سیارہ ڈائجسٹ کا "حقوق العباد نمبر" (دسمبر 2000ء) انسانی حقوق کی تاریخ، اہمیت اور مختلف مذاہب و تہذیبوں میں ان کے تصور کا ایک جامع اور متوازن احاطہ ہے۔ ڈائجسٹ کے افتتاحیہ "دستک" میں نصرت علی اثیر نے عصرِ حاضر کی سائنسی ایجادات کے منفی پہلوؤں اور مروت کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نمبر انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی قوتوں کو ان کی اصل سے جوڑنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ اس شمارے کے تفصیلی تعارف میں انیسویں صدی کے ذہنی و سائنسی انقلاب کا سہرا عالمِ اسلام کے سر باندھا گیا ہے، جس نے یورپی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنسی تجرباتی اسلوب کی بنیاد رکھی۔ اس میں تاریخ کے مختلف ادوار، خصوصاً پانچویں سے دسویں صدی کے تاریک یورپی دور کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں بربریت، افلاس اور انسانی غلامی عروج پر تھی اور انسانی حرمت کا کوئی تصور نہ تھا۔ ایسے مخدوش حالات میں طلوعِ اسلام نے مساواتِ انسانی، رنگ و نسل کے امتیاز کے خاتمے اور امن و آشتی کا ابدی پیغام دیا۔ ڈائجسٹ میں "حق" کے لغوی و اصطلاحی مفاہیم پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، جس میں سچائی، استحقاق، ذمہ داری اور عدل و انصاف جیسے پہلو شامل ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی کے حوالے سے حقوق کی وسعت کو کائنات کی ہر چیز (جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان) تک محیط بتایا گیا ہے۔ مزید برآں، اس نمبر میں قدیم مصری، عراقی، فلسطینی، ایرانی، ہندوستانی (وادیِ سندھ)، چینی، یونانی اور رومی تہذیبوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جہاں شخصی بادشاہتوں، طبقاتی نظام (جیسے ہندومت کا ذات پات کا نظام) اور ہولناک جنگوں کے باعث عام انسان اور غلام حیوانوں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ شمارے میں یہودیت (تعلیماتِ حضرت موسیٰؑ) اور عیسائیت (تعلیماتِ حضرت عیسیٰؑ) میں انسانی حقوق، صلہ رحمی اور اخلاقی اصولوں کا ذکر قرآن مجید اور بائبل کے حوالوں سے کیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان مذاہب کی اصل روح کو بعد میں پیروکاروں نے مسخ کر دیا۔ بدھ مت کی اخلاقی تعلیمات، ہشت پہلو راستے اور نروان کے تصور کا بھی ذکر ہے، تاہم یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ عملی زندگی میں ان مذاہب کے پیروکار افراط و تفریط کا شکار رہے۔ آخر میں، اسلام کے آفاقی نظامِ عدل، خطبہ حجۃ الوداع اور قرآنی تعلیمات کو انسانی حقوق کا حقیقی علمبردار اور ضامن قرار دیا گیا ہے، جہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان ایک کامل توازن موجود ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.