Pages

Monday, September 21, 2026

Barf Ki Deewar By Mael Malihabadi

یہ ناول آزاد ہندوستان کے بعد کے سماجی، اخلاقی اور مذہبی مسائل، بالخصوص ذات پات کی تفریق، چھوت چھات اور فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی ایک اصلاحی کہانی ہے۔   کہانی کا مرکزی کردار کمل شرما ایک برہمن نوجوان ہے، جس نے عربی زبان میں ایم اے کیا ہے اور آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کرتا ہے۔ لکھنؤ میں اس کے تعلقات مالتی نامی ایک لڑکی سے ہوتے ہیں، لیکن جب کمل کو معلوم ہوتا ہے کہ مالتی کی ماں اچھوت (دھوبن) تھی، تو وہ اپنے تعصب اور ذات پات کے گھمنڈ میں مالتی کو تحقیر کے ساتھ ٹھکرا دیتا ہے۔ مالتی اس ذلت سے شدید رنجیدہ ہوتی ہے اور اونچی ذات کے برہمنوں کے اس مصنوعی نظام اور نفرت کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔   دہلی جا کر کمل کی ملاقات عربی شعبے کی مصری نگراں فریدہ اور شعبے کے سربراہ مولانا سے ہوتی ہے۔ وہاں فریدہ اور دیگر لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور مولانا کی شرافت و اخلاق کو دیکھ کر کمل کی سوچ بدلنے لگتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ انسانیت اور اخلاق کسی ذات یا مذہب کے مرہونِ منت نہیں ہیں۔ آخرکار ایک دن فریدہ کے ساتھ چائے پی کر کمل اپنی صدیوں پرانی چھوت چھات کی روایت اور تعصب کی "برف کی دیوار" کو توڑ دیتا ہے اور اسے اپنے ماضی کے رویے پر ندامت ہوتی ہے۔   دوسری طرف مالتی کی زندگی میں راجہ رام نامی ایک دولت مند کاروباری شخص آتا ہے جو اس کی ذات کی پروا کیے بغیر اس سے رشتہ قائم کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ ناول بنیادی طور پر یہ درس دیتا ہے کہ جو سماج ذات پات اور مذہبی نفرت میں بٹا رہے گا وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا اور عوامی انقلاب ایسے فرسودہ نظام کو مٹا کر رکھ دے گا۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.