یہ کہانی شہیر نامی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو پڑھائی میں سخت نالائق ہے اور ایف اے کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد اپنے باپ تصدق صاحب کی سخت باتوں اور طنز کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ گھر میں صرف اس کی ماں طیبہ اس کی حمایت کرتی ہے، جبکہ اس کا بھائی احمد اور بہن عینی بھی اس کی عدم توجہی پر نالاں رہتے ہیں۔ شہیر کا دل پڑھائی کے بجائے اسپورٹس اور ایتھلیٹکس میں لگتا ہے اور وہ ایک کامیاب ایتھلیٹ بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ کھیلوں کے کلب میں اس کی ملاقات نتاشا سے ہوتی ہے جو نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ ہر مشکل موڑ پر اس کا سہارا بنتی ہے۔ جب بین الصوبائی اسپورٹس فیسٹیول میں شہیر بہترین کارکردگی دکھاتا ہے تو گھر والوں، بالخصوص اس کے بھائی اور بہن کا رویہ بھی اس کے لیے بدلنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایشین گیمز کے لیے شہیر اور نتاشا دونوں کا انتخاب ہو جاتا ہے۔ ملک سے باہر جا کر شہیر اپنی محنت اور ماں کی دعاؤں کے بل بوتے پر لونگ جمپ (Long Jump) میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیتا ہے۔ اس عظیم کامیابی کے بعد اس کے والد کا غرور بھی ختم ہو جاتا ہے اور وہ فخر سے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیتے ہیں۔ آخر میں، دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شہیر اور نتاشا کا رشتہ طے پا جاتا ہے اور شہیر کے خواب ایک خوبصورت تعبیر میں ڈھل جاتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.