس میں ایک سچی اور جذباتی کہانی کے ذریعے ماں کی محبت، ان کے ایثار، بچپن کی یادوں اور تعلیمی جدوجہد کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔  خطوط کا سلسلہ (خط آپ کے): قارئین کے بھیجے گئے پیغامات، آراء اور ناولوں/افسانوں پر ان کے تعمیری تبصرے شامل ہیں۔  سلسلۂ وار ناول (دھوپ دریچہ - مریم عزیز): کہانی میں خاندانی پیچیدگیاں، ماضی کے انتقام، حارث اور کوئل کے رشتوں کی کشمکش، اور ہالہ و زیمل سے جڑے واقعات کو دلچسپ موڑ دیا گیا ہے۔  

Thursday, August 27, 2026

Shimana Novel By Rizwan Ali Soomro


یہ کہانی ایک رازدارانہ اور پراسرار ماحول میں گھومتی ہے۔ محلے کی ایک ستر سالہ تجسس پسند اور باخبر خاتون، جنہیں سب "بی بی سی خالہ" کہتے ہیں، محلے میں آنے والے نئے ہمسایوں—قاروت اور اس کی بیوی نیما—کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع کر دیتی ہیں۔ قاروت اور نیما سانولی اور سانولی مائل رنگت کے حامل ہیں، جبکہ ان کی سات سالہ بیٹی "شیمانہ" چودھویں کے چاند کی طرح سفید رنگت اور بنفشی آنکھوں والی ایک انتہائی خوبصورت اور مختلف بچی ہے۔ بی بی سی خالہ اور محلے کے دیگر لوگ یہ شک کرنے لگتے ہیں کہ شیمانہ ان کی اپنی بیٹی نہیں ہے۔
قاروت پیشے کے اعتبار سے ایک نہایت ماہر اور جادوئی صلاحیتوں کا حامل سنگ تراش ہے۔ وہ تنویر بھٹی نامی ایک سیٹھ کے ساتھ کام شروع کرتا ہے، جو اس کے فن کی قدر کرتے ہوئے اسے بھاری معاوضہ اور نئی گاڑی فراہم کرتا ہے۔ قاروت ایک آزاد ریاست 'دھام نگر' کے راجہ کے لیے اس کی مرحومہ رانی کا پتھریلا مجسمہ تراش کر بڑی کامیابی اور انعام حاصل کرتا ہے۔ دوسری طرف، بچی شیمانہ کے گرد پراسرار واقعات پیش آتے ہیں-----------------------------

Sunday, August 23, 2026

Safed Phoolon Ka Taj By Tahniyat Afreen Malik

"سفید پھولوں کا تاج" تہنیت آفرین ملک کا نثری نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اس کتاب میں شاعرہ نے نہایت پاکیزگی، حیاء اور سادگی کے ساتھ انسان کے باطنی جذبات، جیسے محبت، ہجر، اداسی، اور امید کو الفاظ کا روپ دیا ہے۔ شاعری میں روایتی اور غیر روایتی موضوعات کے علاوہ تاریخی استعاروں، جیسے کہ قدیم مصر، یونانی اساطیر، محمود درویش، رومی، شمس تبریز، اور حالیہ مظالم جیسے طفلِ غزہ و القدس کا گہرا اور حساس ذکر ملتا ہے۔ یہ کلام انسان کو خود سے محبت کرنے اور روح کے ادھورے پن کو محسوس کرنے کا درس دیتا ہے۔  

Friday, August 14, 2026

Sciencedan Ka Agwa By Muhammad Faiz Ul Maram

"سائنس دان کا اغوا" محمد فیض المرام کا لکھا ہوا ایک سسپنس، تجسس اور جاسوسی سے بھرپور ناول ہے جو ایک ایٹمی برطانوی سائنس دان کے پراسرار اغوا اور اس کی بازیابی کی سنسنی خیز کہانی کے گرد گھومتا ہے۔  اغوا کا واقعہ اور ایٹمی راز: لندن میں مقیم ایک ممتاز ایٹمی سائنس دان (پروفیسر ولیمز) کو اچانک پراسرار حالات میں اغوا کر لیا جاتا ہے۔ ان کے پاس انتہائی حساس ایٹمی معلومات اور سائنسی راز ہوتے ہیں جن کی بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت ہوتی ہے۔  بین الاقوامی سازش اور جاسوسی: اس اغوا کے پیچھے دشمن ملک کی ایجنسیاں اور بین الاقوامی مجرمانہ گروہ ملوث ہوتے ہیں جو سائنس دان کے ایٹمی فارمولے حاصل کر کے عالمی طاقت کا توازن بگاڑنا چاہتے ہیں۔  تحقیقات اور سنسنی خیز سراغ رسانی: اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانیہ کے چاق و چوبند جاسوس اس کیس کی تفتیش شروع کرتے ہیں۔ کہانی میں قدم قدم پر خطرات، خفیہ پیغامات، بدلتے ہوئے بھیس اور حریف ایجنٹوں کی چالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, August 12, 2026

Shikkari By Anjum Farooq Sahli

نواب یوسف علی خان کی ریاست رام پور، گوالیار اور نینی تال کے سنسنی خیز جنگلات پر مبنی اس شکار بیانی میں نامور شکاری سید مقصود علی اور مصنف (انجم فاروق ساحلی) کی دلیری اور شجاعت کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ داستان کی شروعات ریاست رام پور کے ایک خوفناک ایک دانت والے خونی ہاتھی "اکڑا" کے تعاقب اور نواب یوسف علی خان کی شاہی شکار گاہ سے ہوتی ہے، جہاں مقصود علی اپنی ماہرانہ تگ و دو اور بے خوفی سے ہاتھی کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔ بعد ازاں داستان نینی تال، کرتھانوالہ اور جمہاوت کے علاقوں میں دہشت پھیلا دینے والی آدم خور شیرنی کے گرد گھومتی ہے جس نے درجنوں دیہاتیوں، عورتوں اور بچوں کو اپنا نوالہ بنا رکھا تھا۔ مصنف جنگل کی دشوار گزار گھاٹیوں، طوفانی بارشوں اور خوفناک حالات میں نہ صرف اس آدم خور شیرنی اور شیر کا سراغ لگاتے ہیں بلکہ اپنی رائفل اور تدبر سے ان درندوں کو ہلاک کر کے خوفزدہ دیہاتیوں کو اس ہولناک عذاب سے نجات دلاتے ہیں۔

Sunday, August 9, 2026

Sadhvi Novel By Zahoor us Sabah Siddiqui

یہ کہانی آنیا کے گرد گھومتی ہے جو بھارت کے شہر راجستھان کے ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ جے پور کے میڈیکل کالج میں داخلہ لیتی ہے جہاں اس کی دوستی سارہ، عبداللہ (جو مسلمان ہیں) اور اکشے سے ہو جاتی ہے۔  کالج کے دوران مذہبی نظریات پر بحث کے نتیجے میں اکشے اسلام قبول کر کے اپنا نام ابوبکر رکھ لیتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس کے گھر والے اس پر شدید تشدد کرتے ہیں۔ ابوبکر کی مدد کرنے پر سارہ کے دو معصوم بھائیوں (عمر اور محمد) کو ہندو انتہا پسند ظالمانہ طریقے سے شہید کر دیتے ہیں۔  دوسری طرف، آنیا کی سہیلی پریا کو اس کے گھر والے اور جین دھرم کے پیروکار مذہبی رسم کے تحت بال نوچ کر زبردستی سنیاسن (سادھوی) بنا دیتے ہیں، جس سے اس کے تمام خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 4, 2026

Saleeb e Waqt By Aasnath Kanwal

یہ کہانی ایک ایسے انسان کے گرد گھومتی ہے جو ماضی کے دکھوں اور تلخ یادوں میں الجھ کر اپنے حال سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہ وقت کی سخت آزمائشوں (صلیبِ وقت) کو برادشت کرتا ہے اور اپنے جذبات و تعلقات کو بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ یہ تحریر انسان کے اندرونی کرب، صبر اور وقت کے ساتھ حالات کے سامنے ڈھلنے کا ایک مؤثر تاثر پیش کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, July 30, 2026

Shikast By Safdar Ali Haidri

ہادی اور مریم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ان کا نکاح ہو چکا تھا، لیکن ہادی کی کزن نائلہ بچپن سے ہادی کو پسند کرتی تھی اور ان کے رشتے سے شدید حسد کرتی تھی। نائلہ نے اپنی منگنی کی رات ہادی کو دھوکے سے اپنے کمرے میں بلا کر چیخ و پکار کی اور اس پر عزت پر ہاتھ ڈالنے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ اس ڈرامے کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں شدید بدگمانی پھیلی اور ہادی اور مریم کا نکاح ختم ہو گیا۔ بعد میں خاندان کے دباؤ میں آکر ہادی کی شادی نائلہ سے کر دی گئی، لیکن ہادی نے نائلہ کو کبھی دل سے قبول نہ کیا اور مریم کی یاد میں ہی تڑپتا رہا۔  ہادی کا چھوٹا بھائی حمزہ اس واقعے کو مشکوک سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, July 19, 2026

Shama Jalti Rahi By Noman Ishaq

یہ کہانی شمع نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور گھریلو کام کاج سے بیزار ہو کر ایک امیر اور پرآسائش زندگی کے خواب دیکھتی ہے۔ شمع کا پڑوسی سعد اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کا رشتہ بھیجتا ہے، لیکن شمع اپنی مادی خواہشات اور امیر ہونے کی چاہ میں اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔ کہانی میں ایک بڑا موڑ تب آتا ہے جب شمع کی بہن پاکیزہ اچانک واشنگ مشین سے کرنٹ لگنے کے باعث انتقال کر جاتی ہے، جس سے پورے گھر پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ والد عبد الرحمن کے سمجھانے پر شمع بالآخر سعد سے شادی کے لیے رضامند ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد سعد اپنی فیکٹری کی ملازمت میں شمع کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، لیکن جب شمع کو فیکٹری کی مالکن 'سونیا' کی سعد میں دلچسپی کا علم ہوتا ہے تو اس کے اندر حسد اور پچھتاوا جاگ اٹھتا ہے۔ دوسری طرف فیصل نامی نوجوان کی کالج لائف اور مسجد میں 'جی ایم' نامی شخص سے ملاقات کے احوال بھی کہانی کا حصہ ہیں۔ یہ ناول مادی خواہشات، خلوصِ محبت، تقدیر کے فیصلوں اور انسانی احساسات کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔

Sunday, July 5, 2026

Sultan Tipu By Maulana Muhammad Saeed ur Rehman Alvi

یہ تحریر سلطنتِ میسور کے عظیم حکمران سلطان ٹیپو شہید کی زندگی، ان کے بلند کردار، انگریزوں کے خلاف جدوجہد اور ان کی وسیع النظری پر روشنی ڈالتی ہے۔ مصنف کے مطابق، سلطان ٹیپو برصغیر کے واحد حکمران تھے جنہوں نے مستقبل کے خطرات کو بھانپ کر انگریزوں کے خلاف "سودیشی تحریک" اور غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کا نعرہ لگایا۔ وہ ایک انتہائی محنتی اور فرض شناس حکمران تھے جو اپنے ملک و ملت کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔ تحریر میں علامہ اقبال اور مہاتما گاندھی جیسے رہنماؤں کے اعترافات کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطان نے ہمیشہ غیر ملکی غلامی کے خلاف ایک شیر کی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی اور اپنوں کی غداری کے باعث میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
مزید برآں، یہ مضمون انگریزوں کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ سلطان غیر مسلموں یا جنگی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈز سے ثابت ہے کہ سلطان ٹیپو اور ان کے والد حیدر علی خان کے دور میں ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ریاست کے قدیم مندروں کو شاہی سرپرستی، جاگیریں اور مالی امداد حاصل تھی۔ مرہٹوں کے حملے میں جب سرینگری مندر کو نقصان پہنچا، تو سلطان نے خود نقد رقم اور اشرفیاں بھیج کر بت کو دوبارہ نصب کروایا اور مندر کی مرمت کرائی، جو ان کی مذہبی رواداری اور وسیع النظری کی ایک لازوال مثال ہے۔

Wednesday, June 24, 2026

Sayara Digest Haqooq ul Ibad Number December 2000

سیارہ ڈائجسٹ کا "حقوق العباد نمبر" (دسمبر 2000ء) انسانی حقوق کی تاریخ، اہمیت اور مختلف مذاہب و تہذیبوں میں ان کے تصور کا ایک جامع اور متوازن احاطہ ہے۔ ڈائجسٹ کے افتتاحیہ "دستک" میں نصرت علی اثیر نے عصرِ حاضر کی سائنسی ایجادات کے منفی پہلوؤں اور مروت کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نمبر انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی قوتوں کو ان کی اصل سے جوڑنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔  اس شمارے کے تفصیلی تعارف میں انیسویں صدی کے ذہنی و سائنسی انقلاب کا سہرا عالمِ اسلام کے سر باندھا گیا ہے، جس نے یورپی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنسی تجرباتی اسلوب کی بنیاد رکھی۔ اس میں تاریخ کے مختلف ادوار، خصوصاً پانچویں سے دسویں صدی کے تاریک یورپی دور کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں بربریت، افلاس اور انسانی غلامی عروج پر تھی اور انسانی حرمت کا کوئی تصور نہ تھا۔ ایسے مخدوش حالات میں طلوعِ اسلام نے مساواتِ انسانی، رنگ و نسل کے امتیاز کے خاتمے اور امن و آشتی کا ابدی پیغام دیا۔  ڈائجسٹ میں "حق" کے لغوی و اصطلاحی مفاہیم پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، جس میں سچائی، استحقاق، ذمہ داری اور عدل و انصاف جیسے پہلو شامل ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی کے حوالے سے حقوق کی وسعت کو کائنات کی ہر چیز (جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان) تک محیط بتایا گیا ہے۔ مزید برآں، اس نمبر میں قدیم مصری، عراقی، فلسطینی، ایرانی، ہندوستانی (وادیِ سندھ)، چینی، یونانی اور رومی تہذیبوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جہاں شخصی بادشاہتوں، طبقاتی نظام (جیسے ہندومت کا ذات پات کا نظام) اور ہولناک جنگوں کے باعث عام انسان اور غلام حیوانوں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔  شمارے میں یہودیت (تعلیماتِ حضرت موسیٰؑ) اور عیسائیت (تعلیماتِ حضرت عیسیٰؑ) میں انسانی حقوق، صلہ رحمی اور اخلاقی اصولوں کا ذکر قرآن مجید اور بائبل کے حوالوں سے کیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان مذاہب کی اصل روح کو بعد میں پیروکاروں نے مسخ کر دیا۔ بدھ مت کی اخلاقی تعلیمات، ہشت پہلو راستے اور نروان کے تصور کا بھی ذکر ہے، تاہم یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ عملی زندگی میں ان مذاہب کے پیروکار افراط و تفریط کا شکار رہے۔ آخر میں، اسلام کے آفاقی نظامِ عدل، خطبہ حجۃ الوداع اور قرآنی تعلیمات کو انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار اور ضامن قرار دیا گیا ہے، جہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان ایک کامل توازن موجود ہے۔  

Tuesday, June 23, 2026

Suspense Digest December 1984

Download Link A
Download Link B
اداریہ (میرا خیال): مدیر اعلیٰ معراج رسول قارئین سے مخاطب ہیں اور وقت کی تیزی، کام کے دباؤ اور ڈائجسٹ کی تیاری کے مراحل کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ قارئین کی فرمائش پر آئندہ ماہ سے انگریزی ناولوں کی تلخیص شامل کرنے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔کہانیاں اور سلسلے:
قیامت (فرحاد علی تیمور): لبنان کے پس منظر اور فلسطینی سرفروشوں کی داستان، جو اس ماہ اپنے اختتام کو پہنچی۔
جرمِ وفا (محسن رضا / معراج رسول): سابقہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی آہیں اور آنسوؤں سے بھرپور کہانی کی آخری قسط۔
دل پھینک دادا (اشرف طارق): ایک بوڑھے دادا کی جاندار داستانِ عشق۔
زلزلہ یا فرشتہ (الوصل اقبال): ایک کم سخن نوجوان کی جرات کی داستان۔
اندر گاندھی (ضیا نسیم بلگرامی): بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی موت پر ایک پاکستانی کے تاثرات۔
تاریخی کہانی (الیاس سیتاپوری): سومنات کے فاتح سلطان محمود غزنوی کے والد "سبکتگین" کی پرکشش سوانح اور داستانِ وفاداری۔ کہانی میں جوق زادے (سبکتگین) کی غلامی سے وثاق باشی (سردار) کے منصب تک پہنچنے، الپ تگین کے دربار میں شمولیت، اور بخارا کے سفارتی مشن پر روانگی کے پُرتجسس واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
دیگر سلسلے: قارئین کے خطوط و اشعار پر مبنی "سپنس فیملی کی محفل" اور مقبول انعامی سلسلہ شامل ہیں۔

Sunday, June 21, 2026

Churail (Shables Series) Part 8 By M A Rahat

Download Link A
Download Link B
اس حصے میں کہانی کا مرکزی کردار (عاقل رفیق) راجن راج اور دیگر شیطانی قوتوں سے بچنے کے لیے اپنے ایک جن دوست، رجب علی کے مشورے پر اپنا ماحول اور شہر تبدیل کر لیتا ہے۔ رجب علی اسے کچھ رقم فراہم کرتا ہے جس سے وہ ایک امیر اور باوقار شخص، حیات علی شاہ کے وسیع بنگلے میں ہاؤس کیپر (کیر ٹیکر) کی ملازمت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں اس کی ملاقات حیات علی کے بھتیجے فراز اور بیٹی صائمہ سے ہوتی ہے۔ فراز کے ساتھ ایک دن باہر جاتے ہوئے عاقل کا سامنا جبار اور خان نامی خطرناک غنڈوں سے ہوتا ہے جو ایک پراسرار عمارت کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ عاقل کا تجسس جاگتا ہے اور وہ خفیہ طور پر اس عمارت میں داخل ہو کر ایک زرد لباس والے بوڑھے تبتی یا جاپانی بھکشو کو قید دیکھتا ہے جس کے جسم پر تشدد کے نشانات ہوتے ہیں۔ اسی دوران وہاں فن لینڈ سے آئے مہمانوں کے ساتھ ایک پراسرار لڑکی "می شی کو" بھی آتی ہے، جس کے نقوش اس بوڑھے قیدی سے ملتے جلتے ہیں۔ عاقل کو نغمہ نیاز علی نامی لڑکی کی بے باکی اور صائمہ و لینا کی توجہ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کہانی کے آخر میں، عاقل رات کے وقت می شی کو کے کمرے میں دو نقاب پوش اغوا کاروں کو حملہ کرتے دیکھتا ہے اور اپنی فولادی طاقت سے ان کا مقابلہ کر کے می شی کو کو اغوا ہونے سے بچا لیتا ہے۔

Naag Mandar (Shables Series) Part 7 By M A Rahat

Download Link A
Download Link B

اس کہانی میں حسن پاشا (عاقل رفیق) راجہ کیداری اور رانی پورن ماشی کے محل میں پھیلی گہری اور پر اسرار سازشوں کا سراغ لگاتا ہے۔ علی فیضان پاشا کے حکم پر وہ رانی کے سوتیلے بھائی شیام راج اور اس کی معذور بہن سمن کماری سے ملاقات کرتا ہے، جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ رانی پورن ماشی ان دونوں بہن بھائیوں پر ظلم کرتی ہے اور انہیں قید کر رکھا ہے۔ کہانی میں اس وقت نیا موڑ آتا ہے جب حسن پاشا محل کی خفیہ نگرانی کرنے والے رسک لال اور پورن ماشی کو ڈرانے کے لیے شیام راج کے بھیجے گئے کرائے کے غنڈے کالی چرن کو قابو کرتا ہے۔
آخر میں راجہ کیداری اچانک واپس آکر انکشاف کرتا ہے کہ علی فیضان پاشا اصل میں "وکرم سنگھ" نامی ایک مکار شخص ہے جو دونوں طرف ڈبل گیم کھیل کر ریاست پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ حسن پاشا کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے، جہاں وہ اپنے لکیروں کے خفیہ علم کی بدولت پولیس کمشنر کو حیران کر دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف وکرم سنگھ پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

Saturday, June 20, 2026

Jino Ka Saya (Shables Series) Part 6 By M A Rahat

Download Link A
Download Link B
ناول "جنوں کا سایہ" (شبلیں سیریز، پارٹ 6) کے اس اقتباس میں عاقل رفیق اور اس کے وفادار ساتھی مدن کو پتا چلتا ہے کہ رمنا کو کالے جادو کے ذریعے نقصان پہنچانے میں گنگا اور تنوجا نامی لڑکی ملوث ہیں۔ عاقل، سورج کمار (جو رمنا سے محبت کرتا ہے) کو تنوجا کی حقیقت سامنے لانے کے لیے ایک فرضی خواب کا سہارا لینے کا مشورہ دیتا ہے۔ سورج کے محبت بھرے ڈرامے کے جال میں پھنس کر تنوجا اپنے جرم اور عاقل پر قاتلانہ حملہ کروانے کا اعتراف کر لیتی ہے۔ بعد ازاں، پولیس انسپکٹر راج دیو کی مدد سے تنوجا اور گنگا کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر تھانے منتقل کیا جاتا ہے۔ کہانی میں سب سے بڑا سنسنی خیز موڑ تب آتا ہے جب حویلی میں موجود پنڈت امبا پرشاد کی موجودگی میں عاقل رفیق کی بینائی تیز ہوتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ پنڈت کے بھیس میں اصل میں کالا جادوگر "کالو رام چورسیا" چھپا ہوا ہے۔ عاقل ڈرامائی انداز میں اس کا ماسک اور وگ اتار کر اسے بے نقاب کر دیتا ہے، جس پر انسپکٹر راج دیو اسے سخت سزا دے کر گرفتار کر لیتا ہے۔ حویلی کے مالک جگ سرن اور ملازم مدن، عاقل رفیق کی اس عظیم انسانی ہمدردی اور بہادری پر اس کے بے حد شکر گزار ہوتے ہیں اور اسے حویلی کا فرد بن کر رہنے کی درخواست کرتے ہیں۔