کہانی میں ایک ایسی محترمہ کا ذکر ہے جنہیں الماریوں کے بجائے صوفوں اور میزوں پر کپڑے پھیلانے، بلند آواز میں بولنے اور ہر معاملے میں مشورے دینے کی عادت ہے۔ ان کے صاحبزادے کو اچانک مغربی اور کلاسیکی موسیقی کا شوق چرایا ہے، جس کی وجہ سے گھر میں ہر وقت دھینگا مشتی کا سماں رہتا ہے۔ ایک اور کردار بھائی نمبر 1 ہیں، جنہیں اکثر گم شدہ ہونے کا شوق ہے اور بچپن میں وہ روئی کے پہاڑ میں گم ہو گئے تھے۔ اسی طرح سکول کے زمانے میں بہن بھائیوں کا ایک دوسرے کے لیے لڑنا، بازاروں کے چکر لگانا، شاہ عالم مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ کی سیر، اور دکانداروں سے پتے پوچھنے کے مضحکہ خیز واقعات کہانی کا حصہ ہیں۔ آخری قسط میں کراچی اور لاہور کے سفر، رشتے داروں کے ہاں آمد و رفت، اور خریداری کے دوران پٹھان کی چپل بدل جانے جیسے مزاحیہ واقعات کا تذکرہ ہے۔ مصنفہ نے اردو زبان کی صورتحال پر ہلکا سا طنز کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی انڈے توڑ کر چوزے دیکھنے کی معصومانہ ضد اور خاندان میں انعامات کے ذریعے حوصلہ افزائی کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے روایتی مشترکہ خاندانی نظام کی عکاس ہے جہاں نوک جھونک، ہنگامے اور تفریح کے باوجود محبت، خلوص اور رواداری کا ماحول قائم رہتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.