پروفیسر خورشید احمد اپنے اس مضمون میں کائنات کے نظام اور گردشِ لیل و نہار (دن اور رات کے بدلنے) کو انسانی زندگی کے اخلاقی اور عملی پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق، جس طرح دن ایک سچائی ہے، اسی طرح رات بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ کائنات کی ہر تبدیلی انسان کے لیے ایک چیلنج اور آزمائش کا نیا باب کھولتی ہے، جس سے انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا چلتا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دن رات کے الٹ پھیر کو محض ایک روزمرہ کا معمول سمجھ کر غفلت سے نہ گزر جائے، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما دستِ قدرت اور بصیرت کو تلاش کرے۔ رات صرف اندھیرا نہیں، بلکہ ایک لباس ہے جو انسان کو آرام و سکون فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اگلی صبح کے نئے چیلنجز کے لیے نئی توانائی حاصل کر سکے۔ مصنف کے مطابق، رات معاشرے میں دو قسم کے کرداروں کو نمایاں کرتی ہے: ایک وہ جو اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر جرائم اور فسادِ فی الارض میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور دوسرے وہ خدا پرست لوگ جو رات کو روح کے محاسبے، عبادت، تہجد اور دعا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کے لیے حالات کی تبدیلیاں (خوشی یا غم، بلندی یا پستی) عارضی ہوتی ہیں؛ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی حالات کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔ یہ مضمون انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness) پیدا کرنے اور ہر لمحہ اپنے مقصدِ حیات پر نظر رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.