یہ سفرنامہ علی سفیان آفاقی کے 1970ء کی دہائی کے آغاز میں بیروت اور یورپ کے سفر کے دلچسپ اور مزاحیہ احوال پر مبنی ہے۔ مصنف اپنے دو منفرد ساتھیوں—خان صاحب اور شوکت بٹ—کے ہمراہ کراچی سے روم، یورپ اور بالخصوص بیروت کا سفر کرتے ہیں۔ کہانی میں ہوائی جہاز کے مختلف تجربات، زبان کی رکاوٹوں، حرام و حلال کھانے کی پریشانیوں اور نائٹ کلب و سوئمنگ پول کے دلچسپ واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ واپسی پر وہ بیروت کے ساحلوں، ہوٹلوں اور حسین مناظر کی رنگینیوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور ساتھ ہی وہاں کے مسلمانوں، عیسائیوں اور فلسطینی کیمپوں کے زمینی حقائق کا مشاہدہ بھی پیش کرتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.