یہ داستان عباسی خلیفہ جعفر مقتدر باللہ کے تیرہ سال کی کم عمری میں تخت نشین ہونے، اور اس کے نتیجے میں محل کی باطنی سیاست، سازشوں اور عیش و عشرت کا احاطہ کرتی ہے۔ خلیفہ مقتدر کے خلاف عبد اللہ بن معتز کی بغاوت کو مونس خادم اور خلیفہ کی والدہ (شغب) کی تدبیروں کے ذریعے ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن معتز کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔ حکومت کے اصل اختیارات خلیفہ کی والدہ شغب اور قہرمانہ ام موسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، جس سے امیر الامراء مونس خادم اور دیگر امرا شدید نالان رہتے ہیں۔ مونس اقتدار کو مردوں (وزراء و امرا) کے ہاتھ میں واپس لانے اور محل کی خبریں رکھنے کے لیے بشری نامی لڑکی کا سہارا لیتا ہے۔ تاہم، بشری قصرِ خلافت میں جا کر مقتدر کی قربت حاصل کر لیتی ہے اور مونس کے پاس واپس جانے سے انکار کر دیتی ہے۔ مقتدر مونس کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اسے قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور بشری کی موت کا جھوٹا بہانہ بناتا ہے۔ مونس اس سچائی سے واقف ہو کر اپنی فوج اور دیگر اہم امرا کو مقتدر کے خلاف متحد کر لیتا ہے اور عباسی خلافت کو نااہل و عیش پرست خلیفہ سے نجات دلانے کے لیے ایک نئی بغاوت کا علم بلند کرتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.