یہ کہانی عفت موہانی کے ناول "آخری تحفہ" کا ایک حصہ ہے جو سیمیں اور اس کی چھوٹی بہن رومی کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی والدہ رفیعہ بیگم کے انتقال کے بعد ان کے ذہنی طور پر بیمار والد، علی محمد صاحب، کو اسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے اور دونوں بے سہارا بہنیں اپنی مغرور اور دولت مند خالہ صفیہ بیگم کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔ صفیہ بیگم اور ان کے بڑے بیٹے گھر میں ان دونوں کو کمتر سمجھتے ہیں جبکہ خالہ کی بیٹی عامرہ اور بیٹا آفتاب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.