Pages

Showing posts with label Najma Jabeen. Show all posts
Showing posts with label Najma Jabeen. Show all posts

Tuesday, June 9, 2026

Jeetne Ke Shoq Mein By Najma Jabeen

Download Link B
ناول "جیتنے کے شوق میں" (مصنفہ: نجمہ جبین) کی کہانی مریم احمد کے گرد گھومتی ہے، جو ایک ایئر ہوسٹس ہے اور اپنے اصول پسند والد، وقار احمد کے ساتھ ایک سادہ مگر خوشحال زندگی گزارتی ہے۔ کہانی میں موڑ اس وقت آتا ہے جب مریم کی ملاقات فلائٹ کے دوران ایک باوقار خاتون، تابندہ یزدانی سے ہوتی ہے، جو اسے بہت پسند کرتی ہے۔ بعد میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ تابندہ دراصل مریم کی وہ ماں ہے جس نے برسوں پہلے اسے اور اس کے والد کو چھوڑ دیا تھا۔ وقار احمد اپنی بیٹی کو تابندہ سے دور رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ماضی کے زخموں کو نہیں بھول پائے، لیکن تابندہ کی بیماری اور مامتا کی تڑپ مریم کو ایک مشکل فیصلے کے دو راہے پر کھڑا کر دیتی ہے۔  

Saturday, June 6, 2026

Shehr e Wafa Ke Aaine By Najma Jabeen

Download Link B
یہ کہانی تابندہ نامی ایک صابر اور مخلص عورت کے گرد گھومتی ہے جس کی شادی اپنے ماموں زاد عثمان نیازی سے ہوتی ہے۔ عثمان کو شوبز اور اداکاری کا بے حد جنون ہوتا ہے، اور وہ تابندہ کی کوششوں اور قربانیوں کی بدولت فلم انڈسٹری کا ایک بہت بڑا سپر اسٹار بن جاتا ہے۔ شہرت اور دولت کی چکا چوند میں عثمان اپنی بیوی اور بیٹی فینی کو نظر انداز کر کے اپنی ساتھی اداکارہ "امرتا دیوی" کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور لندن میں اس سے خفیہ شادی کر لیتا ہے۔ تابندہ انتہائی دکھ اور خاموشی سے اس بے وفائی کو برداشت کرتی ہے اور اپنی بیٹی فینی کی تنہا پرورش کرتی ہے۔
برسوں بعد، عثمان نیازی ایک نئی ابھرتی ہوئی اداکارہ عدیلہ خان کے افیئر میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس سے امرتا دیوی اور اس کے درمیان شدید گھریلو کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ امرتا، تابندہ کے پاس آ کر اپنے گھر کو بچانے کی بھیک مانگتی ہے لیکن تابندہ ماضی کے زخموں کی وجہ سے کوئی مدد کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، امرتا اپنے ساتھ ہونے والی بے وفائی کا بدلہ لینے کے لیے عثمان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتی ہے اور خود جیل چلی جاتی ہے۔ ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے اور بدصورت ہو جانے والے عثمان کو شوبز کی دنیا تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے مشکل وقت میں، روایتی مشرقی عورت کی طرح تابندہ اپنے دل میں نفرت کو مٹا کر، اپنی بیٹی کے ہمراہ عثمان کو اپنا لیتی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عورت مرد کی تمام تر زیادتیاں بھلا کر بھی وفا کی دیوی بنی رہتی ہے۔

Azmaish Ka Safar By Najma Jabeen

یہ کہانی مہر بانو نامی لڑکی کی ہے، جو بچپن میں اپنے والدین کی لاڈلی اور پڑھائی کی بے حد شوقین تھی۔ مہر بانو کے بھائی شیراز کے ہاتھوں ان کے دیرینہ دشمن شمروز خان کے بیٹے شہباز کا قتل ہو جاتا ہے، جس کے بعد شیراز فرار ہو جاتا ہے۔ دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جرگہ یہ فیصلہ سناتا ہے کہ خون بہا اور تاوان کے طور پر مہر بانو کا نکاح شہباز کے چھوٹے بھائی ارباز خان سے کر دیا جائے۔ ارباز خان، جو شہر میں نایاب (نیا) نامی لڑکی سے محبت کرتا تھا، اس زبردستی کے فیصلے پر شدید ناخوش تھا۔ نکاح کے بعد مہر بانو کو ارباز کے گھر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں اسے شدید تذلیل، مار پیٹ، اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارباز خان اسے پہلی ہی رات تھپڑ مار کر مسترد کر دیتا ہے اور یہ کہہ کر شہر چلا جاتا ہے کہ یہ نکاح محض کاغذی ہے۔ مہر بانو حویلی میں ملازموں سے بدتر زندگی گزارتی ہے، مگر ملازمہ پلوشہ کی ہمدردی اور مدد سے وہ چھپ کر اپنی پڑھائی جاری رکھتی ہے۔ دو سال بعد ارباز خان کے پورے خاندان کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو جاتی ہے اور مرنے سے پہلے ارباز کے والد مہر بانو کو اس کے باپ ہمایوں خان کے حوالے کر کے آزاد کر دیتے ہیں۔  آٹھ سال بعد، مہر بانو اپنی محنت اور لگن سے ایک نامور وکیل بن جاتی ہے۔ اسی دوران ارباز خان نیا سے شادی کر چکا ہوتا ہے۔ کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب ارباز کا دوست احسن نیازی اپنی بہن سائرہ کا کیس لے کر بیرسٹر مہر بانو کے پاس آتا ہے، اور ارباز مہر بانو کو پہچان کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مہر بانو اپنی ماضی کی تذلیل کا بدلہ لینے اور خود مختاری حاصل کرنے کے لیے ارباز کو خلع کا نوٹس بھیج دیتی ہے۔ ارباز اس کی کامیابی اور بدلے ہوئے روپ کو دیکھ کر پشیمان ہوتا ہے اور صلح کی بھیک مانگتا ہے، لیکن مہر بانو اسے صاف انکار کر دیتی ہے۔ آخر کار، ارباز شکست تسلیم کرتے ہوئے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ مہر بانو احسن نیازی کی مخلصانہ محبت اور پروپوزل کو قبول کر لیتی ہے اور احسن کے کوئٹہ تبادلے کے بعد اس کے ساتھ ایک نئی اور پرسکون زندگی کی شروعات کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔ 

Rafaqaton Ki Panah Mein By Najma Jabeen

Download Link B
رفاقتوں کی پناہ میں" نجمہ جبیں علیزی کا ایک جذباتی اور معاشرتی اردو ناول ہے، جس کی کہانی محبت، بے وفائی، حسد اور عورت کے ظرف کے گرد گھومتی ہے۔  ناول کی مرکزی کردار تابندہ اپنے ماموں زاد عثمان نیازی سے بے پناہ محبت کرتی ہے، جو بعد میں شوبز کی دنیا کا ایک بڑا سپراسٹار بن جاتا ہے۔ عثمان کی فلمی مصروفیات اور بدلتے رویے تابندہ کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیتے ہیں، اور کہانی میں اصل موڑ تب آتا ہے جب عثمان اپنی ساتھی اداکارہ امرتا دیوی کی محبت میں گرفتار ہو کر اس سے خفیہ شادی کر لیتا ہے۔ اس بے وفائی کے باوجود تابندہ طلاق کا لیبل سجانے کے بجائے اپنی بیٹی فینی کے ساتھ خاموشی سے الگ ہو کر زندگی گزارنے لگتی ہے۔  وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور عثمان نیازی ایک نئی اداکارہ عدیلہ خان کی زلفوں کا اسیر ہونے لگتا ہے، جس پر امرتا حسد اور انتقام کی آگ میں جل اٹھتی ہے۔ امرتا، تابندہ سے مدد مانگنے اتی ہے لیکن تابندہ ماضی کے زخموں کی وجہ سے انکار کر دیتی ہے۔ انجام کار، امرتا شدید غصے اور جنون میں عثمان نیازی کے خوبصورت چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے مسخ کر دیتی ہے اور خود جیل چلی جاتی ہے۔ جب شوبز کی دنیا اور مداح عثمان کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں، تو تابندہ اپنے اعلیٰ ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کچھ بھلا کر عثمان کو دوبارہ اپنی "رفاقتوں کی پناہ میں" لے لیتی ہے۔ یہ ناول مرد کی خود غرضی اور عورت کے لازوال خلوص و قربانی کی ایک بہترین عکاسی ہے۔ 

Monday, April 27, 2026

Sukh Ki Dhoop By Najma Jabeen

"سکھ کی دھوپ" نجمہ جبیں علیزئی کا تحریر کردہ ایک معاشرتی اور نفسیاتی ناولٹ ہے جو خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں، ماں کے تقدس اور اولاد کے دکھوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کہانی کا آغاز صوفیہ نامی ایک وحشت زدہ لڑکی سے ہوتا ہے جو اپنی ماں کے کسی ماضی کے عمل یا غلطی کی وجہ سے شدید نفرت اور ذہنی کرب کا شکار ہے، یہاں تک کہ اسے اپنی ماں کا نام ایک گالی محسوس ہوتا ہے۔ وہ ایک وکیل خاتون کے پاس اپنے دل کا غبار نکالنے اور قانونی مدد کے لیے آتی ہے۔ یہ ناول دکھاتا ہے کہ کس طرح بڑوں کی لغزشیں اولاد کی زندگیوں میں اندھیرا بھر دیتی ہیں اور کس طرح ایک لڑکی اپنے حالات سے لڑ کر، قانون کی تعلیم حاصل کر کے اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے اور معاشرے میں وقار پانے کی کوشش کرتی ہے۔

Wednesday, September 5, 2018

Mohabbat To Samandar Hai By Najma Jabeen

Download Link B
یہ کہانی خاندانی دشمنی، انتقام اور زبردستی کے بندھنوں کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار روشنی ہے، جو اپنی ماں صوفیہ بانو اور ماموں وجاہت احمد کے درمیان ماضی کی تلخ یادوں اور نفرتوں کا شکار ہے۔ روشنی کا نکاح بچپن میں وجاہت کے بیٹے اسجد علی سے کر دیا گیا تھا، لیکن صوفیہ کی نفرت کی وجہ سے وہ اس رشتے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
اسجد علی، جو اپنے باپ کی گرتی ہوئی صحت اور ان کی آخری خواہش (روشنی کو بہو کے روپ میں دیکھنے) کو پورا کرنا چاہتا ہے، روشنی کو اس کے کالج سے اغوا کر کے ایک نامعلوم مقام پر لے جاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ وہ اب اس کی منکوحہ ہے اور اسے اپنے باپ کی زندگی بچانے کے لیے وہاں "خوش رہنے کا ناٹک" کرنا ہوگا۔ روشنی اس قید اور اسجد کے آمرانہ رویے کے خلاف شدید احتجاج کرتی ہے، لیکن اسجد اسے دھمکاتا ہے کہ وہ اس کے چنگل سے نہیں نکل سکتی۔ کہانی میں ایک طرف اسجد کی اپنے باپ کے لیے محبت اور دوسری طرف روشنی کی نفرت اور بے بسی کے درمیان ایک پیچیدہ کشمکش دکھائی گئی ہے۔