یہ مضمون برصغیر پاک و ہند کے عظیم ولیِ کامل حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کی حیاتِ مبارکہ، اخلاقی تعلیمات اور ان کی زندگی سے وابستہ سچے ایمان افروز واقعات پر روشنی ڈالتا ہے۔ ولادت اور بچپن کی خصوصیت: آپ کی ولادت 1866ء میں شرقپور (ضلع شیخوپورہ) کے ایک پرہیزگار گھرانے میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کی ذات میں ولایت کے آثار نمایاں تھے، یہاں تک کہ شیر خواری کے زمانے میں بھی آپ عام بچوں کی طرح روتے نہیں تھے۔ آپ کے استادِ مکرم مولانا غلام رسول نے مکتب ہی کے زمانے میں آپ کے چہرے پر خوفِ خدا، عشقِ الٰہی اور استغراقی کیفیت کو بھانپ لیا تھا اور پیشگوئی کی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر دہر کا ولیِ کامل بنے گا۔ شرم و حیا کا پیکر: میاں صاحبؒ بے پناہ شرم و حیا کے مالک تھے اور محلے کی خواتین کے بے پردہ بیٹھنے کی عادت کی وجہ سے خود چادر اوڑھ کر یا منہ چھپا کر باہر نکلتے تھے، تاکہ کسی غیر محرم پر نگاہ نہ پڑے۔ بعد میں آپ کی اس پاکیزہ روش نے پورے محلے میں پردے کی خوبصورت روایت قائم کر دی۔ کرامات اور عاجزی: آپ مستجاب الدعوات (جن کی دعا فوراً قبول ہو) کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ مضمون میں آپ کے کئی واقعات کا ذکر ہے؛ جیسے ایک سکھ نوجوان کو کلمہ پڑھا کر دائرۂ اسلام میں داخل کرنا، اپنے ایک مرید کے گھر غائبانہ جا کر کوڑا کرکٹ خود صاف کرنا، اور ایک مغرور سکھ تھانیدار کو اس کی بدتمیزی پر تنبیہ کرنا (جس کے بعد تھانیدار کا گھر چوری ہو گیا اور اس نے معافی مانگی)۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.