"آج کا مغل اعظم" رانا زاہد حسین کا تحریر کردہ ایک انتہائی دلچسپ، طنز و مزاح سے بھرپور اور پیروڈی ناول ہے۔ اس کہانی میں مغل دور کے مشہور تاریخی کرداروں (اکبر، جودھا بائی، شہزادہ سلیم، بیربل، ملا دو پیازہ اور انار کلی) کو اکیسویں صدی کے جدید ماحول میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا آغاز مغل دربار سے ہوتا ہے جہاں شہنشاہ اکبر روایتی امور چلانے کے بجائے کیبل پر فلمیں دیکھنے، لوڈ شیڈنگ سے تنگ آنے، اور موبائل فون پر بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے مس کالیں دینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انار کلی موبائل فون پر اکبر کو چھیڑتی ہے جبکہ ملکہ جودھا بائی ایک گھریلو اور سیاسی بیوی کی طرح اکبر کے نخرے اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے کان کھینچتی رہتی ہیں۔ دوسری طرف، شہزادہ سلیم اپنے پیارے ہرن "ہنس راج" کی موت پر نوحہ کناں ہے اور اس کی یاد میں ہرن مینار بنا کر وہاں جدید دور کے مطابق فش فارمنگ جیسے مشورے سنتا ہے۔دربار کے چالاک مشیر بیربل اور ملا دو پیازہ جدید دور کے ٹیکسوں، عدالتی نظام، میڈیا اسکینڈلز اور کرپشن پر طنز کرتے ہیں۔ دلارام، جو انار کلی اور سلیم کے افیئر سے جلتی ہے، ان کی ایک خفیہ ویڈیو بنا کر ٹی وی چینل کو پندرہ لاکھ روپے میں بیچ دیتی ہے، مگر سلیم چالاکی سے اس نمائندے کو پچیس لاکھ دے کر وہ ویڈیو ڈیلیٹ کروا دیتا ہے۔ آخر میں، سلیم میدانِ جنگ (پانی پت) جانے کے بجائے اپنے دوست کے گھر ایل ای ڈی پر فلم مغل اعظم کے جنگی سین چلا کر اکبر کو فون پر ہاتھیوں گھوڑوں کی آوازیں سناتا ہے اور فتح کا جھوٹا دعویٰ کر دیتا ہے۔ یہ ناول مغل مریم و عذرا کے کلاسک تانے بانے کو جدید دور کے مسائل، سوشل میڈیا، واٹس ایپ، اور کورونا لاک ڈاؤن کے طنزیہ تناظر میں نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.