یہ کہانی کراچی شہر میں پھیلی بدامنی، دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کے گرد گھومتی ہے. کہانی کا مرکزی کردار سب انسپکٹر شجاعت علی ہے، جو ایک اصول پسند اور ایماندار پولیس افسر ہے. وہ اور اس کا جگری دوست اے ایس آئی حامد حسن شہر کو جرائم سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں. ایک خفیہ اطلاع پر حامد حسن بلوچستان سے آنے والے اسلحہ سے لادے ٹرک کی نگرانی کے لیے حب کے ویرانے میں جاتا ہے تاکہ اس مکروہ دھندے کے سرغنہ "نوری خالد" کے خفیہ ٹھکانے کا پتہ لگا سکے. تاہم، حامد حسن نوری خالد کے آدمیوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اس پر بدترین تشدد کر کے اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں. شجاعت علی کو ایک جھوٹی کال کے ذریعے وہاں بلایا جاتا ہے. وہ جب وہاں پہنچتا ہے تو حامد دم توڑ دیتا ہے. وہاں شجاعت کا سامنا تین مشکوک افراد (شہباز عامر، گل فراز اور شبینہ) سے ہوتا ہے جو نوری خالد کے کارندے نکلتے ہیں. وہ شجاعت کو بھی قابو کر لیتے ہیں. تاہم، شبینہ خفیہ طور پر شجاعت کو ایک چاقو دے کر اس کی مدد کرتی ہے. شجاعت بہادری سے لڑتے ہوئے گل فراز کو ہلاک اور شہباز عامر کو گرفتار کر لیتا ہے، جبکہ شبینہ گاڑی لے کر فرار ہو جاتی ہے.تھانے لانے کے بعد، شبینہ بھیس بدل کر حوالات میں بند شہباز عامر سے ملتی ہے اور اسے زہریلا کیپسول دے دیتی ہے جس سے وہ خودکشی کر لیتا ہے تاکہ راز فاش نہ ہوں. اگلی صبح شجاعت پر قاتلانہ حملہ بھی ہوتا ہے جس میں وہ بال بال بچتا ہے. حامد حسن کی دردناک موت اور مجرم کی خودکشی کے باوجود شجاعت علی کا عزم کمزور نہیں ہوتا اور وہ نوری خالد جیسے موت کے سوداگروں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے.
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.