Pages

Showing posts with label Iffat Mohani. Show all posts
Showing posts with label Iffat Mohani. Show all posts

Sunday, August 2, 2026

Maria By Iffat Mohani

یہ کہانی معاذ نامی ایک حساس اور جذباتی جوان کے گرد گھومتی ہے، جو بچپن میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد سے شدید بدگمانی اور احساسِ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے والد، ڈاکٹر سرفراز، شہر کے نامور معالج ہیں جنہوں نے بیوی کی وفات کے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ معاذ اپنے والد کو ماں کی موت کا ذمہ دار اور سوتیلی ماں (رفیعہ بیگم) کو ایک ناپسندیدہ شخصیت سمجھتا ہے، حالانکہ انہوں نے کبھی اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
ایک دن معاذ والد اور سوتیلی ماں کے درمیان اپنے چھوٹے بھائی فراز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے سے متعلق گفتگو سن لیتا ہے۔ جب والد معاذ کے ماضی کے مواقع اور موجودہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے غصے میں "جہنم میں جائے" کا جملہ ادا کرتے ہیں، تو معاذ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ خاموشی سے سمارٹ کیس اٹھا کر اپنی مرحوم والدہ کے نام پر خریدی گئی پرانی کوٹھری (بنگلے) کی طرف نکل جاتا ہے۔
کوٹھی پہنچ کر اس کی ملاقات بوڑھے باغبان غلام قادر، اس کے بیٹے نادر اور بیٹی لاجو سے ہوتی ہے۔ ان غریب مگر مخلص لوگوں کی محبت، خلوص اور سادگی معاذ کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر لاجو کا معصومانہ احترام اور نادر کی باتیں اسے متاثر کرتی ہیں۔ دوسری طرف، گھر میں والد، سوتیلی ماں، اور بہن بھائی (فراز، ایاز، عذرا) اس کے ناگہاں غائب ہونے پر شدید پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سرفراز معاذ کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر وہ وہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aakhiri Tohfa By Iffat Mohani

یہ کہانی عفت موہانی کے ناول "آخری تحفہ" کا ایک حصہ ہے جو سیمیں اور اس کی چھوٹی بہن رومی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی والدہ رفیعہ بیگم کے انتقال کے بعد ان کے ذہنی طور پر بیمار والد، علی محمد صاحب، کو اسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور دونوں بے سہارا بہنیں اپنی مغرور اور دولت مند خالہ صفیہ بیگم کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔ صفیہ بیگم اور ان کے بڑے بیٹے گھر میں ان دونوں کو کمتر سمجھتے ہیں جبکہ خالہ کی بیٹی عامرہ اور بیٹا آفتاب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 1, 2026

Bhanwar Novel By Iffat Mohani

یہ کہانی ایک جذباتی اور نفسیاتی ڈرامے پر مبنی ہے، جس کا مرکزی کردار عبیر ایک انتہائی تعلیم یافتہ (آکسفورڈ کا گریجویٹ) اور خوش حال کرنل کا بیٹا ہے۔ ایک پراسرار ماضی، محبت کی ناکامی اور شدید جذباتی صدمے (محبوبہ سحابی کی کسی اور سے شادی) کی وجہ سے عبیر اپنی یادداشت اور ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ وہ اکثر یہ سوچ کر پریشان رہتا ہے کہ اس کا دل پھٹ جائے گا اور اسے غشی یا دورے پڑنے لگتے ہیں۔ اس کے والد کرنل اختر، بیمار ماں ثمینہ بیگم، دوست شباہت اور منگیتر توقیر اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں اور اسے صحت مند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  کہانی میں مدحت نامی ایک حساس لڑکی کا کردار آتا ہے، جو عبیر کی بہن سریر کی سہیلی ہے۔ مدحت خاموشی سے عبیر کی معصومیت اور اس کے غم کو محسوس کرتے ہوئے اس کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ کرنل اختر اپنے بیٹے عبیر کی ذہنی صحت کی بحالی کے لیے اس کی شادی مدحت سے کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, July 28, 2026

Buzdil By Iffat Mohani

"بزدل" عفت موہانی کا تحریر کردہ ایک معاشرتی و جذباتی اردو ناول ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار تاجدار ایک یونیورسٹی پروفیسر ہے، جو اپنے سخت گیر باپ عباد الرحمن کی پابندیوں اور سخت طبیعت کی وجہ سے احساسِ کمتری اور تنہائی کا شکار ہے۔ ایک تقریب میں اس کی ملاقات جج الطاف حسین کی بیٹی جیسمین سے ہوتی ہے۔ جج صاحب کی ذہنی حالت اور خاندانی حالات کی وجہ سے جیسمین بھی تنہائی اور غم کا شکار ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور یونیورسٹی کے ڈرامے "پروانہ" میں شہزادہ سلیم اور انارکلی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک دوسرے کے اور قریب آ جاتے ہیں۔ تاہم، داستان میں شہناز تقی کی یکطرفہ محبت، خاندانی الجھنوں اور تاجدار کی اندرونی بزدلی و جذبات کی شدت کے باعث پیچیدگیاں اور جذباتی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔  

Friday, July 24, 2026

Tawaan By Iffat Mohani

"تاوان" اردو کی معروف مصنفہ عفت موہانی کا تحریر کردہ ایک بیدار کن معاشرتی اور جذباتی ناول ہے۔ اس ناول کا مرکزی موضوع خاندانی اقدار، انسانی رشتوں کی نزاکت اور معاشرتی ناانصافیوں کا سامنا کرنے والی خواتین کی جدوجہد ہے۔ کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے جسے اپنوں کی غلطیوں، تلخ رویوں اور خاندانی فیصلوں کی قیمت یعنی "تاوان" ادا کرنا پڑتا ہے。 عفت موہانی نے اپنے رواں اور سادہ اسلوبِ تحریر کے ذریعے عورت کی عزتِ نفس، صابرانہ جدوجہد اور جذباتی کشمکش کو انتہائی عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ناول یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کے نازک موڑ پر صبر، حوصلے اور وقار کو برقرار رکھ کر ہی مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔