ناول "مہاراجہ" (از قلم کنور حشمت علی) کی یہ داستان ایک عیاش، خود غرض اور بدفطرت حکمران راجہ رام سہائے، اس کے جڑواں بیٹوں (تلک رائے اور رتن رائے) اور ایک معصوم دوشیزہ پوجا کے گرد گھومتی ہے۔ راجہ رام سہائے جگیا پور کے جاگیردار کرم سنگھ کی بستی میں داخل ہوتا ہے، جہاں اس کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔ کرم سنگھ کی خوبصورت بیٹی پوجا راجہ پر پھول نچھاور کرتی ہے تو راجہ اس کے حسن کا دیوانہ ہو جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کی ہوس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ راجہ کا عیار مشیر، جگت رام، راجہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرم سنگھ کو مکھن پور کی سونا اگلنے والی جاگیر کا لالچ دیتا ہے۔ کرم سنگھ دولت اور طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اپنی بیٹی کا سودا کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ پوجا کے پانچوں بھائی اس بے غیرتی کی شدید مخالفت کرتے ہیں، لیکن پوجا اپنے خاندان کو راجہ کے غیظ و غضب اور تباہی سے بچانے کے لیے اپنی خوشیوں کا 'بلیدان' (قربانی) دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ محل پہنچنے کے بعد پوجا خود کو بھیڑیوں کے نرغے میں گھری ایک لاش کی طرح محسوس کرتی ہے۔ راجہ رام سہائے ابھی رسم و رواج (پھیروں) کے بغیر ہی اسے اپنے حصار میں لینا چاہتا ہے، لیکن پوجا بڑی چالاکی اور لومڑی جیسی ہوشیاری سے کام لے کر دھرم کا واسطہ دیتی ہے اور خود کو بچانے کی مہلت حاصل کرتی ہے۔ وہ دل کے سکون کے لیے محل کے اندر موجود مندر میں جاتی ہے، جہاں اس کی ملاقات راجہ کے صوفی منش اور سنیاسی بیٹے تلک رائے سے ہوتی ہے، جو اپنے عیاش باپ کے بالکل برعکس ایک مقدس اور پرجلال شخصیت کا مالک ہے۔ دوسری طرف، راجہ کا دوسرا بیٹا رتن رائے، جو اپنے باپ کی طرح راج پاٹ کے امور سنبھالتا ہے، پوجا کو دیکھ کر اس کا اسیر ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی خاندانی جبر، ہوسِ زر، محلاتی سازشوں، اور تقدیر کے جبر کے خلاف ایک مظلوم لڑکی کی ذہنی و جذباتی کشمکش کی سنسنی خیز داستان ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.