Pages

Friday, August 28, 2026

Hazrat Baba Shah Jamal By Professor Khalid Pervaiz

 پروفیسر خالد پرویز کی تحریر کردہ یہ داستان حضرت بابا شاہ جمال (اصل نام حسن شاہ) کے روحانی سفر، زہد و تقویٰ اور کرامات کو بیان کرتی ہے۔ آپ نے اپنے مرشد سید عبدالواحد شداد اور بعد ازاں حضرت عمرا ایوب سے معرفت و سلوک کی منازل طے کیں۔ مرشد کے حکم پر آپ نے لاہور کے علاقے اچھرہ کی نواحی بستی میں قیام فرمایا اور خلقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کی۔  اس تحریر میں آپ کے ایک مرید خاص (حسن شاہ عرف شوتیلی) کی دیانتداری کے امتحان اور برکت، ایک بے اولاد کھتری کو پالک بیٹا (فخر الدین) ملنے، اور شاہی معماروں کے ذریعے ایک عالی شان سات منزلہ حجرہ/مقبول عمارت کی تعمیر کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب شہزادی سلطان بیگم نے عمارت کی بلندی پر اعتراض کیا، تو آپ نے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔ سکھ دور میں عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، مگر آپ کا آستانہ آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کا وصال 14 ربیع الثانی 1049ھ کو ہوا۔  

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.