یہ کہانی مہر بانو نامی لڑکی کی ہے، جو بچپن میں اپنے والدین کی لاڈلی اور پڑھائی کی بے حد شوقین تھی۔ مہر بانو کے بھائی شیراز کے ہاتھوں ان کے دیرینہ دشمن شمروز خان کے بیٹے شہباز کا قتل ہو جاتا ہے، جس کے بعد شیراز فرار ہو جاتا ہے۔ دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جرگہ یہ فیصلہ سناتا ہے کہ خون بہا اور تاوان کے طور پر مہر بانو کا نکاح شہباز کے چھوٹے بھائی ارباز خان سے کر دیا جائے۔ ارباز خان، جو شہر میں نایاب (نیا) نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا، اس زبردستی کے فیصلے پر شدید ناخوش تھا۔ نکاح کے بعد مہر بانو کو ارباز کے گھر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں اسے شدید تذلیل، مار پیٹ، اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارباز خان اسے پہلی ہی رات تھپڑ مار کر مسترد کر دیتا ہے اور یہ کہہ کر شہر چلا جاتا ہے کہ یہ نکاح محض کاغذی ہے۔ مہر بانو حویلی میں ملازموں سے بدتر زندگی گزارتی ہے، مگر ملازمہ پلوشہ کی ہمدردی اور مدد سے وہ چھپ کر اپنی پڑھائی جاری رکھتی ہے۔ دو سال بعد ارباز خان کے پورے خاندان کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو جاتی ہے اور مرنے سے پہلے ارباز کے والد مہر بانو کو اس کے باپ ہمایوں خان کے حوالے کر کے آزاد کر دیتے ہیں۔ آٹھ سال بعد، مہر بانو اپنی محنت اور لگن سے ایک نامور وکیل بن جاتی ہے۔ اسی دوران ارباز خان نیا سے شادی کر چکا ہوتا ہے۔ کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب ارباز کا دوست احسن نیازی اپنی بہن سائرہ کا کیس لے کر بیرسٹر مہر بانو کے پاس آتا ہے، اور ارباز مہر بانو کو پہچان کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مہر بانو اپنی ماضی کی تذلیل کا بدلہ لینے اور خود مختاری حاصل کرنے کے لیے ارباز کو خلع کا نوٹس بھیج دیتی ہے۔ ارباز اس کی کامیابی اور بدلے ہوئے روپ کو دیکھ کر پشیمان ہوتا ہے اور صلح کی بھیک مانگتا ہے، لیکن مہر بانو اسے صاف انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، ارباز شکست تسلیم کرتے ہوئے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ مہر بانو احسن نیازی کی مخلصانہ محبت اور پروپوزل کو قبول کر لیتی ہے اور احسن کے کوئٹہ تبادلے کے بعد اس کے ساتھ ایک نئی اور پرسکون زندگی کی شروعات کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.