Pages

Tuesday, July 14, 2026

Kaffara By Iqbal Kazmi

Download Link A
Download Link B
یہ کہانی معاشرے کے ایسے تلخ رویوں اور حالات کی عکاسی کرتی ہے جو ایک عام انسان کو جرائم کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار (رونی) پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی سعید کو ایک بڑی خفیہ اطلاع دیتا ہے کہ ہیروئن کا ایک بہت بڑا سمگلر، ملک شہاب، پشاور سے لاہور کے راستے ایک ٹرک کے ذریعے بھاری مقدار میں ہیروئن سمگل کر رہا ہے۔ ملک شہاب نے ماضی میں رونی کو ذلیل کیا تھا اور اب وہ اسے ایک سازش کے تحت سندھ کی حدود میں دو کلو ہیروئن کے ساتھ پولیس سے گرفتار کروانا چاہتا تھا، جس کا علم رونی کو اپنے دوست پھجے کے ذریعے ہوتا ہے۔ رونی اس سازش کا بدلہ لینے اور ہیروئن کی اس بڑی کھیپ کو ضائع کرانے کے لیے ایس پی سعید اور اپنے وکیل عابد رحمان کی مدد لیتا ہے۔
اسی دوران، رونی اپنے تعاقب کاروں (موت کے فرشتوں) سے بچتے ہوئے گلبرگ کے ایک بڑے بنگلے میں پناہ لیتا ہے۔ وہاں اسے ایک سنسان رات میں ایک عورت کی خوفناک چیخیں سنائی دیتی ہیں اور وہ ایک مرد اور عورت کو کار میں وہاں سے فرار ہوتے دیکھتا ہے۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب وہ بنگلے کے اندر داخل ہوتا ہے تو اسے وہاں چوکیدار کی لاش ملتی ہے اور بیڈ روم کی الماری سے ایک حسین چالیس سالہ عورت کی لاش برآمد ہوتی ہے جسے گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ رونی اس لاش کے گلے سے سونے کا ایک پراسرار لاکٹ اتار لیتا ہے جس کے اندر تصویر کے بجائے ہندسوں پر مشتمل ایک خفیہ کاغذ تہہ کیا ہوا تھا۔ رونی اس لاش کے پاس موجود ڈریسنگ ٹیبل سے کروڑوں روپے کے زیورات، نقد رقم اور جرمن لوگر پستول اپنے بیگ میں بھر لیتا ہے اور وہاں کھڑی ہونڈا کار چرا کر فرار ہو جاتا ہے اور آخر کار اپنے ایک خفیہ اڈے پر پہنچتا ہے جہاں چاچا خیر دین مقیم ہے۔ یہ ناول تجسس، جرم، انتقام اور معاشرتی بے حسی کے گرد گھومتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.