Download Link A
Download Link B
Download Link B
”تیرے سنگ در کی تلاش تھی“ بشریٰ رحمن کا ایک بہترین اور روحانی پہلوؤں سے آراستہ ناول ہے۔ یہ کہانی مرکزی کردار تسبیحہ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے والد کی لاڈلی اور ذہین بیٹی ہے۔ والد کے حادثے اور وفات کے بعد وہ اپنی خواہشات کو قربان کر کے بہنوں کی ذمہ داریاں اور شادیاں مکمل کرتی ہے۔ بعد ازاں تعلیم اور جاب کے سلسلے میں لندن قیام کے دوران اس کی ملاقات عبدالکریم مدہوش نامی شخص سے ہوتی ہے جو فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی کے جال میں تسبیحہ کو پھنسا کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی کے بعد مدہوش کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے؛ وہ ایک دھوکے باز، بدمعاش اور بد طینت انسان نکلتا ہے جو تسبیحہ سے لاکھوں روپے بٹورتا ہے اور اسے ذہنی و جسمانی اذیتیں دیتا ہے۔ تین بچوں (تسمیہ، تابش اور درمان) کی پیدائش کے باوجود مدہوش کے مظالم کم نہیں ہوتے اور بالآخر وہ ایک مالی فراڈ کے بعد لندن فرار ہو جاتا ہے اور بعد میں کینسر سے دم توڑ دیتا ہے۔تسبیحہ اپنے بچوں کو محنت سے پالتی اور اعلیٰ تعلیم دلواتی ہے۔ بچوں کی شادیاں اور سیٹلمنٹ کے بعد، 60 سال کی عمر میں اس کی ملاقات عطار قادری سے ہوتی ہے۔ عطار اور تسبیحہ دونوں بچپن سے ایک ہی خواب دیکھتے آ رہے تھے اور ایک دوسرے کے خوابوں کی تعبیر ثابت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
















