طاہر جاوید مغل کی تحریر کردہ کہانی "آنکھ کا تارا" ایک جذباتی اور نفسیاتی کہانی ہے جو 75 سالہ گھریلو ملازم امیر علی کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ کہانی کے مطابق، میاں عادل کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ زینت بیگم عادل منزل چھوڑ کر اپنے بیٹے حمزہ کے ساتھ ڈیفنس شفٹ نہیں ہونا چاہتی تھیں کیونکہ اس عمارت سے ان کی 50 سالہ یادیں وابستہ تھیں۔ ایک خود پسند انجینئر اشفاق چودھری نے نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے عادل منزل کی آہستہ آہستہ اس طرح مرمت و آرائش (Renovation) کی کہ اس کا پرانا خاکہ اور یادگار خدوخال بالکل بدل گئے۔ جب عمارت کی کایا پلٹ گئی تو زینت بیگم کا ماضی کا سحر ٹوٹ گیا اور وہ وہاں سے جانے پر راضی ہو گئیں۔ اشفاق چودھری اسے اپنی ذہانت کی کامیابی سمجھ رہا تھا، لیکن حقیقت سے بے خبر تھا۔ اصل سچائی صرف بوڑھا نوکر امیر علی جانتا تھا کہ زینت بیگم کی آنکھ کا تارا عادل منزل نہیں بلکہ پڑوس میں واقع "ترابی ہاؤس" تھا................
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.