ناول "تتلی" دو بالکل مختلف پس منظر رکھنے والے کرداروں، رومیصہ اور کمال آفریدی کی زندگیوں اور ان کے درمیان مصلحتاً ہونے والے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔
رومیصہ کا پس منظر: رومیصہ اپنے خاندان میں ایم اے اردو ادب کرنے والی اکلوتی بیٹی ہے۔ اس کے ابا (ارشاد صاحب) سونے اور چاندی کے زیورات کا کاروبار کرتے ہیں۔ رومیصہ کا بھائی ولید نااہل اور نکما ہے جو صرف امریکہ جانے کے خواب دیکھتا ہے۔ جب خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور ایک مخالف کمپنی 'رحمٰن جیولرز' ان کے ڈیزائن چوری کر کے ان کا کاروبار تباہ کرنے لگتی ہے، تو رومیصہ اپنے والد کا ساتھ دینے کے لیے خود کام سنبھالتی ہے۔
کمال آفریدی کا پس منظر: کمال کراچی کے بزنس مین نظام آفریدی کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ پاک فضائیہ میں فلائٹ لیفٹیننٹ تھا اور اکیڈمی سے "اعزازی شمشیر" حاصل کر چکا تھا۔ کمال دراصل ایک جینیاتی خرابی کا شکار تھا جسے اس کے والد نے جرمنی سے مہنگا علاج (جین ایڈیٹنگ اور بون میرو ٹرانسپلانٹ) کروا کے ایک صحت مند انسان بنایا۔ کمال کے والد کی سیاسی وابستگی اور اس کی ماں (بلوچستان کی وزیرِ اعلیٰ نور بانو) کی نفرت کی وجہ سے کمال کو زبردستی فوج سے استعفیٰ دینا پڑا۔
شادی اور معاہدہ: کمال رومیصہ کے گھر کی اوپر والی منزل میں بطور کرایہ دار رہتا ہے۔ جب رومیصہ پر زبردستی ایک ان پڑھ امیر شخص سے شادی کا دباؤ آتا ہے اور دوسری طرف اس کا خاندانی کاروبار خطرے میں ہوتا ہے، تو کمال اسے ایک 'بزنس ڈیل' (معاہدے) کی پیشکش کرتا ہے۔ وہ دونوں نکاح کر لیتے ہیں۔ کمال اپنی ذہانت سے رحمٰن جیولرز کی چوری پکڑوا کر رومیصہ کے خاندانی برانڈ کو بچاتا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر کامیاب کرتا ہے۔
انتقام اور محبت کا انجام: کمال کے والد کمال کو اس کی ماں (وزیرِ اعلیٰ نور بانو) کے مدِ مقابل الیکشن میں کھڑا کرنا چاہتے تھے، لیکن رومیصہ نور بانو کو اس کے غرور اور ماں کے امتحان میں فیل ہونے کا آئینہ دکھاتی ہے اور کمال کو اس سیاسی دلدل سے نکال لیتی ہے۔ کمال، جو فوجی ڈسپلن اور ماضی کے زخموں کی وجہ سے خود کو جذبات سے عاری ایک مشین سمجھتا تھا، آہستہ آہستہ رومیصہ کی محبت اور خلوص کے سامنے پگھل جاتا ہے۔ یوں مصلحت اور معاہدے کے تحت شروع ہونے والا یہ رشتہ ایک حقیقی اور خوبصورت محبت میں بدل جاتا ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.