"چشم پرنم" عادل رشید کا لکھا ہوا ایک جذباتی اور اصلاحی ناول ہے۔ اس کی کہانی ایک ایسی لڑکی "ودیا" کے گرد گھومتی ہے جو انتہائی نیک سیرت، بااخلاق، اور اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے) ہے۔ ودیا کے والد ہیم چندر لکھنؤ کے ایک کامیاب اور دیانت دار وکیل ہیں۔ ودیا ہر لحاظ سے ایک بہترین اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے، لیکن اس کی ظاہری رنگت سانولی اور روپ خوبصورت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی میں مسلسل رکاوٹیں آتی ہیں۔ ودیا کے والدین اس کی شادی کے لیے بہت پریشان رہتے ہیں اور کئی جگہ بات چیت کرتے ہیں۔ تاہم، ہر بار لوگ صرف ظاہری صورت و صورت یا دولت دیکھتے ہیں۔ ایک موقع پر ایک لالچی شخص "کامتا پرشاد" اپنے جالی بیٹے اور ایک بدنام چور کو شریف لڑکا بنا کر وکیل صاحب سے شادی اور دولت ہتھیا نے کا ڈرامہ رچاتا ہے، جسے ودیا اپنی دانشمندی سے بے نقاب کر دیتی ہے اور پولیس کے حوالے کروا دیتی ہے۔ ان تمام رسوائیوں اور تلخ تجربات سے تنگ آ کر ودیا شادی سے انکار کر دیتی ہے اور تنہا رہنے کا فیصلہ کرتی ہے۔اسی دوران ودیا کے والدین ایک حادثے (ٹرین حادثے) میں وفات پا جاتے ہیں، جس سے ودیا بالکل تنہا اور ٹوٹ جاتی ہے۔ خود کو مصروف رکھنے کے لیے وہ اپنی تعلیم اور ریسرچ (ڈاکٹریٹ) کا سلسلہ آگے بڑھاتی ہے۔ لائبریری میں اس کی ملاقات "نرمل کمار" نامی ایک ادیب/شاعر سے ہوتی ہے۔ نرمل اپنے آپ کو مظلوم اور بااخلاق ظاہر کر کے ودیا کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کر لیتا ہے۔ ودیا اس کی مالی مدد کرتی ہے اور اسے سچی محبت اور اپنا جیون ساتھی سمجھنے لگتی ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.