یہ تحریر سلطنتِ میسور کے عظیم حکمران سلطان ٹیپو شہید کی زندگی، ان کے بلند کردار، انگریزوں کے خلاف جدوجہد اور ان کی وسیع النظری پر روشنی ڈالتی ہے۔ مصنف کے مطابق، سلطان ٹیپو برصغیر کے واحد حکمران تھے جنہوں نے مستقبل کے خطرات کو بھانپ کر انگریزوں کے خلاف "سودیشی تحریک" اور غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کا نعرہ لگایا۔ وہ ایک انتہائی محنتی اور فرض شناس حکمران تھے جو اپنے ملک و ملت کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔ تحریر میں علامہ اقبال اور مہاتما گاندھی جیسے رہنماؤں کے اعترافات کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطان نے ہمیشہ غیر ملکی غلامی کے خلاف ایک شیر کی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی اور اپنوں کی غداری کے باعث میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
مزید برآں، یہ مضمون انگریزوں کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ سلطان غیر مسلموں یا جنگی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈز سے ثابت ہے کہ سلطان ٹیپو اور ان کے والد حیدر علی خان کے دور میں ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ریاست کے قدیم مندروں کو شاہی سرپرستی، جاگیریں اور مالی امداد حاصل تھی۔ مرہٹوں کے حملے میں جب سرینگری مندر کو نقصان پہنچا، تو سلطان نے خود نقد رقم اور اشرفیاں بھیج کر بت کو دوبارہ نصب کروایا اور مندر کی مرمت کرائی، جو ان کی مذہبی رواداری اور وسیع النظری کی ایک لازوال مثال ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.