راجپوت محبوبہ، ہمایوں بلگرامی کا ایک تاریخی و رومانوی ناول ہے، جو سلطنتِ دہلی کے تغلق دور اور فیروز شاہ تغلق کے آخری ایام کے سیاسی انتشار کے پس منظر پر مبنی ہے۔ داستان کی بنیادی کردار "رجنی" ایک راجپوت دوشیزہ ہے، جس کے والد اور چچا کو تغلق فوج کے قتلِ عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کا سرپرست گو بند (حاجی برہان) انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے رجنی کو شمشیر زنی اور فنونِ حرب کی سخت تربیت دیتا ہے اور اسے مسلمانوں جیسا لب و لہجہ اپنانے کی مشق کرواتا ہے تاکہ وہ تغلق خاندان میں انتشار پھیلا کر سلطنت کو تباہ کر سکے۔اس منصوبے کے تحت رجنی، شاہی خاندان کے شہزادے ہمایوں خاں کو اپنے حسن اور بہادری سے رام کر لیتی ہے۔ بعد میں وہ ہمایوں خاں کی قاصد بن کر سلطان غیاث الدین تغلق کے محل تک رسائی حاصل کرتی ہے، جہاں محلاتی سازشوں اور ملک رکن الدین جندہ کی بغاوت کے نتیجے میں غیاث الدین کو فرار ہونا پڑتا ہے اور بعد میں چودھری کھر کو اسے قتل کر دیتا ہے۔ نئی تخت نشینی کے دوران شہزادہ ابو بکر سلطان بنتا ہے اور اس کی ملکہ صنوبر (جو دراصل رجنی کی گمشدہ چاچی اور انتقام کی پیاسی راجپوت عورت ہوتی ہے) رجنی کو اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ رجنی جو شہزادہ ہمایوں خاں کی سچی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی ہے، راجپوت گو بند کی سازشوں اور صنوبر کے ذاتی انتقامی منصوبوں کے درمیان اپنی محبت اور آئندہ لائحہ عمل کے تذبذب میں گھری نظر آتی ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.