"محسن" افشین نسیم کا تحریر کردہ ایک پراسرار اور سسپنس سے بھرپور اردو افسانہ ہے۔ کہانی علشبہ، اس کے امیر والد سرفراز احمد اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے خوبصورت مصور افراسیاب کے گرد گھومتی ہے۔ علشبہ افراسیاب کی سحر انگیز شخصیت اور طلسمی آنکھوں کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ تاہم افراسیاب کا دوست رؤف، جو کہ ایک موقع پرست اور جادو ٹونے کا دلدادہ شخص ہوتا ہے، کٹاس راج مندر کے نیچے دفن ناگ رانی کے خزانے کو حاصل کرنے کے لیے سرفراز احمد کی اکلوتی اولاد (علشبہ) کو قربانی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ علشبہ اور اس کے والد افراسیاب کو رؤف کے خطرے سے بچانے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی لاگت سے افراسیاب کا ہم شکل ایک جدید روبوٹ (شیری) حاصل کرتے ہیں۔ جب کٹاس راج کے مندر میں خزانہ نہیں ملتا تو رؤف مایوس ہو جاتا ہے اور بعد میں فارم ہاؤس میں پراسرار طور پر قتل ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ رؤف کا قتل انسان نما روبوٹ شیری کی آنکھوں میں لگی لیزر گن کی شعاعوں سے ہوا تھا۔ علشبہ کا یہ قدم افراسیاب کی جان بچا لیتا ہے اور افراسیاب اس کی اس قربانی پر اسے اپنا "محسن" مان لیتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.