Download Link A
Download Link B
Download Link B
"یروشلم کی ساحرہ" اسلام سے پہلے کے زمانے پر مبنی ایک تاریخی اور مہم جویانہ ناول ہے۔ کہانی نبطی عربوں کی عظیم تاریخ، ان کے بادشاہ حارث، دارالحکومت رقیم (پیٹرا) اور فتح کے معرکوں کے گرد گھومتی ہے۔ مرکزی پلاٹ حبیب بن عثمان نامی ایک بہادر اور غیرت مند نبطی نوجوان کے گرد گردش کرتا ہے۔ حبیب اور اس کے ماموں زاد بھائیوں (سعید اور علی) کو ایک معمولی جھگڑے میں رقیم کے کوتوال کے ظلم کی وجہ سے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جیل میں حبیب اپنی بے پناہ شجاعت سے خطرناک قیدیوں (قلیص اور شناتر) کو شکست دیتا ہے، جس سے متاثر ہو کر نبطی بادشاہ حارث کا بیٹا، ولی عہد مالک بن حارث، انہیں بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ بادشاہ حارث، حبیب کو ایک نہایت اہم اور دشوار مہم سونپتا ہے۔ یروشلم میں "اوزال" نامی ایک حسین و جمیل صابی رقاصہ و مغنیہ (جسے 'یروشلم کی ساحرہ' بھی کہا جاتا ہے) موجود ہے، جسے یروشلم کا حاکم ہیرودیس دمشق کے بادشاہ حداد بن حداد کو تحفے میں دینا چاہتا ہے۔ اوزال اس زبردستی کی شادی سے انکار کر کے روپوش ہو جاتی ہے، جس پر ہیرودیس اس کے تمام اہل خانہ کو قتل کروا دیتا ہے۔ حارث کی بیٹی عریب (جو ہیرودیس کی بیوی ہے) اوزال کو بچانا چاہتی ہے۔ بادشاہ حارث، حبیب کو اوزال کو محفوظ طریقے سے یروشلم سے نکال کر رقیم لانے کی ذمہ داری دیتا ہے۔ مہم پر روانہ ہونے سے قبل، حبیب اپنے نخلستان میں واقع گھر پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں کچھ ظالموں نے اس کے باپ کو قتل اور ماں (یو باب) کو اندھا کر دیا ہے۔ حبیب قسم کھاتا ہے کہ جب تک وہ اپنے باپ کے قاتلوں سے بدلہ نہیں لے لیتا، تب تک وہ نیا لباس پہنے گا اور نہ ہی شادی کرے گا۔ وہ پہلے اپنے رب کے حضور خانہ کعبہ (مکہ) جا کر کامیابی اور نصرت کی دعا مانگتا ہے اور پھر یروشلم کے لیے روانہ ہو جاتا ہے۔ یروشلم پہنچ کر حبیب ایک یہودی مکابی رہنما عازور سے ملتا ہے اور رومن، یہودی اور شامی ریاستوں کی سیاسی سازشوں، کشمکش اور برابا جیسے ڈاکوؤں کے پھیلاؤ کا جائزہ لیتا ہے۔ ناول میں ایمانی غیرت، عشق، تاریخی حقائق، بت پرستی کے خاتمے اور آنے والے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بشارتوں کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.