یہ کہانی شاد نامی ایک سنجیدہ اور خود دار لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی خالہ ماہرہ بیگم کے گھر میں حالات کے سمجھوتے کے تحت ایک مہمان کی طرح زندگی گزار رہی ہے۔ کہانی میں بلال نامی لڑکے کے اچانک گھر والوں کے اعتماد کو دغا دے کر اور قیمتی اشیاء چوری کر کے امریکہ فرار ہونے سے ایک ہلچل مچتی ہے۔ شاد جب اپنے اسکول کی گولڈن جوبلی تقریب کے سلسلے میں مری اور اسلام آباد کے سفر پر جاتی ہے، تو وہاں اس کی ملاقات عامر زمان اور اس کے والد عمران زمان سے ہوتی ہے۔ وہ اسے اپنے گھر پنڈی لے جاتے ہیں جہاں شاد پر یہ حیران کن انکشاف ہوتا ہے کہ وہ دراصل سلطان زمان کی بیٹی ہے اور وہاں اس کی ایک ہم شکل جڑواں بہن "ناز" بھی موجود ہے۔ شاد کو اپنے والد کی تصویر اور اپنے طویل خاندان کا پتا چلتا ہے۔ اسی دوران اسے پتا چلتا ہے کہ بچپن میں ہی اس کے والد نے اس کی نسبت اس کے کزن عمیر الدین سے طے کی تھی، جو شاد سے مخلصانہ محبت کرتا ہے۔ تاہم، کہانی کا سب سے بڑا موڑ اس وقت آتا ہے جب خالہ ماہرہ بیگم شاد پر یہ حقیقت ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے گھر میں موجود لاڈلی اور ضدی لڑکی "اقصیٰ" کوئی کزن نہیں بلکہ شاد کی سگی چھوٹی بہن ہے، جسے مرتے وقت ان کی ماں زارا نے خالہ کے سپرد کیا تھا۔ اقصیٰ عمیر سے شادی کرنے کی ضد پر اڑ جاتی ہے۔ شاد اپنی سگی بہن کی خوشی اور محبت کی خاطر ایک بار پھر ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمیر کی محبت سے دستبردار ہونے اور اقصیٰ کے لیے رشتہ دینے کا فیصلہ کر لیتی ہے، جس سے اس کی زندگی میں خوشیوں کی بہار آنے سے پہلے ہی دوبارہ خزاں کی اداسی چھا جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.