ناول کا آغاز ۲۱ جولائی ۲۰۱۶ء کی ایک خوشگوار اور بارانی شام سے ہوتا ہے، جہاں عائشہ اپنے گھر کے لان میں چائے پی رہی ہے。 عائشہ، جو شادی کے بعد لندن منتقل ہو چکی ہے، حال ہی میں سوات سے لاہور اپنے مائیکے آئی ہے۔ وہ اپنی والدہ کو تسلی دیتی ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی موسیٰ (عمر ۱۸ برس) اور اس کا قریبی دوست اسماعیل کالج کے بعد کرکٹ میچ کی وجہ سے دیر سے لوٹیں گے۔ موسیٰ اور اسماعیل گہرے دوست ہیں اور اسماعیل موسیٰ کی ضد پر حال ہی میں ان کے گھر شفٹ ہوا ہے۔ میچ ہارنے کی وجہ سے دونوں دوستوں میں ناراضی ہو جاتی ہے، لیکن موسیٰ کی بڑی بہن آیت (عمر ۲۱ برس)، جو سوات سے آئی ہے، پیار اور حکمتِ عملی سے موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا کر دیتی ہے اور سب ہنسی خوشی کھانا کھاتے ہیں。 رات کو آیت کی دادی اس سے سوات کے حالات، اس کے والد شاہد (جو پاک آرمی میں اپنے فرائض کی وجہ سے گھر کو کم وقت دے پاتے ہیں) اور حامد انکل کے ساتھ پرانی یادوں کا ذکر کرتی ہیں。 اگلے دن اسماعیل کے مشورے پر آیت دونوں کو کافی شاپ لے جانے کا وعدہ کرتی ہے۔ اس کے بعد کہانی ماضی اور لندن کے پس منظر میں منتقل ہوتی ہے جہاں آیت (عمر ۲۴ برس) اور منان عرف مانی (عمر ۲۲ برس) کی ملاقات ہوتی ہے。 منان، جس کے نانا کا کاروبار لندن میں ہے اور والدہ برطانوی نژاد ہیں، مانی ریسٹورنٹ چلاتا ہے۔ وہ سڑک پر اداس بیٹھی آیت کو دیکھ کر اس کی مدد کرنا چاہتا ہے، لیکن آیت شروع میں اس کی ظاہری شکل کا مذاق اڑاتی ہے اور اسے سخت سست سناتی ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ منان کی مخلصانہ کوششوں سے دونوں میں گہری دوستی ہو جاتی ہے。 منان دراصل اپنے دوست سانول کے کہنے پر آیت کی ادھوری کہانی جاننے کی کوشش کر رہا ہے。

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.