یہ سنسنی خیز اور سبق آموز کہانی "ماں کارنی" کے ایک خوفناک اور سچے خواب کے گرد گھومتی ہے۔ ماں کارنی خواب میں دیکھتی ہے کہ ان کا بیٹا انور، بہو رتی اور پانچ سالہ پوتا امام ایک سڑک حادثے کا شکار ہو کر بے سدھ پڑے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے انور کو بیٹی سسکا کے اسٹڈی ٹور کے لیے موٹر سائیکل پر شہر "باتو" جانے سے منع کرتی ہے اور اپنے دل کی فراست کا حوالہ دیتی ہے۔ تاہم، انور اپنی ہٹ دھرمی، مالی مجبوریاں اور بیٹی کی حفاظت کی ذمہ داری کا عذر پیش کرتے ہوئے اس خواب کو محض وہم اور صدمے کا اثر قرار دے کر ٹال دیتا ہے۔ اگلی صبح انور، رتی اور ننھے امام کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ دورانِ سفر پہاڑی اور دشوار گزار راستوں پر رتی کے دل میں بار بار ماں کا خواب اور اندیشے ابھرتے ہیں۔ جب وہ رات کے وقت کارتی نی روڈ کی تیز چڑھائی پر پہنچتے ہیں، تو ان کے آگے چلنے والی ایک بڑی سیاحتی بس کے بریک فیل ہو جاتے ہیں اور وہ پیچھے کی طرف لڑھکنے لگتی ہے۔ انور کو بچنے کا موقع نہیں ملتا اور بس ان کی موٹر سائیکل کو روندتی چلی جاتی ہے۔ اس ہولناک حادثے میں رتی اور ننھا امام موقع پر ہی دم توڑ دیتے ہیں جبکہ انور شدید زخمی ہو جاتا ہے۔ ہسپتال میں ہوش آنے پر انور کو اپنی ضد کا شدید پچھتاوا ہوتا ہے، جہاں ماں کارنی اور بیٹی سسکا اسے ملامت کرنے کے بجائے صبر کی تلقین کرتی ہیں اور اسے سسکا کے لیے جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ یہ کہانی واضح کرتی ہے کہ انسان جن باتوں کو اکثر وہم سمجھ کر ٹال دیتا ہے، بعض اوقات وہی حقیقت بن کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.