یہ کہانی دو مختلف پس منظر رکھنے والے کرداروں، زریاب اور سارہ کے گرد گھومتی ہے۔ سارہ انگلینڈ کے آزاد ماحول میں پلی بڑھی ہے لیکن وہ اپنی سانولی رنگت اور شناخت کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہے۔ وہ اپنے پاکستانی مسلم والد، فیصل نواز سے ملنے کی خواہش رکھتی ہے جنہیں اس کی ماں (نیسیکا) نے طلاق کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ دوسری طرف، زریاب پنجاب کے ایک گاؤں کا رہنے والا اور یونیورسٹی کا طالب علم ہے، جسے بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرحومہ ماں نرگس کا سگا بیٹا نہیں بلکہ ان کی بیٹی زرمینہ کی لے پالک اولاد ہے۔ زرمینہ نے ماضی میں فیصل نواز سے خفیہ نکاح کیا تھا لیکن فیصل کے گھر والوں نے زرمینہ کو قبول نہیں کیا، جس کے صدمے سے اس کے نانا انتقال کر گئے اور زرمینہ سارہ کی پیدائش کے وقت دم توڑ گئی۔ قسمت زریاب کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن لے جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات سارہ سے ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو کر شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی دوران سارہ اپنے والد فیصل نواز کو ڈھونڈ نکالتی ہے۔ فیصل اپنی ماضی کی غلطیوں پر پشیمان ہیں اور سارہ کو اپنا لیتے ہیں۔ جب فیصل پاکستان اپنی آبائی حویلی جاتے ہیں تو وہاں انہیں دل کا دورہ پڑتا ہے اور وہ انتقال کر جاتے ہیں۔ سارہ جب پاکستان پہنچتی ہے تو اس کے ظالم تایا (وحید نواز) اور دادی جائیداد کی خاطر سارہ کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح اپنے پہلے سے شادی شدہ چنچل بیٹے عیان سے طے کر دیتے ہیں۔ سارہ اس وڈیرہ شاہی اور زبردستی کے فیصلے کے خلاف زریاب سے رابطہ کرتی ہے، جو اسے اس مشکل صورتحال سے نکالنے کا عزم کرتا ہے۔ متوازی کہانی میں مومنہ (زریاب کی پرانی پسند) کی شادی شاہ ویز سے ہوتی ہے۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ازدواجی تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور شاہ ویز گھر میں پناہ لینے والی ایک غریب لڑکی 'انشال' کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جس سے گھر میں شدید تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.