Download Link A
Download Link B
Download Link B
کہانی ایک پراسرار اور خوفناک جادوئی سفر کے گرد گھومتی ہے। کہانی کا آغاز کافرستان کے دشوار گزار اور زہریلے ناگوں سے بھرے پہاڑی علاقے "مارچنگ" سے ہوتا ہے، جہاں مہا پجاری (مہا یوگی) ہری چند کالی دیوی کے چھ یوگ پورے کر کے ساتویں اور آخری یوگ کی تیاری کر رہا ہے تاکہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور "جوشکا جادو" کو حاصل کر سکے۔ تاہم، اسے معلوم ہوتا ہے کہ جوشکا جادو کی تمام طاقتیں ایک سیاہ ہڈی میں بند تھیں جو ایک معبد کی تباہی کے بعد پراسرار طور پر غائب ہو چکی ہے۔ اس جادو اور سیاہ ہڈی کو دوبارہ حاصل کرنے کی واحد چابی ایک قدائی اور پراسرار "سیاہ کتاب" ہے، جس میں پنڈت دیال کے خون سے لکھے گئے منتر درج ہیں۔ یہ کتاب ساگا لینڈ کے ایک میوزیم میں محفوظ ہوتی ہے۔ شکر (نائٹ کلب کا مینیجر) اور ایک بدروح "مادام مارشیا" (جو کاکشی کا روپ ہے) ایک ماہر چور مرلی داس کو بیس لاکھ روپے دے کر میوزیم سے وہ سیاہ کتاب چوری کرنے کا کام سونپتے ہیں۔ دوسری طرف، علی عمران کو اپنے فلیٹ پر ڈاکٹر فراسکی (ساگا لینڈ) کی طرف سے ایک خصوصی کوریئر کے ذریعے وہی سیاہ، لوہے کی جلد والی پراسرار کتاب موصول ہوتی ہے۔ جیسے ہی عمران اس کتاب کا پہلا صفحہ پڑھتا ہے، ایک شیطانی اور بھیانک بدروح اس پر مکمل تسلط جما لیتی ہے۔ اس شیطانی طاقت کے اثر میں آکر عمران شدید ذہنی التباس (Hallucinations) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے دینو کاکا کی جعلی کال آتی ہے اور وہ ہسپتال پہنچ کر سر عبدالرحمان اور ثریا کو دیکھتا ہے، جبکہ حقیقت میں سر عبدالرحمان بیرون ملک گئے ہوئے ہوتے ہیں اور اماں بی بالکل ٹھیک ہوتی ہیں۔ عمران کا ذہن اس قدر مفلوج ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی سیکرٹ سروس کی ٹیم کے لیے ایک ہلاک خیز خطرہ بن جاتا ہے۔ وہ ہسپتال سے صفدر کو زخمی حالت میں اٹھا کر کچرے کے ڈرم میں پھینک دیتا ہے اور بعد میں اسے گولیوں سے چھلنی کر کے ہلاک کر دیتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.