یہ کہانی سرد موسم اور بارش کے بعد کے ایک خوشگوار مگر خنک دن سے شروع ہوتی ہے، جہاں سروری بیگم (اماں بی) اپنے بڑے سے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے شوہر مظفر صاحب اور بیٹے اپنے کاموں پر جا چکے ہیں، اور گھر میں بہوئیں (زینت اور فردوس) اور پرانی ملازمہ وفاتن موجود ہیں۔ وفاتن کام چور ہے لیکن اپنی باتوں سے سب کا دل جیت لیتی ہے۔ گھر میں ان کے پوتے سجاد اور پوتی ماہ جبیں بھی ہیں۔ ماہ جبیں اور سجاد کے درمیان ایک خاموش محبت کا رشتہ پروان چڑھ رہا ہے، جس پر اس کی سہیلیوں کی طرف سے جملے بھی کسے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، سروری بیگم کے بھائی مظہر میاں اور ان کی اہلیہ ظہورن بیگم کی بیٹی گلشن کا رشتہ مظفر صاحب کے چھوٹے بیٹے سالار سے بچپن میں طے ہوا تھا۔ سالار فوج میں بھرتی ہو کر عالمی جنگ کا حصہ بننے کے لیے برٹش آرمی کے ساتھ سمندر پار محاذ (برما) پر چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی شادی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ دو سال تک سالار کا کوئی خط نہ آنے پر ظہورن بیگم بدگمانی کا شکار رہتی ہیں اور اپنی بیٹی کے نصیب کو روتی ہیں، جبکہ گلشن سالار کی یاد میں خط لکھتی رہتی ہے۔ بعد میں کرنل ڈیوڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ سالار خیریت سے ہے، جس پر شادی کی تیاریاں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں۔ ظہورن بیگم کا اکلوتا بیٹا بابر علی کوئی کام نہیں کرتا اور سارا دن کبوتر اڑاتا رہتا ہے، جس کی شادی خورشید سے ہوئی ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.