یہ کہانی نِک ویلویٹ کی ہے جسے سنگاپور میں "ایکوا" (پانی) کی ایک پراسرار اور نایاب بوتل چرانے کے لیے بھاری رقم دی جاتی ہے۔ سنگاپور پہنچتے ہی وہ ایک پراسرار مجرمانہ نیٹ ورک کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بوتل "ڈینی" نامی ایک سفاک شخص کے پاس ہے، جسے وہ ایک پلازہ کے لاکر میں چھپا دیتا ہے۔ نک ویلویٹ گیسٹ ہاؤس کی مالکن مسز منگ اور ہیمو کازی کی مدد سے بڑی ہوشیاری سے وہ بوتل حاصل کر لیتا ہے۔ بعد میں کیمیائی تجزیے سے یہ خوفناک انکشاف ہوتا ہے کہ اس پانی میں انسان کش اور ہلاکت خیز جراثیم موجود تھے جو انسانی خون کے رابطے میں آتے ہی دنیا میں طاعون سے بھی زیادہ خطرناک تباہی پھیلا سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.